پاکستان پر امریکہ کا اقتصادی حملہ

✍نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

ہاتھی بہت غصے میں تھا، وہ دوڑ دوڑ کر پہاڑوں کو ٹکریں مار رہا تھا، درختوں کو اکھاڑ کر پھینک رہاتھا، آسمان کی طرف منہ کر کے چیخ رہا تھا، غیض وغضب کے عالم میں مٹی پر اپنی سونڈ کو رگڑ رہا تھا، شیر نے ہاتھی کی یہ حالت دیکھی  تو پوچھا کہ ہاتھی میاں اتنا غصہ کیوں!؟

 ہاتھی نے کہا کہ مجھے چوہے  کے بِل کی تلاش ہے۔شیر نے پوچھا کہ چوہے نے ایسا کیا کیا ہے؟ ہاتھی نے کہا کہ دو دن سے میری بیوی غائب ہے اور آج مجھے پتہ چلا ہے کہ چوہا اسے اغوا کر کے اپنے بِل میں لے گیا ہے۔ لہذا مجھے چوہے کے بِل کو ڈھونڈنا ہے۔یہ سنتے ہی  شیر نے کہا !ہاتھی میاں ٹھیک ہے تمہیں یہ اطلاع دی گئی ہے اور تمہارے پاس ٹھوس ثبوت اور شواہد موجود ہیں لیکن اتنا تو  تم بھی سوچو کہ چوہے کے بِل میں تمہاری بیوی داخل بھی ہو سکتی ہے یا نہیں!

کچھ ایسے ہی ہاتھی ہمارے ہاں بھی پائے جاتے ہیں، سانحہ ساہیوال سے لے کر کیکڑاون کی  سترہ مرتبہ ناکام ڈرلنگ تک اور مسنگ پرسنز کی کاروائیوں سے لے کر سانحہ اوماڑہ پر شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس تک سب کچھ غلط معلومات کے پیشِ نظرہو رہا ہے۔ان غلط معلومات کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں، لوگ ریاستی ادارں سے محبت اور ان پر اعتماد کرنے کے بجائے ان سے خوفزدہ ہیں،  غلط معلومات کی بنیاد پر ملک و قوم کا بھاری نقصان ہو رہا ہے، صرف کیکڑا ون میں 4کمپنیوں نے مشترکہ طور پر کھدائی کا کام شروع کیا جس پر 14ارب روپے خرچ ہوئے 5ہزار میٹر کھدائی کے باوجود تیل و گیس کے ذخائر دریافت نہیں ہو سکے۔یہ وہی کیکڑا ون ہے جس کے بارے میں  وزیراعظم نے 25 مارچ 2019ء کو یہ دعویٰ کیا تھا کہ تین ہفتوں میں قوم کو  بڑی خوش خبری سنائوں گا۔

اب مسنگ پرسنز ہوں، سانحہ ساہیوال ہو،شاہ محمود قریشی کی پریس کانفرنس ہو یا کیکڑاون کا پراجیکٹ، غلط اطلاعات فراہم کرنے والوں کے خلاف شکایت یا قانونی  کارروائی  کا کوئی امکان ہی نہیں۔

تازہ  صورتحال یہ ہے کہ  ایک طرف بے روزگاری حد سے بڑھ گئی ہے، اور دوسری طرف ٹیکسز میں ہوشربا اضافہ، بیرونی قرضے اپنے عروج پر  ،ڈالر ، بجلی ، گیس اور پیٹرول ، کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ایسے میں *ہمارے حکمران صبح اٹھتے ہیں اور بیان داغ دیتے ہیں کہ*

👇 *ہم امریکہ و ایران کی جنگ میں غیرجانبدار رہیں گے۔*

انہیں اتنی بھی معلومات نہیں کہ امریکہ ان کی چاپلوسیوں سے خوش نہیں ہوتا، اس کے آگے جتنی مرضی ہے دم ہلائیں، ٹرمپ کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر بھنگڑے ڈالیں، رقص کریں اوریاپھر اسے سجدے کریں ، ان چیزوں سے امریکہ کا دل نہیں بہلایا جاسکتا، امریکہ کے تھنک ٹینکس موجود ہیں جو یہ جانتے ہیں کہ پاکستان کے جانبدار یا غیر جانبدار ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے۔

باقی جہاں تک رہی بات امریکہ کی ایران پر حملے کی تو ایران کے تھنک ٹینکس کا بھی دنیا میں لوہا مانا جاتا ہے۔

