قوم کو نیا حاکم وقت مبارک

 تحریر.... گلزار حسین فکشن رائٹر

جس طرح پاکستان کے بائیسویں وزیر اعظم نے فوٹو گرافر سے واسکٹ ادھار مانگی اسی طرح آپ کے چند لمحات ادھار چاہیئیں,

اللہ پاک نے عمران خان کو پاکستان کا حاکم بنا دیا ہے جو مان لے اس کا اور جو نہ مانے اس کا بھی حاکم,  حاکم دراصل اللہ کا ہی صفاتی اسم مبارک ہے سب جو ذمین اور آسمانوں کے درمیان ہے اللہ سب کا حاکم ہے وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا,  اقتدار ایک امانت ہے جو عمران خان کے پاس ہے اسے استعمال کرنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے

آپ جانتے ہیں کہ اللہ جسے چاہے عزت دے جسے چاہے زلت..

اور یہ بات بھی تسلیم کی جانی چاہئے کہ اللہ کسی پر اس سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا اتنا کہ وہ برداشت کر سکے,,,

یہ سوال تاریخ میں لکھ دیا گیا ہے اور تاریخ کنگالنے والا اس سوال کو اٹھاتا رہے گا کہ بائیس سال کی محنت کے بعد عمران خان وزیر اعظم کیسے بنے,

یہ سوال بھی کہ میاں نواز شریف صاحب اگر جیل میں بند نہ ہوتے تو کیا عمران خان نیازی صاحب آج وزیر اعظم کے عہدہ پہ ہوتے یا نہیں ؟

اور یہ کہ خلائ مخلوق نے کس طرح اپنا کردار ادا کیا ؟

یہ سوال بھی بار بار عمران خان کے دور حکومت میں اٹھتا رہے گا باتیں کرنے اور حکومت کرنے میں کتنا بڑا فرق ہوتا ہے؟

بحرحال ان کی سوچ مثبت ہے وہ پاکستان کے مزدور کےلیۓ خاص کر اور باقی طبقہ فکر کے لوگوں کے لیۓ اچھا کرنا چاہتے ہیں,

یہ بات بڑی خوشی کی ہے کہ انہوں نے کل اسمبلی میں بات کرتے وقت پاکستانی یوتھ,  نوجوان کا شکریہ ادا کیا اور یوتھ کےلیۓ سبز سگنل دیا, اگر عمران خان نے واقعی پاکستان کی یوتھ یعنی پاک وطن کے مستقبل کے لیۓ بہترین لائحہ عمل ترتیب دیا اور کام کیا تو عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا چلا جاۓ گا اور اعتماد بھی بڑھے گا,

یہ سوال غیر متعلقہ بھی تصور کیا جاسکتا ہے وہ یہ کہ پاکستان کو پہلے آئ ایم ایف سے 75 سے ایک عرب یا اس سے بھی زیادہ رقم دی جاتی تھی لیکن عمران خان کے آتے ہی کیا ہوا کہ 15 کروڑ ڈالر تک محدود قرضہ کی منظوری ملی وہ بھی شرائط کے لاگو ہونے کے بعد,,,, ؟

اس سوال کا جواب آپ دے سکتے ہیں میں انتظار کروں گا

لیکن آئیے ذرا آگے چلتے ہیں.....

ویسے تو سب جانتے ہیں الیکشن سے پہلے ہی نۓ وزیر اعظم نے قوم کو بار بار جنجھوڑ کر خواب غفلت سے جگا دیا تھا,  ادارے بھی مضبوط ہونے لگے, عدلیہ نے بھی اپنا فرض بخوبی نبھایا,  الیکشن کمیشن بھی اپنے فرائض اور قوم کی خدمت میں کسی سے پیچھے نہ رہا,  افواج پاکستان نے بھی سیکیورٹی کو یقینی بنایا اور شفاف الیکشن کرانے میں تعاون فراہم کیا,  ڈالر جو کہ 128 سے بھاگتا ہوا قدرے 133 تک پہنچ گیا,  لیکن عمران خان صاحب کے الیکشن جیتتے ہی خوشی کی لہر دوڑی کہ ڈالر بیک وقت نیچے آنے لگا, 

