عوام بمقابلہ خلائ مخلوق

تحریر..... محمد گلزار حسین

موجودہ صورتحال سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عوام میں شعور آ چکا ہے کہ ہر حلقہ میں سیاسی امیدوار کو بہت سارے لوگ گھیر کر اس سے عوامی سطح پہ احتساب لیا جاتا ہے اور یہ بات میڈیا پہ دکھائ بھی جاتی ہے, یعنی اس بار ایسے پاکستانی بھی ہیں جو چہروں کی تبدیلی یعنی ظاہری انقلاب چاہتے ہیں, ان کے خیال میں پی ٹی آئ وقت کی خضر جماعت ہے جو قوم کو اعلی معیار پہ لے کر جاۓ گی, میرا دل تو نہیں کرتا کہ الیکشن پہ لکھوں, کیونکہ میرے لکھنے نہ لکھنے سے کسی کو کیا فائدہ, لیکن پھر سوچا لکھنے سے شاید دل کی کچھ اداسی اور غبار دور ہوجاۓ,
اور لکھنا اس لیۓ نہیں چاہتا کہ اسے کہیں سیاسی کالم نہ کہہ دیا جاۓ, دراصل سیاست ایک ایسا گندا تالاب بن چکی ہے جو ہم جیسے کم عقلوں کے لیۓ ایک برائ کا مجموعہ ہے یہ یاد رکھیۓ یہ بات میں اپنے مکانی پس منظر میں کررہا ہوں, یہ سیاست ایسا گورکھ دھندہ ہے جس میں جو بھی تشریف لاتا ہے وہ اسی دھندے میں لگ جاتا ہے, آپ چیف جسٹس صاحب کو دیکھ لیجے کس طرح جاکر بھری محفل میں ایک قاضی کو پوری دنیا میں رسوا کردیتے ہیں, ہاں لگائیے مجھ پہ بھی توہین عدالت, لیکن سچ یہی ہے کہ کون سا قانون نافذ کیا جارہا ہے, ایک گھنٹہ پہلے کوئ صادق اور امین نہ ہوکر نااہل ہوجاتا ہے اور اگلے گھنٹہ میں اسی پاکستانی عدالت میں اسے اہل کر کے صادق اور امین بنادیا جاتا, معزز جج صاحبان آپ یہ تو بتائیے کہ صادق اور امین کی تعریف کیا ہوتی ہے, کیا آپ حلف اٹھا کے کہہ سکتے ہیں کہ سارے سیاستدان عمران خان, زرداری, بلاول, فضل الرحمان, فاروق ستار, نثار, ثناءاللہ, اسفند یار, شیخ صاحب وغیرہ سب صادق اور امین ہیں ؟؟
عجیب منطق ہے ایک سیکنڈ پہلے میڈیا پہ کسی کی نااہلی کا چرچا اگلے لمحہ اہلی کا ثبوت,
جو بے چارہ خاموش تماشائ بن جاۓ وہ نااہل اور جو کہے کہ ان جج صاحبان کا دماغی توازن درست نہیں, ٹیسٹس کرواۓ جائیں اسے اہل کردیا جاتا ہے,
کیا کہوں ناصرالملک صاحب کو,
جب عوام ہم جیسی ہوگی تو نگران تو ایسے ہی ہوں گے, پاکستانی ایسے بھی ہیں جو شیر کی حکومت دوبارہ دیکھنا چاہتے ہیں, ایسے بھی ہیں جو مشرف کو یا فوج کو لانے کے حق میں ہیں, اسی طرح ہم عوام قومی سے صوبائ اور صوبائ سے علاقائ اور بستیوں میں بٹ چکے ہیں, ہر فرد یا تو اپنا الگ لیڈر لانا چاہتا ہے یا پھر خود اپنا لیڈر بھی خود آپ بننا چاہتا ہے, شرابی ہے تو شرابی وزیر, مولوی ہے تو مولوی وزیر, کلین شیو ہے تو وزیر بھی ویسا یعنی ہر مکتب و مسلک اور اونچ نیچ والا وزیر بھی اپنے جیسا چاہتا ہے, یعنی عوام متحد ہوکر کسی ایک کو پسند نہیں کرتے.
چلیں مان لیا چار پاٹیاں ہوتیں اور چار حکمرانوں کو عوام چاہتی, نہیں یہاں تو بائیس کروڑ عوام ہی بائیس کروڑ وزیر اعظم چاہتی ہے اور اسی لیے اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے پاس ذہین و فتین وزراء پاۓ جاتے ہیں, اور صرف ذہین ہی نہیں چور, ڈاکو, قاتل, گلوکار, اداکار, ہیجڑے, مرد, زن, بدمعاش اور شریف قسم کے وزیروں کا وجود بھی پاکستان کے لیے اعزاز کی بات ہے,
