۲۴ نکا ت ہر سُنی و شیعہ کیلئے

یہ ۲۴ نکا ت ہر سُنی اور شیعہ مسلمان کو جاننے چاہیے، ان کاصرف جاننا کافی نہیں ہے بلکہ دوسروں تک بھی پہنچائیں، سازشی عناصر سے خود بھی بچیں اور اپنے عزیزواقارب کو بھی محفوظ رکھیں۔

۱۔مرزائیوں اور خوارج کی طرح مولوی منظور اینڈ کمپنی کے عقائد میں حضورِ اکرم ﷺ کے نیز صحابہ کرامؓ اور اولیاءِ کرام ؒ کے مقدس مزارات نعوذباللہ شرک کے مراکز ہیں لہذا تمام مزارات کو منہدم کرنا واجب ہے۔ اس سلسلے میں حضرت حجر بن عدی ؓ کے مزار سے لے کربری امام ، عبداللہ شاہ غازی اور داتا دربار سے لے کر جنّت البقیع تک یہ اپنی مذموم کاروائیاں کرچکے ہیں۔

۲۔مرزائیوں اور خوارج کی طرح ان لوگوں کے نزدیک بھی سنّی اور شیعہ دونوں ہی کافر اور مشرک ہیں اور دونوں کا خون بہانا جنّت میں جانے کا باعث ہے۔ وہابیوں اور دیوبندیوں کے وہی عقائد ہیں جو مرزائیوں کے ہیں، یہ اپنے علاوہ باقی سب کو کافر سمجھتے ہیں حتی کہ سر ظفراللہ نے بھی قائداعظم کا جنازہ تک نہیں پڑھا۔

۳۔ مرزائیوں اور خوارج کی طرح ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لئے فاتحہ پڑھنا بھی شرک اور کفر ہے۔

۴۔ مرزائیوں اور خوارج کی طرح ختمِ نبوّت کی توہین ان کا بھی مسّلمہ عقیدہ ہے۔ ان کے مطابق حضرت محمد رسول اللہﷺ بھی ہماری طرح کے معاذاللہ گندے و نجس انسان ہیں اور ان کے نزدیک جو شخص ان کی فضیلت کا قائل ہے وہ بھی مشرک اور کافر ہے۔

۵۔ ان کا مسلمہ عقیدہ ہے کہ نعوذباللہ نبی اکرم کے والدین گرامی کافر اور مشرک تھے ۔۔۔یہ نبی ص کے والدین کو کافر و مشرک جیسی گالیاں دیتے ہیں اور یہ ان کی کتابوں، تقریروں و فتاوی میں موجود ہے۔

۶۔ مرزائیوں اور خوارج کی طرح یہ اپنی رائے اور اپنے اکابرین کو نعوذباللہ حضور اکرمﷺ ، ان کے اصحاب اور دیگر سارے عالمِ اسلام کی رائے سے مقدم، افضل خیال کرتے ہیں۔

۷۔ مرزائیوں کی طرح ان میں پاکستان سے کسی قسم کی وفاداری نہیں۔ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باسیوں سے فطری طور پر کینہ اور بغض رکھتے ہیں اور انہیں پاکستان کا امن و امان ایک آنکھ نہیں بھاتا۔پاکستانی فوجیوں کے گلے کاٹنے سے لے کر خود کش حملوں تک سب کچھ باقاعدہ منصوبہ بندی سے کرتے ہیں۔

۸۔ مرزائیوں اور خوارج کی مانند یہ اللہ ہی اللہ اور اسلام ہی اسلام جیسی چکنی چپڑی باتیں کرکے مسلمانوں کی غفلت سے فائدہ اٹھاکر خالی پلاٹوں پر مسجد یا مدرسے کے نام پر قبضہ جمانا اور حسبِ موقع لوگوں کی تعمیر کردہ مساجد پر قبضہ کر لینا ان کی سیاست کا حصّہ ہے۔

