اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات بسم اللہ الرحمن الرحیم وہ تختۂ دار پر کھڑا تھا، اس کی آخری خواہش پوچھی گئی، اس نے کہا مجھے ماں سے ملوایا جائے۔ماں کو لایا گیا۔ لوگوں کی نگاہیں منتظرتھیں، سکوت ٹوٹا ،آواز آئی میری ماں کو میرے قریب لایا جائے، ماں قریب پہنچ گئی۔بیٹے نے کہا :ذرا اپنی زبان میرے منہ میں رکھیۓ۔خواہش کا پورا کرنا تھا کہ ایک چیخ بلند ہوئی،لوگوں کی نگاہیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔منظر عجیب تھا،سب لوگ انگشت بدنداں تھے کہ ہو کیا گیا کہ اتنے میں ایک طرف سے غصے سے لبریز صدا بلند ہوئی؛اے بدبخت موت کی دہلیز پر آخری لمحات میں تو کوئی کارِ خیر انجام دے جاتا ۔تو نے کیا کر ڈالا اپنی ماں کی زبان کاٹ ڈالی ۔اتنا سننا تھا کہ وہ شخص گویا ہوا ۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو
’’استاد کی ایک شاباش‘‘
اے لوگو !میرے بچپن کے دن تھے۔اچھے ،بُرے کی تمیز نہیں تھی۔ایک دن ایسا ہوا کہ میں ہمسائےکے گھر سے ایک انڈہ چوری کر کے لایا اور وہ میں نے ماں کو پیش کیا۔میرے ماں بہت خوش ہوئی اس نے مجھے ایک شاباش دی اور میں پھولے نہیں سما رہا تھا کہ میں نے کتنا بڑا کام کیا ہے۔دن گزرتے گئے ،میں اپنے کام میں آگے بڑھتا گیا۔پھر مرغی، ایک دن بکری اور اسی طرح میں ایک ایک قدم آگے بڑھاتا گیا۔آخری با ر یہ ہوا کہ میں اونٹ چوری کر رہا تھا کہ مالک کو خبر ہو گئی اس نے مجھے پکڑنے کی کوشش کی، میں نے اُس پر وار کیا وہ قتل ہو گیا اور آج اس جرم کی سزا میں ،مَیں تختہ دار پہ ہوں ۔اگر یہ زبان اس وقت مجھے بُرے کا م پر شاباش نہ دیتی تو میں آج یہاں نہیں کہیں اور ہوتا۔ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے اور اس میں جو سبق سکھائے جاتے ہیں وہ پتھر پر لکیر ہوتے ہیں اور انسانی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں یہی انسانیت کی کی بنیادیں ہیں اور انسانیت کی پوری عمارت کا انحصار اسی پر ہوتا ہے ۔بقول شیخ سعدیؒ۔
خشت اول چون نهد معمار کج
تا ثریا می رود دیوار کج
اگر معمار عمارت کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی رکھے گا، تو وہ عمارت آسمان کی بلندی تک ٹیڑھی ہی جائے گی ۔ اگر پہلی درسگاہ میں ہی عزت شرافت اور نجابت کا درس دیا جائے تو یہ شاگرد بڑا ہونے کے بعد دنیا کے طوفانوں کے سامنے ڈگمگاتا نہیں بلکہ ’’ھَیھَات مناّالزلّۃ‘‘ کانعرہ بلند کرتے ہوئے ذلّت کی زندگی کو چھوڑ کر عزت کیساتھ موت کو گلے لگاتا ہے۔اور یہی کہتے ہوئے نظر آتا ہے کہ جس گود میں پروان چڑھا ہوں اس نے مجھے گھُٹیّ میں عزّت پلائی ہے ۔
ہمارے معاشرے میں رائج تعلیمی نظام کے مطابق ،ماں کی گود کے بعد جو تربیت کا بہت بڑا کردار ہے وہ ’’استاد‘‘کا ہے۔استاد کی شان میں بڑی بڑی ہستیوں کے اقوال موجود ہیں کہیں اسے روحانی باپ کہا گیا تو کہیں ’’زمیں کی پستیوں سے آسمان کی بلندیوں تک‘‘لے جانیوالا،اور عرب کے اس جاہل معاشرے کی کایا پلٹنے والی ہستی کو بھی معلم کہا گیا اور حد ہوگئی اس مقام و مرتبے کی کہ جب کائنات کے خالق نے بھی فرمایا ’’خلق الانسان ،علمہ البیان‘‘اور ’’الذی علم بالقلم،،’’علم الانسان مالم یعلم‘‘
یہ معلّم کا کام ہی ہے کہ جسے انبیاء کا شیوہ کہا گیا۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ زمانہ ہی بدل گیا ہے اب استا د کا حترام نہیں کیاجا تا ۔اب وہ شاگرد نہیں رہے کہ جو دُور سے آتے ہوئے استاد کی تعظیم میں پہلے سے آمادہ کھڑے ہوں ۔اور استاد سے سلام لینے میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنا چاہتے ہوں ۔شاید ایسا ہو بھی ؛لیکن میرا خیال ہے کہ اب ویسا استاد بھی نایاب ہے کہ جو کمزور طالب علم کو خصوصی توجہّ دے اور کہے میرا بچے چھٹی کے بعد کچھ دیر رُک جانا ۔میں آپ کوتھوڑا وقت دونگا اور وہ بھی فیس کے بغیر ۔جب سے تعلیم کا شعبہ کاروبار بنا ہے تب سے استا د اور شاگرد کا رشتہ بھی کمزور پڑ گیا ہے ۔البتہ آج بھی ایسے استاد موجود ہیں کہ جن کے لئے ان کے شاگرد یہ کہتے ہوئے ملتے ہیں۔