مجھے لگتا ہے اس بار عوام پھر ہارے گی, پھر زینب کی عزت لٹے گی, پھر دھرنوں میں عوام استعمال ہوگی, ماڈل ٹاؤن میں پھر مروائ جاۓ, کفن پہناکر مروانے کے وعدے ہونگے, ہاں مجھے لگتا ہے اس بار پھر ذیشان بٹ کو سرعام قتل کیا جاۓ گا اور صحافت پھر پیسہ کماۓ گی,
اس بار حکمرانوں کو نہیں عوام کو گالیاں دینے کو جی چاہتا ہے,
اس بار تبدیلی ممکن ہی نہیں کیونکہ عوام تو غلامی کی زندگی ہمیشہ کےلیے چن چکے ہیں, اور اس بار بھی پہلے کی طرح دھاندلی ہوگی اور پہلے کی نسبت زیادہ ہوگی بلکہ جدید طرز پہ ہوگی, پڑھے لکھے مہزبانہ انداز میں ہوگی, خلائ مخلوق اپنا بھرپور ادا کرے گی, یہ خلائ مخلوق ہی تو عوام کے منہ پہ زور دار تمانچہ مارے گی لیکن عوام اس تمانچہ کو دیکھ نہیں سکے گی کیونکہ خلائ مخلوق نظر نہیں آتی,
ہمارے ملک پاکستان میں چلنے والی این جی اوز بھی خلائ مخلوق کی ایک قسم ہوسکتی ہیں, جن سے شاید کوئ پہلے ہی مک مکا کرچکا ہے, عوام کو کیسے پتہ چلے گا کہ این جی اوز بھی خلائ مخلوق ہیں, میں نے سن رکھا ہے کہ بڑی بھاری رقم اس الیکشن سے پہلے ہی استعمال کی جاچکی ہے لیکن لیکن یہ افواہ ہوسکتی ہے ,
اس بار عوام کو اپنے منہ میں تمانچے مارنے چاہئیں کہ اگر خلائ مخلوق کسی کو جتوا جاتی ہے,
آپ نے انڈے والی مثال تو سن رکھی ہے کہ انڈے کے اندرونی اطراف سے توڑ پھوڑ کا عمل شروع ہوتا ہے تو زندگی کا آغاز ہوتا ہے باہر سے ہو تو چوزہ مر جاتا ہے,
عوام کے اندر تبدیلی رونما ہونا لازم ہے اور اس کے لیے تعلیم ہی وہ واحد حل ہے جو شعور و آگاہی میں ممدومعان ثابت ہوئ ہے, اس لیئے ملک میں انقلاب لانے کےلیے ضروری ہے کہ عوام میں شعور پیدا کیا جاۓ, تہزیب کا درس دیا جاۓ, ثقافت کے قریب کیا جاۓ, روحوں میں تڑپ پیدا کی جاۓ, سچا پاکستانی بنایا جاۓ,
,,,,,,, عوام کو چاہئیے کہ اس بار اپنا محاسبہ کرے, صرف اپنا,,,
اپنا گریبان پکڑ کر کہے کہ ہم نے نسل نو کے لیے کیا کیا ؟ عوام کے اندر ایسا ضمیر جاگنا ضروری ہوگیا ہے کہ غیرت صرف کیمرے کے سامنے نہ دکھائی جاۓ بلکہ اب وقت ہے کہ کیمرہ کے علاوہ بھی اپنے حلقہ کے امیدوار سے پوچھ گچھ کی جاۓ. لیکن ایسا نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ تو کیمرے کا خوف ہی اس امیدوار کے ہاتھ باندھ دیتا ہے اس کی زبان رک جاتی ہے, پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ بھی سب کے منہ پہ تھپڑ کے مترادف ہے میں نے سنا ہے کہ سابقہ حکومت کا امریکہ سے وعدہ ہے کہ ایک بار تو ڈالر کو اپنے ملک میں 127 روپے پہ لے جانا ہے تو یہ اسی طرح ہی ہوگا, اندھا کوئ بھی نہیں کہ وہ نہ جانتا ہو کہ ملک کس سطح کی طرف جارہا ہے, عوام کا ہی قصور ہے سب جانتے ہوۓ بھی مردہ ہوچکے ہیں ہم..
,,,,,, بتوں کی خاطر ایک دوسرے پر لڑ مرنا, اپنے پیاروں کو بھول جانا عوام اسے تو نہیں ..........عوام اپنے ملک کی تقدیر خود لکھتے ہیں,
عوام جو بوتے ہیں وہی اگتا ہے اور پھر عوام کو ہی یہ بویا ہوا یا اگا ہوا کاٹنا پڑتا ....
اس بار عوام کو چاہیۓ کہ جیت جاۓ , میڈیا کو چاہئیے کہ خلائ مخلوق کو بے نقاب کرے..
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹


افکار و نظریات: عوام بمقابلہ خلائ مخلوق