گریٹر اسرائیل کیوں نہیں بن رہا؟

نذر حافی

nazarhaffi@gmail.com

گریٹر اسرائیل کیوں نہیں بن رہا؟ جب ساری دنیا اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہے تو پھر رکاوٹ کیا ہے؟ اگر آپ کو اس سوال کا جواب چاہیے تو روشنی اور تاریکی میں سے ایک کا انتخاب کیجئے۔ خاک سے لے کر افلاک تک اور نفوس سے لے کر آفاق تک یہ انتخاب ناگزیر ہے۔ انسان اپنی فطرت، میلان اور رجحان کے مطابق بہتے ہوئے پانی کے بہاو کی طرح روشنی یا تاریکی کی طرف خود بخود چلا جاتا ہے۔ کسی بھی طرف انسان کا جھکاو اگر دلیل کے بغیر ہو تو تعصب ہے اور اگر دلیل کے ہمراہ ہو تو عین عدل ہے۔

سوال تو آپ کو یاد ہے ناں! جب ساری دنیا اسرائیل کے ساتھ کھڑی ہے تو پھر گریٹر اسرائیل کے راستے میں رکاوٹ کیا ہے؟

علم،حقیقت،سچائی، روشنی اور دلیل کی طرف جھکاو یہ کسی مذہب ، مسلک اور ملک کی میراث نہیں بلکہ مطالعے ،تحقیق ، جستجو، تعقل، تفکر، تدبر اور بصیرت کا ثمر ہے۔ جی ہاں تو پھر دلیل تلاش کیجئے کہ کیوں گریٹر اسرائیل تشکیل نہیں پا رہا؟

بہت جرات چاہیے سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنے کیلئے۔ "فلسطین فلسطینیوں کا ہے" کیا اس سے بڑا سچ کوئی اور بھی ہے؟ لیکن کتنے اسلامی ممالک اس سچ پر قائم ہیں؟

فلسطین فلسطینیوں کا ہےیہ فیصلہ کرنے کیلے صرف قوت فیصلہ کا ہونا کافی نہیں ہے بلکہ حقائق سے آگاہی اوردرست معیار کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اگر کسی بھی مسئلے میں قوتِ فیصلہ بہت ہی مضبوط ہو لیکن معلومات یا معیارات غلط ہوں تو فیصلہ بھی غلط ہی ہوگا۔

آج دنیائے اسلام مختلف غلط فہمیوں میں تقسیم اور ان گنت ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اس تقسیم در تقسیم کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم کسی دلیل کو نہیں مانتے۔ صدیوں سے ہم دلیل کے خلاف لڑے جا رہے ہیں، اسی لئے جتنا ہم نے ایک دوسرے کو نقصان دیا ہے اتنا غیروں نے نہیں دیا۔

ہم اپنی معلومات، اپنے معیارات اور اپنے اصولوں کو پرکھنے کے بجائے ، فوراً مدّمقابل کے مذہب اور مسلک پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔

ہم آج تک یہ نہیں مانتے کہ اگر کوئی تجزیہ کار ہمارے علاوہ کسی اور دین، فرقے یا ملک میں پیدا ہو گیا ہےتو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نے خواہ مخواہ اس کی مخالفت ہی کرنی ہے۔

تجزیہ و تحلیل چاہے کافر اور مشرک ہی کرے، ہمیں اس کی دی گئی معلومات کو سب سے پہلے پرکھنا چاہیے کہ یہ معلومات درست بھی ہیں یا نہیں، پھر اس کے معیارات کو دیکھنا چاہیے کہ وہ جو معیارات بیان کر رہا ہے وہ بھی صحیح ہیں یا نہیں، اس کے بعد یہ دیکھنا چاہیے وہ اپنی معلومات اور معیارات کے مطابق ہی فیصلہ کر رہا ہے یا اپنے ہی معیارات کو روند رہاہے ۔

جی ہاں تو ہم یہ دلیل تلاش کرنے نکلے تھے کہ کیوں گریٹر اسرائیل تشکیل نہیں پا رہا؟

اس سوال کے جواب کیلئے ہمیں کسی مسلکی عینک یا کسی خاص قسم کے ترازو کی ضرورت نہیں، صرف اور صرف عدل و انصاف سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

آج ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی کے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں، ہمیں درست معلومات کے ساتھ اتنا تو پتہ ہونا چاہیے کہ آج فلسطین اور مشرقِ وسطی میں جو کچھ ہو رہا ہے ، یہاں کون کس کے حصے کی جنگ لڑ رہا ہے!؟


کیا ہم جانتے ہیں کہ خلیجی ریاستوں کا بشارالاسد کے ساتھ بیر کیا ہے!؟


کیا سعودی عرب کے بادشاہ امریکی و اسرائیلی اسلحے کے ساتھ یمن میں جمہوریت قائم کرنے کیلئے لڑ رہے ہیں؟