شاگرد ہیں میر ؔسے استاد کے راسخ ؔ
استادوں کا استاد ہے استاد ہمارا
اور
استادکی عظمت کو ترازو میں نہ تولو
استاد تو ہر دور میں انمول رہا ہے
امتحانات کے دن ہیں اور بچوں کی تقدیر اساتذہ کے ہاتھوں میں ہے۔ ان دنوں استاد کی ذمہ داری بہت سنگین ہے۔استاد کو قوم کا معما ر کہا گیا ہے ۔ قوموں اور معاشرے کی ترقی ّ اور تنزّلی میں استاد کا اہم کردار ہوتا ہے۔ استاد کی تشویق اور شاباش ہی ہوتی ہے جو شاگرد کو’’ اعلٰی علیِّین ‘‘میں لے جاتی ہے اور’’ اَسفلَ سافِلین ‘‘میں بھی۔اگر یہ شاباش مثبت کام کے لئےہو تو مولوی میر حسن ؒ کے مکتب سے علامہ اقبالؒ جیسے شاگرد پروان چڑھتے ہیں۔ استاد کی تشویق ،شاباش اور ڈھارس ہی ہوتی ہے(یہ مثبت اور منفی دونوں جہات میں اپنا اثر رکھتی ہے)۔ یہ ہوتی تو ایک ہی جملے پر مشتمل ہے’’تم کر سکتے ہو‘‘لیکن نہیں معلوم اس ایک جملے میں کتنی طاقت ہوتی ہے کہ جو شاگرد کو کہا ں سے کہاں تک پہنچا دیتی ہے۔اور اگر شاگرد کے ذہن میں یہی بات ڈال دی جائےکہ یہ تمہارے بس کا روگ نہیں ہے،تم نہیں کر سکتے، تو پھر اِس جملے سے رہی سہی کسر بھی نکل جاتی ہے۔
یہ بات آپ کے بھی مشاہدہ میں ہو گی کہ کتنے ہی ظاہرا کمزور طالب علم تھے کہ جن کو استاد کی تشویق نے بلندیوں پر پہنچایا اور ایسے ہی کتنے ہی قابل اور ذہین طالب علم تھے کہ جو استاد کی بلاوجہ سر زنش کی وجہ سے اپنے اندر ہی گُھٹ کر رہ گئے۔اور یہ جملہ ان کے اذھان میں نقش ہو کر رہ گیا کہ ’’تم کچھ نہیں کر سکتے‘‘۔
شاباش ،اگر اس بات پر ہو کہ میرے بچے امتحان میں ایک دوسرے کو نقل لگوانی ہے تاکہ سارے پاس ہو جاؤ اور میری عزت محفوظ رہے تو جب قوم کو ایسی بنیادیں فراہم کی جائیں تو یہی شاگرد جب مختلف مقامات پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے تو کرپشن کا نتیجہ سامنے آئےگا ۔جیسا فیکٹری کو مال دیں گے ویسی ہی بدلے میں ہمیں پروڈکٹ ملے گی۔جو چھوٹی سطح پر بیٹھ کر دوسروں کےحقوق پر ڈاکہ ڈال رہا ہے ۔توکیا وہ کسی بڑے عہدے پر بیٹھ کر قوم وملت کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈالے گا۔ہم جیسا بیج بو رہے ہیں ویسا ہی کاٹ رہے ہیں ۔short term(کوتاہ مدت )نتائج کی خاطر long term(طویل المدت)کو نظر انداز کر دیتے ہیں ۔یہی اقدار ہیں جو ہم بچےکے لاشعور میں بٹھا دیتے ہیں تو جب وہ بڑا ہو کر تاجر ،ڈاکٹر ،انجنئیر،عالم یا حتی ّٰچھوٹے سے شعبے میں مزدوری کرے گاتو وہ کرپشن کو اپنا حق سمجھ کرسر انجام دے گا ۔کیونکہ استاد نے اسے امتحانات میں حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا تھا میرے بچے پیپر میں ایک دوسرے کا خیال رکھنا کیونکہ یہ تمھارا حق ہے۔تو پھر جب ہمارے وزراء کرپشن کریں تو ہمیں پریشان نہیں ہونا چاہئے۔کیونکہ ہم نے اپنی نسل کو یہی تو سبق دیا ہے۔
ایسے ہی اساتذہ کے لئےعلامہ اقبال ؒ فرماتے ہیں
شکایت ہے مجھے یا رب! خداوندانِ مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہےہیں خاکبازی کا
البتہّ یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ ہمارے اسی معاشرے میں ایسے اساتذہ بھی موجود ہیں کہ جو لگن اور محنت سے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں اور ان کے امتحان کے دوران ،ممتحن کے تأثرات یہ ہوتے ہیں کہ اگر ان بچوں کو میں کمرہ ٔ امتحان میں بند کرکے چلا جاؤں تو مجھے یقین ہے کہ یہ بچے Cheatingنہیں کریں گے کیونکہ ان کےاساتذہ نے انہیں یہی تربیت دی اور وہ ہے۔
’’الم یعلم بان اللہ یری‘‘کیا انسان نہیں جانتا کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔۔
افکار و نظریات: استاد کی ایک شاباش
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں