چند باتیں احترام لازم

تحریر..........  گلزار فکشن رائٹر

.......🌹 پاکستانی قوم کو اس بات پہ اللہ پاک کا شکر گزار ہونا چاہیۓ کہ پاکستانی قوم کا مذہب اسلام ہے,  اور پاکستانی قوم کو افسوس اس بات پہ ہونا چاہیۓ کہ ہمارے ملک پاکستان میں اسلام سے رابطہ ختم ہوچکا ہے,  چونکہ گمان اچھا کیا جاۓ تاکہ حالات اچھے ہوں,  پاکستانی تاریخ میں ایک بار شفاف الیکشن ہوۓ تھے یہ بات سنتے رہتے ہیں اور اب ایک بار پھر شفاف ہوۓ ہیں جو کہ پاکستانی قوم جانتی ہے,  پچھلے دنوں ایک بحث چھڑی تھی کہ صحافی کو کسی ایک پارٹی جو اس کو اچھی لگے کے ساتھ تعاون رکھنا چاہیۓ,  ہر فرد کی راۓ ہوتی ہے جس کا احترام وہی کیا کرتے ہیں جو اخلاق اور احترام کے تقاضوں سے واقف ہوں,  میری بھی راۓ ہے کہ صحافی وہ واحد طبقہ ہے جو کسی پارٹی, مسلک,  قوم, ذات پات یا مذہب کے لیے کام نہیں کرسکتا,  آپ کی راۓ میں کرسکتا ہے تو میں آپ کی راۓ کا احترام کرتا ہوں,  ملک پاکستان کا صحافی کسی پارٹی کا نہیں بلکہ پاکستان کا بیٹا ہوتا ہے,  جو کسی بھی پارٹی کا ہے تو میں احترام کرتا ہوں,  ہماری تو عمران خان,  نواز شریف,  زرداری,  فضل الرحمن یا کسی بھی فلاں شخص سے کوئ بھی دشمنی نہیں,  اور رشتہ دوستی بھی نہیں,  ہم دوست ہیں پاکستان کے,  پاکستان ہمارے ماں باپ, بہن بھائ, دوست احباب اور رشتہ دار سے زیادہ حیثیت رکھتا ہے,

یہ بڑے ہی عجیب الیکشن ہوۓ جن میں شفافیت واضح دکھائ دے رہی ہے,  اپنی بساط کے مطابق چند حلقوں کی عوام سے بات چیت ہوئ تو وہاں صورتحال یہ تھی کہ کسی حلقہ میں لوگ کہہ رہے تھے ہم نے تو شیر کو ووٹ دیۓ لیکن بلا جیت گیا,  اور کسی دوسرے حلقہ کے عوام نے کہا کہ ہم نے تو ووٹ بلے کو دیۓ شیر کیوں جیت گیا,,  یہ جو حلقوں کے متعلق لکھا ہے یہ وہاں کے حلقوں کی عوام کی راۓ تھی,  احترام کرنا چاہیۓ لیکن اعتبار کرنا تو ضروری نہیں,

میاں نواز شریف صاحب جن کو پچھلے پانچ سالوں میں چند دانشوران پاک وطن نے قائداعظم ثانی کے القابات سے بھی نوازا,  میں تو احترام کرتا ہوں,  لیکن جب اس قائد کو ملک کی عظیم اور معزز عدالت سزا دیتی ہے تو وہی قائد اتنے ناراض ہوجاتے ہیں کہ عدلیہ پہ کیچڑ اچھالنے کا کوئ موقعہ جانے نہیں دیتے,  جب ملزم سے مجرم کا لقب ملتا ہے تو قید خانہ میں چلے جاتے ہیں,  لیکن افسوس کہ یہی عدالت عظمی ایسے ایسے امیر افراد کو ایسی پرعیش مقام فراہم کرتی ہے جسے بتا تے ہوۓ شرم محسوس ہونے لگتی ہے,  خدا کی عدالت بڑی عدالت ہے اس میں غریب اور امیر کا حساب یکساں طریقہ سے ہوتا ہے, امیروں کےلیۓ جن میں نواز شریف,  مریم اور صفدر صاحب ہیں بڑی پیاری اور نازک جیل ہے جسے دیکھ کر باہر گھومتے عام لوگ بھی تمنا کرتے ہیں, ثاقب نثار صاحب بڑے ہی نیک سیرت جج ہیں مگر دین اسلام کی پیروی کرتے ہوۓ کوئ ایسا فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں,

