تبدیلی کا ٹرک

محبوب اسلم 

 کوئی مانے یا نہ مانے عمران خان ایک نمبر کا دو نمبر انسان ھے۔ عمران خان کا پلے بواۓ سے شروع ھونے والا سفر سیتا وائٹ سے ناجائز اولاد سے ھوتا ھوا آخر کار قبروں کے سجدے پر آ رکا۔۔۔لیکن بیچ میں آگیا ایک شوکت خانم۔ اس ایک شوکت خانم نے ھم پاکستانیوں کو وہ چھتر کھلاۓ ھیں جس کا اندازہ لال بھجکڑ بھی نہیں لگا سکتا تھا۔

اس ایک شوکت خانم نے عمران خان کو ناجائز اولاد کا باپ ھوتے ھوۓ بھی ایک قومی ھیرو میں بدل دیا۔ پھر اس ھیرو نے ایاک نعبدوایاک نستعین کا نعرہ لگا کر ھم سب کے دل موہ لیئے اور یوں تبدیلی کے ٹرک کی بتی آن ھوگئی۔ اب بائیس سال بعد یہ تبدیلی کا ٹرک اپنی بتی سمیت انھیں وڈیروں، چوروں اور لوٹوں کےڈیرے پر آرکا جنھوں نے اس ملک کو پچھلے ستر سال سے بھنبھوڑ کھایا ھے۔

یوں عمران خان ایک منافق ترین شخص کے طور سامنے آیا ھے جواقتدار کیلئے کچھ بھی کر سکتا ھے۔ آج پی ٹی آئی ملک کی دوسری سیاسی جماعتوں کی ھوبہو نقل بن چکی ھے۔ اگر یہ کہا جاۓ کہ پی ٹی آئی عمران خان کی منافقت کی وجہ سے زرداری اور نواز شریف جیسے کرپٹ لیڈروں کی پارٹی کو بھی پیچھے چھوڑ گئی ھےتو یہ بےجا نہ ھوگا۔ کم ازکم زرداری اور نواز شریف کرپٹ اور چور ضرور ھیں لیکن انھوں نے کبھی ایاک نعبدو وایاک نستعین کے کلمے کا تو ناجائز استعمال نہیں کیا؟؟؟

دودری طرف پی ٹی آئی میں وھی مطلق العنانیت پائی جاتی ھے جس کا دور دورہ پی پی پی اور نون لیگ میں ھے۔ پی ٹی آئی میں بھی انھی پارٹیوں کیطرح کوئی جمہوری طریقہ کار وضع نہیں ھے۔ تمام تراختیار ایک فرد واحد کو حاصل ھیں اور عمران خان اسکا بھرپوراستعمال کرتارھاھے۔ وہ چاھے پارٹی میں فنڈز کی چوری کا معاملہ ھو یا پارٹی الیکشن میں دھاندلی کا مسئلہ عمران خان نے ھمیشہ چوروں کاساتھ دیا۔ کون نہیں جانتا کہ پچھلے تین سال سے یہ شخص پارٹی فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن سے بھاگ رھا ھے اور الیکشن کمیشن ایک سفید ھاتھی کیطرح بے بس ھے۔ کون نہیں جانتا کہ عمران خان نے پارٹی الیکشن میں دھاندھلی کرنےوالے جہانگیر ترین، علیم خان اور پرویز خٹک  کو بچانے کی خاطر جسٹس وجیہ الدین جیسے بااصول آدمی کو پارٹی سے نکال دیا۔

کون نہیں جانتا کہ کے پی کے میں پرویز خٹک اور جہانگیر ترین کی کرپشن کو بچانے کیلئے عمران خان نے کے پی کے احتساب کمیشن کے سربراہ جنرل حامد کےاختیارات کو راتوں رات زائل کر دیا۔ اور آج یہ منافق بے شرموں کیطرح کہتا پھرتا ھے کہ مجھے الیکٹیبلز چاھئے۔ آج اسے ایاک نعبدو وایاک نستعین کا کلمہ یاد نہیں ھے۔ اس نےقوم کو خوب بیوقوف بنایا ھے۔ یہ منافق آج ایاک نعبدو کے بدلے ایک قبر پر سجدہ ریز ھے اورایاک نستعین کی جگہ ایلیکٹیبلز کی مدد کا بھکاری ھے۔اس پر لعنت کےسوا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ 

اسکی گندی سیاست اسلام آباد کے ناکام دھرنے میں ایمپائیر   کی انگلی مانگنے کے بعد ختم ھوچکی تھی۔ یہ تو پانامہ لیکز کودعائیں دے کہ نواز شریف کی کرپشن سامنے آگئی اوراس منافق کی سیاست کو ایکبار پھر سہارا مل گیا۔ 

قوم نے اس شخص کو شوکت خانم کے نام پر اور ایاک نعبدو وایاک نستعین کے پاک کلمے کی بدولت بہت عزت دی لیکن اس کی منافقت کھل کر سامنے آچکی ھے۔جو بندہ اقتدار کے چکر میں قبروں پرسجدہ ریزھو جاۓ وہ اقتدار کیلئے کچھ بھی کرسکتا ھے۔ اس منافق نے ابھی کل ھی پشتون تحفظ مومنٹ کیساتھ فاٹامیں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی ھے۔ کون نہیں جانتا کہ پشتون تحفظ مومنٹ لاپتہ افراد کی آڑ میں پاکستان مخالف ایجنڈےپر کام کر ھی ھے اور ابھی کچھ دن پہلے اسکے ارکان نے ھالینڈ میں یواین او کے دفتر کے سامنے پاکستان مخالف ریلی نکالی ھے۔ پشتون تحفظ مومنٹ امریکہ کا شام اورعراق والا کھیل پاکستان میں کھیلنا چاھتی ھےاوریہ منافق انکے ھاتھ مضبوط کر رھا ھے!

 پی ٹی آئی کے نظریاتی ورکرز اور وہ عام پاکستانی جو ایک نئے اور بہتر پاکستان کےخواب میں عمران خان کی منافقت میں آکر اس کے ساتھ سالوں سال محنت کرتے رھے آج حقیقت آشکار ھونے پر مایوسی کا شکار ھیں۔ لیکن میں سمجھتاھوں کہ یہ بہت بہتر ھو رھا ھے۔ پاکستان کے عوام کی تربیت ھو رھی ھے۔ آج اس عوام کو یہ سبق مل رھا ھے کہ حقیقی لیڈر پارٹی کو ادارہ بناتا ھے نہ کہ آمر بن کر اس پر بیٹھ جاتا ھے۔ پارٹی میں غیر جانبداری سے احتساب کی بنیاد رکھتا ھے۔ پارٹی کی علاقائی سطح پر تنظیم سازی کرتا ھے۔ اپنے ورکرز کو سماجی خدمت کیلئے متحرک کرتا ھے۔ سوچ اور سمجھ بوجھ رکھنے والے تھنک ٹینک کی بنیاد رکھتا ھے۔ شیڈو گورنمنٹ کے ارکان کا انتظام کرتا ھے اور اسمبلیوں میں حکومت وقت کی غلط پالیسیوں کو نہ صرف چیلنج کرتا ھے بلکہ متبادل حل تجویز کرتا ھے۔

لیکن منافق عمران خان نے یہ سب کچھ نہ کیا بلکہ پارٹی کو ادارہ بنانے کی ھر ایک کوشش کو سبوتاژ کیا۔ چوروں اور کرپٹ افراد کو اپنی طاقت کو مضبوط کرنے کیلئے نہ صرف تحفظ دیا بلکہ پارٹی کے کلیدی عہدوں پر فائزکیا۔ نتیجہ میں پی ٹی آئی آج ایک مکمل مافیا بن چکی ھے۔ مزید براں  عمران خان کی ذاتی اخلاقی گرواٹ اب اسے ضیعف العتقادی کی تحت قبروں اور مزاروں کی خاک چھنواتی پھر رھی ھے۔ دوسری طرف اسکی نئی شریک حیات قدرت کا حسین انتقام ھے۔ جو عورت اپنا ھنستا بستا گھر اور ایک ماں نہیں بلکہ نانی کی حثیت کا بھی خیال نہ کرتےھوۓ طلاق جیسا ناپسندیدہ عمل کر گذرے تو پھر یہ منافق اور یہ جعلی پیر ایکدوسرے کیلئے موزوں ترین جوڑا ھیں کہ جوڑے بیشک آسمانوں پر بنتے ھیں اور اللہ ھرایک کو خوب جانتا ھے۔

