اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات بات سنیں، شہید حوالدار فہیم عباس کے قاتلوں کا کچھ پتہ چلا؟؟؟ عوام پولیس شہدا کے خون سے کبھی بے وفائی نہیں کریں گے۔ یہ جملہ پولیس کے دیگر شہداء کی طرح شہید حوالدار فہیم عباس کے ستائشی بینر پہ بھی تحریر ہے، یہ بینرز محکمہ پولیس کی جانب سے یوم شہدائے پولیس پہ ہر شہید اہلکار کے دروازے پہ سرکار کی جانب سے آویزاں کئے جاتے ہیں۔ اس سوال کو ایک طرف رکھ کر کہ عوام نے کب پولیس یا سکیورٹی اداروں کے شہداء کے لہو سے بے وفائی کی ہے؟، آگے بڑھتے ہیں۔ بعد از شہادت تمغہ شجاعت پانے والے شہید حوالدار فہیم عباس کی گزشتہ روز 11ویں برسی تھی۔ ان 11 سالوں میں سرکاری ریکارڈ روم کی ڈھیروں فائلوں میں شہید فہیم عباس قتل کیس کی فائل بھی کہیں نہ کہیں دبی ہو گی اور برسوں کے وقت کی لاپرواہ گرد نے اس فائل کو ضعیف بھی کر دیا ہو گا اور اس میں موجود قاتلوں کے نقوش بھی اب تک تو مٹ ہی چکے ہوں گے مگر ڈی آئی خان سٹی کی حدود میں داخل ہونے کے بعد آپ کسی بھی شخص سے شہید فہیم عباس کی شہادت، جائے شہادت، وجہ شہادت یا اس کی فیملی سے متعلق سرسری سا سوال کریں تو جواب میں آپ کو وہ اتنی معلومات سے نوازے گا کہ جو شہید فہیم عباس قتل کیس کی فائل میں درج نہیں ہوں گی۔ یہ معلومات کچھ اس نوعیت کی ہوں گی۔ ہنس مکھ، کھلنڈرا، خوش مزاج اور ہر دلعزیز نوجوان تھا۔ ہر کسی سے دوستی تھی، گپ شپ تھی۔ اس بات سے بے پروا کہ ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ سردیوں میں شوخ رنگوں کے مغربی ڈیزائن کی نت نئی جیکٹس پینٹس، گرمیوں میں شارٹس، ٹی شرٹس، جینز پہنے بانکا بانکا پھرتا تھا۔ قدرت کی بنائی ہر چیز سے اسے لگاؤ تھا۔ طوطا، تیتر، مرغا، کبوتر، چکور سبھی اس کی زندگی میں شامل تھے۔ پھر یوں ہوا کہ فرنٹیر ریزرو پولیس میں بھرتی ہوکر ٹریننگ پہ چلا گیا۔ ٹریننگ ختم ہونے کے بعد مختلف علاقوں میں اپنے فرائض منصبی ادا کئے اور پھر بعد ازاں پولیس لائن ڈیرہ آ گیا۔ 12 دسمبر 2008ء کو شہر کی مرکزی جامع مسجد اہل تشیع المعروف مسجد یاعلی (ع) میں نماز جمعہ کے دوران ایک خودکش حملہ آور گھسا۔ اس سے قبل کہ وہ خود کو دھماکے سے اڑاتا، شہید فہیم عباس نے اسے جالیا اور اپنے مضبوط ہاتھوں سے اسے قابو میں کر لیا گرچہ فہیم عباس اس وقت وردی میں نہیں تھا۔ اس وقت وہ آن ڈیوٹی بھی نہیں تھا۔ فہیم عباس کے پاس یہ راستہ موجود تھا کہ وہ اپنی جان کی پروا کرتے ہوئے اس خودکش حملہ آور کو نظرانداز کر دیتا، اور اگر وہ ایسا کرتا بھی سہی تو بھی اس سے کوئی محکمانہ باز پرس نہیں ہونی تھی۔ مگر۔ نہیں۔ اس خودکش حملہ آور کو فہیم عباس نے زندہ پکڑ لیا۔ پاکستان میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا کہ جس میں خودکش حملہ آور اپنے ہدف پہ پہنچنے کے باوجود زندہ گرفتار ہوا ہو اور باقاعدہ طور پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہو۔ نماز جمعہ کے اجتماع میں یہ ممکنہ خودکش حملہ شہید فہیم عباس نے ناکام بنا دیا۔ خودکش حملہ آور بھیجنے والوں کے نزدیک شائد فہیم عباس کا یہ ’’جرم‘‘ ناقابل معافی تھا، اسی لیے محض 3 ماہ کے اندر یعنی 11 مارچ 2009ء کو اپنے گھر سے محض دس قدم کے فاصلے پہ فہیم عباس پر علی الصبح فائرنگ کرکے شہید کر دیا گیا۔ جس گلی میں تین ماہ قبل شہید فہیم عباس خودکش حملہ آور کو دبوچ کے کھڑا تھا، تین ماہ بعد اسی گلی میں شہید فہیم عباس کا جسد خاکی مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظام پہ سوالیہ نشان ثبت کر رہا تھا۔ جامع مسجد مسجد یاعلی (ع) سے جس خودکش حملہ آور کو شہید فہیم عباس نے زندہ پکڑ کر تھانہ سٹی پولیس کے حوالے کیا۔ درہ آدم خیل کے رہائشی شکیل احمد ولد غلام حسن نامی اس خودکش حملہ آور کا تھانہ سٹی کے ریکارڈ میں کوئی ذکر نہیں اور نہ ہی اس کی ایف آئی آر درج ہے۔ گرچہ اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے مگر بعض میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہی خودکش حملہ آور کوئٹہ میں دوبارہ پکڑا گیا اور اس بار اس کا نشانہ کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ کمیونٹی تھی۔ اس سوال کو بھی ایک طرف رکھ کر ہم آگے بڑھتے ہیں کہ وہ کون سی غیبی قوت تھی کہ جس نے ڈیرہ کے تھانہ سٹی سے اس خودکش حملہ آور کی رہائی کا بندوبست بھی کیا اور پھر اسے کوئٹہ میں ہزارہ قبیلے کو نشانہ بنانے کیلئے باحفاظت کوئٹہ بھی منتقل کیا۔؟ ڈی آئی خان جیسے حساس شہر میں کہ جہاں مخصوص مکتب سے تعلق رکھنے والے افراد کی بے رحمانہ ٹارگٹ کلنگ جاری تھی، اسی شہر میں خودکش حملہ آور کو زندہ پکڑ کر حوالہ پولیس کرنے والے کانسٹیبل فہیم عباس کے ساتھ محکمہ پولیس نے اتنی بھی ہمدردی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ اس کا تبادلہ کسی محفوظ شہر میں کر دے۔ روز شہادت بھی شہید فہیم عباس پولیس لائن ڈیرہ میں رات بھر اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے بعد گھر واپس آرہا تھا۔ فہیم عباس کے گھر سے پولیس لائن ڈیرہ کا فاصلہ تقریباً ڈیڑھ کلو میٹر ہے اور درمیان کمشنری و مسگراں بازار بھی ہے کہ جہاں بم دھماکوں کے ساتھ ساتھ ٹارگٹ کلنگ کے کئی واقعات پیش آ چکے ہیں۔ شہید فہیم عباس موٹر سائیکل کو لیکر پیدل گھر آ رہا تھا، پیدل اس لیے کیونکہ اس کی موٹر سائیکل میں پٹرول نہیں تھا۔ (پٹرول ختم ہوا یا نکالا گیا۔ واللہ عالم) ڈیڑھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے شہید فہیم عباس جب باخیر و عافیت اپنے گھر والی گلی میں داخل ہوا تو عین قاضیانوالی مسجد کے قریب پہلے سے گھات لگائے شقی القلب دہشتگرد نے پیچھے سے فائرنگ کر دی۔ سر اور گردن میں متعدد گولیاں لگنے سے یہ ہنس مکھ، کھلنڈرا، خوش مزاج، بہادر نوجوان موقع پہ ہی دم توڑ گیا۔ سوال یہ ہے کہ اہل تشیع کمیونٹی کیلئے جو مقامات خطرناک گردانے جاتے تھے، وہاں سے تو نڈر فہیم عباس بخیر و عافیت گزر آیا جبکہ عین گھر کے قریب اہلسنت مسجد کے قریب اور کالعدم سپاہ صحابہ کے ضلعی رہنما اور قتل و اقدام قتل کے کئی مقدمات کے ملزم سیف الرحمان بنگش کے گھر کی گلی کے سرے پہ بیدردی سے قتل کیا گیا۔ اس تضاد سے متعلق اہلیان علاقہ مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ قاتل اہل تشیع کمیونٹی کو براہ راست یہ پیغام دینا چاہتے تھے کہ تم ہماری دسترس میں ہو، ہم چاہیں تو تمہیں تمہارے گھروں کے دروازوں پہ بھی ٹارگٹ کر سکتے ہیں اور قاتلوں کی خوداعتمادی ملاحظہ فرمائیں، نہ تو انہیں اس بات کی پروا تھی کہ اس بھیانک جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے فہیم عباس کے کسی عزیز سے ان کی مڈبھیڑ ہو سکتی ہے۔ اس جرم کے کئی عینی شاہدین ہوں گے جو کہ عدالت میں ان کے خلاف گواہی دے سکتے ہیں، فہیم عباس کی طرح مضبوط قوت ارادی کا کوئی جوان انہیں اسی طرح پکڑ سکتا ہے کہ جس طرح خودکش حملہ آور کو پکڑ لیا تھا۔ قاتل ہر خوف سے آزاد تھا، اتنا آزاد کہ شہید فہیم عباس پہ فائرنگ کرنے کے بعد اس نے شہید کا سرکاری پسٹل بھی نکالا اور اپنے ساتھ لے گیا۔ یہ وہی پسٹل تھا کہ جو خودکش حملہ آور کو گرفتار کرنے کے بعد شہید فہیم عباس کے سیدھے ہاتھ میں تھا اور جس کو لہرا لہرا کر فہیم عباس شہریوں کو دور جانے کا کہتا تھا۔ جائے شہادت سے متعلق دوسری آراء اس سے قطعاً مختلف ہے مگر وہ بھی مفروضے پہ ہی مبنی ہے۔ شہید فہیم عباس کے قاتلوں کا پروگرام صرف ایک قتل تک محدود نہیں تھا بلکہ اس پورے علاقے کو فرقہ ورانہ فساد کی آگ میں جھونکنے کی پوری سازش تھی۔ اس گلی کی تقسیم کچھ اس طرح ہے کہ ایک ہی گلی میں تین معروف مساجد ہیں۔ دو مساجد اہلسنت والجماعت کی ہیں جب کہ ایک اہل تشیع کی ہے۔ گلی کی تقسیم کچھ اس طرح ہے کہ تقریبا نصف گلی میں تمام مکان اور دکانیں اہل تشیع کی اور باقی نصف اہل سنت والجماعت کی ہیں۔ مسلکی تفریق کا جو اختلاف پہلے محض زبان کی حد تک تھا، کالعدم سپاہ صحابہ کے ضلعی رہنما کے یہاں آکر بس جانے کے بعد یہ اختلاف کسی حد تک نفرت میں بدل چکا تھا کیونکہ ماضی میں نہایت چھوٹی چھوٹی باتوں کو مدعا بناکر نفرت کی فضا بنائی گئی تھی جسے مقامی انتظامیہ اور پولیس نے بڑھاوا دینے میں اہم کردار بھی ادا کیا تھا۔ ممکنہ طور پر شہید فہیم عباس کے قاتلوں کی منصوبہ بندی یہ تھی کہ اہل تشیع خاندان اس سانحہ کے بعد جب شہید کا جسد خاکی سنبھالنے آئیں گے تو غم و غصے میں بپھرے نوجوان اپنے جذبات کا اظہار کریں گے، جس کو جواز بناکر کالعدم تنظیم کے فسادی کوئی شرارت کریں اور نتیجے میں پورا علاقہ شیعہ سنی فساد (جس کا کمیونٹی کی سطح پہ کوئی وجود نہیں) کی آگ میں جھلس جائے۔ تاہم شکر الحمد کہ فرقہ ورانہ فساد کی آگ بھڑکانے کی یہ کوشش ناکامی سے دوچار ہوئی اور اس کی وجہ محض اس سے زیادہ اور کوئی نہیں تھی کہ اس سانحہ عظیم کو تشیع خاندانوں نے زہر کے گھونٹ کی طرح پی کر برداشت کیا اور ضبط کا کمال کر دیکھایا۔ عوام نے تو اپنے پیاروں لاشیں صبر کی مثال بنکر چوراہوں سے اٹھائیں۔ ریاستی ناانصافی اور اداروں کے جانبدرانہ کردار پہ بھی انگلی نہیں اٹھائی اور نہ ہی قانون کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔ شہید فہیم عباس کے بینر پہ بالکل درست لکھا آپ نے کہ عوام شہدائے پولیس کے لہو سے کبھی بے وفائی نہیں کریں گے۔ شکر الحمد اللہ ، عوام نہیں کریں گے ۔ مگر جناب آپ بھی تو بتائیں کہ عوام کے دل و دماغ میں موجود سوالوں کے جواب انہیں کون دے گا۔ کون ان کی تسلی و تشفی کاباعث بنے گا۔ شہید فہیم عباس کے قاتلوں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دینے کی ذمہ داری عوام کی تو نہیں ، یہ ذمہ داری کب اور کون ادا کرے گا۔ عوام تو پولیس اور سکیورٹی اداروں اور نڈر شہریوں کو اسی وقت تمغہ شجاعت سے نواز دیتے ہیں کہ جب وہ اپنی جرات و بہادری ثابت کرتے ہیں۔ جب عنایت اللہ ٹائیگر ایک ایکٹیو بم کو ناکارہ بنانے کے لیے اس میں ہاتھ ڈاالتا ہے تو آپ اسے دیں یا نہ دیں عوام اسے تمغہ شجاعت دے دیتے ہیں۔ جب شیرزمان کے جنازے میں کوئی نوجوان خودکش حملہ آور سے لپٹ جاتا ہے تو عوامی رائے میں وہ اسی وقت ہیرو قرار پاتا ہے۔ وہ تمغہ شجاعت سمیت ہر بڑے سے بڑے سویلین اعزاز کا حقدار ٹھہرتاہے۔ جب فہیم عباس کسی خودکش حملہ آور کو گرفتار کرتا ہے تو عوام میں وہ اسی دن سے جری ، نڈر اور شجاع قرار پاتا ہے۔ ہاں مگر آپ کو تمغہ شجاعت دینے کیلے اس جوان کی شہادت کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔ عوام کو نہیں۔ تو ادھر ادھر کی بات نہ کر یہ بتا قافلہ کیوں لٹا
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو
عوام نے تو پولیس سمیت کسی ادارے کے شہداء کے لہو سے کبھی بے وفائی نہیں کی مگر سوال تو یہ ہے کہ ان شہداء کے لہو سے آپ نے کتنی وفا کی۔ آپ کو تو شہید فہیم عباس کی شجاعت پرکھنے کیلئے اس کی شہادت کا انتظار کرنا پڑا، جس تمغہ شجاعت کا اعلان شہید فہیم عباس کیلئے بعد از شہادت کیا گیا، یہ اعلان اس کی زندگی میں کیا جاتا تو اس کے عوام، معاشرے اور ادارے کےدیگر اہلکاروں پہ کئی گنا زیادہ بہتر اثرات مرتب ہوتے۔ شہید فہیم عباس قتل کیس کی فائل پہ برسوں کی گرد جمی ہو گی، سرکاری دفتر میں جو ہے۔ آج گیارہ سال گزر گئے مگر شہید فہیم عباس کے قاتلوں کا سراغ پولیس نہیں لگا پائی۔ شہید فہیم عباس کے قتل کی ایف آئی آر نمبر 95 زیر دفعہ 302/404/34/7ATA تھانہ سٹی میں درج ہے۔ قاتل نامعلوم ہیں، وجہ قتل بظاہر خودکش حملہ ناکام بنانا ہے، خودکش حملہ آور نہ پولیس کی تحویل میں ہے اور نہ ہی پولیس کے کاغذات میں ہے۔
شہداء کے لیے ان تحسین و ستائش پہ مبنی بینرز بنانا، پینافلیکسز بنانا، مساجد، امام بارگاہوں اور گھروں میں ان کی یاد کی محافل منعقد کرانا یہ عوام کے کام ہیں اور شکر الحمد کہ ہر پروگرام اور تہوار پہ عوام اپنی یہ ذمہ داری بطریق احسن انجام دیتے ہیں۔ جناب آپ کا کام ان شہداء کے قاتلوں کو گرفتار کرنا، انہیں کیفر کردار تک پہنچانا ہے۔ کیا آپ نے اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے انجام دی اگر ہاں تو سوال وہی ہے کہ شہداء کے قاتل۔۔۔۔؟؟؟؟؟
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں