پی ٹی آئی پر سوالیہ نشان

محبوب اسلم

کچھ لوگوں کو شدید غلط فہمی ھے کہ شایداس ملک کا اب کوئی ولی وارث نہیں رھا۔ سو جس کی مرضی آئے وہ منہ اٹھا کر کبھی جدت پسندی کےنام پر، کبھی انسانی حقوق کے نام پر اور کبھی روشن خیالی کے نام پر اس ملک کی اساس یعنی دین اسلام پر طبع آزمائی شروع کردیتاھے۔

یہی کچھ کل کراچی میں جبران ناصر نے کیا۔  آپ نے انسانی حقوق کا مسئلہ اٹھایا تو ھم آپ کیساتھ تھے۔ آپ نے مذھبی شدت پسندی کیخلاف آواز اٹھائی تو ھم آپ کیساتھ تھے۔ آپ نے پولیس گردی پر آواز اٹھائی تو ھم آپ کیساتھ تھے۔ لیکن پھر آپ یا تو اپنے اصل ایجنڈے پر آگئے یا اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ھوۓ چلے ختم نبوت کے بنیادی عقیدے پر حملہ کرنے۔ لیکن پنجاب کالونی کے باسیوں نے آپ کوخوب آئینہ دکھایا۔۔۔بڑے ھی مذھب طریقے سے آپ کو سمجھایا کہ بھائی صاحب کوئی بھی انسانی حقوق کا لبادہ ھم پاکستانیوں کو دین اسلام کے بنیادی عقیدے ختم نبوت سے پیچھے نہیں ھٹاسکتا۔ انسانی حقوق کی پاسداری کا یہ مطلب ھرگز نہیں ھے کہ ھم اپنے دین کے بنیادی عقائد کی یوں کھلے عام بے حرمتی دیکھتے رھیں۔

قادیانیوں کا اس ملک میں دین اسلام اور آئین پاکستان دونوں کی ھی رو سے غیر مسلم ھونا قرار پایا۔ جس طرح اس ملک میں اور اقلیتیں مثلاً ھندو، سکھ، عیسائی اور پارسی وغیرہ عمومی طور پر امن اور چین سے رہ رھی ھیں تو پھر آخر قادیانیوں کو ھی کیوں پیٹ مروڑ اٹھتا ھے؟ بات بہت سامنے کی ھے۔ یہ قادیانی اقلیت اس بات پر مصر ھے کہ مان یا نہ مان ھم تو مسلمان ھیں۔۔۔کل اگر یہی بات پارسی کرینگے تو مسئلہ تو اٹھے گا۔

قادیانیوں کو اس ملک خداد میں برابر کے شہری حقوق حاصل ھے اور بحثیت ایک غیر مسلم اقلییت کے انکے بنیادی شہری حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا گیا ھے۔ لیکن جس بات کی ان کو اجازت نہیں دی جاسکتی وہ یہ ھے کہ یہ اسلام کے بنیادی عقیدے ختم نبوت سے روگردانی کرتے ھوۓ خود کو مسلمان قرار دیں۔۔۔نہ تو انھیں پاکستان کا آئین اس بات کی اجازت دیتا ھے اور نہ ھی دین اسلام۔

اللہ رب العزت قرآن حکیم میں سورة الاحزاب میں کھلے بندوں ارشاد فرماتا ھے:

   ( لوگو! ) تمہارے مردوں میں کسی کے باپ محمد ( صلی اللہ علیہ وآل وسلم ) نہیں لیکن آپ اللہ تعالٰی کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے اور اللہ تعالٰی ہرچیز کا بخوبی جاننے والا ہے (آیت 40)

تو یہ بات اظہرمن الشمس ھےکہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آل وسلم) آخری نبی ھیں اور جو اس عقیدے سےروگردانی کریگا وہ دائرہ اسلام سے خارج ھے۔ یوں جبران صاحب کی یہ بے تکی ھٹ دھرمی کہ کسی کو کافر قرار دینے کاحق اللہ تعالی کےسوا کسی کو نہیں صرف اور صرف انکی قرآنی تعلیمات سے ناعلمی کا نتیجہ ھے۔۔۔جناب جبران صاحب اللہ رب العزت سورة الاحزاب میں فیصلہ بہت ھی کھلے بندوں اور صاف صاف الفاظ میں دے رھا۔ یا تو آپ ناعلم ھیں یا پھر جان بوجھ کر فتنہ انگیزی کو ھوا دے رھے ھیں...لیکن بھلا ھو پنجاب کالونی کے باسیوں کا کہ انھوں نے آپ کو احسن طریقے سے یہ بنیادی عقیدہ سمجھانے کی کوشش کی۔ اب آپ بھی ھوشمندی کا مظاھرہ کریں اور ھٹ دھرمی یا اپنی نا علمی کا سد باب کریں؟

بات ختم نبوت کی ھورھی ھے تو پھر کیوں نہ ختم نبوت کی شق میں تبدیلی کے حوالے سے نون لیگ، پی ٹی آئی اورتحریک لبیک کا بھی ذکر کیاجاۓ کہ یہ تینوں ھی جماعتیں الیکشن میں حصہ لے رھیں ھیں۔