    اگر غصہ آۓ بھی تو ہمیں حضرت یوسف کی قید اور بامشقت قید خانہ کے متعلق جاننے کی ضرورت ہے,  یوسف بے گناہ تھے,  معصوم نبی تھے مگر قید جب ہوۓ تھے سب قیدیوں کے برابر بلکہ زیادہ کام کرتے تھے,  نواز شریف کے چاہنے والوں کو یہ واقعہ ضرور سمجھنے کی ضرورت ہے,

اگر متفق نہیں بھی تو احترام لازم ہے,,

کسی کے الیکشن میں کامیابی کے نوٹیفیکیشن جاری تو کسی کے مشروط کرکے جاری تو کسی کے جاری بھی نہ ہوسکے, 

ٹکٹ کسی سیاحتی مقام کے ہوں یا جہاز کے خریدنا پڑتے ہیں, اسی طرح پی ٹی آئ کے بھی خریدے گۓ ہونگے اس میں غلط کیا بات ہے, احترام لازم ہے, متوقع وزیراعظم نیب کے کیس میں پشاور جاکے سیر بھی کرچکے ہیں, اس کو تبدیلی ہی کہا جاۓ کہ متوقع وزیراعظم اس کیس میں باعزت آزاد رہیں گے,  احترام........

ہم عوام نے متوقع وزیراعظم سے بڑی توقعات لگا رکھی ہیں,  پاکستانی قوم بڑی جزباتی قوم ہے ان کے جذبے بڑی جلدی اچھی تقریر کے ذریعہ سے یا بریانی سے ماند کردیۓ جاتے ہیں,  لوگ حالات کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں جس کے حالات اچھے ہوں ان کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں اور جو جیل میں چلا جاۓ اس سے سو قدم پیچھے ہٹ جاتے ہیں بہر حال پاکستانی قوم سمجھدار قوم ہے خوشگوار حالات والے کا ساتھ نبھاتی ہے تو سابقہ حکومت کے دور میں کیۓ جانے والے چند کاموں کو سراہتے بھی ہیں, 

ہمیں بطور صحافی یا عام سے پاکستانی کسی کا غلام نہیں بن جانا,  کسی کا حسن و جوانی یا شیریں زباں پہ مر مٹ کر اپنی تقدیر ان کے ہاتھ میں نہیں دینی,  عمران خان سادگی لانا چاہتے ہیں بہت ہی خوشی کی بات ہے قوم کو ان کے اس کام میں ساتھ دینا چاہیۓ,  ایک بات جو تسلیم کی جانی چاہئے وہ یہ کہ عمران خان باقی پاکستانی لیڈرز سے ذرہ ہٹ کر ہیں,  اللہ پاک ان کے ارادوں کو مزید پختہ  کرے تاکہ یہ پاکستانی لیڈر امریکہ کی انتہائ خطرناک سازش جو پاکستان کے خلاف بنائ جا چکی ہے اس کا حصہ نہ بن جائیں, 

یہ چند باتیں جن پہ اگر عمران خان نے بطور پرائم منسٹر پاکستان اگر عمل کیا تو خطرہ بلکہ شدید خطرہ ہوسکتا ہے, 

1= کشمیر کو آزاد کرانے کا مسئلہ,

2= انڈیا اور پاکستان میں باہمی دوستی اور تجارت کا فروغ,

3= کالا باغ ڈیم کا بنایا جانا,

4= پاکستان کے سب اداروں کے کرپٹ افراد کا کڑا احتساب,

5= پاک ایران دوستی میں مزید اضافہ, اور تجارت کا مزید فروغ,

6 =  سب سے اہم یہ کہ راؤ انوار  جیسے لاکھوں قاتلوں کو سزا دینے کا معاملہ

7= نامعلوم افراد کے مقدمہ جات پہ پیش رفت,

اگر ان باتوں پہ عمران خان ڈٹ کر مقابلہ کر تے ہیں اور حل کرگۓ تو سلیوٹ ہوگا پوری قوم کا عمران خان صاحب کو.....