۹۔مرزائیوں کی مانند ان کے ہاں اولیاء کرام کی کرامات بدعات اور خرافات ہیں جبکہ اپنے اکابرین کے ہاتھوں سے معجزات رونما ہونے کے واقعات بڑھا چڑھا کر شوق سے سناتے ہین۔

۱۰۔ مرزائیوں اور خوارج کی طرح صرف یہ خودمسلمان ہیں،ان کے سوا باقی سب گمراہ ہیں۔ اس لئے یہ جسے چاہیں قتل کردیں،یہ مجاہدین اسلام ہیں اور انہیں حق ہے کہ یہ دیگر لوگوں کا قتلِ عام کریں۔

۱۱۔ مرزائیوں اور خوارج کی طرح خود کو مسلمانوں کی صفوں میں گھسانے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر عالمِ اسلام کو فریب دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

۱۲۔ ان کے فتووں اور سوچ کے مطابق "پاکستان ،کافرستان ،پاک فوج ناپاک فوج ہےاورقائداعظم ،کافرِ اعظم ہیں۔

۱۳۔ خوارج کی طرح مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریّت کو بھڑکاکر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا ان کا معمول ہے۔جیساکہ ایک طرف تو انہوں نے "تحفظ ناموس صحابہ" کا ڈھونگ رچاکرسادہ لوح مسلمانوں کو مشتعل کیا اور دوسری طرف جنّت البقیع میں صحابہ کرام کے مزرات کو مکمل طور پر منہدم کردیا۔

۱۴۔یہ مرزائیوں کی ماننددنیا کے ہر کونے اور ہر گوشے میں ہر اس شخص ،تنظیم اور تحریک کے خلاف ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ہے اور ہر اس ٹولے کے ساتھ ہیں جو امریکہ اور اسرائیل کا حامی ہے۔

یہ حماس سمیت فلسطینی عوام کے خلاف ہیں اور اسرائیل کے ظالم حکمرانوں کےساتھ ہیں۔اسی طرح افغانستان کی عوامی آواز کے خلاف ہیں جبکہ شدّت پسند ٹولوں کے ساتھ ہیں۔

۱۵۔یہ پیغمبر اسلام صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کے قطعاً منکر ہیں،ان کا عقیدہ ہے کہ سرکارِ دوعالم کسی کی شفاعت نہیں کرسکتے جبکہ دنیا اسلام کے مایہ ناز محقق علامہ طاہرالقادری کی تحقیق کے مطابق"شفاعت کے وجود کا مطلقاً انکار صریح کفر ہے" نیز ان کا یہ بھی کہناہے کہ شفاعت کامنکر مسلمات دین کا منکر ہے۔

۱۶۔ خلافت عثمانیہ یعنی جب اسلامی دنیامیں ترکوں نے فقہ حنفی کے تحت جو سلطنت عثمانیہ قائم کر رکھی تھی اورخلافت عثمانیہ سامراج کی آنکھوں میں کانٹابن کر کھٹک رہی تھی تو ایسے میں مولوی منظور مینگل کے ٹولے نے خلافتِ عثمانیہ سےغداری کی اورخلافت پرکاری ضرب لگائی ۔

۱۷۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح مولوی منظور مینگل اینڈ کمپنی بھی اسلام کا لیبل لگاکر سانحہ اے پی ایس کی مانند عالم اسلام کے دلوں میں خنجر گھونپ رہے ہیں۔

۱۸۔عراق میں جب تک صدام رہا یہ اس کی ناک کے بال بنے رہے۔صدام کی آمریّت کے خلاف انہوں نے کبھی اعلان جہاد نہیں کیا اور جب عوام نے سیاسی فعالیّت شروع کی تویہ عوام کے خلاف میدان میں اتر آئے۔

۱۹۔لیبیامیں قذافی جیسا آمرایک لمبے عرصے تک برسرِ اقتدار رہا ،اس کی آمریّت کو یہ خلافت اسلامیہ کہتے رہے ،ان کے مفتیوں نے کبھی قذافی کی آمریّت کے خلاف طبلِ جہاد نہیں بجایا لیکن جب وہاں کی عوام اپنے حقوق کے لئے اٹھی تو انہوں نے قذافی کی مدد کے لئےکمر کس لی۔

۲۰۔مصر میں کتنے ہی عرصے سے حسن مبارک جیسا مکروہ ڈکٹیٹر برسرِ اقتدار رہالیکن انہوں نے کبھی اس کے خلاف اعلانِ جہاد نہیں کیا لیکن جب وہاں کی مسلمان عوام ڈکٹیٹر کے خلاف اٹھی تو یہ میدان میں اتر آئے۔

۲۱۔تونس کے مسلمان کتنی ہی مظلومیّت کے دور سے گزرے لیکن کبھی انہوں نے اپنی زبان پر تونس کے ڈکٹیٹر کے خلاف جہاد کا لفظ نہیں لایا۔

۲۲۔افغانستان میں ان کی قائم کردہ طالبانی آمریّت اپنا مطلب پورا ہونے کے بعد اب کشمیر کی بات نہیں کرتے۔ اب ان کی امارت اسلامیہ کو جہاد کشمیر بالکل بھول گیا ہے۔ اب آئے روز پاکستان کی باڑھ کاٹنے اور خودکش حملوں میں مصروف رہتے ہیں۔

۲۳۔ایران میں جب تک شہنشاہِ ایران برسرِ اقتدار رہا انہوں نے کبھی اس کے خلاف اعلان جہاد نہیں کیا لیکن جب وہاں اسلامی انقلاب آیا تو انہوں نےبانی انقلاب کے خلاف کفر کے فتوی بھی دیے اور اسلامی انقلاب کو ناکام کرنے کے لئے امریکہ اور اسرائیل کی کھل کر مدد کی اور آج تک کررہے ہیں۔

۲۴۔چلیں اب شام اور سعودی عرب کا ذکر کرتے ہیں،یہ نام نہاد مجاہدین شام کے شاہی خاندان کے خلاف ہیں اور سعودی عرب کے شاہی خاندان کی محبت ان کی توحیدمیں شامل ہے۔ شام کے شاہی خاندان سے ان کی دشمنی کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کا شاہی خاندان اسرائیل اور امریکہ کا کٹر دشمن ہےلیکن چونکہ سعودی عرب کا شاہی خاندان امریکہ ،اسرائیل اور برطانیہ کا مکمل طور پر ہم نوالہ و ہم پیالہ ہے اس لئےسعودی شاہی خاندان کی محبّت ان کے نزدیک عین توحید پرستی اور خالص ایمان ہے۔

یہ تحریر سوچنے سمجھنے، تحقیق کرنے والوں اور عقل و شعور والوں کیلئے ہے۔

یوں تو دنیا میں بہت سارے بدبخت لوگ ہمارے نبی ؐ کی شان میں گستاخیاں وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں لیکن وہ نبیؐ کی ذات سے آگے نہیں بڑھتے۔

دنیا میں صرف مولوی منظور مینگل اور ان کا گروہ ایسا ہے جو ہمارے نبی ؐ کے والدین کی شان میں بھی گستاخی کرتا ہے اور نبی ؐ کی ذات سے تجاوز کرکے اُن کے عظیم والدین کو کافر اور مشرک جیسی گالیاں دیتا ہے ۔

نعوذباللہ اسی طرح یہ گروہ اولیائے کرام اورسارے مسلمانوں کو بھی کافر و مشرک کہتا ہے۔

منظور مینگل اینڈ کمپنی کی اصل پوری حقیقت کو جاننے کیلئے کلک کیجئے


افکار و نظریات: https, www, uplooder, net