یہ اہل  کلیسا  کا  نظامِ تعلیم

 مقدّر عباس

باپ زندگی کی آخری گھڑیاں گزار رہا تھا۔ اپنے چھوٹے بچوں پر مایوسی سے لبریز نگاہ ڈالی ۔ قریب بیٹھے عزیز سے  کہا! میرے عزیز میں جلد سفر ابدی کی طرف کوچ کر جاؤں گا۔ نہیں معلوم میرے بعد میرے نو نہالوں پر کیابیتے گی۔ تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ انہیں کنڈ(پشت) نہ کرنا یعنی ان کا خیال رکھنا۔باپ اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔غم تازہ،احساس یتیمی کا ابتدائی ایام میں بہت خیال رکھا گیا لیکن زمانہ بیتنے کے ساتھ ساتھ اس عزیز نے وصیت پرکچھ اس طرح عمل کیا کہ ان یتیموں کی جائیداد کو ہتھیانے لگا۔لیکن جب  بھی  بچوں سے ملتا ان کے بوسے لیتا اور انہیں پشت  تک نہ کرتا تھا۔سوال یہاں پر یہ اٹھتا ہے کہ آیا اس نے طبقِ وصیت عمل کیا  یا نہیں؟

تو جواب ظاہراً یہی ملے گا کہ جو باپ کی حسرت تھی۔ وہ حسرت ہی رہی اور حرص و طمع و دنیا پرستی نے احساس کے رشتے کوکچل کر رکھ دیا۔اگر ہم تھوڑا غور کریں تو یہی نظر آئے گا کہ قرآن کےساتھ بھی ہم نے ایساہی سلوک کیا۔ ظاہراً  بوسے بھی لیے،پشت بھی نہیں کی لیکن مانی ایک بھی نہیں۔نظری طور پر ہم مانتے ہیں، لیکن عملی طور پر ہماری زندگیوں میں اس کا فقدان پایا جاتا ہے۔ہمارا دعویٰ ہے کہ قرآن میں ہر خشک و تر موجود ہےلیکن عملی طور پر جب نظام بنانے کی بات آتی ہے تو سب نظام سامنے ہوتے ہیں سوائے قرآنی نظام کے۔دنیا کے لئے دوسروں کے نظام اور قبر کے لئے قرآن۔۔
پاکستان ایک اسلامی   سرزمین ہے ۔اور اس کے باسیوں کا نعرہ ہے ’’لاالہ الااللہ‘‘۔جس مو ضوع کی طرف اشارہ کرنا چاہ رہا ہوں ،اس کی تائید  ہر با شعور فرد ،فطرت ،آئین و دین   نے کی ہے ۔جو صرف نظریہ نہیں ہے بلکہ عملی بھی ہے۔زبان کسی بھی قوم کے احساسات وجذبات ،فرہنگ و ثقافت،تاریخ اور فلاسفی کی حامل ہوتی ہے۔یعنی زبان محفوظ ہے تو یہ سب کچھ ہے ،اور اگر زبان ایک قوم سے نکل گئی تو گویا یہ سب کھو گیا۔زبان ایک آئینہ ہوتی ہے۔یہ  زبان ہی ہے جو بتاتی ہے  کہ  ایک قوم، دنیا کو کس نگاہ سے دیکھتی اور سوچتی ہے۔؟المختصر اقدار کی جلوہ گری  کا دوسرا نام زبان ہے۔

زبان ذریعہ تعلیم
