پاکستان کو کیا چاہیے!؟


(ڈاکٹر حفیظ ارحمان )
ھماری دلی خواہش تھی کے نواز شریف کو واپس اناچائیے اور مقتتدر قوتوں کا مقابلہ کر نا چاہیے اور سب سے بڑھ کر ووٹ کو عزت دو جو کے دراصل پارلیمان کی بالا دستی کی بات ھے ۔اس کے لیے اسے کھڑا ھونا چائیے ۔
پاکستان کی تاریخ میں شائد ھی کوئی ایسا لیڈر ھو گا ،جس نے سیاست کے ھاتھوں اور اقتدار کی گردشوں میں جنم لینے والی سازشوں کے ہاتھوں اس قدر زہنی اُزیت اٹھائی ھو ۔
نواز شریف نے کبھی بھی اپنے اقتدار کے دورانیے کو مکمل نہیں کیا ،آئیے دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کے نواز شریف نے کیا سیکھا اور کیا پایا اور سب سے بڑھ کر کیا کھویا ۔
قاعد اعظم جب انگلینڈ گئے تو انکے زہن میں
صرف ایک مقصد تھا کے اپنے والد کی ڈوبتے کاروبار کو کیسے سہارا دیں ۔
محمد علی جناح کے والد امپورٹ ایکسپورٹ کا کاروبار کرتے تھے اور اس حوالے سے انھیں بیرونی کمپنیوں سے رابطے کرنا میں دشواری ھوتی تھی تو انکے ایک برٹش دوست نے انھیں مشورہ دیا کے محمد علی جناح کو لندن میں بزنس میں ڈپلومہ کرایا جائے اور جو کے میٹرک کرنے کے بعد ممکن تھا اور محمد علی جناح میٹرک کرنے کے بعد لندن روانہ ھو گئے ۔
لندن میں جس ہندوستانی روم میٹ کے ھاں قیام کیا تو انھوں نے جناح کو مشورہ دیا کے انگلینڈ میں ایک امتحان ھوتا ھے ،جسے پاس کرنے سے وہ بیچلر ھو جایں گے اور پھر بیرسٹر ی کر سکیں گے ،دلچسپ بات یہ تھی کے یہ امتحان آخری مرتبہ ھو رہا ھے ،
جناح اس امتحان کو پاس کرتے ہیں اور پھر سلسلہ شروع ھو جاتا ھے ،مقصد دولت کمانی تھی اور گھر کے حالات کو بہتر کرنا تھا ۔
جناح نے خوب اور بے تماشا دولت کمائی اور ایک شاندار زندگی بسر کی ،ھمارے پاس باقاعدہ سے ان کی دولت اور اثاثوں کی لاگت کے اعداد و شمار نہیں ہیں لیکن انکے مقبرے پہ کھڑی گاڑیوں اور انکے محل نما گھروں سے انکی دولت اور شاہانہ طرز زندگی کا احساس ھوتا ھے ۔
جناح کے فہم و گمان میں بھی نہیں تھا کے ایک دن وہ قاعد اعظم بنیں گے ،کانگریس سے مسلم لیگ تک کا سفر ایک کھٹن سفر تھا ،اس سفر میں کافر اعظم کا خطاب بھی ملا ۔
نواز شریف ایک کاروباری ،جو اقتدار کے مزے اوراپنے کاروباری کاموں کو سہولت دینے کے لیے سیاست کا رخ کرتا ھے اور پھر وقت کے گزرنے کے ساتھ اسے احساس ھوتا ھے کے پاکستان کے پیچھے رہنے کی وجو جات کیا ہیں ۔وہ کونسی قوتیں ہیں جو خود کو عقل کل سمجتھی ہیں ،جو جب واجپائی مینار پاکستان پہ آتا ھے تو کارگل کرتی ہیں اور جب خود اقتدار میں اتی ہیں تو کشمیر کے حل کے لیے چار چار فارمولے دیتی ہیں۔
نواز شریف سے زیادہ کون اقتدار کی اندرونی کہانی کو جانتا ھو گا ،اگر آصف زرداری مفاہمت کے نام پہ پانچ سال گزار سکتا ھے تو کیا یہ گر نواز شریف کو نہیں آتا ۔
نواز شریف اگر تو ووٹ کو عزت دو کے بیانیے میں سچا ھے اور اس مشن کی تکمیل میں ھر صعوبت کو برداشت کرنے کو تیار ھے تو یہ جمھوریت کی فتح اور جیت ھو گی ۔
،پاکستان کو اگر کچھ چائیے تو آئین کی بالا دستی اور جمھوریت ۔


افکار و نظریات: پاکستان کو کیا چاہیے