اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات نادرا کا ڈیٹا اور منصوبہ بندی اسداللہ غالب ہونا تو نہیں چاہئے۔ میں اسے خفیہ نہیں سمجھتا۔ اور چیف الیکشن کمشنر سے لے کر عمران خان تک اور نادرا سے نکلے ہوئے اور بپھرے ہوئے ملازمین سے لے کر بڑ بڑ اہٹ کا شکارکسی بھی ٹی وی اینکر تک ہر ایک سے کھلا مباحثہ کر سکتا ہوں کہ نادرا کے ڈیٹا میں کوئی کومہ ، کوئی شوشہ تک خفیہ نہیں ہے، اس میں میرے اور آپ کے نام ہیں۔پتے ہیں، تاریخ پیدائش ہے ۔ اور بس۔ میں نے امریکہ کے دو الیکشن کور کئے۔ میں نے اپنے وفد کے ساتھ مشرقی ساحل سے مغربی ساحل تک درجنوں شہروں کا دورہ کیا، پولیٹیکل سائنس کے ماہرین ، شماریات کے ماہرین ، سماجیات کے ماہرین اور ڈیمو گرافی کے ماہرین سے تبادلہ خیال ہوا، ان لوگوں کی انگلیوں پر ہر طرح کے اعدادو شمار تھے، ملک کی کل آبادی کتنی ہے، رجسٹرڈ ووٹرز کتنے ہیں، نوجوان کتنے ہیں، بورھے کتنے ہیں،خواتین کی تعداد کیا ہے۔ کالے کن ریاستوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور ہسپانوی کتنی بڑی تعداد میں ہجرت کر کے آ گئے ہیں،شہروں سے دیہات کی طرف آبادی کتنے فیصدمنتقل ہوئی ہے۔ بر سر روزگار کتنے لوگ ہیں اور بے روز گاروں کی گنتی کیا ہے۔ ان اعداو شمار کی مدد سے وہ بالکل صحیح اندازہ پیش کرنے کی پوزیشن میں تھے کہ کس ریاست میں ڈیمو کریٹ جیتےں گے اور ری پبلکن کن ریاستوں میںمیدان مارے گی، یہ اندزاے سو فیصد درست نکلتے تھے۔ کہیںکہیں اپ سیٹ کی گنجائش بھی ہوتی ہے اور ماہرین ایسی سیٹوں کی نشاندہی بھی کر دیتے تھے۔، آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ ماہرین کوئی اٹکل پچو طریقے سے تجزیہ کرتے تھے، یا ان کے پاس فال نکالنے والے طوطے تھے،یا وہ غیب کا حال جاننے والے تھے۔ نہیں بھئی۔ ان کی زبان سے نکلنے والا یک ایک لفظ حقائق اور اعداو و شمار پر مبنی تھا اور یہ حقائق ہر عقل سلیم کے مالک امریکی شہری کو دستیاب تھے، سرکاری ادارے معلومات جمع کرنے کا فریضہ اداکرتے ہیں اور پھر اپنا ڈیٹا ہر ایک کی دسترس میں رکھ دیتے ہیں، نجی تنظیمیں بھی لوگوں کے رجحانات کی اسٹڈی میں مصروف رہتی ہیں اور وہ بھی اپنا ڈیٹا ہر ایک کے ساتھ شیئر کرتی ہیں۔ان حقائق اور اعدادو شمار کے بغیر کوئی سیاسی پارٹی اورا سکا کوئی امیدوار اپنی انتخابی مہم کے خدو خال طے نہیں کر سکتا۔ ہماری طرح وہاں لوگ اندھیرے میں تیر نہیں چلاتے۔ اگر میں حقیقت پسندی کا مظاہرہ کروں تو یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر نادراالیکشن کے لئے مدد گار ڈیٹا کسی کے ساتھ شیئر نہ بھی کرے تو الیکشن کمیشن آئینی طور پر ا س ا مر کا پابند ہے کہ وہ پورے ملک میں انتخابی فہرستیں تقسیم کرے۔ مگر سیاسی پارٹیوں اور امیدواروں کو اکثر یہ شکایت ہوتی ہے کہ انہیں بر وقت یہ ووٹر لسٹیں نہیں دی گئیں، یا ان میں اندراجات کی غلطیاں ہوتی ہیں۔ایک حلقے کے ووٹروں کو دوسرے حلقے میں دکھایاجاتا ہے، پولنگ اسکیم ناقص ہوتی ہے اور ووٹروں کا آدھا دن تو صرف اپنا پولنگ اسٹیشن ڈھونڈنے پر لگ جاتا ہے۔ ان خامیوں کی وجہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن پروفیشنل اور ٹیکنیکل ا دارہ نہیں۔ پھر یہ کہ الیکشن کمیشن اس نوع کے اعداو شمار مرتب کرنے سے قاصر ہے کہ نوجوان ووٹر کتنے ہیں اور بوڑھے کتنے، خواتین ووٹرز کی تعداد کیا ہے ۔ کاشتکار کتنے ہیں اور تنخواہ دار ووٹرز کتنے ہیں۔ ہمیں اٹکل پچو پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ اگر ماﺅں کے نام نہ بھی دیں تو ووٹرز لسٹوں میں یہ بہر حال موجود ہیں، اگر کسی نوسرباز نے کسی کی ماں کے نام کا سراغ لگاناہی ہے تو وہ ووٹرز لسٹوں سے بآسانی حاصل کر سکتا ہے۔ فیض آباد دھرنے میں ایسی گالیوں کو روزانہ سننے کا موقع ملا۔ ماﺅں کا نام کوڈ ورڈ کے لئے صرف ہمارے ہاں استعمال ہوتا ہے۔ باقی دنیا میں طرح طرح کے سوالات کے جواب محفوظ کئے جاتے ہیں مثال کے طور پر آپ کتنے بجے پید اہوئے۔آپ کے پسندیدہ استاد کا نام کیا تھا۔ آپ کس ہائی سکول میں پڑھے اور آپ کو عرف عام میں کیا کہا جاتا تھا یعنی نک نیم کیا تھا۔ا ب یہ ڈیٹا تو نادرا کے پاس نہیں ہے اور اسی نوع کے کوڈ ورڈ ہمارے موبائل فون ادارے اور کمرشل بنک بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ کس آئین میں لکھا ہے کہ وہ ماں کانام ہی کوڈ ورڈ کے طور پر استعمال کریں۔باقی رہا ، آبادی کے مختلف طبقات کے اعداد و شمار تو نادرا سے ایک سافٹ ویئر کی مدد سے بآسانی مرتب کر سکتا ہے اور اسے اپنی ویب سائٹ پر ہر ایک کے استفادے کے لئے لوڈ کر سکتا ہے۔ اسے ایسا کرنے کا قانونی طور پرپابند بنایا جائے ۔ تاکہ ہم سائنٹیفک انداز میں الیکشن مہم چلا سکیں اور ہر امید وار کو بھی پتہ چل جائے کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔ا سوقت نادرا پر ڈیٹاا فشا کا جو الزام ہے ، اسے میری رائے میں واپس لیا جائے اور اس ضمن میں جو کمیٹی نادرا چیئر مین کی سربراہی میں کام کر رہی ہے، اسے یہ فیصلہ سنانا چاہئے کہ نادرا ا س نوع کا ڈیٹا اور اس طرح کی سٹڈی عوام الناس کے لئے عام کرے۔ میں نے نادرا پر چند روز پہلے ایک کالم لکھا، اسے جن لوگوں نے پڑھا ان میں میرے ایک رواین دوست کلیم مبین بھی شامل ہیں بلکہ ان کی بیگم صاحبہ نے انہیں میری تصویر دیکھ کر بتا یا کہ ا ٓپ انہیں ایک زمانے میں نوا ئے و قت کے دفتر میں ملنے بھی گئے تھے۔ مجھے کلیم مبین نے یہ سب کچھ بتانے کے لئے فون کیا تو میں اچھل پڑا۔ باون سال قبل گورنمنٹ کالج میں یونین کے الیکشن ہوئے تو میں نے ان کو جنرل سیکرٹری بنوانے کے لئے زور شور سے مہم چلائی تھی۔ وہ بلا کے ڈیبیٹر تھے اور میں مشاعروں میں شرکت کرتا تھا۔ یہ باتیں تو ضمنی ہیں ،۔ اصل بات یہ ہے کہ کلیم مبین نادرا کے موجودہ چیئر مین عثمان مبین کے والد ہیں،ہم فون پر دیر تک یا دماضی کھوئے رہے مگر کلیم مبین افسردہ تھے جس کاا ظہار تو انہوں نے نہیں کیا مگر وہ کہہ رہے تھے کہ ان کے بیٹے نے ایم آئی ٹی سے ڈبل گریجو یشن کی تو اسے امریکہ کی ٹاپ کمپنیاں کثیر تنخواہ پر ملازمت پیش کر رہی تھیں مگر میری حب ا لوطنی نے عثمان کو واپس ملک آنے پر مجبور کیا جہاں وہ نادرا کا چیف ٹیکنالوجسٹ مقرر ہوا۔ یہ اس کی لیاقت ا ور صلاحیت کا صلہ تھاا ور پھر عثمان مبین نے اپنی صلاحیتوں کا مزید مظاہرہ کیا اور نادرا کو ٹیکنالوجی کے شعبے میں وہ مقام دلایا کہ دنیا عش عش کر اٹھی۔ کلیم مبین یہ کہتے ہوئے جذباتی ہوگئے تو انہوں نے فون اپنی بیگم صاحبہ کو دے دیاجو صحافی تو نہیں ہیں مگر صحافت میں ماسٹر کی ڈگری کی حامل ہیں ، ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ خدا کسی خاندان پر اپنی نعمتیں نچھاور کر دے ۔ کلیم مبین کا یک بیٹا سلیم معین پہلے نادرا کا چیئر مین بنا اور پھر ا سکی جگہ عثمان مبین نے لی۔ ایک منصب ، ایک گھر میں دو مرتبہ ، ایسی مثالیں کم ملتی ہیں مگر یہ خاندان معاشرے کے اس رویئے کا شاکی ہے کہ اس ملک میں با صلاحیت لوگوں کی قدر کرنے کے بجائے ان کی ٹانگیں کھینچی جاتی ہیں ، یہاں تو ہم نے ڈاکٹر عبدالقدیر جیسے نابغہ روزگار اور قوم کے محسن کو ٹی وی پر آ کر معافی مانگنے پر مجبور کیا۔ کلیم مبین اور ان کی بیگم کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے پر وہ عناصر کیچڑ اچھال رہے ہیں جو نادرا میں کرپشن پھیلانے کے مجرم تھے اور عثمان نے ان پر ہاتھ ڈالنے کی جرات کی اور نکال باہر کیا۔اب وہ اپنے بدلے اتار رہے ہیں اور جھوٹے الزامات کا سہارا لے رہے ہیں، کلیم مبین کی بیگم نے بتایا کہ ا ن کے بیٹے کے پاس صرف ایک دفتری گاڑی ہے جسے وہ استعما ل کرتا ہے اور ان کے دوسرے بیٹے سلیم معین جو کسی سیمنٹ ادارے میں اعلی منصب پر فائزہیں ، ان کے پا س دو گاڑیاں ہیں جن میں سے کبھی کبھار ایک گاڑی فیملی کے کام آ جاتی ہے۔ میں عثمان مبین کے والدین کے دکھ کو سمجھتا ہوں ، میں شرمندہ ہوں کہ ہم انہیں بلا وجہ تکلیف پہنچا رہے ہیں ۔میں جانتا ہوں کہ عثمان کو نادرا کی ضرورت نہیں بلکہ نادرا کو عثمان کی ضرورت ہے اور اس سے بھی بڑھ کر قوم اور ملک کو اس کی ضروت ہے۔ پاکستان کو ٹیکنالوجی کے شعبے میں آگے لے جانے کے لئے ایسے باصلاحیت نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ اور یہ ہیں کتنے، عثمان مبین اور ڈاکٹر عمر سیف اور چند شاید اور. عثمان مبین میری مانیں اور اپنے ادارے کے چارٹر میں تبدیلی کروا ئیں اورا سکا ڈیٹا اور اس کی تحقیقاتی رپورٹس کو عام کریں۔اس ڈیٹا کے بغیر ملکی منصوبہ بندی ممکن ہی نہیں ، کسی بھی نجی ادارے کو اپنی پلاننگ کرنے میںمشکلات پیش آ رہی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں شماریات کے ادارے قوم کی رہنمائی کا کردار ادا کرتے ہیں۔نادرا کو مینارہ نور کا کردار ادا کرنا چاہئے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
مجھے نادرا کا کوئی ذمے دار افسر دستیاب ہو جاتا تو میں اس سے پوچھتا کہ آپ کے پا س کونسا ڈیٹا ایسا ہے جسے خفیہ کہا جا سکتا ہے۔ میری بات نادرا کے ایک ترجمان سے ضرور ہوئی جو کہ ٹیکنیکل آدمی نہیں ہیں۔ صرف میڈیا سے بات کر سکتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ نادرا پر پابندی ہے کہ کسی کو ڈیٹا فراہم نہ کرے، اور نہ کبھی اس نے کیا ہے۔ ایک مثال جو دی جا رہی ہے وہ بھی فریڈم آف انفارمیشن قانون کے تحت کئے گئے سوال کے جواب میں فراہم کی گئی اور اس میں صرف یہ نکات شامل تھے کہ اٹھارہ سے تیس سال تک لوگوں کی تعداد کیا ہے اور تیس سے ساٹھ سال تک کتنے ہیں، اور اکہترے بہترے کتنے۔نادرا کے ترجمان نے میرے موقف سے اتفاق کیا کہ انہیں پورا ڈیٹا شیئر کرنا چاہیئے مگر قباحت یہ ہے کہ اس میں ہر شخص کی والدہ کا نام بھی درج ہے جو کہ موبائل کمپنیاں اور کمرشل بنک اکاﺅنٹ کھولنے کے لئے کوڈ ورڈ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
افکار و نظریات: نادرا کا ڈیٹا اور منصوبہ بندی
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں