اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات مولوی اور دولے شاہ کے چوہے مرزا شہباز حسنین سید کبیرالدین شاہ کا مزار گجرات شہر کے درمیان میں واقع ہے ۔اس کی وجہ شہرت اس مزار پر پائے جانے والے معصوم اور انتہائی مظلوم انسان ہیں ۔جو کہ آپ کو گجرات میں دربار کے اردگرد اور مختلف جگہوں پر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں ۔ان بھکاریوں کے سر انتہائی چھوٹے ہوتے ہیں اور ذہنی طور پر معذور ہوتے ہیں ۔ذہنی طور پر مفلوج اللہ تعالی کی مخلوق سے بھیک منگوائی جاتی ہے ۔ٹھیک طرح سے بول بھی نہیں سکتے ۔انتہائی نامساعد حالات کا شکار ان مظلوموں کو دو لے شاہ کے چوہے کہا جاتا ہے ۔دو لے شاہ کے چوہے نہ سوال کر سکتے ہیں نہ کوئی جواب دے سکتے ہیں ۔خاموشی کے ساتھ سائل بن کر اشاروں کنایوں سے اپنا کشکول سامنے کر دیتے ہیں۔ مختلف روایات ان دو لے شاہ کے چوہوں کے متعلق زیر گردش ہیں۔ڈاکٹرز کے مطابق پیدائشی طور پر کسی بیماری کی وجہ سے ان کے سر کی نشوونما نہیں ہو پاتی اور ان کا سر سائز میں چھوٹا رہ جاتا ہے اور ذہنی طور پر معذور ہوجا تے ہیں ۔مگر عمومی روایت کے مطابق اس دربار پر بے اولاد جوڑے منت مانگتے ہیں کہ اگر ہمارے ہاں اولاد ہوئی تو پہلا بچہ دربار پہ چھوڑ جائیں گے ۔اس روایت کے مطابق پہلا بچہ دو لے شاہ کا چوہا پیدا ہوتا ہے ۔اس کو دربار پہ نذرانے کے طور پر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔اور بعد میں نارمل اور صحت مند اولاد پیدا ہوتی ہے ۔اس بحث سے قطع نظر کرتے ہوئے ۔حقیقی المیہ ان بچوں کی ذہنی پسماندگی اور مظلومیت ہے کہ بجائے ان بچوں کی اس معذوری کا علاج کرنے کے ہمارا بے حس معاشرہ نجانے کب سے یہ تماشہ دیکھ رہا ہے ۔ دو لے شاہ کے چوہے تمام عمر بھکاری بن کر در در کی ٹھوکریں کھا کر مر جاتے ہیں ۔کوئی مسیحا آج تک دو لے شاہ کے ان چوہوں کی مسیحائی کےلیے اس دھرتی پر نہیں اترا۔سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محرومی ان بیچاروں کا سب سے بڑا روگ ہے۔اس کے علاوہ جسمانی لحاظ سے بھی انتہائی لاغر اور کمزور ہوتے ہیں ۔ اب اگر غور کیا جائے تو بحیثیت پاکستانی ہماری قوم کی اکثریت بھی دو لے شاہ کے چوہوں سے مماثلت رکھتی ہے ۔فرق محض اتنا ہے کہ دولے شاہ کے چوہے ذہنی اور جسمانی معذور ہوتے ہیں اور ہم جسمانی طور پر صحت مند مگر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کمی کا ضرور شکار ہیں۔ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو زنگ لگ چکا ہے۔۔ہمارے ذہنوں پر سوچنے کی پابندی لگا دی گئی ۔مذہب کے نام نہاد ٹھیکداروں نے تقدیس اور خوف کی اک چادر ہمارے معاشرے کی اکثریت کے ذہن پر مسلط کر دی ۔اب اگر کوئی انسان اپنی ذہنی صلاحیت کو کام میں لا کر سوال کرتا ہے یا اس سوال کے جواب کی تلاش میں تحقیق کرتا ہے تو یہی مذہبی علماء لٹھ لے کر اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں ۔ان علماء نے عوام کی اکثریت کے دماغ میں یہ بات ڈال دی ہے کہ خبردار اگر دماغی صلاحیت کا استعمال کیا گستاخ بن جاو گے ۔مذہب سے دور ہو جاو گے ۔ ہمارا مذہب اسلام ہمہ وقت تدبر کی تلقین کرتا ہے کہ ہم نے انسانوں کی رہنمائی کے لئے قرآن نازل کیا ۔اللہ کے کلام پر غور کرو سمجھو ۔مگر علماء کہتے ہیں ۔اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال نہ کرو ۔نام نہاد علماء نے ہمارے معاشرے کو یرغمال بنا لیا۔ان کے نزدیک قرآن کے ترجمہ اور تفسیر ان کی زیرنگرانی پڑھی جائے ورنہ نجانے کیا ہو جائے گا۔نام نہاد علماء کے نزدیک ان کاتقدس ہر شخص پر فرض ہے ۔جو اکابر نے فرما دیا وہی حرف آخر ہے ۔اس پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔ان نام نہاد علماء کی کسی بات پر تنقید کرنا ناقابل معافی جرم ہے ۔حالانکہ علماء پر تنقید مذہب پر تنقید ہر گز نہیں ہے ۔مگر چونکہ ہماری اکثریت کو یہ علماء دولے شاہ کا چوہا بنا چکے ہیں لہذا جو سوال اٹھائے تو ان کے تیار کردہ دولے شاہ کے چوہے اپنی زبانوں سے شعلے اگلنے لگتے ہیں ۔