اہل چلاس کے ساتھ دھوکہ

تحریر اشرف سراج گلتری

 

قوموں کی ترقی کا راز تعلیم وتربیت میں ہے ، مگر بدقسمتی سے پاکستان کا سرمایہ تعلیم وتربیت کے بجائےحکمرانوں کے پروٹوکول،عالی شان محلات اورسیاستدانوں کی مراعات پرخرچ ہوتا چلا آرہاہے  اورملک کا غریب طبقہ اور دورافتادہ علاقے تعلیم وتربیت سے محروم ہیں ۔

آخر کیا وجہ ہے کہ کل تک نیشنل ایجوکیشن فیڈریشن کےماتحت چلنےوالےسینکڑوں سکولوں اوراساتذہ کی مستقلی کے حق پراحتجاج کرنے والی چلاسی قوم میں سے چند افراد اٹھ کرتعلیم کے خلاف کاروائیاں کریں.

کیا یہ اینٹی ایجوکیشن سوچ  رکھنے والے افراد ایک ہی دن میں پروان چڑے ہیں یا اس سوچ کی ترویج کےلئےکئی سال لگے ہیں.

کیا اگر سانحہ چلاس اور نانگاپربت کے مجرموں کو انسانیت دشمن قرار دےکر عدالت کے کٹہرے میں لایا جاتااور تکفیری سوچ کےخلاف چلاسی قوم اٹھ کھڑی ہوجاتی تو آج ان کے اپنے بچوں کی تربیت گاہوں پر حملے بھی نہ  ہوتے.

مگرافسوس کہ  چلاس میں ہونے والے ہر سانحے کے بعد چلاسی قوم کو اس دھوکے میں رکھاگیا کہ مرنے والے آپ کے شہدا کے قاتل اورکافر ہیں اور مارنے والے آپ کے ہم ایمان بھائی ہیں جو آپ کے ہی شہدا کاانتقام لے رہے ہیں.

مگر تعلیم و تربیت سے محروم چلاسی قوم کو کیاخبر تھی کہ یہ سانحات پاکستان اور اسلام  دشمنی کی بناپر بیرونی قوتوں کے ایجنڈے پر رونماہورہے ہیں.

کیا اب ہمیں بحثیت پاکستانی  قوم یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ پاکستان میں ہونے والے تمام بم بلاسٹ اور سانحات میں صرف ایک ہی سوچ کے افراداستعمال کیوں ہورہے ہیں جن کےتانےبانےسعودیہ ،امریکہ اوربھارت سے ملتے ہیں.


افکار و نظریات: اہل چلاس کے ساتھ دھوکہ