نیا پاکستان ، پرانے مستری

محبوب اسلم

 

ھم جیسے پاکستانی زردای، الطاف حسین، نواز شریف، آسفندیار ولی اور مولانا فضل الرحمن جیسے بے ضمیر اور کرپٹ سیاستدانوں کے ھاتھوں اسقدر زخم کھا چکے تھے کہ جب ایک بظاھر متکبر اور عیاش صفت عمران خان نے نئے پاکستان کی آواز لگائی تو ھم نے اسکے ماضی کو یکسر نظر انداز کرتےھوۓ اسکا ساتھ دینے کی ٹھانی۔ ھم نے اسکے شوت خانم پراجکٹ کا بھی اسے بھرپور کریڈٹ دیا اور اسکی ناجائز اولاد کے ھوتے ھوۓ بھی اسکو قوم کا مسیحا گردانا اور اسکے ماضی کو نہ صرف کھلے دل سے معاف کردیا بلکہ اسے اپنا لیڈر مان لیا۔ اور یہ صرف اور صرف پاکستان کی محبت میں کیا۔ ھم نے اپنے دل و دماغ کو ھزار حیلے بہانوں سے باور کروایا کہ اس حمام میں سب ھی ننگے ھیں اور اگر ایک بندہ اپنے گنہگار ماضی سے تائب ھوکر اس ملک کیلئےکچھ کرنا چاھتا ھے تو ھمیں اس ایک موقع ضروردینا چاھئے۔ یوں ھم جیسے اگر لاکھوں نہیں تو ھزاروں پاکستانیوں نے عمران خان کا ساتھ دینے کی ٹھانی۔

لیکن آج بائیس سال بعد ھم جیسے پاکستانیوں کی جھولی میں جب عمران خان نے ایک سیاسی آمر کا روپ دھارتےھوۓ ماضی کے ستر سالوں کاوھی بوسیدہ اور بدبودار کرپٹ ٹولہ لا گرایا  تو ھمیں احساس ھوا کہ ایکبار پھراس قوم کیساتھ ھاتھ ھوگیاھے۔ اگر نیا پاکستان مصطفی کھر جیسے عیاش اور بے غیرت جاگیردار نے بنانا ھےتو پھر زرداری یا نواز شریف میں کیا برائی ھے؟ اگر نیا پاکستان فواد چوھدری جیسے سدا بہار لوٹے نے ھی بنانا ھےتو پھر مولانا فضل الرحمن میں کیا قباحت ھے؟؟؟ اور اگر نیا پاکستان عامر لیاقت جیسے مسخرے نے ھی بنانا ھے تو پھر پرانا پاکستان ھی چلے گا؟؟؟

اب عقل کے اندھے شروع ھو جائینگے کہ فرق لیڈر شپ کا ھے اوپرلیڈر ٹھیک ھو تونیچے کوئی بھی لوٹا ھو، کرپٹ ھو، جرائم پیشہ ھو سب چلے گا۔ یہ منطق بھی افسانہ ھی ٹھہری۔ ایک قریبی دوست نے ابھی کچھ روز پہلے شئیر کیاکہ اگر لیڈر شپ ھی سب کچھ ھوتی توقریش تو آنحضرت(ص) کو لیڈر ماننے کوتو تیار تھے لیکن آنحضرت(ص) کرپٹ لوگوں کو اپنا ساتھی ماننے کو تیار نہ تھے۔۔۔یوں ھمارے لیئے یہی سبق لائق تقلید ھے کہ برائی کو یکسر مسترد کرناھی اصل کامیابی کی کنجی ھے۔

دوسری طرف عمران خان کی مثال اب اس کتی والی ھو چکی  ھےجو بائیس سال چوروں پر بھونکنےکے کے بعد آخر کار انھیں چوروں کیساتھ مل گئی ھے۔ تبدیلی کا شور شرابا ایک سوچی سمجھی اسکیم کا حصہ تھا اور مقصد صرف طاقت کا حصول تھا۔ کچھ یارلوگ اب کہتے پائے جاتے ھیں کہ یہ عمران خان کا آخری الیکشن ھے تو اس الیکشن میں ان لوٹوں کو عمران خان کے پیچھے ووٹ دیکر کامیاب بناٶ۔ یہ حضرات بھول جاتے ھیں کہ نیا پاکستان کا مقصد ایک فرد واحد عمران خان کو وزیراعظم بنانا نہیں تھا اور نہ ھی یہ مقصد ھونا چاھئیے۔ بلکہ اس تحریک کا مقصد پاکستان میں ایک ایسی سیاسی جدوجہد کا آغاز کرنا تھا جہاں سیاسی پارٹی بحثیت ادارہ مضبوط ھوتی۔ جہاں ھم اصولوں پر مر تو جاتے لیکن کرپشن کے سامنے کبھی نہ جھکتے۔ وگرنہ ایاک نعبدو وایاک نستعین کے پاک کلمے کا کیا مطلب تھا؟؟؟

لیکن پھر چشم فلک نے دیکھا کہ کسطرح عمران خان نے یو ٹرن لیا اور پہلے پارٹی میں کرپشن کو ھوا دی اور انصاف کا گلا گھونٹا اور اب تو ما شا اللہ مصطفی کھر جیسے غلیظ اور بد نام زمانہ سیاسی گماشتے پی ٹی آئی کے ٹکٹ ھولڈرز ھیں۔ عمران خان کا مقصد اب صرف اور صرف اقتدار کا حصول ھے۔ کیونکہ جو سیاسی کچرا عمران خان نےتبدیلی کے نام پر جمع کیاھےوہ اس پاکستان کو مزید نوچنےکیلئے تیار بیٹھا ھے۔

دوسری طرف نواز شریف اور زرداری جیسے کرپٹ اور مطلق العنان سیاسی گماشتے موجود ھی اور کچھ دوستوں کو یہ غلط فہمی ھے کہ عمران خان نسبتاً کم کرپٹ آپشن ھے۔لیکن یہ وہ حضرات ھیں جو جانتے بوجھتے چھپکلی نگلنے کو تیار ھیں۔ لاھور کے 2011 کے کامیاب جلسے کے بعد عمران خان کا ھر عمل مطلق العنانیت کا واضح مظہر رھا ھے۔ چاھےوہ پارٹی فنڈز کی چوری کا معاملہ ھو یا کے پی کے میں پی ٹی آئی کی قیادت کی کرپشن۔۔۔عمران خان نے ھر ھر موقع پر ان چوروں کی سر پرستی کی اور پارٹی میں میریٹ اور احتساب کو تباہ برباد کر دیا اور اس کے پیچھے صرف اور صرف مقصد پارٹی میں اپنی آمریت کو دوام بخشنا تھا۔

یوں آج 2018 میں ھم ایکبار  پھر اس مملکت خداداد کے مستقبل کا فیصلہ کرنے جارھے ھیں۔ ایک طرف پرانے بارھا آزمائے ھوئے زرداری اور نواز شریف جیسےکرپٹ سیاسی لیڈر ھیں تو دوسری طرف عمران خان جیسا ایک نیا شعبدہ باز اپنےساتھ انھیں آزماۓ ھوۓ چوروں کی بارات لئے تبدیلی تبدیلی کا شور مچارھا ھے۔۔۔ان حالات میں فیصلہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں ھے۔صاف ظاھر ھےکہ ھمیں ان سب پر لعنت بھیج کر مسترد کر دینا چاھیۓ۔

ایک نئے پاکستان کا خواب اسطرح کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ھو سکتا۔ ھمیں اس نئے پاکستان کی تعمیر کیلئے ایک ایک اینٹ جمع کرنا ھوگی۔ حقیقی تبدیلی کیلئے ھم سب کو محنت کرنا ھوگی ان تمام تر نوسر بازوں کو مسترد کرنا ھوگا۔ جوانوں کو آگے آنا ھوگا۔ کسی نجات دھندہ یا ھیرو کاانتظار نہ کریں بلکہ خود ھیرو بنے۔ اپنے لیڈر اپنی صفوں می تلاش کریں۔ اپنے محلے میں اچھی شہرت رکھنےوالے شہریوں کی ھمت افزائی کریں اور باھمی مدد کےاصولوں پر انھیں آزاد امیدوار کی حثیت سے کھڑا کریں۔ الیکشن کے بعد بھی جدوجہد کو جاری رکھیں۔۔۔اصولوں پر ھرگز سمجھوتہ نہ کریں  میرے آقا(ص) کاقول یاد رکھیں کہ تم اھل مکہ اگرمیرے ایک ھاتھ پر چانداور دوسرے پر سورج بھی لا کررکھ دو تو میں پھر بھی حق سےروگردانی نہیں کرٶنگا!!!

آپ کی خدمت میں 2018 الیکشن کے سلسلے میں کچھ بے لوث عام آدمیوں کا ذکر کرنا چاھونگا۔ کراچی میں جسٹس وجیہہ الدین کی عام لوگ اتحاد پارٹی کو سپورٹ کریں۔ گوجرانوالہ اور دوسرے شہروں میں ملک نسیم صادق  صاحب کی عام لوگ پارٹی کو سپورٹ کریں۔ تونسہ شریف میں ملک فرحان بھٹہ اور بہن راشدہ بھٹہ کی عام آدمی تحریک کو سپورٹ کریں۔ جنوبی پنجاب میں آزاد امیدوار ڈاکٹر میاں عبدالرحمن صاحب کو سپورٹ کریں۔ کوئٹہ میں نوجوان لیڈر عظیم کاکڑ کو سپورٹ کریں۔ حاصل پور میں جناب خدایار خان چنڑ کو سپورٹ کریں۔ اسلام آباد میں پیپلز الائنس کے چودھری عامر کو سپورٹ کریں۔ اور ملک بھر میں ھارون خواجہ صاحب کی پاکستان فریڈم موومنٹ کے امیدواروں کو سپورٹ کریں۔۔۔یہ وہ چند حضرات ھیں جو اس زرداری نواز شریف اور عمران خان جیسے نوسر بازوں کے مقابلے میں بدرجہا بہتر ھیں۔


افکار و نظریات: نیا پاکستان, پرانے مستری