ان علماء کو ہر شخص کی سوچ پر اختیار چاہیے ۔ان کے مطابق ہر فرد کے دماغ پر ان کے اقتدار کی گرفت ہونا از حد ضروری ہے۔ہر شخص بلا سوچے سمجھے ان کے فرمودات پر کامل ایمان لائے۔اگر کوئی تنقید کرے تو کہتے ہیں مذکورہ شخص گستاخ ہے ۔مذہب سے لاتعلق ہے ۔یہاں تک کہ شدت جذبات سے مغلوب ہو کر اس کے قتل کا حکم جاری کر دیتے ہیں ۔ رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بدترین دشمنوں کو بھی صرف اپنے حسن سلوک سے اور کردار کی عظمت سے گرویدہ بنا لیا۔کعبے کو پاسباں مل گئے صنم خانے سے ۔حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے کا سب سے بڑا منافق عبداللہ بن ابی بھی طبعی موت مرا جبکہ عبداللہ بن ابی حد درجہ گستاخ بھی تھا منافق بھی حتی کہ ام المومنین کی ذات اقدس پر بہتان باندھنے والا بھی مگر اس کو قتل نہیں کیا گیا ۔آج کل کے علماء بات بات پر قتل کے فتوے صادر کرتے ہیں ۔شدت پسندی کا زہر ہمارے ذہنوں میں انڈیل کر ایک دوسرے کے خون کا پیاسا بنا ڈالا۔ چند دن پہلے میں نے فیس بک پر اک پوسٹ لگائی کہ پاکستان میں علماء کے پاس چاند کی رویت کا اختیار ہے اور اسی پر ہر سال اختلاف ہو جاتا ہے ۔سوچو اگر اقتدار پورا ان کے پاس ہو تو کس قدر اختلافات جنم لیں گے ۔اس پوسٹ پر متحدہ مجلس عمل کے صوبائی اسمبلی کے امیدوار کا کمنٹ آیا کہ خدا کا خوف کرو علماء پر تنقید نہ کرو اتنے بڑے صحافی نہ بنو ۔اس کے بعد ایک کالج سے تعلیم یافتہ گریجویٹ کا کمنٹ تھا۔جس کو علماء سے مسئلہ ہے وہ اپنے باپ کاجنازہ عاطف اسلم اور عارف لوہار سے پڑھوائے ۔اندازہ کریں کہ یہ ہے وہ رویہ جو علماء نے اس معاشرے میں پروان چڑھایا ۔جب کہ میرا سوال یہ ہے کہ سال کے دس ماہ چاند کی رویت پر اختلاف نہیں ہوتا ۔صرف عیدین کی چاند کی رویت کا اعلان علماء نے کرنا ہوتا ہے اور فقط اسی پر ہی تماشہ کیوں لگتا ہے ۔علماء جدید دور میں بھی اہل نہیں جبکہ دعوے کرتے ہیں کہ اسلام کی بقاء ہمارے دم سے ہے ۔ایک تعلیم یافتہ نے اسی پوسٹ پر تبصرہ کیا کہ جناب علماء کو نشانے پر نہ رکھیں علماء دو قسم کے ہوتے ہیں ایک علماء حق اور دوسرے نام نہاد علماء اور پھر فرماتے ہیں ۔علماء کی بدولت یہ دنیا قائم ورنہ تو قیامت کے تمام آثار اور نشانیاں مکمل ہو چکیں ۔علماء نے قیامت روک رکھی ہے ۔گویا علماء خدائی قیامت کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہیں ۔ جبکہ عملی طور پر پاکستان میں دہشت گردی فرقہ واریت اور بے گناہوں کا خون صرف علماء کی شعلہ بیان تقاریر کی بدولت بہایا گیا۔سارے عالم میں مسلمانوں کی جگ ہنسائی علماء کی مرہون منت ہے ۔جماعت اسلامی کے منور حسن نے کہا وطن کی حفاظت کرنے والا شہید نہیں البتہ معصوم انسانوں کا خون بہانے والے تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گرد خونی درندے شہید ہیں ۔ہزاروں پاکستانی مذہبی جنونیوں نے خودکش دھماکوں میں مار ڈالے ۔اور جب بھی کوئی دہشت گرد گرفتار ہوا اس نے بیان دیا کہ میں نے جنت کے حصول کے لیے سب کچھ کیا۔خدا کی بنائی گئی جنت کو دوزخ علماء کی نام نہاد تعلیمات نے بنایا۔علماء نے ہماری اکثریت کی سوچ پر قدغنیں لگائیں ۔ کیا وجہ ہے ہمارے معاشرے میں پوری دنیا میں تسلیم شدہ متفقہ برائیاں موجود ہیں ۔جھوٹ ملاوٹ دیانتداری کا فقدان جہالت انتہا پسندی اور جذباتیت بے حسی اور ظلم نا انصافی نظم و ضبط اور حقوق و فرائض سے لاعلمی خطرناک حد تک موجود ہے ۔علماء نے اس ضمن میں کیا کردار ادا کیا۔البتہ اگر علماء کی ان خامیوں پر بات کی جائے تو اس کو مذہب پر تنقید کا نام دے کر خاموش کر دیا جاتا ہے ۔بحیثیت پاکستانی اب ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا ہوگا ۔ورنہ ہم مکمل دولے شاہ کے چوہے بن کر رہ جائیں گے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
whats app
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
2022/5/22 - 2022/6/21
آرشيو
افکار و نظریات: مولوی اور دولے شاہ کے چوہے
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں