عصرِ حاضر کا صلاح الدین ایوبی - سچ ٹائمز

ہمارے بابا

رائے محمد یوسف رضا دھنیالہ

 آج ہمارے والد گرامی مجاہد اہلسنت حضرت علامہ مولانا حافظ محمد اسلم چشتی رحمتہ اللہ علیہ  کی رحلت کو بارہ سال مکمل ہو گئے ہیں! آپ پاکستان بننے سے سات سال پہلے، برطانوی ہند میں، صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات کے گاؤں "کرنانہ" میں پیدا ہوئے، اور بارہ سال پہلے آج کے دن یعنی 26 اگست 2007ء (12 شعبان) کو موضع دھنیالہ، ضلع جہلم، پنجاب، پاکستان میں روڈ ایکسیڈنٹ کی وجہ سے بعد از نماز مغرب انتقال فرما گئے،  اور دھنیالہ میں ہی مدفون ہوئے، جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری تیس سال گزارے تھے۔
 آپ ایک نامور عالم دین، حافظ قرآن، امام، خطیب، استاد،  اور گورنمنٹ آرڈیننس پبلک ہائی سکول کالا ڈپو (چک جمال) میں عربی ٹیچر تھے!  دھنیالہ آنے سے قبل آپ نے سات، آٹھ سال میرپور، آزاد کشمیر میں امامت و خلافت، تدریس اور دین کی خدمات سر انجام دیں!  آپ طبعاً ایک درویش منش، صوفیانہ طرزِ زندگی کے حامل، متقی، پرہیزگار اور باکردار مسلمان تھے!  لیکن جب معاملہ حق سچ، معرکہء حق و باطل، دین اسلام، حرمتِ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم یا اصولوں کی بات ہوتی تو پھر آپ سے زیادہ جرأت مند، بہادر، نڈر اور مجاہد کوئی نہ تھا!  ظالم حکمران کے سامنے کلمہء حق کہنے کی جرأت اور ان کے کردار کی بلندی ہی تھی کہ جس کی وجہ سے ان کو مجاہد اہلسنت کے نام سے جانا، پکارا جاتا تھا۔
 شاعر مشرق حکیم الامت حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللّٰہ علیہ کے اس شعر کی وہ عملی تفسیر تھے کہ "ہو حلقہء یاراں تو بریشم کی طرح نرم،  رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن"  وہ صحیح معنوں میں مجاہد اسلام اور ایک سچے عاشق رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم تھے۔
 ان کی ساری زندگی دین اسلام کی سربلندی اور پاکستان اور مسلمانوں کی ترجمانی میں گذری، آزاد کشمیر میں پہلے پہل آپ ہی نے جماعت اہلسنت، انجمن طلباء اسلام (ATI)، جمعیت علماء جموں و کشمیر، میلاد کمیٹی، اور مدرسہ حنفیہ رضویہ کی بنیاد رکھی، پھر 1977ء میں آپ میرپور، آزاد کشمیر سے ضلع جہلم کے گاؤں دھنیالہ میں منتقل ہوگئے، اور اپنی بقایا زندگی کے بہت متحرک تیس سال یہاں پہ ہی گذار کر اپنی وصیت کے مطابق دھنیالہ میں ہی مدفون ہوئے، علاقہ دھنیالہ و ضلع جہلم کا تاریخ ساز جنازہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا ہی تھا، دھنیالہ و ضلع جہلم میں بھی آپ نے جماعت اہلسنت، جمعیت علماء پاکستان، انجمن طلباء اسلام، سنی فورس، میلاد کمیٹی، انجمن اساتذہ پاکستان، انجمن عربی اساتذہ اور متحدہ مجلس عمل کو قائم، منظم اور فعال رکھنے میں اپنی ساری زندگی لگا دی تھی۔ آپ ایک منجھے ہوئے، متحرک تنظیمی آدمی تھے، کسی قسم کا لالچ، ذاتی مفاد، حرص اور دنیاوی فائدے کا عنصر ان میں موجود نہ تھا!
 ساری زندگی بے لوث اسلام، پاکستان اور عوام کی خدمت کی، علاقہ دھنیالہ و ضلع جہلم میں ہر قسم کے اجتماعی اور فلاحی کاموں کی طرح اور بنیاد انہوں نے ڈالی، سیلاب، زلزلہ یا ملک پاکستان میں کسی بھی قسم کے کوئی ہنگامی حالات اور مدد، امداد کا مرحلہ آیا تو آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے علاقہ دھنیالہ و ضلع بھر کے عوام نقدی رقوم اور امدادی سامان اس قدر جمع کروا دیتے کہ جس سے ہزاروں لوگوں کو ریلیف فراہم کیا جاتا، اپنے گاؤں دھنیالہ میں بھی انہوں نے بے شمار رفاہی خدمات انجام دیں، جن کی آج بھی لوگ گواہی دیتے ہیں۔ میرپور، آزاد کشمیر اور ضلع جہلم میں آپ کے ہزاروں شاگرد اور لاکھوں معتقد موجود تھے،  اور وہ بچے جو آپ کی رحلت کے بعد پروان چڑھے یا جن لوگوں نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو دیکھا نہیں تھا، وہ بھی مجاہد اہلسنت حضرت علامہ مولانا حافظ محمد اسلم چشتی رحمتہ اللہ علیہ کے نام اور کردار سے اسی طرح آگاہ اور معترف ہیں جس طرح ان کے شاگرد اور مقتدی حضرات۔
 آپ نہ صرف خود ایک تنظیمی اور انقلابی آدمی تھے بلکہ ریاست آزاد کشمیر اور ملک پاکستان میں آپ نے ہزاروں ایسے ورکر پیدا کئے جو آپ رحمتہ اللہ علیہ کی تربیت کی وجہ سے معاشرے کے مفید شہری اور دوسروں کی راہبری کا سبب بنے، حق اور سچ کی خاطر آپ نے جیلیں بھی کاٹیں، اور انتظامیہ کی طرف سے ضلع بدر بھی ہوتے رہے لیکن دنیا کی کوئی طاقت اور کوئی بھی خوف ان کو اسلام، پاکستان اور خدمت عوام کے ان کے مشن سے دور نہ کر سکا، دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمارے والد گرامی رحمتہ اللہ علیہ کی اسلام، پاکستان اور عوام کے لئے دی گئی خدمات کو قبول فرما کر ان کے درجات کو بلند فرمائے!
 دعا گو!صاحبزادگان حافظ محمد اسلم چشتی رحمتہ اللہ علیہ:
۱۔رائے محمد یوسف رضا دھنیالہ
۲۔حافظ محمد یعقوب داتار
۳۔حافظ محمد ایوب 
دھنیالہ،جہلم۔پنجاب۔پاکستان۔

 

 


افکار و نظریات: ہمارے بابا