بے لوث خدمت 
اگلا مورچہ ۔ عمر چوہدری 


پاک فوج اپنے روایتی نعرے ” بے لوث خدمت بے خوف قیادت “ کی تعبیر بنے ایک بار پھر کورونا سے نبرد آزما ہونے کےلئے میدان عمل میں ہے امدادی سرگرمیوں میں سول انتظامیہ کا ہاتھ بٹانے کے علاوہ چیف آف دی آرمی سٹاف سمیت دیگر عہدیداروں اور جوانوں نے اپنی تنخواہ کا گرانقدر حصہ بھی ریلیف فنڈ میں دینے کا اعلان کر دیا ہے بلا شبہ پاک فوج نے ہمیشہ ایک قدم آگے بڑھ کر عوام کے اعتماد اور بھروسے کو پذیرائی بخشی ہے کورونا جیسے موذی مرض نے جہاں ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور ایسے نادر وقت میں بلند بانگ دعوﺅں کے مرتکب سیاستدان اور دانشور گھروں میں دُبکے بیٹھے ہیں لیکن پاک فوج کا سپاہی عزم و ہمت کا پیکر بنا قوم کےلئے ہمہ تن تیار کھڑا ہے جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ
” پاکستانی فوج کے جوان ہیں ہم “
جی ہاں یہ وہی پا ک فوج ہے جس نے سیلاب ،طوفان ،زلزلے جیسی ہولناک صورتحال میں اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کیا جی ہاں یہ وہی پاک فوج ہے جس نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں اپنے سینکڑو ں جوانوں اور افسروں کی قربانیاں دے کر اسے جیتا اور آج دنیا بھر میں پاک فوج کے کردار اور فرض شناسی کی مثالیں دی جا تی ہیں یہ ہماری پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے جس نے بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑا دیے ۔اللہ پاک نے ان کی قربانیوں اور بے مثال کوششوں سے انہیں کامیابی سے سرفراز کیا ہے ۔
کدھر ہیں وہ گھٹیا سوچ کے دانشور جن کا ہمیشہ سے کہنا تھا کہ فوج کا کام سرحدوں پر ہے تو جناب دیکھئے اپنی کھڈوں سے نکل کر اور کورونا سے متاثرہ لوگوں کی مدد کو آئیے ۔گزشتہ دنوں ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے اپنی پریس کانفرنس میں اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ کورونا کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کےلئے مسلح افواج پوری طرح تیار ہیں اور انسانی خدمت کےلئے افوا ج پاکستان کے ڈاکٹرز ،نرسز اور پیرا میڈیکل سٹاف اپنے اعلیٰ حکام کے اشارے کے منتظر ہیں جونہی حکم ملا ہم میدان عمل میں ہونگے ،ایکسپو سنٹر کراچی میں کورونا سے متاثرہ افراد کی نگرانی ،علاج معالجے اور دیگر سہولیات کے ساتھ افواج پاکستان ابتدائی طور پر میدان میں اتری لیکن وہ دانشور جو رنگ برنگی نکٹائی لگا کر ٹی وی شوز میں بیٹھے بھاشن دے رہے ہوتے ہیں انہیں اتنی بھی توفیق نہیں ہوئی کہ اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ایک ویڈیو پیغام تک ہی جاری کر دیں ایسے نام نہاد گھٹیا دانشوروں کو ڈوب مرنا چاہیے ۔
کورونا وائرس کی دہشت نے دنیا بھر کو خوف زدہ کر رکھا ہے اور ہر ملک اپنے اپنے وسائل سے اس جنگ سے نبرد آزما ہے ایسے میں افواج پاکستان ،اہلیان پاکستان کی حفاظت اور ذمہ داری کےلئے بیرکوں سے نکل کر میدان عمل میں ہے ابھی تک کی ڈویلپمنٹ کے مطابق ملک بھر میں نظم و نسق اور شہریوں کی غیر ضروری آمدو رفت کو کنٹرول کرنے کےلئے مسلح افواج تعینات کر دی گئی ہے یہ کسی بھی طرح کرفیو نہیں ہے خالصتاً شہریوں کی حفاظت اور کورونا کی روک تھام کےلئے حفاظتی اقدامات ہیں شہریوں کا فرض ہے کہ وہ مسلح افواج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دست راست بنیں اور سرکاری احکامات کی پیروی کریں ۔بلا شبہ یہ سب کچھ ان کے اپنے اور ان کے خاندان کے تحفظ کےلئے کیا جا رہا ہے۔
 سیاستدانوں پر نظر دوڑائیں تو پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اپنے سیاسی کیریئر کی شاندار پریس کانفرنس کر کے اہل وطن کے دل جیت لیے ہیں انہوں نے برملا اعلان کیا کہ سیاست کا وقت نہیں ہے سیاست پھر کریں گے فی الحال ہمیں اس موذی وائرس کا مقابلہ کرنا ہے انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی کر سکتے ہیں اور ہمیں کرنا ہو گا ۔انہوں نے وفاقی حکومت کو اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں مشکلات آ سکتی ہیں تا ہم ہم ایک قدم آگے بڑھ کر نکلنے کو تیار ہیں ،انہوں نے پی پی پی کے ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کو ہدایت کی کہ جس طرح الیکشن کے دنوں میں اپنے لئے ووٹ اکٹھے کرتے ہیں بالکل اسی جذبے اور خلوص سے اپنے حلقے میں عوام کو کورونا سے متعلق آگاہی دیں تا کہ اہل وطن کو مشکلات سے بچایا جاسکے ۔
مشکل حالات میں جاندار فیصلے اور اقدامات کا عزم لیے پاک آرمی شہریوں کی جان و مال اور تحفظ کےلئے ایک نئے مورچے میں تعینات ہے اور یقینا کمانڈروں کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور احکامات سے قوم کے شانہ بشانہ مشکل حالات سے نکالنے میں ممدو ثابت ہو گی ،ہمارا ہمیشہ استدلال رہا ہے کہ اگلے مورچے میں تعینات سپاہی دشمن کی آنکھیں نکالنے کو تیار بیٹھے ہیں لیکن اس بار کورونا جیسی ہولناک صورتحال سے نمٹنے کےلئے افواج پاکستان دیگر قانون نافذ کرنےوالے اداروں کےساتھ ملکر قوم کے شانہ بشانہ تیار کھڑی ہے ۔
 اللہ پاک ہماری افواج کا حامی و ناصر ہو ۔آمین