اے لاہور ڈوب مر!

لاہور شہر میں دختران ملت پٹتی رہیں، پہلوان صاحب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ڈنڈے سے ان کی پٹائی کرتے رہے، سرکار سے کیا گلہ کریں،  ابھی تک  کسی شیخ الحدیث کی غیرت نہیں جاگی ، ابھی تک کسی مفتی نے ان غنڈوں کے سر کی قیمت نہیں لگائی، کسی  غیرت مند نے آگے بڑھ کر ان عورتوں کو تشدد سے نجات نہیں دلائی۔ شاید ہمارا دین و ایمان سب کچھ طاقتوروں کے آگے بے بس ہو جاتا ہے۔

اگر ہمارے اندر انسانیت ہوتی اور ہم حقیقی اسلام پر عمل پیرا ہوتے تویوں ملت کی بیٹیوں کے ساتھ نہ ہوتا۔

حلقہ این اے 128 یونین کونسل 182 ڈوگرئے کلاں جلو موڑ کے مین بازار میں کپڑے والی دوکان پر دو عورتوں پر چوری کرنے کا الزام لگاتے ہوئے علاقے کی سیاسی و سماجی شخصیت چوہدری اعجاز پہلوان (چیئرمین کبڈی لاہور ) نے ڈنڈوں کی برسات کر دی اور ان کے ساتھیوں نے بھی ظلم کی انتہا کی۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دو خواتین ایک گارمنٹس کی دکان میں بیٹھی ہیں اسی دوران ایک دکاندار بانس کی چھڑی اٹھاتا ہے اور چوری کا الزام عائد کرتے ہو ئے عورت کو مارنا شروع کردیتا ہےلیکن اس واقعے کا زیادہ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ باقی دکان دار بھی اس صورت حال کو معمولی انداز میں دیکھ رہے ہیں کسی نے بھی عورت کو تشدد سے نہیں بچایا۔

ہم بھی کیا قوم ہیں۔ہمیں ان باتوں پر غصہ نہیں آتا۔ جس قوم سے غیرت ختم ہوجاتی ہے اس قوم کی غیرت کا تماشہ سبھی دیکھتے ہیں۔

آپ بھی اس ویڈیو میں اپنی ملی غیرت کا جنازہ دیکھئے اور ہو سکے تو اس ظلم کے خلاف ممکنہ احتجاج کیجئے۔

 

https://dailypakistan.com.pk/06-Sep-2018/843048 

http://lahoreonline.tv/shopkeeper-beating-two-women/


افکار و نظریات: اے لاہور ڈوب مر