نیا پاکستان مبارک  

تحریر ::::::: محمد گلزار حسین

 

مفکر پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمہ اللہ علیہ کے خواب کو ایک بار پھر عمران خان شرمندہ تعبیر کرنےکو کوشاں ہیں, 

عمران خان صاحب نواز شریف صاحب سے ہٹ کر پاکستان بنانا چاہتے ہیں,  کرپشن اور اقامہ,  پانامہ سے ہٹ کر دیکھا جاۓ تو میاں نواز شریف صاحب نے بھی کوئ کام تو کیۓ ہونگے اس لیۓ ان کے ان کاموں پہ انہیں داد دینی چاہیۓ,  آپ نے یہ فقرہ سیاست دانوں کی زبان ذد عام سن رکھا ہے کہ دودھ کا دھلا کوئ بھی نہیں شاید دو چار لوگ ایسے ضرور ہوں گے جو درج بالا جملے کے خلاف توقع بھی ہوں گے,

یہ بھی اچھا ہے کہ مدینہ جیسی ریاست کا قیام عمل میں لایا جاۓ گا اور یہ بات عجیب سی ہے چین یا روس کے نظام جیسا نظام لانے کی کوشش کریں گے, اگر مدینہ جیسی ریاست لانا واقعی سچ ہے تو اسلام کی پیروی لازم آتی ہے.. 

یہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ مسلم معاشرہ کا بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں ہر کوئ اسلام سیکھتا ہے تاکہ دوسروں پہ نافذ کرے اپنا رعب و دبدبہ بناۓ ,

مدارس میں ظرف کو وسعت دیۓ بغیر معلومات ٹھونسی جاتی ہیں یاد رہے ٹھونسنا اور عمل کرنا دو الگ چیزیں ہیں.

طالب علم کو اسلامی کتب تو دی جاتی ہیں اسلامی ماحول نہیں دیا جاتا, ماحول اور تربیت دونوں بہت ہی اہم عناصر ہیں,  تربیت کے بغیر ماحول اثرانداز نہیں ہوسکتا اور ماحول نہ ہو تو تربیت کچھ کام کی نہیں, 

اس کی مثال ماہرین اس طرح دیتے ہیں کہ

دو لوگ تھے جن کے درمیان بحث چھڑی ایک کہتا تربیت اہم ہے دوسرا کہتا ماحول,  بادشاہ نے دونوں کو وقت تک مہلت دی کہ آپ دونوں اپنے نظریہ یا فکر کو سب کے سامنے ثابت کریں,

ایک ماہ کے بعد تربیت پہ دباؤ دینے والے نے اپنی تربیت یافتہ بلیاں دربار میں لاکر ان بلیوں سے کچھ کرتب کرواۓ اور ان بلیوں نے احسن طریقہ سے وہی کیا جو تربیت میں شامل تھا تربیت سے ہٹ کر کچھ نہیں کیا,  دوسرا شخص جو ماحول کو ترجیح دیتا تھا بہت پریشان ہوا تو اس نے اپنے استاد سے مشورہ لیا کہ اب کیا کیا جاۓ,  استاد نے مشورہ دیا کہ ماحول اور تربیت دونوں ایک دوسرے کےلیۓ لازم و ملزوم ہیں,  تم پندرہ دن بعد پھر بلیوں والے سے کہو کہ دوبارہ دربار میں بلیاں لاۓ اور کرتب کرواۓ, پندرہ روز اگلے بھی بلیوں والے صاحب نے بلیوں کو اچھی طرح سے تربیت دے لی,  ماحول والے نے ایسا کیا کہ دربار میں کرتب والی جگہ پہ جب بلیاں ایک بار پھر کرتب کرنے کے لیۓ تیار تھیں تو دوسرے شخص نے اس جگہ چند چوہے چھوڑ دیۓ بلیوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ چوہوں کے شکار کی غرض سے کرتب چھوڑ کر چوہوں کے پیچھے بھاگ پڑیں,

فیصلہ کرنے والوں نے فیصلہ کیا کہ آپ دونوں سچے ہیں لیکن اکیلے تربیت بھی اور تنہا ماحول بھی کسی کام کے نہیں, 

اسی طرح طالب علم کو ہمارے مدارس اور سکول یونیورسٹیوں میں تربیت تو بہترین دی جاتی ہے مگر ماحول نہیں دیا جاتا , ایسا طالب علم تو ایسا ہی ایک روبوٹ ہوتا ہے جو معاشرہ کی اکائیوں پہ اثر انداز ہونے کی جدوجہد کرتا ہے مگر اپنی موت آپ مر جاتا ہے,  ہمارے ملک میں افراد نہیں مشینیں تیار کی جارہی ہیں جن کے بٹن یا ریموٹ کسی اور طاقت کے پاس ہوتے ہیں, 

مدینہ جیسی ریاست کے لیۓ ماحول اور تربیت دونوں ایک صف میں کھڑے ہونا لازمی ہیں,

نواز شریف اگر جیل میں ہے تو اس کی ذاتیات پہ حملوں سے گریز کیا جانا چاہیۓ,  چاہے کوئ سیاست دان ہو یا عام سا ووٹر اس کی ماں بہن پہ بات کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جاۓ,  اسلامی ماحول پیدا کیا جاۓ جہاں تربیت یافتہ نسل اپنے اپنے شعبوں میں ترقی کرنے کے مواقع پاسکیں, 

عمران خان صرف مزدور کو خوشحال کرکے نیا پاکستان نہیں بناسکتے بلکہ ہر طبقہ کےلیے اقدام اٹھانا ہونگے, 

جناب راحیل شریف سپاہ سالار اور سربراہ اسلامی اتحاد سے کشمیر,  فلسطین کے شہداء کرام کے لہو کے متعلق کتنا فرض ادا کیا پوچھنا پڑے گا...

جناب قاضی وقت کے قاضی سے بھی پوچھنا ہوگا کہ آۓ دنوں عوام سے ڈیم کے فنڈ کی اپیل کی جاتی ہے اور یہ بہت ہی اہم قدم اٹھایا ہے آپ نے,  لیکن آپ نئ حکومت سے مل کر ایسا کیوں نہیں کرتے کہ جو پیسہ بڑے بڑے مگر مچھوں اور مچھلیوں نے ملک سے باہر بھیجا ہے یا ہضم کیا ہے اس کو واپس لایا جاۓ, 

اگر پاکستان کے بڑے بڑے لوگ باقائدگی سے ٹیکس قومی خزانہ میں جمع کرواتے رہیں اور اسلامی ریاست کی طرح ہر صاحب نصاب سے عشر اور zakat  لی جاۓ تو ہمارا ملک عظیم نہ صرف خود کفیل ہوسکتا ہے بلکہ امداد دینے والے ممالک کی صف میں کھڑا ہو کر انسانیت کی خدمت کر سکتا ہے, 

اگر عمران خان,  ہم یا تم کوئ بھی پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کے ایمل ہیں تو خود پہ اسلامی تعلیمات کا نفاذ کرنا ازحد ضروری ہے, 

یاد رہے پاکستان کو کسی سے کوئ خطرہ نہیں اگر خطرہ ہے تو اسلام کے نام نہاد افراد سے ہے,  جو اسلام کو اپنی مرضی سے اپنے مفاد کے لیۓ استعمال کرنا چاہتے ہیں, اسلام کسی ایک کی ذاتی جائیداد نہیں بلکہ اسلام کے وارث وہ لوگ ہیں جو عالم با عمل ہیں جو محبت و امن کا درس دیتے ہیں جن کو اقتدار کی ہوس اسلام پہ عمل پیرا ہونے سے روک نہیں سکتی,,

اگر  واقعتاً

عمران خان نیا پاکستان,  قائد کا پاکستان,  مدینہ جیسی ریاست بطور پاکستان دیکھنا یا بنانا چاہتے ہیں تو انہیں فوری طور پہ علم والوں سے رابطہ کی ضرورت ہے, 

...... انہیں پی ایچ ڈی تجربہ کار سکالرز اور رائٹرز سے رابطہ کی ضرورت ہے,

....... انہیں پاکستان میں تھنک ٹینک بنانے کی ضرورت ہے جو غیر جانبدار ہوں.

......     تبدیلی کا خواب دیکھنے والے اور حامی دونوں یاد رکھیں کہ تبدیلی ممکن ہے لیکن ایک وقت کے ساتھ,  پاکستان میں ایسی long term policies  کی ضروت ہے جو تسلسل کے ساتھ جاری رکھی جائیں, 

ہم بطور جرنلسٹ کسی کے غلام نہیں,  ہمارا قلم کسی کی حکمران کی جائیداد نہیں بس

یہ سچ کا غلام ہے,  یہ سچے انسانوں کا دوست ہے چاہے وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم.......

ہم بطور جرنلسٹ کسی پارٹی کے لکھاری نہیں,  ہم پاکستان کے لکھاری ہیں,  جس پارٹی میں بھی مگر مچھ ہیں ہم نے انہیں قوم کے سامنے بے نقاب کرتے رہنا ہے,  ذیشان بٹ شہید,  ولی خان بابر کی طرح لہو بھی پیش کرتے جانا ہے, 

عمران خان کو چاہیۓ کہ اگر واقعی نیا پاکستان بنانا ہے

تو صحافت کے شعبہ میں بھی انقلاب کی ضرورت ہے,  صحافت میں موجود کالی بھیڑوں اور بڑی مچھلیوں سے حساب لینے کی ضرورت ہے, 

میں چیلنج کرتا ہوں کہ

اگر صحافت کے شعبہ میں اصلاحات نہ کی گئیں تو مقننہ,  انتظامیہ اور عدلیہ بھی لولہے لنگڑے ادارےہونگے, 

شعبہ تعلیم میں موجود مسائل کو اولین ترجیحات میں شامل رکھنا ہوگا........

یاد رہے  ہمارے لیۓ ڈیم سے زیادہ کرپشن کا صفایا ضروری ہے,

خدا کی قسم خدا پہ یقین رکھیں پاکستان کو کچھ نہیں ہوگا,  کیونکہ اس کی بنیادیں کلمہ طیبہ سے پختہ کی جاچکی ہیں, پاکستان کوئ عام ملک نہیں یہ ساری دنیا کے لیۓ سونے کی چڑیا ہے, 

Pakistan is the gate way of the World.....

پاکستان چین کے لیۓ بھی بہت ضروری ملک ہے,  کوئ بھی ملک ہم پہ احسان نہیں کررہا سب کا مفاد جڑا ہے ہمارے ساتھ,  ہم ضروری ہیں سب کے لیے مگر سب ضروری نہیں ہمارے لیۓ کیونکہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے,

جس میں نواز شریف کے ساتھ بھی انصاف ہوگا اور عمران خان کا احتساب بھی,

اس بار عوام نے پاکستانی ہونے اور باشعور ہونے کا ثبوت پیش کیا ہر MNA اور MPA  سے آنکھ سے آنکھ ملا کر بلاخوف و خطر بات کی اپنے مطالبات بتاۓ اور تنقید بھی کی, 

یہ تبدیلی پی ٹی آئ کی ضرورت  نہیں بلکہ وقت کا تقاضہ ہے, ہم نے زوال سے عروج تک جانے کا سفر جاری کر دیا ہے...... 

جناب عمران خان کو

اسوہ رسول اللہ حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ چلنے کی اشد ضرورت ہے, 

اہل بیت و اطہار اور صحابہ کرام کی زندگیوں کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے,

اگر تربیت اور ماحول میں پہلے کی طرح فرق روا رکھا تو بھی کسی تعلیم کا کوئ فائدہ اٹھانا مشکل اور ناممکن ہوگا...

اللہ مبارک کرے اس پاکستان کو,  سب سلامت رہیں اس پاک وطن میں.......

 


افکار و نظریات: نیا پاکستان مبارک