امریکی صدر کی شعلہ بیانی کا راز
ڈاکٹر نذر حافی


امریکی صدر ٹرمپ کی شعلہ بیانی تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ ٹرمپ نے لبنانی ہم منصب سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران نطنز کے پہاڑوں میں ایرانی ایٹمی مرکز پر حملے کی دھمکی دے دی ہے۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کہنا ہے کہ یہ حملہ جلد ہوگا، ایرانی اس حملے کو روکنے کےلیے کچھ نہیں کرسکیں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بہت جلد ایران کے علاقے کوہ کلنگ کو نشانہ بنائیں گے۔خبر ایجنسی کے مطابق کوہ کلنگ کا علاقہ ایرانی جوہری تنصیب نطنز کے قریب واقع ہے۔ امریکہ کی طر ف سے طاقت کے استعمال نے اُلٹا یہ ثابت کر دیا ہے کہ طاقت اگر حکمت کے بغیر استعمال ہو تو وہ طاقتور کیلئے راستہ ہموار کرنے کے بجائے اُس کے راستے میں مزید دیواریں کھڑی کر دیتی ہے۔اس کے باوجود مسٹر ٹرمپ کی شعلہ بیانی جاری ہے۔ماضی میں بھی کبھی طاقت کو سفارت کاری کا متبادل نہیں بنایا جا سکا اور آئندہ بھی نہیں بنایا جا سکتا۔ بلاشبہ جنگ جب طول پکڑتی ہے تو معیشت رنجور، سیاست مجبور اور انسانیت مقہور ہو جاتی ہے۔اتنا تو پینٹاگون کو بھی دکھائی دے رہا ہے کہ کشیدگی کو برقرار رکھنے کی قیمت، اس سے حاصل ہونے والے ممکنہ فوائد سے کہیں زیادہ ہے۔ واشنگٹن کے پاس دنیا کی سب سے بڑی عسکری قوتوں میں شمار ہونے والی طاقت موجود ہے تاہم طاقت کا ہونا اور طاقت کو سیاسی کامیابی میں تبدیل کرنا دو مختلف حقیقتیں ہیں۔
ایک کمزور سفارتی حکمتِ عملی اکثر اس خلا کو جنم دیتی ہے کہ فریقِ مخالف پر دباؤ بڑھانے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوتے اور مخالف فریق کو جھکانے کی کوشش اسے مزید مزاحمت پر مجبور کر دیتی ہے۔موجودہ صورتحال میں امریکہ کی طرف سے عسکری اقدامات کے بجائے فوجی اقدامات میں اضافہ، نئے فریقوں کی شمولیت، اور علاقائی رقابتوں میں مزید شدّت اس جنگ کو ایک ایسے مہنگے اور سنگین مرحلے میں داخل کر سکتی ہے جس پر بعد ازاں قابو پانا آسان نہیں ہوگا۔ کولہو کے بیل کی مانند اس وقت ٹرمپ ایک ایسے دائرے میں گھوم رہا ہے جہاں اسے سمجھ نہیں آ رہی کہ اُسے طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے یا مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا ہے۔
دمِ تحریر غالب امکان یہی دکھائی دیتا ہے کہ جب تک ٹرمپ اپنی سفارتی طاقت پر اعتماد نہیں کرتا تب تک موجودہ صورتِ حال برقرار رہے گی،یعنی نہ مکمل جنگ ہوگی اور نہ ہی پائیدار امن قائم ہو سکے گا، مذاکرات مکمل طور پر معطل نہیں ہوں گے، تاہم کوئی نمایاں پیش رفت بھی متوقع نہیں ہوگی، اور پورا خطہ مسلسل ہائی الرٹ کی کیفیت میں رہے گا۔ اگرچہ یہ صورتِ حال جنگ کے مقابلے میں نسبتاً کم نقصان دہ ہے، لیکن طویل مدت میں یہی کیفیت تمام فریقوں کے لیے سیاسی، معاشی اور سلامتی کے اعتبار سے سب سے زیادہ تھکا دینے والے اور نقصان دہ اثرات کا باعث بنے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، ان ٹویٹس کے باوجود جن میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ امریکی عوام کی اکثریت معاہدے کی حامی ہے، ایک دوہری کشمکش میں گھرا ہوا ہے۔ ٹرمپ کو ایک طرف اپنے علاقائی اتحادیوں اور امریکہ کے عسکری حلقوں کے سامنے طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے، جبکہ دوسری طرف عوامی دباؤ کا سامنا ہے کہ ایک غیر مقبول جنگ کا خاتمہ کیا جائے، خصوصاً اس لیے کہ یہ معاملہ آئندہ وسط مدتی انتخابات سے بھی جڑا ہوا ہے۔
مستقبل کی سمت کا تعین معاہدوں کے متن یا ثالثوں کی تجاویز کے بجائے اس امر سے ہوگا کہ تہران اور واشنگٹن اپنے مفادات، نقصانات، لاگت اور منفعت کا کیا تخمینہ لگاتے ہیں۔ایک جانب امریکہ کو اندرونی سیاسی مصلحتوں، علاقائی اتحادیوں کے دباؤ اور اپنی شکست خوردہ ساکھ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، تو دوسری جانب ایران بھی اپنی دفاعی و سفارتی صلاحیت کو محفوظ رکھتے ہوئے سفارت کاری کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کرنا چاہتا۔اسی حساب و کتاب، انہی مصلحتوں اور انہی موازِنات نے امریکہ کو ایسی کیفیت میں لا کھڑا کیا ہے کہ وہ نہ تو سفارت کاری سے مکمل کنارہ کش ہو سکتا ہے اور نہ ہی اپنے سفارت کاروں پر اُسے بھروسہ ہے۔دوسری جانب ایران نے بھی امریکہ کی اس کمزوری کو بھانپتے ہوئے ’’دفاع کے ساتھ سفارت کاری‘‘ کی حکمتِ عملی اختیار کر رکھی ہے۔ آسان الفاظ میں ایران نے کمزور دکھائی دیے بغیر بات چیت کا راستہ کھلا رکھا ہُوا ہے، جبکہ ٹرمپ طاقتور نظر آنے کی کوشش میں ایک ایسے توازن کی تلاش میں ہے جہاں اسے اپنی ساکھ بھی بچانی ہے اور تنازع کا حل بھی نکالنا ہے۔
دستیاب شواہد اس امر کی نشان دہی کرتے ہیں کہ جب تک امریکہ کو اپنی سفارتی طاقت کا یقین نہیں ہوجاتا تب تک نہ سفارت کاری کی حتمی ناکامی کا اعلان کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کی یقینی کامیابی کی نوید سنائی جا سکتی ہے۔ ایران کی طرف سے مذاکرات کی کھڑکی اب بھی ایک ایسی معلق کیفیت میں کھلی ہوئی ہے کہ جہاں میدانِ عمل میں رونما ہونے والی ہر پیش رفت اور سیاسی سطح پر کیا جانے والا ہر فیصلہ حالات کا رخ مفاہمت کی جانب بھی موڑ سکتا ہے اور محاذ آرائی کی طرف بھی۔
بظاہر آنے والے ہفتوں میں فیصلہ کن عنصر یہی ہوگا کہ تہران اور واشنگٹن اپنی سیاسی، عسکری اور معاشی مصلحتوں کے تناظر میں لاگت و منفعت کا کیا حساب لگاتے ہیں۔ یہی اندازۂ سود و زیاں طے کرے گا کہ خطہ کشیدگی میں کمی اور استحکام کی راہ اختیار کرتا ہے یا پھر تصادم اور کشمکش کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو جاتا ہے۔
تاہم اس پورے تنازع کے دوران ایک حقیقت مسلسل ثابت اور نمایاں رہی ہے، اور وہ آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام اور تمام محاذوں پر جنگ بندی جیسے حساس معاملات کے بارے میں ایرانی قیادت کا غیرمتزلزل مؤقف ہے۔ میدانِ جنگ میں ٹرمپ مسلسل گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا رہا لیکن ایران کا اصولی مؤقف تبدیل نہ ہوا۔ ٹرمپ کو طاقت کا مظاہرہ فیصلہ کن نتائج نہیں دے سکا لیکن ایران کیلئے اُس کا اصولی مؤقف ایک سیاسی اثاثہ بن گیا ہے۔اب ٹرمپ اپنی کھوکھلی شعلہ بیانی کے باعث ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اُس کیلئے ہر فیصلہ کٹھن بھی ہے اور مہنگا بھی، نازک بھی ہے اور نتائج کے اعتبار سے کڑوا بھی۔ مسٹر ٹرمپ کی یہ شعلہ بیانی اس حقیقت کی غماز ہے کہ ٹرمپ کو اب پتہ چلا ہے کہ جنگ شروع کرنا آسان تھا لیکن جنگ کو اپنے مفاد کے مطابق ختم کرنابہت مشکل ہے۔


افکار و نظریات: Theories for Research Journal