ہمارے ملک میں جو اللہ کے پیارے موجود ہیں ان کی وجہ سے آج تک یہ ملک کلمہ طیبہ کہ بدولت قائم ہے,  اور آیندہ بھی اسے کچھ نہیں ہوگا,,,,

ہم سب کو اپنے اپنے صنم توڑ کر ملت میں گم ہوجانا چاہیۓ,

اور صحافی صاحبان کو چاہئے کسی پارٹی کے نہیں پاکستان کے بیٹے بن جائیں,

اس تحریر کو وسعت کی نظر سے دیکھا جاۓ تنگ نظری میرے اور آپ دونوں کو نقصان دے سکتی ہے, 

اللہ کو حاضر ناظر جان کر سچ لکھا,  بتقضاۓ بشریت غلطیوں پہ معذرت خواہ ہوں,

اللہ پاک کا شکر گزار ہوں کہ میں پاکستانی قوم میں,  مسلمان ملک میں رہ رہا ہوں,,,,,

8/10/18, 12:29 AM - Gulzar Hussain Writer: 🇵🇰 اندھا قانون 🇵🇰

تحریر...... گلزار حسین فکشن رائٹر

 

اللہ پاک کو حاضر ناظر جان کر کچھ سچ آپ کے سامنے لانے کی کوشش کرنا چاہتا ہوں, 

اگر آپ ساتھ دیں تو تھوڑی سی گپ شپ کر لیتے ہیں, استاد محترم نذر حافی صاحب کی طرح اختصاریہ لکھنے سے قاصر ہوں کیونکہ یہ فن انہیں کے پاس ہے, 

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں کیا ہورہا ہے,  ؟

پاکستان میں اکثر و بیشتر گھوڑی کی لگامیں کس کے پاس ہوتی ہیں,  ڈاکٹر حفیظ اور ابراہیم مغل صاحب نے بہت دفعہ اپنے کالموں میں اس سوال کا جواب دے دیا ہے,  جو نہیں جانتا وہ دنیا کا خوش نصیب انسان ہے,  جو جانتا ہے وہ بدنام ہوجاۓ گا....

,,,,,,,,,,,,,,,,,,, اس ملک میں کون سا قانون نافذ ہے ؟

اس سوال کا جواب کوئ نہیں دے سکتا,  اس ملک میں کس کا قانون ہے اس کا جواب مل سکتا ہے,

میرے سامنے ایک دو واقعات آۓ جن کو محسوس کرکے یہ کالم لکھ رہا ہوں,  کاش کہ میں بھی بڑا رائٹر ہوتا سکون کی نیند سوجاتا,  میری آنکھوں سے آنسو چھلکنے لگتے ہیں جب ایسا قانون دیکھتا ہوں جو قانون ہی نہیں, 

میرے گاؤں کے ایک لڑکے کو کسی کا پرس ملا جس میں چند تصاویر, بچوں کے ب فارم وغیرہ موجود تھے اس نے میرے ایک دوست سے پوچھا بھائ اس پرس کا کیا کروں کسی بے چارے کا گم ہوگیا ہے ؟

یا پھر پولیس اسٹیشن چلا جاؤں ؟ اس دوست نے اس لڑکے سے کہا اگر ایمانداری کرے گا تو پھنس جاۓ گا,  ہاں ایمانداری کرنی چاہئے مگر جہاں قانون ہی نہ ہو تو وہاں ایمانداری کرنا موت کو خود ہی گلے لگانے کا شوق ہے,  اگر پولیس اسٹیشن جاۓ گا تو سو سوالات کے جوابات دینا ہونگے, اگر پولیس والوں پہ اعتبار ہے تو چلا جا......

وہ لڑکا بہت ہی غریب گھرانے سے تھا وہ پریشان ہوکر واپس میرے پاس آیا, میں بھی اس مسئلہ کا حل نہیں ڈھونڈ پایا اس لیۓ آپ کے پاس لایا ہوں, پڑھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے, 

........  میرے پاس کے گاؤں کے ایک غریب آدمی پہ قتل کا کیس ہوگیا ہے جس کا قصور یہ ہے کہ اس نے سال 2008 میں ایک موٹر سائیکل کسی بندے کو بیچی تھی پھر اسے کوئ پتہ نہیں کہ بیچی ہوئ چیز کہاں گئ,

چند دن پہلے ملتان میں کسی مقتول کی نعش اسی موٹر سائیکل پہ پڑی ملی ہے چونکہ اگلے بندوں نے موٹر سائیکل اپنے نام نہ کرائ بلکہ رجسٹر اسی غریب کے نام سے ہے تو ملتان پولیس نے اس غریب سے تحقیقات کرنے کا ارادہ کر لیا ہے تاکہ قتل کا سراغ ملے,  جس پہ الزام ہے اس نے کل بروز جمعہ پولیس اسٹیشن ملتان حاضری دینی ہے اس اتنے بڑے مقدمہ کے الزام میں وہ غریب تین دن سے سو نہیں رہا نہ ہی کچھ کھا رہا ہے,  وہ اس لیۓ کہ پاکستان میں انصاف بکتا ہے,  عدالتیں بکتی ہیں,  35 سال یا 40 سال بعد مقدموں کے فیصلے آتے ہیں اور کہا جاتا ہے یہ بندہ بے گناہ ہے,  افسوس ایسے فیصلوں پہ,  مجھے بھی اس کی آنکھیں اداس اور غمناک محسوس ہوئیں,  اس لیئے چین کی نیند نہیں سو سکا,