کیا بشارالاسد کا جرم اور گناہ یہ ہے کہ وہ ایک آمر اور ڈکٹیٹر ہے!؟

اگر آمریت کی قباحت کی بات ہے تو یہ قباحت تو سعودی عرب و امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں کے بادشاہوں میں بدرجہ اولیٰ پائی جاتی ہے۔


کیا بشارالاسد کا جرم یہ ہے کہ اس نے اہل سنت پر کوئی ظلم کیا ہے، جیساکہ اس کے مخالفین کہتے ہیں!؟ اگر مخالفین کا یہ بے بنیاد الزام مان بھی لیا جائے تو پھر بھی سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں نےجتنا ظلم اہلِ سنت پر کیا ہے اتنا تو بشارالاسد نے نہیں کیا!؟

خلافت عثمانیہ کے خاتمے سے لے کر مکے اورمدینے میں اہلِ سنت کے اکابرین اور صحابہ کرام کے تاریخی و ثقافتی مقامات اور مقدس مزارات کو سعودری عرب نے مٹا کر رکھ دیا ہے۔

آج بھی سعودی عرب سمیت ان ساری عرب ریاستوں میں عیاشی کے اڈے، جوئے کےمراکز، شراب خانے، مندر اور چرچ توتعمیر ہوسکتے ہیں لیکن اہل سنت کسی صحابی یا ولیِ خدا کی درگاہ، مزار یا یادگار نہیں تعمیر کروا سکتے۔


کیا بشارالاسد نے خلافت عثمانیہ کے خاتمے میں کوئی کردار ادا کیا ہے اور یا پھر کر آج تک اہل سنت کے اکابرین کے مزارات اور تاریخی مقامات کو نعوذباللہ منہدم کروایا ہے!؟

آخر کیا وجہ ہے کہ ہیں تو دونوں طرف بادشاہ، آمر اور ڈکٹیٹر، اگر شام کا حکمران بشارالاسد ڈکٹیٹر ہے تو مدقابل میں عرب ریاستوں کے حکمران بھی تو آمر اور ڈکٹیٹر ہیں!؟

پھر کیا وجہ ہے کہ امریکہ و اسرائیل بشارالاسد کے تو مخالف ہیں لیکن دیگر عرب بادشاہوں کے اتحادی اورسرپرست ہیں!؟

جی ہاں !دلیل کو سمجھئے۔ ہمیں خلیجی بادشاہوں اور بشارالاسد کی تاریخ اور دونوں کے اہل سنت پر جو مظالم ہیں انہیں سامنے رکھ کے خود یہ فیصلہ کرنا چاہیے کہ اہل سنت کا دشمن کون ہے!


ہمیں خود یہ تحقیق کرنی چاہیے کہ اسرائیل کی آنکھ میں کانٹے کی طرح ایرانی پاسدارانِ انقلاب، عراقی حشد الشعبی، یمنی انصاراللہ، لبنانی حزب اللہ اور بشارالاسد کھٹک رہے ہیں یا سعودی عرب اور اس کے اتحادی!؟

بشارالاسد تو آئے روز اسرائیلی حملوں کا سامنا کرتا ہے اورانہیں جواب بھی دیتا ہے لیکن کیا سعودی عرب کے بنائے ہوئے فوجی اتحاد نے کبھی اسرائیل کی طرف ایک پتھر بھی پھینکا ہے!؟

کیا ہم اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ اگر ایرانی حمایت یافتہ حماس، حزب اللہ، حشد الشعبی، انصاراللہ اور بشارالاسد نہ ہوتے تو آج گریٹراسرائیل وجود میں آ چکا ہوتا۔

قارئین محترم ! آپ تحقیق کریں اور دلیل کے ساتھ اپنی رائے قائم کریں کہ کتنے ہی سالوں سے اسرائیل کے سامنے کون چٹان بن کر کھڑا ہے!؟

میں آخر میں اپنے قارئین کیلئے یہ جملہ پھر دہرا دینا چاہتا ہوں کہ علم،حقیقت،سچائی، اور دلیل کی طرف جھکاو یہ کسی مذہب ، مسلک اور ملک کی میراث نہیں ہے بلکہ مطالعے ،تحقیق ، جستجو، تعقل، تفکر، تدبر اور بصیرت کا ثمر ہے۔

یادرکھئے کہ جھکاو اگر دلیل کے بغیر ہو تو تعصب ہے اور اگر دلیل کے ہمراہ ہو تو عین عدل ہے۔


افکار و نظریات: گریٹر اسرائیل اور ہماراجھکاو