ہم ضرور چندہ دینگےلیکن۔۔۔

محبوب اسلم

پاکستان کیلئے چندہ دینا ھم سمندر پار پاکستانیوں کیلئے ھمیشہ سےایک جذباتی عمل رھا ھے۔ اور ھم نے ھر بار دل کھول کر پاکستان کیلئے چندہ دیا ھے۔ میں تو کچھ ایسے بھی سر پھروں کو جانتا ھوں جنھوں نے باھر رھتے ھوۓ بینک سے قرضہ پکڑا اور ملک روانہ کر دیا کہ چلو ملک کی ضرورت پوری ھو جاۓ اور ھم بعد میں کما کر قرضہ اتار دینگے۔ کچھ یہی صورتحال پی ٹی آئی کے چندے کی بھی رھی۔ میں نے بذات خود دن رات ایک کر کے پارٹی کیلئے چندہ جمع کیا کیونکہ یہ پارٹی عوام کی طاقت کے بل بوتے پر کھڑی کی گئی اور عمران خان کوئی جاگیر دار یا سرمایہ دار تو تھا نہیں کہ وہ اس پارٹی کو سپورٹ کرسکتا۔یوں شاید پاکستان کی سیاست میں پہلی دفعہ کسی سیاسی جماعت نے عوامی چندے کی بنیاد رکھی۔

لیکن وہ جو کہتے ھیں نا کہ سر منڈواتے ھی اولے پڑے۔ قریباً 2008 میں پی ٹی آئی میں اورسیز پاکستانی کی پیڈ ممبر سازی کا آغاز ھوا اور ھر ممبر پر سو ڈالر یا سو پاٶنڈ سالانہ کی ممبر شپ فیس چارج ھونا شروع ھوئی۔ لیکن اس سے بھی بڑھکر سمندر پار پارٹی کے باقاعدہ فنڈ ریزنگ فنکشنز کا انعقاد ھونا شروع ھوا اور دیکھتے ھی دیکھتے جو پی ٹی آئی ایک زمانے میں اپنے بانی ارکان کو چاۓ تک نہ پیش کر سکتی تھی وہ اربوں میں کھیلنے لگی۔ لیکن اس پیسے کے آتے ھی پارٹی میں اس پیسے کی چوری کا آغاز ھوگیا۔ اسوقت کے ایڈیشنل جنرل سیکریٹری سیف اللہ نیازی، سیکریٹری فاننس اظہر طارق، نعیم الحق اور سینئر صدر عامر کیانی جو آجکل وفاقی وزیر صحت ھیں نے اس پارٹی چندے کو لوٹنا شروع کیا۔ اور یہ سب کچھ بحثیت پارٹی چئیرمین عمران خان اور جنرل سیکریٹری عارف علوی کی ناک کے نیچے ھوتا رھا۔۔۔آج یہ دونوں صاحبان خیر سے بالترتیب اس ملک کے وزیراعظم اور صدر ھیں۔

جب پارٹی فنڈز کی کرپشن حد سے زیادہ بڑھی تو پارٹی کے ایک اور بانی رھنما اکبر شیر بابر نے اس مسئلے کو عمران خان اور عارف علوی کے سامنے اٹھایا لیکن بجاۓ فنڈز کی اس چوری کو آج کا وزیر اعظم عمران خان اور آج کا صدر عارف علوی روکتے الٹا اکبر شیر بابر کی ھی مخالفت کی گئی اور یوں 2011 میں اکبر شیر بابر کو کھڈے لائین لگا دیا گیا۔ لیکن 2013 کے جنرل الیکشن سے پہلے عمران خان نے اکبر شیر بابر سے رابطہ کیا کہ وہ اس پارٹی فنڈز کی چوری کے ثبوت آشکار نہ کر دے اور یوں اپنے بہنوئی عبدل احد کو اکبر شیر بابر کی طرف بھیجا۔ اکبر شیر بابر نے عمران خان کو ایک اور موقع دینے کی ٹھانی لیکن پارٹی کے فنڈز کی غیر جانبدارانہ فرانزک آڈٹ کی شرط رکھی۔ ان TROs پر عمران خان نے بحثیت پارٹی چئیرمین دستط کئے جس کی کاپی اکبر شیر بابر کے پاس آج بھی محفوظ ھے۔

یوں عمران خان نے جنرل الیکشن 2013 میں پارٹی کرپشن کو آشکار نہ ھونے دیا۔ لیکن اسے پارٹی فنڈز کاغیر جانبدارانہ فرانزک آڈٹ گلے پڑ گیا۔ لیکن شومئی قسمت دیکھئے کہ 2013 کے الیکشن سے پہلےمیرے جیسے سمندر پار پاکستانی پارٹی کیلئے گھرگھر جاکر چندہ جمع کرتے رھے۔ عمران خان اکتوبر 2012 میں میڈم فوزیہ قصوری کیساتھ لاس اینجیلس تشریف لاۓ اور میرے ساتھیوں نے تقریباً ساڑھے تین لاکھ ڈالر ایک دن میں جمع کر کے دیا۔ عمران خان نے جاتے جاتے میرا کاندھا تھپتھپایا۔ پھر ھم ساتھی جنرل الیکشن 2013 میں امریکہ سے پاکستان پہنچے اور ایکبار پھر پی ٹی آئی کے امیدواروں کی بھرپور مالی اور عملی مدد کی۔

