ہم اور امریکی پالیسی

تحریر  ==== گلزار حسین

امریکہ اب بھی اسی پالیسی پہ قائم ہے جس پہ شروع سے تھا یہ تو ہم ہیں کہ بھول جاتے ہیں،     میں نے اپنے ایک کالم میں ایک سوال اٹھایا تھاکہ پہلے پاکستان کو آئ ایم ایف سے زیادہ رقم ملتی تھی لیکن نئ حکومت کے آنے سے صرف 15 کروڑ ڈالرز تک محدود کردیا گیا ہے. کوئ بھی ملک خاص کر غیر مسلم ملک , پاکستان جو کہ اسلامی ملک ہے کی مدد کیوں کرتا ہے, کہیں پہ بھی آپ نظر دوڑائیں اکثر یہی ہورہا ہے کہ دام لو کام دو ,  اگر آصف زرداری صاحب کو یاد ہو کہ ان کے دور حکومت میں پاکستان میں کیا بچا تھا تو جواب ملے گا جمہوریت  . آۓ دن ڈرون پھینک کر کتنی جانیں ختم کردی جاتی تھیں, اس کے بعد نواز شریف صاحب کا دور حکومت بھی دیکھ لیجے دام لیۓ اور کام دیۓ,

مشرف صاحب نے تو پاکستانی عوام کے سودے پہ سودے کیۓ اور قرضہ کم کروادیا, عافیہ صدیقی اور اس کے علاوہ کئ دوسرے افراد کو دہشت گرد بنا کر امریکہ کے حوالہ کردیا گیا,

جو بھی شریف داڑھی والا اور پھٹے کپڑوں والا دکھائ دیتا اسے دہشت گرد تصور کیا جاتا اور افسوس کہ اصل دہشت گرد حکمرانوں کے بیچ و بیچ بیٹھ کر بار بار دہشت گردی کرواتے رہے,

آپ بھی انجان نہیں کہ 2013 تک 700 سے زائد دہشت گرد,  انتہا پسند محکمہ پولیس میں بھرتی کیۓ گۓ,  کس کی ایما پہ ہوا تو یہ جواب بھی آپ بخوبی جانتے ہیں, پاکستان میں جب بھی امن و امان کی صورتحال خراب ہوئ اندر بیٹھے حکمرانوں  کی وجہ سے .

.....  15 کروڑ تک حد رکھ دینے کی وجہ کیا ہے ؟

کیونکہ امریکہ اپنی دیرینہ انسانیت سوز پالیسی پہ قائم ہے,  ہمیں لگتا ہے کہ امریکہ انسانیت کی خدمت کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر پہ ہے تو یہ سوچ احمقانہ ہے کیونکہ امریکہ تو ڈالر دے کر ہماری عزت, غیرت اور فکر کا سودا کرنا چاہتا ہے,  وہ کہتا ہے

دام لو اور کام دو........... !

امریکہ موجودہ وزیراعظم عمران خان کو under pressure کرنا چاہتا ہے,  امریکہ اس پاکستان سے خوفزدہ ہے,  مسلمانو تم کمزور نہیں ہو صرف تمہیں یہ کہا جاتا ہے کہ تمہارے پاس کچھ نہیں,

دنیا کی ہر چیز پاکستان کے پاس ہے,  امریکہ بوکھلاہٹ کا شکار ہے کہ دفاعی بجٹ کے لیۓ رقم کم کرکے پاکستان کو اپنے پیروں تلے رکھے لیکن ایسا نہیں ہوسکتا,  مسلمان اپنے ایمان کی طاقت سے اللہ کی مہربانی سے تبدیلی کے سفر پہ رواں ہیں,

پاکستان  , ہاں پاکستان پوری دنیا کے لیۓ مجبوری ہے,  پاکستان سب کی ضرورت ہے چاہے ہمسایہ ممالک ہیں یا دیگر,

ابھی تک عمران خان امریکہ کی  پالیسیاں تسلیم کرنے سے قاصر ہیں انہوں نے اپنی واضح خارجہ پالیسی بتائ ہے,  اسی لیۓ امریکہ عمران خان کو کمزور کرکے مجبور کر کے چند شرائط منوانا چاہتے ہیں,  آنے والے دن جس میں پومپیو کا دورہ اور پھر خان صاحب کا دورہ شامل ہے بڑے ہی اہم دورے ہوں گے,

میں یہاں یہ بات واضح کردوں, پاکستانی قوم کو ان دوروں کو عام نہیں سمجھنا چاہئے,

اگر عمران خان امریکہ کے آگے سرخم تسلیم کر گۓ تو بلے بلے, پھر پوری قوم کو مبارک کہ ڈالرز ملیں گے اور ان کے حکم کے مطابق ادھر کام ہونگے,

اور اگر عمران خان اسی سادگی اور جرأت پہ قائم رہے تو پھر پاکستان کی معیشت کو یہ سال پورا مشکلات درپیش رہیں گی,

فیصلے تو جزباتی ہوکر نہیں بلکہ ٹھنڈے دماغ سے کیۓ جاتے ہیں,

اگر عمران خان نے جزباتی ہوکر,  غصہ میں امریکہ کی ہر بات سے منہ موڑا تو یہ ایک ایسی طلاق ہوگی جو تین بار دی گئ طلاق کے مترادف ہوگی,  حلالہ کے بغیر کام نہیں ہوگا,

یاد رہے کہ آگے بڑھنا ہے تو کچھ نہ کچھ قربان کرنا ہوگا حالات ایسے ہیں کہ پاکستان کو امریکہ سے کوئ سمجھوتہ کرنا ہوگا سمجھوتہ بھی ایسا کہ جس سے پاکستان کی سالمیت کو خطرہ نہ ہو, امریکہ ہر اس لیڈر کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو اس کی آنکھ سے آنکھ ملاکر بات کرے,  ترکی اور ایران کی مثال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں,

بہر حال اگر دام لینے ہیں تو بدلیں میں بچے,  بوڑھے, عورتیں  اور جوانان پاکستان کا مستقبل دیکھنا ہو گا, 

ابھی تک تو قوم کو پر امید ہونا چاہئے,  اللہ پاک پہ بھروسا ہونا چاہئے کہ موجودہ وزیراعظم اپنی تقدیر پر من و عن عمل پیرا ہیں, دیکھیۓ بتقضاۓ بشریت انسان غلطیاں کرتا ہے لیکن انسان کی کوشش اچھائ کی طرف تسلسل کے ساتھ جاری رہے تو وہ وقت دور نہیں ہوتا کہ آسمان سے فرشتے اتر کر اچھائ کا ساتھ دینے لگتے ہیں,

اگر ملک میں تبدیلی کی لہر چلی ہے تو عوام کو چاہئے کہ اپنے لیڈر کا ساتھ دیں,  نواز شریف,  زرداری اور دیگر حکمرانوں کو گالیاں دینے سے پرہیز کریں اور اس دلدل سے نکل کر چھو لیں آسماں کو...

 


افکار و نظریات: ہم اور امریکی پالیسی