شدت پسندی اور جھوٹ کے کارخانے

✍نذر حافی
----------سچائی انسانیت کی روح ہے، تحمل معاشرے کا ستون ہے، اچھا اخلاق ادیان کا زیور ہے،لوگ دین اس لئے سیکھتے ہیں تاکہ ان میں سچائی، تحمل اور اچھے اخلاق جیسی صفات پیدا ہوں۔ بدقسمتی سے اب دین اسلام  ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں آگیا ہے کہ  وہ سچائی کہ بجائے جھوٹ، تحمل کے بجائے شدت پسندی  اور حسنِ اخلاق کے بجائے بداخلاقی کے چلتے پھرتے پیکر ہیں۔
آپ دین اسلام کے ٹھیکیداروں کی خصوصی محافل سے لے  کر ان کےسوشل میڈیا کے اکاونٹس تک آجائیں، آپ دیکھیں گے کہ سیکولر حضرات کو اتنے فراڈ اورجھوٹ نہیں آتے جتنے دین کے ٹھیکیداروں کو آتے ہیں اور  تحمل مزاجی اور اخلاق کے اعتبار سے بھی سیکولر حضرات ان نام نہاد دینی ٹھیکیداروں سے ہزار درجے بہتر ہوتے ہیں۔
خود سے بیٹھ کر دوسرے مسالک کے خلاف جھوٹی خبریں گھڑنا، جھوٹے کلپ تیار کرنا، جھوٹے اور من گھڑت واقعات بیان کرنا، کوئی جھوٹ پکڑے جانے پر فوراً قسم اٹھا لینا، جھوٹ پھیلانے کے لئے کالم لکھنا، کالموں میں افترا پردازی، تہمت اور گالیوں کا سہارا لینا ، سادہ لوح لوگوں کو اپنے مقاصد کے لئے مشتعل کرنا بلکہ خونریزی  اور خودکش حملوں کے لئے تیار کرنا یہ سب ان ڈرامہ باز اور نام نہاد دین کے ٹھیکیداروں سے کوئی سیکھے۔
کہیں پر بھی چپقلش ان کی خاندانی، ذاتی، سیاسی، مالی، مسلکی،چندے یا فطرانے کی ہوتی ہے لیکن یہ مخالف کو مشرک، گستاخ، کافر ، زندیق  اور واجب القتل قرار دے دیتے ہیں، ان کے فتووں کی بھینٹ کتنے ہی بے گناہ انسان چڑھ چکے ہیں، قاری سعید چشتی سے لے کر مشال خان تک، آرمی پبلک سکول پشاور کے بچوں سے لے کرداتا دربار اور بری امام کے زائرین تک، فوج کے جوانوں سے لے کر پولیس کے جوانوں تک اور مساجد و امام بارگاہوں سے لے کر مندروں تک انہوں نے اپنے مسلکی مفادات کے لئے کسی قسم کے جھوٹ اور جارحیت کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔
ان کو چیک کرنے کے لئے آپ ” ایران “ کا نام لیجئے، فوراً شروع کریں گے کہ *ایران تو پاکستان میں* اپنا  شیعہ انقلاب نافذکرنا چاہتا ہے،شدت پسندی کو فروغ دے رہا ہے، ان سے پوچھئے  کہ *ایران تو انقلاب سے پہلے بھی شیعہ تھا،* اس وقت تو آپ نے ایران سے کبھی خطرہ محسوس نہیں کیا اور اگر ایران شدت پسندی کو فروغ دے رہا ہے تو کسی بھی ایرانی انقلابی عالم دین کا *وہابیوں یا دیوبندیوں   کے خلاف* کوئی ایک جلسہ دکھا دیں کہ جس میں *کافر کافر۔۔۔* کےنعرے لگائے گئے ہوں۔کبھی بتا دیں کہ انقلاب ایران کے بعد ایران کے انقلابی علما نے ایران میں نعوذباللہ اہل سنت کی مساجد پر خود کش حملےکروائے ہوں،یا ان کی ٹارگٹ کلنگ کروائی ہو یا پھر الیکشن میں اہل سنت کو اسلام اور مسلمان ہونے کے بجائے ان کی مسلکی شناخت کے ساتھ انہیں الیکشن لڑنے پر مجبور کیا ہو تاکہ وہ اقلیت محسوب ہوں ۔نہیں ہر گز نہیں ، *ایران میں اہلسنت کو وہی انسانی،دینی و سیاسی حقوق  حاصل ہیں جو اہل تشیع کو حاصل ہیں* اور  ایران میں اہل سنت کو وہی مذہبی آزادی حاصل ہے جو اہل تشیع کو حاصل ہے۔ چنانچہ اہل سنت اپنی مساجدمیں یا اپنےبزرگوں اور اولیائے کرام کے مزارات پر اپنے عقائد کے مطابق عمل کرنے میں آزاد ہیں۔
👁👈(((((کیا سعودی عرب میں بھی اہل سنت کو اسی طرح مذہبی و سیاسی آزادی حاصل ہے؟)))))
👈نہ کسی کومزارات پر حاضری دیتے ہوئے کوڑے مارے جاتے ہیں، نہ ہاتھ باندھنے یا کھولنے پر مشرک کہا جاتا ہے اور نہ ہی انہیں کبھی سعودی عرب کا ایجنٹ کہا جاتا ہے اور نہ ہی آج تک کسی انقلابی عالم دین نے یہ کہا کہ معاذاللہ ثم معاذاللہ کہ ہم اہل سنت، یا کم از کم وہابی و دیوبندی حضرات کو کافر قرار دینے کے لئے پارلیمنٹ میں قرارداد پیش کریں گے۔💚بلکہ ایران کے سپریم لیڈر نے یہ فتوی دیا ہے کہ
 *اہل سنت کی دل آزاری اور مقدسات کی توہین حرام ہے۔*
*اب ان جھوٹ کی فیکٹریوں اور کارخانوں* کی طرف آئیے، انہوں نے پاکستان کو جہنم بنا رکھا ہے، ایران سے اپنے بغض اور کینے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ *راجہ بازار راوالپنڈی* میں دس محرم کو خود ہی حملہ کرے اپنے ہی بندوں کو ہلاک کر دیتے ہیں تاکہ ایران اور شیعوں کو بدنام کیا جائے، یہ *پاکستان اور ہندوستان* کی جنگ کے دوران یہ خبریں پھیلاتے رہے کہ *ہندوستان کے طیارے* *ایران میں لینڈنگ کر رہے ہیں* اور ایران  اب اسرائیل سے مل کر پاکستان پر حملہ کرنا چاہتا ہے ۔ حالانکہ ارباب فکر و دانش بخوبی جانتے ہیں کہ *اسرائیل اور امریکہ کا دوست اور ہم نوالہ و ہم پیالہ سعودی عرب ہے یا ایران۔لیکن انہوں نے اسی پر بس نہیں کی انہوں نے ،کلیسا، مسجد، امام بارگاہ، دربار،مزار،عالم دین، قوال، نعت خوان ، ذاکر، بیوروکریٹ، پولیس افیسر، فوجی جوان،حتی کہ سکولوں کے ننھے منے بچوں سمیت کسی کوبھی معاف نہیں کیا اور پھر کہتے ہیں کہ ایران شدت پسندی پھیلا رہا ہے۔