🔻 *امریکہ مسلسل افغانستان، شام اور عراق میں ذلت آمیز پسپائی کے بعد نیز تینتیس روزہ جنگ میں حزب اللہ کے ہاتھوں اسرائیل کی زبردست پٹائی کا تجربہ کرنے کے بعد اور آئے روز حوثیوں کے میزائل حملوں کی گھن گرج سنتے ہوئے، ایران پر حملہ کر کے اپنی رہی سہی ساکھ کو  بھی ختم نہیں کرنا چاہتا۔*

👈اس نے ایران کے خلاف جو جنگ لڑنی ہے وہ *عسکری نہیں بلکہ اقتصادی ہے۔* جسے امریکہ اچھی طرح ایران کے خلاف لڑ رہا ہے۔

*اگر آج ایران کی حکومت* سعودی عرب کی طرح اپنے تیل کے ذخائر کا منہ امریکہ کے لئے کھول دے تو  *ایران کا شیعہ، کافر، رافضی اور کالا انقلاب* پاکستان سے لے کر سعودی عرب اور امریکہ تک کسی کو نہیں چبھے گا۔

غیر جانبداری کا نعرہ لگانے والوں کے پاس اتنی سوچ بھی نہیں کہ وہ خود امریکہ و یورپ  کی اقتصادی یلغار کے شکار ہیں۔سی پیک سے یورپ اور امریکہ کی عالمی تجارتی منڈی کو جو خطرات لاحق تھے، ان کے پیشِ نظر پاکستان پر تاریخ کا بدترین اقتصادی حملہ ہو چکا ہے۔

پاکستان کے تھنک ٹینکس اور ماہرین اقتصاد کو ایک طرف تو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ *آج سی پیک کے نام پر ہم پاکستان کے سینے پر جو لکیر کھینچ رہے ہیں کیا مستقبل میں چین کو اس لکیر تک محدود رکھ سکیں گے* اور دوسری طرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آج ہمارے تجارتی بازاروں میں کپڑے سینے والی مشین کی ایک روپے کی سوئی سے لے کر کروڑوں روپے کی مشینری تک  جوکچھ بھی ہے اس پر *میڈ ان چائینہ، میڈ ان کوریا، میڈ ان جاپان، میڈ ان یو ایس اے۔۔۔ لکھا ہوتا ہے۔*

👈ہم میڈ ان پاکستان کی پیداوار، کوالٹی  یعنی معیاراور مصرف، تینوں چیزوں میں بہت پیچھے ہیں۔

ہم سمجھیں یا نہ سمجھیں *ہمارے خلاف اقتصادی  محاز پر ایک بڑی جنگ تیزی سے جاری ہے۔*

 ہمارے اکنامک اداروں کو *ملکی پیداوار بڑھانے، عوام میں صرف اور صرف پاکستانی مصنوعات استعمال کرنے اور مارکیٹ میں ڈالر کے بائیکاٹ کو یقینی بنانے کے لئے فوری منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔*

👈امریکہ کی ایران کے تیل کو دیکھ کر جیسے رال ٹپک رہی ہے ویسے ہی پاکستان کا سی پیک بھی  اسے للچا رہا ہے۔

چنانچہ وہ جیسے ایران پر اقتصادی شکنجہ کسے ہوئے ہے ویسے ہی پاکستان کی انڈسٹری اور تجارت سے آخری قطرہ تک نچوڑ نے کے لئے زور لگا ئے ہوئے ہے۔

👈ہم اس اقتصادی دباو اور جنگ کے مقابلے کے بجائے ٹیکسز بڑھا کر، مہنگائی اور بیرونی قرضوں میں اضافہ کر کے  اپنی ہی قوم کی کمر پر  مزیدبوجھ لادے جا رہے ہیں۔

*سابقہ غلطیوں پر نظرثانی اور ان کے ازالے کے بجائے،*

👈ہر روز الٹی سیدھی پریس کانفرنسیں ہورہی ہیں اور بیانات داغے جا رہے ہیں، لیکن کیا کوئی ہے جو ہمارے ملک میں ان جھنجلائے ہوئے ہاتھیوں سے یہ کہے کہ تم کدھر دوڑے جا رہے ہو،  تمہاری اطلاعات اور شواہد سب کچھ سر آنکھوں پر لیکن پہلے یہ تو سوچو کہ چوہے کے بِل میں ہتھنی داخل بھی ہو سکتی ہے!؟