ھر وہ پاکستانی جس کو تاریخ پاکستان سے ذرا بھی دلچسپی ھےیہ بات اچھی طرح جانتاھے کہ برطانوی سامراج نے برصغیر پاک وھند میں تقسیم کرو اور راج کرو کی پالیسی اپناۓ رکھی اوراسی ضمن میں قادیانی فتنے کو پالا پوسا اوراسے ھوا دی۔آج بھی قادیانی لیڈرشپ برطانیہ میں حکومت برطانیہ کےساۓ تلے اپنی پاکستان اوراسلام دشمن ریشہ دوانیوں کو قائم رکھےھوۓ ھے۔ آۓ دن یہ سامراجی طاقتیں اپنے علاقائی مفادات کےتحفظ کیلئے انسانی حقوق کی آڑ میں پاکستان پر قادیانی اقلیت کے تحفظ کا نام نہاد مسئلہ اٹھاتے رکھتی ھیں۔ چاھے خود یہ سامراجی طاقتیں اپنے اپنے ملک میں افریقی نژاد اور اصل آبائی باشندوں کے حقوق کی ھر روز دھجیاں بکھیردیں لیکن  یہ قادیانی اقلیت کے نام نہاد تحفظ پر پاکستان پر دباٶ قائم رکھتی ھیں۔

یوں اب چاھےوہ نون لیگ کی حکومت ھویا پھر عمران خان کی پی ٹی آئی یہ سب اقتدار کی ھوس کے چکر میں ان سامراجی طاقتوں کے سامنے سر نگوں ھیں اور ابھی حال ھی میں ختم نبوت کی شق میں تبدیلی کے بےشرم واقعہ نے ان سب کی قلعی کھول دی۔ بھانڈہ پھوٹنے پر یہ سب ایکدوسرے کو موردالزام ٹھہرا رھے ھیں لیکن قوم جانتی ھے کہ یہ سب انکی ملی بھگت تھی اور ان میں سے ھرایک جماعت خود کو روشن خیال ظاھر کرنے کیلئے ختم نبوت کے بنیادی عقیدے کی بھینٹ دینے پر تیار بیٹھی تھی کہ اللہ بھلا کرے تحریک لبیک والوں کا کہ انکی بروقت مداخلت پر یہ کھیل الٹ گیا۔ لیکن تحریک لبیک کے مولوی اور اب شیخ السلام خادم حسین رضوی صاحب کی زبان کی حلاوت نے قوم کے چودہ طبق بھی ضرور روشن کر دئیے۔

 ابھی کچھ روز پہلے ختم نبوت شق میں تبدیلی کےحوالے سے پی ٹی آئی کے شفقت محمود کے کردار کی کچھ تفصیلات سامنےآئیں جن کی انھوں نے تردید کردی۔ لیکن دو روز پہلے برطانیہ میں پی ٹی آئی کی آفس ھولڈر ایک قادیانی لیڈر نادیہ رمضان چودھری کی ایک ویڈیو منظرعام پر آئی جس میں وہ 2013 کے الیکشن کے حوالے سے  برطانیہ میں قادیانیوں کے لیڈر مرزا مسرور سے عمران خان کو سپورٹ کرنے کی گذارش کررھی ھےاورجواب میں مرزا مسرور اس سے کہتا ھے کہ میرا عمران خان سےرابطہ ھے اور دیکھتےھیں وہ ھمارے لئے کیا کر سکتا ھے؟

لیکن کہانی یہاں ایک نیا موڑ لیتی ھے اور دو دن پہلے اسی نادیہ رمضان چودھری کی ایک ویڈیو منظرعام پر آتی ھے جسمیں نادیہ انتہائی گبھرائی ھوئی حالت میں عوام سےاپیل کررھی ھے کہ پی ٹی آئی اور فوج کے کچھ ادارے اس کےپیچھے پڑ چکے ھیں اور جو معلومات اس کی تحویل میں ھیں ان کی بدولت اسےاپنی جان کا خطرہ ھے۔

 

اور اب ایک روز پہلے نادیہ رمضان کا وکیل یاسر لطیف ھمدانی ٹویٹر پر عوام سے اپیل کرتا ھےکہ اسکی موکلہ کچھ دنوں سے اسکےرابطہ میں نہیں آرھی اوروہ اسکی سیکورٹی کے حوالے سے فکر مند ھے کیونکہ نادیہ کے پاس پی ٹی آئی کیخلاف بہت تباہ کن معلومات موجود ھیں۔ اور وہ اپنی موکلہ کے حوالے سے عدالت میں پی ٹی آئی کے دو بڑے لیڈروں کیخلاف جنسی  طور پر حراساں کرنے کی دخواست بھی دائر کرنے والا تھا کہ اب اسکی موکلہ غائب ھو گی۔

یہ سب کچھ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ خاص طور پر نعیم الحق اور عمران خان کے کردار پرسوالیہ نشان چھوڑ جاتا ھے۔  میں بہت پہلے سے لکھتا آ رھا ھوں کہ عمران خان ایک نمبر کا دو نمبر آدمی ھے۔ اور کچھ اسی طرح کی بات اب ریحام خان اور نادیہ رمضان کررھی ھیں۔۔۔عائشہ گلالئی تو یہ کہتےکہتے تھک چکی؟؟؟

اللہ ھمیں ان سب موقعہ پرست اور ابن الوقت لیڈروں سے محفوظ رکھے جو وقت آنے پر اسلام کے بنیادی عقائد پر بھی سمجھوتہ کرنے سے دریغ نہیں کرینگے۔

 


افکار و نظریات: پی ٹی آئی پر سوالیہ نشان