آج کا امریکہ

عمر جاوید

 امریکی صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے بعد کہ امریکہ میں داخل ہونے والے تا رکین وطن خاندانوں سے ان کے بچوں کو زبر دستی پکڑ کر الگ کیمپوں میں قید کر دیا جائے، اس پر امریکہ کے ایک بڑے چرچ’’یوناٹیڈ چرچ آف کرائسٹ‘‘ میں کئی سالوں سے نن کے فرائض سر انجام دینے اور اب اسی چرچ میں ایگزیکٹو منسٹر برائے جسٹس لوکل چرچ منسٹریز کے عہدے پر فائز قابل احترام خاتون ٹریسی بلیک مون کا انتہا ئی دلچسپ ،مگر حقیقت پر مبنی تجز یہ سا منے آیا ۔

انہوں نے ٹرمپ کی اس پالیسی کو بنیاد بناتے ہوئے امریکہ کی تا ریخ بیان کی اور بتا یا کہ کیسے آج سے ڈیڑھ ، دوسوسال پہلے امریکہ کے سفید فام نسل پرست افراد سیاہ فام ماؤں سے زبر دستی ان کے بچے چھین لیا کرتے تھے اور پھر ان کو بھی غلام بنا لیا جا تا تھا۔

ٹریسی بلیک مون کے اس تبصرے پر مجھے ایلکس ہیلے کا مشہور نا ول Rootsیاد آ گیا۔ امریکی قوم کے تہذیبی تفاخرو نسلی برتری کے احمقا نہ تصور کو جس طرح ایلکس ہیلے نے اپنے شہرہ آفاق ناول Rootsمیں پیش کیا وہ یقینابے مثال ہے۔ ایلکس ہیلے ایک سیا ہ فام امریکی تھا، جو 1970ء کی دہا ئی میں امریکی نیوی کی ملازمت سے ریٹا ئرہونے کے بعد تحقیق کے شعبے سے وابستہ ہوا۔ ایلکس ہیلے نے اپنی تہذیبی و خا ندانی تاریخ کی تحقیق کرنے کا بیڑہ اٹھا یا ۔12سال کی مسلسل تحقیق کے دوران اس نے ا فریقہ کے کئی دورے کئے۔

وہ اپنی اس تحقیق کے لئے افریقہ میں کئی لوگوں سے ملا۔اور با رہ سال کی انتھک محنت کے بعد اس نے اپنی تحقیق کے نچوڑ کو ’’روٹس‘‘ Roots کی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اس تحقیق سے ہیلے کو معلوم ہوا کہ اس کی ماں کی ماں کے باپ اور اس کے با پ کی ماں کے باپ کو 1750ء میں امریکیوں نے گھا نا (افریقہ) کے علاقے سے پکڑ کر زبر دستی اپنا غلام بنا لیا۔کنٹی کنٹاجو گھا نا کے قبیلے کے ا یک سردار کا بیٹا تھا اور اپنے گھر اور قبیلے کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کر رہا تھا کہ1750ء میں چند امریکی تاجر جو اس وقت افریقہ سے لاکھوں کی تعداد میں انسانوں کو پکڑ کر ان کو اپنا غلام بنا لیتے تھے اور ان کو امریکہ لے جا کر ان سے ٰہر طرح کے مشکل اور پر خطر کا م کرواتے تھے۔امریکی، کنٹی کنٹاکو بھی اپنے ساتھ امریکہ لے گئے۔لا کھوں افریقی انسانوں کی طرح اس کو بھی غلام بنا کر بیچا گیا۔

اس کو شدید نسلی تحقیر کا نشانہ بنا یا گیا ۔اس کو زنجیر پہنا کر اس پر تشدد کیا گیا۔اس سے اس کی تہذیبی اساس حتیٰ کہ اس کے نا م سے بھی زبردستی محروم کر کے اس کو امریکی آقا ؤں نے اپنی پسند کا نام دیا۔

حتیٰ کہ جب اس کی شادی کے بعد اس کی ایک بیٹی پیدا ہو ئی تو اس بیٹی کو بھی کسی اور امریکی آقا کے ہا تھوں بیچ دیا گیا۔ نسلی امتیا ز کا یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہااور کنٹی کنٹاکی ساتویں نسل کے ایک فرد ایلکس ہیلے نے اس سارے سلسلے کو ایک نا ول میں سمیٹ کر رکھ دیا۔

آج ٹرمپ دور کے امریکہ کو دیکھ کر ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے ابھی روٹس ناول کا اختتام نہیں ہوا ،بلکہ یہ نا ول ابھی جاری ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کے حکم پر امر یکہ میں پناہ لینے والے تارکین وطن افراد کو دہشت زدہ کرنے کے لئے چھوٹے بچوں کو جس طرح اپنے والدین سے جدا کیا جا رہا ہے اس کی دنیا بھر میں ذرا سا بھی ضمیر رکھنے والی رائے عامہ شدید مخالفت کر رہی ہے۔خود امریکہ کے اندر کئی بڑے شہروں میں ٹرمپ کے خلاف احتجاج کئے گئے ۔اب تک تین ہزار سے زائد چھوٹے بچوں کو ان کے والدین سے چھین کر جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔

ان قید خانوں سے سنی جانے والی آڈیو ٹیپز کے مطابق یہ معصوم بچے جس طرح اپنے ماں باپ کے لئے چیخ و پکار کر رہے ہیں ان کو سن کرذرا سا بھی حساس سوچ رکھنے والا انسان لرز کر رہ جاتاہے۔حتی ٰکہ ماں کا دودھ پینے والے بچوں کو بھی ان کی ماؤں سے الگ کر دیا گیا۔