بیرونی ممالک میں عمران خان کی تبدیلی اور سادگی کے چرچہ عام ہوا,  ایسی تبدیلی آئ کے

سائیں تو سائیں,  سائیں کے کتے کو بھی تبدیلی میں شامل رکھ کر کئ چینلز نے فرض نبھایا,  شیرو کے چرچے کے بعد منتخب قائد ایوان نے فوٹو سیشن کے دوران فوٹو گرافر سے واسکٹ مانگ کر پہنی جو انتہائ سادگی کی مثال تھی,  وٹس ایپ گروپس میں مختلف پارٹیز کےکارکنوں,  لکھاریوں اور صحافیوں نے عمران خان کی شخصیت پر تنقید,  تعریف اور طنز کے علاوہ تبصرے کیۓ, جہاں جس کو موقعہ ملا اس نے گالیاں دے کر یا گالیاں لے کر اپنی ہمت کی داد سمیٹی, میں ایک طالب علم ہوں دوسرے لوگ جب ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ہیں تو مجھے کچھ نہیں ہوتا لیکن جب بے چارے لکھاری اور صحافی اپنی اپنی پارٹیز کو مقدس بنانے کے بعد دوسری پارٹی کے کارکن پہ کیچڑ اچھالتے ہیں تو مجھ سے رہا نہیں جاتا,  میری تحریر میں منفی سوچ یا منفی پہلو جو شامل ہوجاتے ہیں وہ مجھے آپ سے اپنے معاشرہ کے اندر سے ملتے ہیں,  میں کوشش میں ہوں کہ قلم کو مثبت سمت لے کر جاؤں, نچلی سطح پہ بیٹھے افراد کا احساس رکھنا بھی میرا فرض ہے اور بڑوں کے متعلق بات  کرنا بھی اہم ہے

کل عمران خان نیازی صاحب نے واسکٹ ادھار نہیں لی تھی بلکہ اپنی پہن کر آۓ تھے,  کل منتخب ہونے کے بعد وہ واقعی عمران خان لگ رہے تھے ہاں انہوں نے جو پہلے اپنی تقریر کی تھی لب و لہجہ اس سے ہلکا سا جدا تھا,

انہوں نے D چوک یا کسی گراؤنڈ کی بات کی تھی جو قوم کے لیۓ تھی لیکن اخراجات اور سیکیورٹی خدشات کو مد نظر رکھ کر حلف کی تقریب وہیں ہوئ جہاں اسے ہونا ہی تھا,  تبدیلی آرہی ہے آ بھی گئ ہے اور ضرور آۓ گی,

میں تمام پاکستانیوں کو یہ باور کرانا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک پاکستان نے صرف تنزلی تک سفر طے نہیں کیا بلکہ ترقی کی منازل بھی طے کیں,  آج ملک جس مقام پہ ہے یا جو جو ترقیاتی کام ہوۓ وہ کسی پلیٹ میں رکھے ہوۓ نہیں ملے بلکہ سابقہ حکومتوں اور پاکستانی قوم کی محنت کا نتیجہ ہیں,

تبدیلی کا یہ حسین سفر سب کو مبارک ہو,  اللہ تعالی جناب عمران خان منتخب وزیر اعظم اور پورے ملک پاکستان کی خیر فرماۓ,

عمران خان نے بطور سیاستدان عوام سے جو وعدے کیۓ خدا ان کو یہ ہمت دے کہ وہ پاکستانی قوم سے کیۓ وعدے پورے کر پائیں,  

آج جب انہیں گارڈ آف آؤنر پیش کیا گیا تو ان کی خاص حرکات و سکنات سے محسوس ہورہا تھا کہ وہ بہت خوش تھے اور جوش و جزبہ سے سرشار تھے,

پاکستانیوں کو تبدیلی مبارک,

اب عوام کو چاہئے کہ وہ خود اپنے رویہ میں بھی تبدیلی لاۓ,  برائ کی قوتوں کے خلاف ڈٹ جاۓ اور اچھائ کی قوتوں کا ساتھ دے,  جو میڈیا کے ذریعہ تبدیلی  ممکن ہے اس کے لیے میڈیا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ,  well done Media  ....Well done Pakistani Nation

اللہ سب کا حامی و ناصر.


افکار و نظریات: قوم کو نیا حاکم وقت مبارک