لیکن اب بنیادی سوال یہی اٹھتا ھے کہ ایک طرف یہ منافق اوراقتدار کا بھوکا عمران خان ھے اور دوسری طرف کرپٹ ترین نون لیگ کھڑی ھے بندہ کسے ووٹ ڈالے۔ میرا مشورہ ھے کہ عوام دونوں پر لعنت بھیجتےھوۓ دونوں کو یکسر مسترد کر دے۔

قلیل المدتی حل یہ ھے کہ عوام اب نئے لوگوں کو موقعہ دے۔ اپنے ارد گرد نگاہ ڈالیئے۔ آپ کو ضرور کوئی آزاد امیدوار یا ایک نئی پارٹی مل جائیگی جو آپ کے ووٹ کی حقدار ھے۔ میں سمجھتا ھوں کہ بجائے اپنا ووٹ پی ٹی آئی اور نون لیگ یا پی پی پی پر ضائع کیا جاۓ کیوں نہ اسدفعہ ووٹ نئے امیدواروں کو دیں۔ آپ کو اپنے حلقہ میں ایسے امیدوار ضرور مل جائینگے۔ مثال کے طور پر تونسہ شریف میں عام آدمی تحریک کے فرحان بھٹہ اور راشدہ بھٹہ بہترین انتخاب ھیں۔ ملک بھر میں لاھور کے ھارون خواجہ کی نئی پارٹی پاکستان فریڈم مومنٹ کے امیدوار اچھی چوائس ھو سکتے ھیں۔ اسی طرح  گجرنوالہ کے ملک نسیم صادق کی عام لوگ پارٹی اچھا انتخاب ھے۔ جمشید دستی  کی عوامی راج پارٹی بھی ان روایتی پارٹیوں  کے مقابلے میں بہتر انتخاب ھے۔ اسی طرح چوھدری انور اور رفیع خان کی کسان اتحاد پارٹی کو سپورٹ کرنا بہتر ھے۔ جسٹس وجیہ الدین کی عام لوگ اتحاد پارٹی بھی بہتر انتخاب ھو سکتا ھے۔ اسلام آبادمیں چوھدری عامر کی پاکستان پیپلز الائنس بھی عمدہ انتخاب ھے۔ 

 اسی طرح  آزاد حثیت میں کافی اچھے امیدوار موجود ھیں۔ مثال کے طور پر کوئٹہ میں عظیم کاکڑ اور جنوبی پنجاب میں ڈاکٹر میاں عبدالرحمن جیسے باکردار اور پاکستان کیلئے کچھ کر گذرنے والے امیدوار موجود ھیں۔ الغرض ھمارے پاس منافق عمران خان, کرپٹ نواز شریف, اور زرداری جیسے چور کے علاوہ بھی بہتر چوائسز موجود ھیں۔ اور پاکستان ان دو نمبر لیڈروں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بعد ھی ترقی کر سکتا ھے۔

دوسری طرف طویل المدتی حل یہ ھے کہ ھم ایک ایسی سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھیں جو صحیح معنوں میں عوام کی نمائندہ جماعت ھو اور جو خود احتسابی پر یقین رکھتی ھو۔ جو اپنی مدد آپ کے اصولوں پر استوار ھو اور عوام  کی خدمت اقتدار میں آکر نہیں بلکہ پہلے دن سے ھی اپنی مدد آپ کے اصولوں کے تحت شروع کرے۔ اس ضمن میں پی ٹی آئی کے نظریاتی ورکرز ایک اھم کردار اداکر سکتے ھیں۔ میں اور میرے ساتھی جو مدت سے عمران خان کی یہ موجودہ مافیا پارٹی چھوڑ چکے ھیں۔۔۔ایک نظریاتی پلیٹ فارم پر پی ٹی آئی کے نظریاتی ورکرز اور دوسرے ایسے پاکستانیوں کو جمع کر رھے ھیں جو اب اس ملک میں حقیقی عوامی انقلاب دیکھنا چاھتے ھیں۔   

خدارا اپناووٹ ملک اورقوم کی بہتری سامنے رکھتے ھوۓ ڈالیں اور ان تمام دو نمبر لیڈروں کو مسترد کر دیں۔



     


افکار و نظریات: تبدیلی کا ٹرک