بولو نہیں تو مار دئیے جاو گئے!

تحریر:  اکبر صابری

 کس طرح انسانیت کو بچایا جائے ؛ یہ ہر باشعور انسان کا ہم و غم ہے۔آج زمانے میں ایسے منفرد شیاطین واردِ میدان ہوئے ہیں، جو انسانیت کو  خاطر میں نہیں لاتے ، اتاریخ میں اس کی بہت سی  مثالیں ملتی ھے. اج اسی کی ایک کڑی یمن میں بے گناہ  معصوم بچوں  پر مظالم ہیں، کیا کبھی آپ نے یہ تحقیق کی کہ یہ آلِ سعود کون ہیں، انہیں اقتدار کیسے ملا اور یہ کس کی شہ پر نہتے یمنیوں پر بم برسا رہے ہیں۔۔۔!

آیا ایسے  حاکم یا حکمران کو زیب دیتا  ہیں ،جو خود کو حرمین شریفین کا محافظ سمجھتا ہو  وہ رضائے الہی کے  بجائے امریکہ اور اسرائیل کی رضا کے لیئے

انسانیت کا گلا گھوٹ دے۔

ایک طرف تو اپنے آپ پر  حرمین  شریفین کے محافظ ہونے کا ٹائٹل چسپاں کر رکھا ہے اور دوسری طرف امریکہ و اسرائیل کی غلامی کی جا رہی ہے۔

 ہم تو خاموش ہیں، اس لئے کہ ہمیں ظلم پر خاموش رہنا ہی سکھا یا گیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ میری رائے کے مطابق  اس وقت یمن کے اندر جو انسانیت کا قتل عام ہو رہا ھے، اس میں راحیل شریف بھی برابر  کا ذمہ دار ہے۔

یمن کے مسلمانوں کا گناہ یہ ھے کہ  وہ آل سعود کی غلامی کا کلمہ نہیں پڑھتے ، وہ اس لئے مشرک ہیں کہ سعودی بادشاہوں کو سجدہ نہیں کرتے  اور اس لئے واجب القتل ہیں کہ اپنی سرزمین کی حفاظت کے لئے سر بکف ہیں۔

شاید آل سعود یہ بھول رہی ہیں کہ  ہر مظلوم کے ساتھ خدا کی قدرت ہوتی ھے. ہم حکومت پاکستان سے یہ  اپیل کرتے ہیں کہ  وہمظلوم یمنیوں کے حق میں آواز اٹھائے ۔

آلِ سعود، امریکہ اور اسرائیل کسی کے خیرخواہ نہیں، بولو نہیں تو مار دئیے جاو گئے!


افکار و نظریات: بولو نہیں تو مار دئیے جاو گئے