قید خانوں سے ان بچوں کی بلند ہونے والی آہیں اور سسکیاں کسی آمرانہ یا دہشت گرد ریاست سے نہیں ،بلکہ دنیا کی سب سے زیادہ ’’ مہذب اور ترقی یا فتہ ریاست‘‘ امریکہ سے آ رہی ہیں۔ٹرمپ اور اس کے مشیر جس طرح اس ظالمانہ فیصلہ کو جواز دینے کی کوشش کر رہے ہیں یہ سرا سر فاشسٹ رویہ کا عکاس ہے ۔تاریخ بتاتی ہے کہ کو ئی بھی فا شسٹ حکمران ا پنے فاشسٹ اور نسل پر ستانہ عزائم کے لئے محروم طبقات کو ان کی محرومی کی حقیقی وجوہات بتانے کی بجا ئے ان کو نسلی تعصب کی جانب لے جا تا ہے۔

20ویں صدی میں اس کی سب سے بڑی مثال ہٹلر کی صورت میں ہمارے سامنے ہے جس نے اسی سما جی خلفشار کو بنیا د بنا کر نسل پرستی کا نعرہ لگا کر جرمن قوم کی اکثریت کی حمایت حاصل کر لی ۔

اب ڈونلڈ ٹرمپ سفید فام امریکیوں کی حما یت حا صل کر نے کے لئے یہ موقف اپنا رہا ہے کہ سفید فا م امریکی اس لئے بے روز گا ر ہو رہے ہیں کیوں کہ ان کے حصے کی نو کریاں سیا ہ فا م اور میکسیکو کے شہری لے جا تے ہیں۔ان پناہ گزینوں یا تا رکین وطن کو ’’ آدم خور جانور‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔تارکین وطن یا پناہ گزینوں کا مسئلہ صرف امریکہ ہی نہیں،یورپ میں بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

 

اقوام متحدہ کی طرف سے ہر سال 20جون کو ’’ورلڈ ریفیوجی ڈے‘‘ منایا جا تا ہے۔اقوام متحدہ نے اس روز جاری ہونے والی اپنی رپورٹ میں پنا ہ گزینوں کے حوالے سے بڑے اہم اعداد و شمار پیش کئے۔ اقوام متحدہ کے ان اعداد و شمار کے مطابق 2017ء میں جنگوں کے ساتھ ساتھ معا شی جبر اور غربت کے باعث 6کروڑ سے زائد افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے،جبکہ 2016میں یہ تعداد ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کے لگ بھگ افراد پر مشتمل تھی۔اقوام متحدہ ہی کی رپورٹ کے مطابق ایشیا، افریقہ اور لا طینی امریکی کے ممالک میں غریبی اور وسائل نہ ہونے کے باعث لوگ اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جا تے ہیں۔

تاہم غربت کے باعث اپنا ملک چھوڑنے والے افراد میں افریقی ممالک کے باشندوں کا تنا سب دیگر براعظموں کے مقا بلے میں زیا دہ ہے۔مشرق وسطیٰ کے کئی ملکوں میں خانہ جنگی کے باعث زیا دہ تر پنا ہ گزین اپنا وطن چھوڑ کر یورپی ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں،مگر امریکہ میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے والے تارکین وطن کی اکثر یت غربت اور معا شی جبر کے خلاف امریکہ میں سکونت اختیار کرنا چا ہتی ہے۔

یہ درست ہے کہ پناہ گزینوں کے مسئلہ کے ساتھ ایک ضمنی مسئلہ یہ بھی ہو تا ہے کہ بڑی تعداد میں کسی ملک میں پناہ حاصل کرنے والے پناہ گزین اس ملک کی معیشت اور اس کے سماج پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے ایک پاکستانی کے طور پر ہما رے سامنے افغان مہاجرین کی مثال موجودہے۔لاکھوں افغان مہا جرین نے 1980ء کی دہا ئی میں سوویت لڑائی اور اس کے بعد افغانستان میں مسلسل خانہ جنگی کی صورت حال کے با عث پا کستان میں پنا ہ حاصل کی۔

اس وقت کی مخصوص صورت حال کو دیکھتے ہو ئے پا کستان کی ریا ست اور عوام نے بھی اپنے وطن سے بے گھر ہونے والے افغان مہا جرین کے ساتھ ہمدردی کا اظہا ر کیا ، مگر اس کے سا تھ ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ پر موجود ہے کہ ان افغان مہا جرین نے پاکستانی معیشت اور ہما ری سما جی بنت کو بھی کافی حد تک متا ثر کیا،مگر اس کے با وجود تا رکین وطن اور پناہ گزینوں کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے کئی طرح کے عالمی قوانین کا سہا را لیا جا سکتا ہے، مگر امریکی صدر ٹرمپ اس مسئلے کے لئے جس طرح کے غیر انسانی اقدامات کر رہے ہیں اس کو دیکھ کر یہی احساس ابھرتا ہے کہ اپنے ظاہر میں تو بے شک امریکی معا شرہ ترقی پسند ، لبرل اور سیکو لر ہو چکا ہے، مگر اپنے با طن میں وہ اب بھی ’’روٹس ‘‘کے عہد میں رہ رہا ہے۔


افکار و نظریات: آج کا امریکہ