لیکن انھی دنوں میں میری ملاقات اکبر شیر بابر سے ھوئی اور انھوں نے پارٹی کےفنڈز کی چوری کے ثبوت میرے سامنے رکھے۔ پارٹی میں سمندر پار سے آنے والا فنڈ پارٹی کے عہدیداروں کے ذاتی بینک اکاٶنٹز میں جمع ھو رھا تھا۔میرا دماغ بھک سے اڑ گیا۔ میرا اکبر بابر سے پہلا سوال یہی تھا کہ کیا آپ نے عمران خان سے بات کی ھے؟ کیا عمران خان کو ان پارٹی فنڈز کی چوری کا علم ھے؟ جواب میں اکبر شیر بابر مسکرا دئیے اور وہ TORs میرے سامنے رکھ دئیے جس پر عمران خان کے دستخط تھے۔ میرا سر چکرا رھا تھا۔ لیکن ایک امیدتھی کہ ایک غیر جانبدار فرانزک آڈٹ سب کچھ سامنے لے آئیگا۔ لیکن اکبر شیر بابر نے مجھے بتایا کہ الیکشن کے بعد عمران خان اس آڈٹ کا راستہ روک رھے ھیں اور آڈٹر کو پارٹی کے اکاٶنٹز اور مالی دستاویزات سےدور رکھا جارھا ھے۔ لیکن میرادماغ یہ قبول کرنے پر تیار نہ تھا کہ عمران خان جو کہ تبدیلی کی بات کرتا ھے وہ اپنی پارٹی کے فنڈز کی چوری جیسے سنگین معاملے پر خاموش ھے؟میں نے اپنے دوستوں سے مشورہ کیا اور اس مسئلہ کو عمران خان کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

لیکن عمران خان نے اس مسئلے پر ٹال مٹول سے کام لینا شروع کر دیا۔ اسی اثناؑ میں پارٹی الیکشن میں دھاندھلی سے جیتنے کے بعد پرویزخٹک اور جہانگیر ترین نے پارٹی پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی ٹھانی اور ایک طرف ھمیں فنڈز کی چوری کے مسئلہ کو حل کرنے کا دلاسہ دیا اور دوسری عمران خان کے ان پرانے نام نہاد نظریاتی ساتھیوں کیساتھ اندر خانے ڈیل کرلی۔ آخر میں جہانگیر ترین کا پیسہ اور پرویز خٹک کی وزارت اعلی جیت گئی اور یہ نام نہاد نظریاتی ٹولہ جہانگیرترین اور پرویز خٹک کے نیچے کام کرنے کوتیار ھوگیا۔

دوسری طرف ھمارا صبر کا پیمانہ لبریز ھو چکاتھا اور یوں فروری 2014 کو ھم نے ٹیک فورس(اکاٶٹیبلٹی ٹرانسپیرسی اینڈ کئیر فورس) کی بنیاد رکھی اور لاھور کے ایوان اقبال میں ورکرز کنونشن کے انعقاد کا اعلان کر دیا اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس کنونشن میں پارٹی کرپشن کو بے نقاب کیا جاۓ اور نئے پاکستان کی بنیاد کو کھوٹ سے بچایا جاۓ۔

لیکن عمران خان اور اس کے نئے ساتھی کچھ اور ھی سوچ رھے تھے۔ کنونشن سے ایک روز پہلے مجھے اور میرےساتھیوں کو عمران خان نے بنی گالہ بلا لیا جہاں عمران خان نے پہلے تو مجھے قائل کرنے کی کوشش کی کہ اکبر شیر بابر دراصل پارٹی سے نکالا جا چکاھے اورپارٹی کے فنڈز کی چوی ایک فریب ھے۔ لیکن جب میں نے عمران خان کی توجہ پارٹی کے فنڈز کو عہدیداروں کے ذاتی بینک اکاٶنٹز میں جمع کروانے پر دلوائی تو عمران خان نے پینترا بدلااو مجھ پررعب ڈالنا شروع کیا۔ لیکن میں اپنی بات پر ڈٹا رھا کہ تبدیلی کی اس جماعت میں یہ سب کچھ نہیں چل سکتا اور احتساب ضروری ھے۔ جب عمران خان نےدیکھا کہ میں کسی طور کرپشن کو برداشت کرنے کے حق میں نہیں تو وہ اپنے آخری حربے پر آگئے اور اٹھ کر میرا گریبان پکڑ لیا۔ یوں پیغام کے اثر کوزائل کرنے کا پرانا طریقہ اختیار کیا گیا کہ پیغام رسا کو ھی مار ڈالو۔ یوں ھمارے کنونشن سے پہلے یہ پروپیگنڈا کیا گیا کہ ھمارا عمران خان سے ذاتی جھگڑا ھے۔
میرے لئے ان حالات میں میڈیا کے پاس جانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا تھا۔ سو میں نے میڈیا میں پارٹی فنڈز کی چوری کا مسئلہ اٹھایا۔ اگلے دن کنونشن میں لاھور کے اسوقت کے صدر علیم خان کے غنڈے اراکین کو ڈراتے دھمکاتے رھے اور بد نظمی پیدا کی گئی۔ دوسرےدن عمران خان خود حامد میر کے پروگرام کپیٹل ٹاک میں آکر پارٹی فنڈزاور میرے بارے میں جھوٹ بولتے رھے۔ لیکن اپنی بوکھلاھٹ میں اقرار کر گئے کہ کم ازکم مڈل ایسٹ سے پارٹی فنڈز ھنڈی کے ذریعے پاکستان بھجواۓ گئے اور پیسہ ذاتی اکازٶنٹز میں جمع کیاگیا۔ یہ سب باتیں ریکارڈ کا حصہ ھیں