دنیا کے مہم ترین نظاموں میں سے ایک’’ نظام تعلیم ‘‘ ہے۔جس طرح کسی بھی ہدف تک پہنچنا ہو تو اس کیلئے وسیلہ کلیدی کردار ادا کرتا  ہے ۔اگر وہ وسیلہ ہی دستیاب نہ ہو تو انسان اپنے ہدف تک نہیں پہنچ پاتا۔مثال کے طور مسافر نے منزلِ مقصود تک پہنچنا ہے۔عقل مندی اسی میں ہے کہ ایسے ذریعے کا انتخاب کرے ، جو اس کی پہنچ میں بھی  ہو اور اس کو ہدف تک پہنچا بھی دے۔اسی طرح تعلیم کے بنیادی اہداف تک رسائی کیلئے جو چیز اہم کردار ادا کرتی ہے وہ زبان ہے۔ہر معاشرے کے لیے اسکی زبان ہی بہترین ذریعہ تعلیم ہو سکتی ہے اور اللہ تعالی  نے قرآن مجیدمیں ارشاد فرمایا ہے۔
’’ہم نے ہر نبی کو اس کی قومی زبان میں بھیجا ہے تاکہ ان کے سامنے وضاحت سے بیان کر دے۔ اللہ جسے چاہےگمراہ کر دے۔ اور جسے چاہے راہ دکھا دے۔وہ غلبہ اور حکمت والا ہے”۔( سورہ ابراہیم آیت 4  )یعنی قرآن مجید ہمیں اس مسئلے میں بھی راہنمائی فرما رہا ہےکہ ہر نبی اُسی قوم کی  زبان میں بھیجا گیا ہے۔ انبیاء اکرام نے اپنا دعوتی اور انقلابی مشن اپنی قوم کی زبان میں ہی پیش کیا ۔اسلام دین فطرت ہے ۔ تعلیم کے لئے اسلام نے فطری طریقوں کو پسند فرمایا ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ اگریہ مشن غیر مانوس اور اجنبی زبان میں پیش کیا جاتا تب ایک بڑی تعداد اس پیغام کو سمجھنے سے قاصر رہتی۔ اگر ہم اس نظریے کو دنیا میں دیکھیں تو ہر قوم نے اپنی ہی زبان میں ترقی کی ہے۔ چین ،  جاپان،روس،فرانس،امریکہ،برطانیہ، اسرائیل اور دنیا میں تعلیم کے میدان میں سب سے اگلی صفوں میں میں کھڑا ہونے والا فن لینڈ  سب نے  اپنی ہی زبان میں ترقی کی ہے۔
ہم برِّصغیر پاک و ہند کے باسی ہی اس معرفتِ کامل کا ادراک کر چکے ہیں کہ نہیں ہم زیادہ باصلاحیت ہیں جو اس فطرتی اصول سے ہٹ کر ترقی کرنا چاہتے ہیں ۔اگر ہم اسں تلخ حقیقت کے پس منظر کا سفر کریں تو ایسٹ انڈیا کمپنی کے میدان میں لارڈ میکالے اور ووڈذ ڈسپیچ)مراسلہ( نے جو ہمارے ساتھ کھیل کھیلا۔ ہمیں اپنی اصلیت سے ہٹا کر ایسے رستے پر لگایا کہ ساری زندگی انہیں کےغلام بن کر رہیں ۔ ہمیں یہ ضرب المثل  بھی تاریخ میں لکھی ہوئی نظر آئی کہ’’ پڑھو فارسی بیچو تیل” یعنی نوکری چاہیے تو انگریزی پڑھو  ورنہ فارغ رہویعنی اس سے پہلے تعلیم عبادت کے طور پر حاصل کی جاتی تھی لیکن ایسٹ انڈیا کمپنی اور کچھ اپنے مہربانوں کی مہربانی کہ تعلیم برائے کمائی۔بقول علامہ اقبالؒ   :قبض کی روح تیری ،دے کے تجھے فکرِ معاش‘‘ ۔ہم اس بچے کی مانند ہیں ۔جس کے منہ سے ماں کا دودھ چھین کر فیڈر تھما دیا جاتا ہے اور مزے لے لے کر پی رہا ہوتا ہے۔  اس بیچارے کو نہیں معلوم کہ اس سے حقیقت کو چھین لیا گیا ہے ۔اس مسافر کی طرح کہ جس کی گاڑی کا راستہ ہی تبدیل کر دیا جاتا ہے ۔مسافر جھوم جھوم کر سفر کا لطف اٹھا رہا ہوتا ہے۔ اسے نہیں معلوم کہ اس نے جانا مشرق کی طرف تھا مگر گاڑی اسے مغرب کی طرف لےکر جارہی ہے۔’’متاع کارواں بھی گیا اور احساس زیاں بھی نہ رہا۔‘‘
میکالے نے یہ نہیں کہا کہ علاّمہ اقبالؒ کو نہ پڑھو بلکہ وہ وسیلہ ہی تبدیل کر دیا کہ جس کے ذریعے سے ہم اقبالؒ سے وابستہ تھے۔ اب اولاد باپ کی قبر پرصرف فاتحہ پڑھنے جاتی ہے۔ اتنی بے بس ہے کہ باپ کی قبر پرلکھے کتبے یا اس کی وصیت کو پڑھنے سے بھی عاجز۔ 
میں دیگر زبانوں کے سیکھنے یا بولنے کا بالکل بھی منکر نہیں ہوں لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہوں گا کہ جتنی زبانیں سیکھ لیں اپنی زبان کو ترک نہ کریں ۔ قومیں آپکو گونگا کہیں گی کیونکہ زبان آپکی فرہنگ ، تہذیب وتمدن اور تاریخ کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ جو قوم اپنے ماضی کو بھول جائے اس کا حال و استقبال دگرگوں ہوتا ہے۔بالکل اس اولاد کی طرح کہ جن کے آباؤاجداد سے لٹیرے مال و متاع چھین کر لے گئے ۔ خوبصورت محل تعمیر کیے اور وہی اولاد جب گزرتے ہوئے لٹیروں کے محلات کو دیکھتی تو۔۔۔ واہ! واہ !کیا عالی شان تعمیرات ہیں حالانکہ بیچاروں کو نہیں پتہ کہ انہیں کا  لوٹا ہوا  مال ہے۔ اس کا سبب وہ وصیت تھی جس میں باپ نے اپنے دوستوں اور دشمنوں کا ذکر کیا تھا مگر اولاد کیونکہ اپنے باپ کی زبان سے ناآشنا تھی۔ اِس لیے دوست و دشمن کو نہ پہچان سکی۔  ) یوں سمجھئے کہ اس داستان میں باپ علامہ اقبالؒہیں اور اولاد ہم (
راہِ حل کیا ہے۔؟
اگر انگریزوں کی تقلید کا اتنا ہی جنون ہے تو ہم ان کی اس معاملے میں تقلید کیوں نہیں کرتے ۔ جب مسلمان علمی دنیا پر مسلط تھے۔انہوں نے ہمارے آباؤ اجداد کے علمی ورثے کو اپنی زبانوں میں ڈھالا ۔ پوری قوم کو نہیں کہا کہ سب عربی،فارسی پڑھو! بلکہ ایک گروہ کو اس کام کیلئے مختص کیا کہ وہ ترجمہ کریں اور پوری قوم اس سے اپنی زبان میں ہی استفادہ کرے۔ انہوں نے بھی اگر ترقی کی ہے تو اپنی ہی زبان میں۔۔ہمارے وزیراعظم صاحب نے اپنی حکومت کے ابتدائی دنوں میں جب گورنر ہاؤس کے  ایک حصے کو یہ کہہ کر گرانے کا کہا! ’’یہ غلامی کے آثار ہیں‘‘ تو ذہن میں یہ بات آئی کہ خداوندِمتعال ان کو توفیق دے ۔ہمارے حکمران غلامی کی ہر تصویر کو گرائیں ۔جن میں سب سے اولین ہمارا نظام تعلیم ہے ۔ جس میں ہم آزاد ہونے کے باوجود بھی غلام ہیں۔زبان، ہمارے قومی ورثے کی واحد محافظ ہے۔ اگر ایک قوم غلام بن جاتی ہے تو جب تک وہ اپنی زبان کو محفوظ رکھے، اس کے پاس وہ چابی رہتی ہے جس سے وہ اپنے قید خانے کا دروازہ کھول سکتی ہے‘‘۔
مختلف علوم (سائنسی،تکنیکی،فنی اور دیگر فنونِ لطیفہ(فائن آرٹس)کے تصوراتی فہم اورمعلومات کی ترسیل میں مادری زبان سب سے بہتر اور موثر وسیلہ ہوتی ہے۔مادری زبان اپنے پہلومیں تمام عصری علوم کے نفس مضمون اور تصورات کو بغیر کسی اصطلاح کے سمجھنے ،سمجھانے اور ترسیل و ابلاغ کی گنجائش رکھتی ہے۔ مادری زبان کی اہمیت و افادیت کو سابق سوویت یونین کی ریاست داغستان کا شاعر’’ رسول حمزہ توف‘‘ یوں بیان کرتا ہے؛ ’’میرے نزدیک زبانیں، آسمان پر بکھرے ہوئے ستاروں کیطرح ہیں اور میں یہ نہیں کہوں گا کہ تمام ستارے ایک دوسرے میں ضم ہو کر ایک بڑے ستارے کا روپ دھار لیں کیوں سورج تو پہلے سے ہی موجود ہے ۔لیکن سورج کی موجودگی کے باوجودیہ ضروری ہے کہ ستارے آسمان پر چمکتے رہیں اور ہر آدمی کے پاس اپنا ستارہ ہو۔‘‘
کچھ تلخ حقائق ہم نے خود مشاہدہ کیے ہیں۔ استاد، بالخصوص ابتدائی مراحل میں جب بچے کو دوسری زبان میں تدریس کرتا ہے ۔ اگر استاد واقعا چاہے کہ بچے پر مطالب واضح ہوں تو اسے تین زبانوں میں ترجمہ کرکے سمجھانا پڑھتا ہے ۔ ماہرین تعلیم یہ کہتے ہیں کہ بچہ اپنی زبان میں اگر %۱۰۰ سیکھتا ہے تو دوسری زبان میں %۵۰۔پرانے زمانے میں ہمارے بزرگوں کو ۲۰  تک کے پہاڑے زبانی یاد ہوتے تھے اور آج کا بچہ فقط" ٹو بائی ٹو فور "میں اٹکا ہوا ہے۔
دوسری تلخ حقیقت  بی۔اے  کے طالب علموں کے لیے انگلش کا پھندا ہے ۔طالب علم  کہتا ہے مجھے اردو ادب کا شوق ہے یا دیگر علوم انسانی میں جانا چاہتا ہوں۔ نظام کہتا ہے کہ نہیں تمہیں اس پھندے کو گلے میں ڈالنا پڑے گا ۔ اس طریقے سے نا جانے کتنے غالب و میر انیس مایوسی کا شکار ہو گئے۔بہرحال اگر ہم نے سارے پاکستانیوں کو امریکہ برطانیہ بھیجنا ہے تو پھر تو صحیح۔ لیکن اگر %۲کیلئے اگر ہم %۹۸کو قربانی کا بکرا بنا رہے ہیں تو سوالیہ نشان ہے...؟ اگر ہم پھر بھی نہیں سنبھلے تو یہ لطیفے سننے کو ملتے رہیں گے ۔ چین کے وزیراعظم کا پاکستان میں خطاب چینی زبان میں ہوتا ہے اور ہم اپنی ہی پارلیمنٹ میں انگریزی بول رہے ہوتے ہیں۔ یہاں سوائے عقلوں پر ماتم کے اور کیا ،کیاجا سکتا ہے۔؟
خلاصہ یہ کہ
  یہ اہل  کلیسا  کا  نظامِ تعلیم۔اک سازش ہے فقط دین و مروت کے خلاف(اقبالؒ)