جمہوریت کی دیگ اور تبدیلی کا چورن

محبوب اسلم

 ابھی قوم وزیر اعظم سیلیکٹ کے پیچھے بوٹ کی طاقت سے سنبھلنے ھی نہ پائی تھے کہ انکی اھلیہ کے طلاق یافتہ شوھر نے ایک نیا پنگا لے ڈالا۔ جو محکمہ زراعت اپنی رھی سہی عزت لٹا کر اور کچھ نہیں تو مشن تو مکمل کر گیا تھا۔۔۔ لیکن برا ھو اس موۓ طلاق یافتہ شوھر کا اس نے محکمہ زراعت کو پھر بھری محفل میں برھنہ کر دیا۔۔۔

ھوۓ تم دوست جس کے، دشمن اسکا آسماں کیوں ھو؟

اب اس ملک میں آدھی رات کو ایک نوجوان لڑکی ایک مرد کیساتھ منت مانگنے نکلے تو پولیس اپنے جادوئی آئینے میں دیکھنے کے باوجود اسے روکے تو قصور اس ناھنجار پولیس کا تو بنتا ھے۔ اس پر طرہ یہ کہ لڑکی کا باپ اگلی ھی رات پولیس کے اس جادوئی آئینے کا دوبارہ امتحان لے ڈالے اور رات کی تاریکی میں ناکے سے زناٹے دار طریقہ سے نکل بھاگےتو قصور پھر اس ناقص پولیس کا ھی بنتا ھے کہ وزیراعظم کی اھلیہ کے طلاق یافتہ شوھر کو اپنے جادوئی آئینے میں نہ دیکھ سکی۔ اب انکا بھسم ھونا ٹھہر چکا ھے۔

ویسے آپس کی بات ھے جتنا وختاں اس مانیکا فیملی نے بابا فرید کو ڈالا ھوا ھے اتنا تو گرو نانک صاحب نے بھی شاید نہ ڈالا ھو۔ ھر دوسرے دن کوئی نہ کوئی رات کو ننگے پاٶں چل پڑتا ھے بابافرید کے مزار کی طرف۔۔۔محلے کی مسجد بھلے ویران رھے۔۔ماتھا ٹکے تو بابا فرید کی قبر پر اور وہ بھی آدھی رات کو۔۔۔اگری یہی وطیرہ رھاتو بابا فرید شاید کہیں اور کا رخت سفر نہ باندھ لیں!

بہر حال جناب وہ کہتے ھیں نا کہ جب گیدڑ کی شامت آتی ھے تو وہ شہر کا رخ کرتا ھے۔ بس جب انگلی والے بابا کی شامت آئی تو اس نے وزیر اعلی ھاٶس کا رخ کیا۔ لیکن یہ وزیر اعلی ھاٶس نہ ھوا کالو ماچھی کا تندور ھوگیا ھر چلتا بندہ اس تندور میں روٹی لگا رھا ھے۔ پہلے تو وزیر اعظم عمران خان کی اھلیہ کا طلاق یافتہ شوھر روٹی لگاتا ھے۔ پھر اھلیہ کی دوست فرح صاحبہ روٹی لگاتی ھیں اور پھر اسکا شوھر جمیل گجر اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالتا ھے۔ لیکن اصل ھیرو تو آئی ایس آئی کا کرنل طارق چیمہ ھے جو بوٹ سمیت اس تندور میں اتر آتا ھے۔

ویسے اس سے بھی اوپر کی چیز بابارحمتے ھے جو اس سارے شرمناک کھیل میں عین اسوقت ٹپک پڑتا ھے جب کرنل طارق کا کردار باھر آیا ھی چاھتا ھے۔ یوں بابا رحمتے انٹری دیتا ھے اور ایمپائیر کی انگلی پر ھلکی سی چپت رسید کرتے ھوۓ کہتاھے کہ چل ھٹ بے حیا اگر پھر ایسا کیاتو۔۔۔دوسری چپت بھی رسید کر دونگا۔۔۔اور یوں اللہ اللہ خیر صلًا۔

اس ملک میں اب حکومت ایسےھی چلے گی۔۔۔تھوڑاسا تبدیلی کا چورن۔۔۔بہت سا بوٹوں کا مصالہ۔۔۔تھوڑا سا آئی ایس آئی کا تڑکا۔۔۔اور بہت سارا بابا رحمتے کا پَھکا۔۔۔باقی کا کام بابا فرید کی کافی کرلے گی۔۔۔لیکن سوال یہ ھے کہ آخر کب تک پتھروں بھری جمہوریت کی یہ دیگ پکتی رھے گی۔ شاید اسوقت تک جب تک جس لڑکی سے جمہوریت کو خطرہ ھے وہ اڈیالہ جیل سے باھر نہیں آ جاتی؟؟؟

لیکن اسکی کرپشن کا کیا ھوگا؟ کونسی کرپشن؟ حلال والی یا حرام والی۔۔۔یہ تو کسی بابا رحمتے اور ایمپائیر پر منحصر ھے!!!

 نوٹ:۔ ادارے کا کالم نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں


افکار و نظریات: جمہوریت کی دیگ اور تبدیلی کا چورن