ہم یومِ آزادی کیوں مناتے ہیں!

 تحریر: ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی

 ہم ۴ا اگست کو یومِ آزادی مناتے ہیں اس لئے کہ  ہمارا ماضی شرمندہ نہیں:

1-  ہمارے اباو اجداد نے ہمیں برطانوی تسلط سے نجات دلائی

2- ہمارے بزرگوں نے ہندووں کی بالادستی کو مسترد کیا

3-  ہمارے اکابرین نے گاندھی کی گود میں بیٹھ کر قائداعظم کو کافراعظم نہیں کہا

۴۔ ہمارے اجداد نے  پاکستان کے بنانے کو گناہ نہیں کہا

۵۔ ہمارے علما نے گاندھی کے ہاتھ نہیں چومے

۷۔ ہمارے شیوخ و بزرگان نے  کانگریس  کے پرچم نہیں اٹھائے

۸۔ ہم سب نے مل کر ایک اسلامی فلاحی مملکت کو تشکیل دیا، ایک ایسی ریاست جہاں پر ہر ایک شہری کو مکمل مذھبی آزادی ملے اور وہ اپنے اپنے مذھب ودین کے مطابق مذہبی عبادات ورسوم ادا کر سکے. اور اقلیتوں کو بھی تحفظ ملے.

آئیں اب جائزہ لیں کہ 71 سال گزر جانے کے بعد ہم کہاں کھڑے ہیں.

کیا واقعی ہم نے انگریز وں اور ہندووں کے تسلط سے نجات حاصل کر لی ہے. کہیں  کانگریسی ملاں اور انگریز کی مولوی  لابی آج بھی ہم پر مسلط تو نہیں، کہیں پاکستان کو مسجد کہہ کر سازشی مولوی آج پاکستان پر قبضہ کرنے کے چکر میں تو نہیں،  کہیں لاکھوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشت گرد اسمبلیوں میں تو نہیں پہنچ چکے، آئیے سوچتے ہیں کہ اسلامی فلاحی ریاست کا خواب کس حد تک شرمندہ تعبیر ہوا اور مملکت کے شہریوں کو اپنے اپنے مذھب ودین کے مطابق کس حد عبادات ورسومات بجا لانے کی آزادی حاصل ہے. کہیں ایسا تو نہیں کہ ریاست اور ارباب اقتدار بھی متعصبانہ رجحانات کے ایجنڈے کی  تکمیل میں شعوری یا لا شعوری طور پر استعمال تو نہیں ہو رہے.کہیں گاندھی کے لاڈلے اب ہمیں یومِ آزادی منانے سے روکنے میں تو مصروف نہیں۔

بہرحال ہم نے مل کر پاکستان بنایا تھا اور کانگریس و انگریز نیز گاندھی اور نہرو کے کاسہ لیس ملاوں کو شکست دی تھی ، آج پاکستان بچانے کے لئے بھی ہمیں  قائداعظم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے  متحد و متفق ہونے کی ضرورت ہے۔