کشمیر اور بھارت و پاکستان

محبوب اسلم

 اس میں کوئی شک نہیں کہ امت مسلمہ گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل ذلت اور رسوائی کا سامنا کر رھی ھے جس کی بنیادی وجہ ھمارے آپس کی نااتفاقی اور انا پرستی کا بھوت ھے جو ھمیں پیہم رسوا کئے ھوا ھے۔ ھمارےحکمران اور عوام دونوں ھی اس جرم میں برابر کے شریک ھیں۔ ھمارا گھٹیا پن اب اس قدر پستی آمیز ھوچکا کہ ھمارے خود ساختہ فلسفی اور صاحب علم لکھاری اب شیعہ اور سنی کی تفریق کے حوالے سے شام کے حلب اور یمن کے الحدیدہ کے بچوں کی نوحہ خوانی کر رھے ھیں۔

 

لیکن چونکہ طاقت اور اقتدار حکومت کےھاتھ میں ھے تو امت مسلمہ کی زبوں حالی کا زیادہ تر الزام ان ”اسلامی“ حکومتوں پر ھی عائد ھوتا ھے گو کہ بحثیت عوام ھم نے بھی اس تفریق کے گھناٶنے عمل میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔ الغرض ملت مسلمہ میں وہ قحط الرجال ھے کہ الامان والحفیظ۔ یوں ھالینڈ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی شان میں گستاخی کا معاملہ ھو یا بے کس و لا چار غزہ میں نہتے فلسطینیوں پر اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کا سوال ھو۔۔۔امت مسلمہ کے حکمران کی زبانوں پر تالے پڑے ھیں اور وہ اپنے اپنے غیر مسلم اتحادیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکے ھوۓ ھیں۔

 

تو پھر یہ کیسے ممکن ھے کہ ھمارے کشمیری بہن بھائیوں کے قتل عام کا مسئلہ امت مسلمہ کے حکمران کو نظر آۓ۔ لے دے کہ حکومت پاکستان سے امید ھے جسکی گزشتہ حکومت اپنی چوری چھپانے کے چکر میں مصروف تھی، اور نئی حکومت بنی گالہ سے وزیراعظم ھاٶس تک ھیلی کاپٹر میں تبدیلی کا چورن پیچ رھی ھے اور عوام یوتھیوں اور پٹواریوں کے بیچ طوفان بدتمیزی کے علاوہ خیر سے شیعہ کافر اور سنی کافر کی جنگ میں بھی مصروف ھیں اور جو بچ گئے ان میں سے کچھ این جی اوز کے زیر سایہ ملک میں آزادئی راۓ کے نام پر قومی پرچم جلانے پر مصر ھیں اور باقی کی مایوسی ان کے انتخابات پر لعنت بھیج کر گھر بیٹھنے سے عیاں ھے۔

 

تو کیا ھم ان مظالم پر انگلی تک نہ اٹھائیں۔۔۔کیاھم اپنی زبانیں سی لیں؟؟؟آج بھارت کھلے عام مسلمان اقلیت کی مذھبی آزادی پر بازور طاقت ڈاکہ ڈالے ھوا ھے۔ ھندوٶں کی مقدس گاۓ کی رکھوالی کے نام پر حکومتی نمائندے اور بی جے پی کے غنڈے مسلمانوں کا قتل عام کرتے پھر رھے ھیں۔۔۔کہاں ھے انصاف اور کہاں ھیں انسانی حقوق کے علمبرادر؟؟؟

 

اور اب پارلییمانی سیاست کے نام پر بی جے پی حکومت نے اپنے ھی دستور کی شق 35A کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ھے کہ جس کی رو سے جموں اور کشمیر کو خصوصی اسٹیٹس حاصل ھے۔ یہ شق جموں اور کشمیر کے مسلمانوں کی اکثریت کوتسلیم کرتے ھوۓ یہاں پر ان کے مستقل رھائشی ھونے کے حق کی حفاظت کرتی ھے۔ اس شق کی رو سے کوئی غیر مستقل رھائشی جموں اور کشمیر میں آباد نہیں ھوسکتا، نہ ھی زمین یا مستقل جائیداد خرید سکتا ھے۔ اور نہ ھی سرکاری نوکری یا گرانٹ حاصل کر سکتا ھے۔ الغرض اقوام متحدہ کی متعدد قراردات جیسے 47, 91 اور 122 کی رو سے بھی بھارت جموں اور کشمیر میں آزادانہ راۓ شماری کروانے کا پابند ھے اور اسی رو سے اس کا اپنا دستور شق 35A کے تحت جموں اور کشمیر کی خصوصی حثیت کوتسلیم کرتا ھے۔

 

لیکن اب امت مسلمہ کی عمومی اور پاکستان کی خصوصی بدحالی کو دیکھتے ھوۓ بی جے پی کی ھندو پرست حکومت اب قانونی طور پر اس شق کو ختم کرکے جموں کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کا پروگرام بنا رھی ھے۔ ایسے میں اب پاکستان کی نئی حکومت کو ھاتھ پر ھاتھ دھرے بیٹھنے کے بجاۓ کشمیر کے مسئلے پر ایک قانونی فریق کی حثیت سے یہ مسئلہ فوراً اقوام متحدہ میں اٹھانا ھوگا اور تمام دوست ممالک میں اس مسئلہ پر حمایت حاصل کرنے کیلئے سفارتی سطح پر سر گرم ھونا ھوگا۔ اس مسئلہ پر ذرا بھی دیر اور سستی جموں اور کشمیر پر ھمارے مٶقف کیلئے ناقابل تلافی نقصان کا باعث ھوگی۔

 

میں پہلے بھی بہت بارھا لکھ چکاھوں کہ وقت آ گیا ھے کہ پاکستان اس خطہ میں ایران، ترکی، سعودی عرب، چین اور روس کیساتھ ملکر ایک قابل عمل سیاسی، ملٹری، اور تجارتی اتحاد کی بنیاد رکھے۔ اس ضمن میں اصل روکاوٹ پھر وھی ایران اور سعودی عرب کے مابین اس علاقے میں طاقت اور اثر و رسوخ کی تگ و دو ھے جس میں شیعہ سنی تفریق کو دونوں جانب سے بے شرمی سےاستعمال کیا جا رھا ھے۔ بہرحال پاکستان کو آگے بڑھ کر ثالثی کا کردار ادا کرناھوگا۔۔۔پاکستان کی عوام سے بھی یہی اپیل ھے کہ مذھب کے ٹھکیدار نہ بنیں اور اپنا مسلک چھوڑیں نہیں اور دوسرے کے مسلک جو چھیڑیں نہیں کا فارمولا اپناتےھوۓ نیکی کے کاموں میں آگے بڑھیں۔ اللہ تعالی کو ان معاملات کا منصف بنائیں جو قیامت کے دن ان معاملات کا فیصلہ کردیگا جو دنیا میں ھم سب کو صرف نیکی کے کا موں میں مقابلے کا حکم دیتا ھے نا کہ ایدوسرے کو کافر کہہ کر گردنے مارنے کا۔۔۔

 

”اور ہم نے تیری طرف حق کے ساتھ کتاب نازل کی ہے اُس کی تصدیق کرتی ہوئی جو کتاب میں سے اس کے سامنے ہے اور اس پر نگران کے طور پر۔ پس ان کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کر جو اللہ نے اتارا ہے۔ اور جو تیرے پاس حق آیا ہے اسے چھوڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کر۔ تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے ایک مسلک اور ایک مذہب بنایا ہے اور اگر اللہ چاہتا تو ضرور تمہیں ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ اس کے ذریعہ جو اس نے تمہیں دیا تمہیں آزمانا چاہتا ہے۔ پس تم نیکیوں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاؤ۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کا لَوٹ کر جانا ہے۔ پس وہ تمہیں ان باتوں کی حقیقت سے آگاہ کرے گا جن میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔“ سورہ المائدہ۔آیت ٤٨

 

اللہ ھمیں بہتر فیصلے کرنے اور نیکی کے کاموں میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی عمدہ دوڑ میں شامل کرے۔ آمین۔

والسلام


افکار و نظریات: کشمیر اور بھارت و پاکستان