نواز شریف کی فضل الرحمان کو سپورٹ

ڈاکٹر حفیظ ارحمان 

نواز شریف کا فضل الرحمان کے دھرنے اور احتجاج کو سپورٹ کرنے کے اعلان نے یار لوگوں کو پریشان کر دیا ہے،ایک سال تو سودا اسی پہ بک رہا تھا کے ڈیل مانگ رہے ہیں اور ڈیلُ نہیں دیں گے لیکن یہاں تو قصہ ہی  لچھ اور ہے ،ایک سال  کی جیل نے بہی  دم خمُ نہیں نکالا اور الٹا ووٹ کو عزت دو کا نعرہ زندہ ہو گیا ۔

پی ٹی آئی مائینس ہو گئی ،اب دنگل مولانا ،نواز اور ایسٹیبلیشمنٹ کے درمیان ہو گا ۔اس کا فیصلہ ہو ہی  جانا چاہیے کے پاکستان میں فیصلوں کا حق کس کو ہے ،پارلیمان یا پھر فوجی لیڈرشپ ،روز روز کے جھنجھٹ ئسے جان چہوٹے ،کہتے ہیں فوج اور حکومت ایک پیج پہ ہے گویا فوج حکومت سے علحیدہ ہی  کوئی چیز ہے ،خود ہی  مانتے ہیں کے فوج حکومت سے باہر ہی  کی مخلوق ہے اور جب سیانے بات کریں تو برا لگتا ہے ،بھائی فوج حکومت ہی  میں ہوتی ہے ،دونوں کا ایک پیج پہ ہونا ہی  اصل میںُ مسلہ ہے جب ہم  انہی ں  دو اکائیوں میں بانٹ دیتے ہیں لیکن واقعی ہم  نے بانٹا ہے یا پھر انہوں نے خود ہی  حکومت سے خود کو جدا کر لیا ہے۔

وزیر داخلہ کا بیان آن ریکارڈ ہے کے نواز شریف چوتھی  مرتبہ بہی  وزیر اعظم ہوتا اگر وہ اور اس کے چند وزیر چھڑ چھاڑ نہ کرتے گویا یہ سارا کھیل عدالتیں اور احتساب ڈھکوسلا تھا ،دوسرے وزیر ریلوے چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کے شہباز ہمارا بندہ ہے اور نواز نہیں مانتا اور شہباز پچ کے دونوں طرف کہی لتا ہے ،کونسی پچ ،کیسی پچ ،ظاھر ہے کے پچ کے ایک طرف فوجی ہیں اور دوسری طرف سیاست دان ہیں ،پھر اس سے بہی  بڑھ کر ،اس ملک کا کوئی بہی  شہری قرآن پہ ھاتھ رکھ کر کہے کے فوج انتخابات پہ اثر انداز نہیں ہوتی ،حکومت سازی پہ اثر انداز نہیں ہوتی اور یہ کے پارلیمان کی فوج کے سامنے کوئی وقعت نہیں ،کیا یہ سچ نہیں ،کیا یہ جہوٹ ہے اور کیا ایسا ہونا چاہیے ،اس سے قطع نظر کے کس کی حکومت بنتی ہے ،اس قطع نظر کے کون پارلیمان میں اکثریت حاصل کرتا ہے اور اگر کرتا ہے تو کیا فوج اس سب کی قیمت وصول نہیں کرتی اور قیمت کیا ہے کے جو ہم  کہیں گے وہ کرو گے  ۔

تو اگر یہ سب ہی  کرنا ہے تو پھر یہ انتخابات کا ڈہونگ اور یہ جلسے جلوس اور پارلیمان اور وزیر اعظم اور کابینہ ،کیا  یہ سب گڈے گڈی کی کہانیاں اور عوام کو انکی بتی کے پیچہے لگا رکھا ہے ،ایک سیراب کے پیچھے اور آخر میں بدنام بھی  سیاستدان اور پارلیمان ہوتی ہے ،اور یہ سب دودھ کے دھلے ہوئے نکل آتے ہیں یا تو پھر جرات کریں کے ہاں ہم  ہی  ہیں جو ریاست کا انتظام چلاتے ہیں اور یہ سیاست دان ہماری کٹھ پتلیاں ہیں جنکی ڈوریں ہمارے پاس ہیں ۔

تو پھر یہ سوال بہی  جنم لیتا ہے کے ان سیاست دانوں میں ایسی کیا کمزوریاں ہیں کے یہ کٹھ پتلیاں بننے کو تیار ہو جاتی ہیں ،کچھ تو ایسا ہو گا کے انکی فائلیں بنتی ہیں اور یا پھر ایسے سیاستدانوں کو ہی  آگے لایا جاتا ہے جنکا اگا پیچھا کوئی نہیں ہوتا اور انہی کے رحم کرم پہ زندہ رہتا ہے ،ہو سکتا ہے کے نواز شریف بہی  شائد اسی طرح کا کوئی سیاست دان ہو لیکن وقت نے سکھا ہی  دیا ہو کے پاکستان کو کس نے چلانا ہے ،چونتیس سال کی سیاست کا لچھ تو نچوڑ ہونا چائیے ،اگر تو صرف کٹھ پتلیوں والا اقتدار ہی  چائیے تو پھر ایک دن خدا کو بھی  جواب دینا ہے ۔

 


افکار و نظریات: islam