مولانا فضل الرحمان کی حیات و خدمات

پاکستان کی سیاست کا ایک بڑا نام مولانا فضل الرحمان  کاہے،آپ نے  ہمیشہ عقب ماندہ طبقات کے حقوق کیلئے جدوجہد کی ہے۔ آپ نے ان لوگوں کو ان کے حقوق دلائے ہیں جنہیں اپنے  حقوق کا شعور ہی نہیں تھا۔ آپ کو  انسانی ہمدردی اور سیاسی جدوجہد کا یہ جذبہ  اپنے والد ماجد مولانا مفتی محمود  سے ورثے میں ملا ہے۔

آپ  جمعیت علماء اسلام (ف) گروپ کے مرکزی امیر اور اسی جماعت کے سابق سربراہ اور صوبہ خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ مولانا مفتی محمود کے صاحبزادے ہیں۔ فضل الرحمٰن 19 جون، 1953ء کو ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے عبدالخیل میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے  اپنی ابتدائی تعلیم ایک مقامی دینی مدرسے میں حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے جامعہ پشاور سے 1983ء میں اسلامک اسٹڈیز میں بی۔ اے کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ اس کے بعد وہ مصر کے جامعہ الاظہرمیں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے گئے اور وہاں سے ایم۔ اے کا امتحان پاس کیا۔ وہاں انہوں نے مذہبی علم ذات میں تعلیم حاصل کی اور اسی صنف میں تحقیق کی -انہوں نے الاظہر یونیورسٹی سی ایم۔ اے کی سند حاصل کی۔ پاکستان واپسی پر انہوں نے 1988ء کے عام انتخابات میں حصہ لیا۔ انہوں نے 1988ء کے انتخابات جمعیت علما اسلام (ف) کے پلیٹ فارم سے لڑے تھے جو ایک اسلامی بنیاد رکھنے والی پارٹی ہے۔

اپنے والد مفتی محمود کی وفات کے بعد 27 سال کی عمر میں 1980 میں جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل کے طور پر اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا جو اپنی موت سے قبل جمعیت علمائے اسلام کے رہنما تھے۔ جمعیت علمائے اسلام بعد میں سن 1980 کی دہائی کے وسط میں فاضل کے زیرقیادت مرکزی دھڑا جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ساتھ دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ فضل الرحمٰن 1988 میں ہونے والے پاکستانی عمومی انتخابات میں پہلی بار ڈی آئی خان کی نشست سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

آپ نے اپنے سیاسی کیرئیر میں شدت پسندی اور فرقہ واریت کو کم کرنے میں بھی بہت کلیدی کردار ادا کیا اور یہی وجہ ہے کہ شیعہ و سنی سب  مسلمان  اور سیاستدان  آپ کو عزت و احترام  کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

المختصر یہ کہ آپ کی ساری زندگی سیاست، حرکت اور جدوجہد سے عبارت ہے۔