کیونکہ اگر اور کچھ نہیں بھی ہوگا تو یہ ضرور ہوگا کہ اس سے پولیس والے یا صاحب لوگ پیسہ ماریں گے وہ تو پہلے سے مزدور بندہ ہے,  اس اندھے قانون میں اندھی عدالتوں میں کسی کو کیا انصاف ملے گا,,,,

جناب چیف جسٹس صاحب  !

آپ کو چاہیۓ کہ پورا ملک سدھارنے کی بجاۓ خود کو سدھار لیں, یہ بات گندی اور اوکھی تو ہے لیکن اللہ کی قسم سچی ہے, 

آپ اپنی عدالتوں کو ٹھیک کریں,  ہسپتالوں کے وزٹ یا کسی اور کے کاموں میں ٹانگیں نہ اڑائیں, آپ کو معلوم ہے کہ عدالتوں میں سارے اداروں سے زیادہ بے ایمانی ہے, براہ کرم

بے گناہ لوگوں کی جوانیاں جیل میں برباد ہونے سے بچالیں, 

مہربانی ہوگی اگر آپ انصاف کے دائرہ میں رہ کر کام کریں, 

آپ کے منہ سے حضرت عمر اور جناب علی پاک کی تعلیمات سے مثالیں کسی کام کی نہیں,

............  میں یقین سے کہتا ہوں,  اگر آپ صرف عدالتوں میں انصاف قائم کردیں تو معاشرہ سے تنگدستی کے ساتھ ساتھ دہشت گردی اور دیگر جرائم کا صفایا ہوجاۓ گا.

تیسرا ایک بندہ جو بہاولپور سینٹر جیل میں بے گناہ موجود ہے,  جس کی زندگی قتل کے مقدمے میں پھنسی اور پھانسی تک لے کر جارہی ہے, 

اس کے گھر کے سامنے نعش پڑی تھی بس......

اسی وجہ سے قانون نے پھرتی دکھادی,,,,,,

واہ جناب اقبال صاحب,  واہ!

آصف زرداری صاحب پہ کیس سوئس عدالت میں دوبارہ کھولنا درست سمت نہیں, 

کتنے پیسے لیۓ ہونگے نیب کے موجودہ چیئرمین نے جناب آصف زرداری صاحب سے یا کوئ دھمکی ملی ہوگی کہ راؤ انوار کی ضمانت اور رہائ کے بعد تمہیں ٹپکا دیں گے,

زرداری صاحب پہلے سے ہی نیب کو ان کی اوقات بتا چکے ہیں, مجھے یقین نہیں تھا جو کرنا پڑا.

میں یقین سے کہتا ہوں کہ ملک پاکستان میں اس وقت جو احتساب کا ڈرامہ رچایا گیا یا تماشا لگا ہے یہ جانبدارانہ احتساب ہے,  سب کے ساتھ ایک سلوک روا کیوں نہیں رکھا جارہا, 

    کیا یہ نیب گردی ہے ؟؟؟؟؟؟

کیا یہ اندھا قانون نہیں, 

اس ملک میں مظلوم کے لیۓ قانون ہے پیسے والوں کو جیل میں بھی آسایشیں دی جاتی ہیں,

اس ملک پاکستان میں کوئ نظام نہیں, 

بس یہ ملک کلمہ طیبہ اور بزرگوں کی محنتوں اور دعاؤں کے صدقہ قائم و دائم ہے, 

دوستو!

براہ کرم

آپس میں لڑنے سے بہتر ہے کہ اپنی عزت کی خاطر,  اپنے ملک کی خاطر اپنی نسل نو کی خاطر ایک قانون نافذ کرائیں جو سب کے لیۓ ایک ہو, 

اللہ پاک بے گناہ قیدیوں کو رہائ دے,

یا اللہ اپنی رحمت کا صدقہ مظلوموں پہ رحم کر جن کا تیرے سوا کوئ نہیں,ورنہ اندھا قانون سب بے گناہوں کی زندگیاں برباد کردے گا......


افکار و نظریات: چند باتیں احترام لازم