گذشتہ چار سالوں میں بہت سا پانی پلوں کے نیچےسے بہہ چکا ھے۔ پارٹی میں احتساب کیلئے اٹھنےوالی ھر ایک آواز کا خودعمران خان نے گلہ گھونٹ دیا۔ مثلاً جب جسٹس وجہہ الدین نے اس پرویز خٹک ، جہانگیرترین اور علیم خان مافیا کو پارٹی الیکشن میں دھاندھلی ثابت ھونے پر پارٹی سے نکالنے کی سزا سنائی تو یہ عمران خان تھا جس نے اس مافیا کو بچاتے ھوۓ خود جسٹس وجہہ الدین جیسے کھرے آدمی کو پارٹی سے نکال باھر کیا۔ یوں اس مافیا کو پارٹی کا کنٹرول خود عمران خان نے ایک سوچی سمجھی اسکیم کے تحت دیا۔ یہی حال کی پی کے کے احتساب کمیشن کے ڈی جی حامد خان کا کیاگیا اور بین یہی حال پارٹی کی قائمہ کمیٹی فار اکاٶٹنگ اور ڈسپلنری کے ارکان کیساتھ کیاگیا۔یوں ایک عوامی تحریک پر مافیا کا قبضہ عمران خان نے خود کروایا۔ باقی کی کسر اسٹبلیشمنٹ نے اپنی انگلی دیکر پوری کر دی۔ فوسری طرف نواز شریف کی کرپشن، پانامہ لیکز اور اسکی اسٹیبلیشمنٹ سے چپقلش نے بھی سونے پرسہاگے کا کام کیا۔ اور آج تبدیلی کے نام پر یہ مافیا ملک پر راج کر رھا ھے۔ کچھ دوستوں کا خیال ھے کہ کچھ بھی ھو یہ مافیا نواز شریف کی کرپشن سے بہرحال بہتر ھے۔ لیکن میرا خیال ھے کہ ھم آسمان سے گرےاور کھجور میں آ اٹکے ھیں۔

اور کیا آپ کو وہ 2013 کے الیکشن کے بیچ اکبر شیر بابر نے جو پارٹی کے فنڈز کی چوری کا غیر جانبدار آڈٹ کروایا تھا یاد ھے؟جی وہ آڈٹ بہت لیل و لعت کے بعد اپریل 2014 کو پوار ھوگیا۔ اور یہ آڈٹ رپورٹ ثابت کری ھے کہ پارٹی فنڈز پارٹی کی عہدیداروں کے ذاتی بینک اکاٶنٹز میں جمع کروایاگیا اور اسی کی بنیاد پر اکبر شیر بابر گذشتہ تین سال سے الیکشن کمیشن سے انصاف کا تقاضہ کر رھا ھے۔ آپ کا کیا خیال ھے۔۔۔اکبر شیر بابر کو انصاف ملے گا؟؟؟

اور کیا ھم سمندر پار پاکستانیوں کو اس ڈیم کیلئے پیسہ عمران خان کو دینا چاھیئے؟؟؟ میرا جواب ھے۔۔۔کچھ شرم ھوتی ھے کچھ حیاھوتی ھے!!!

اس ملک میں اصل تبدیلی صرف اس طور ممکن ھے جب تک مڈل کلاس پڑھا لکھا طبقہ آگے نہیں بڑھتا اور خود اپنی صفوں سے لیڈر تیار نہیں کرتا وگرنہ یہ سارے لگڑ بھگڑخود کو تبدیلی کااستعارہ کہہ کر اس قوم کو دھوکہ دیتے رھینگے۔




افکار و نظریات: ہم ضرور چندہ دینگےلیکن۔۔۔