استعمارکے دیسی آلہ کار


ذاکر حسین میر 
Zakirmir5@yahoo.com


ہم استعمار‌، نوآبادیت  (colonization)  اور سامراجیت  (imperialism) کے الفاظ بہت سنتے اور استعمال کرتے آرہے ہیں ۔بعض لوگ استعمار کے لفظ سے زیاد مانوس ہیں تو بعض colonization، اور imperialism جیسے الفاظ سےاپنی تحریر یا  تقریر کو زینت بخشتے ہیں؛جبکہ معنی کے اعتبار سے یہ تینوں الفاظ ایک ہی ہیں۔ اس کی مختلف صورتیں؛  استعمار قدیم،  استعمار جدید اور ترقی یافتہ استعمار کے ناموں سے مشہور ہیں ۔ہم یہاں استعمار کی ترقی یافتہ شکل، جس سے آج  کاانسان روبرہے، کی تعریف پر اکتفاکرتےہیں۔ سادہ اور واضح الفاظ میں ترقی یافتہ استعمار یا پوسٹ ماڈرن کلونائزیشن کامعنی سامراجی اور استبدادی طاقتوں کا آزادی اور ترقی کے نام پر کمزور اور غریب ملکوں کے منابع پر قبضہ جمانا  یا  ان کے سیاسی  اور غیر سیاسی ایشوز پر مداخلت کرنا ہے۔ 
استعمار کی تاریخ بہت پرانی ہے۔قدیم استعماریاکلاسیک استعمارکاآغاز سولویں صدی میں رنسانس کے ساتھ ہوا۔  اس مدت ،جو400 سال پرمشتمل تھی، کے دوران استعماری قوتیں ڈائریکٹ فوجی مداخلت کے ذریعے کمزوراور پسماندہ اقوام اورملل پر مسلط رہی ہیں۔ اس طریقہ کار کی سب بڑی خامی یہ تھی کہ ایک طرف اس کے ساتھ سنگین فوجی  اور جنگی اخراجات تھےجبکہ دوسری طرف ان کے خلاف لوکل مزاحمتی تحریکیں  ایک غیر متوقع چیلنج کے طورپر سامنے آتیں تھیں۔یہی وجہ بنی کہ استعمار قدیم نےاپنےطریقہ کار پرنظر ثانی کی اور  نیو کلونائزیشن یا جدید استعمار  کے روپ میں منصہ شہود پر ظاہر ہوا۔
جنگ عظیم دوم کا خاتمہ اور ساتھ ہی دوطاقتوں ؛امریکہ اورروس،  کا ابھر نااور یورپی طاقتوں کا انحطاط  استعمارجدید کے وجود میں آنے کے اصلی اسباب ہیں۔  بین الاقوامی سطح پر آنے والی اس بڑی تبدیلی نے یورپی ممالک کے روابط کو ان کی کالونیز کے ساتھ یا تو کمزور کردیاتھا یاپھر سرے سے ختم کر دیاتھا۔

استعمار کے خلاف اٹھنے والی مزاحمتی تحریکیوں نے سامراج کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کردیا تھا۔ استعمار جدید نے زمینوں پر قبضہ جمانے کی پالیسی چھوڑ کر ملکوں کی سیاست اور حکمرانوں  کو اپنا تابع بنانا شروع کیا، باہر سے جنگ مسلط کرنے کی جگہ ملکوں کو داخلی جنگوں میں دھکیل دیا، علی الاعلان مداخلت چھوڑکر ایجنسیوں کاجال بچھا دیا اور سول وار کو مضبوط بنانے کے لئے مختلف ملکوں میں  تربیت یافتہ عسکری و غیر عسکری گروپ تشکیل  دیئے۔ لیکن اس کے نتایج   بھی استعمار قدیم سے چنداں مختلف نہ تھے ؛ وہی اخراجات جسےاستعمار قدیم جنگوں میں خرچ کرتاتھا  استعمار جدید کو سول وارز میں خرچ کرنا پڑا ۔ اس کے علاوہ مقامی مزاحمتی تحریکوں کا مسئلہ جوں کا توں باقی رہا بلکہ پہلے سے  کہیں زیادہ پیچیدہ صورت اختیار کر گیا ۔ 
یوں  نیو استعمار نے دوبارہ اپنی پالیسیوں  پر نظرثانی کی اوردیکھتے ہی دیکھتے  دنیا  استعمار کی ایک ترقی یافتہ شکل سےروبرو ہوئی۔ استعمار کی ترقی یافتہ شکل کا پورا دھیان لوکل مزاحمتی تحریکوں کو دبانا  اور ان کی جگہ ایسےگروہوں کو وجود میں لے آنا تھا جواستعمار کو ایک انسان دوست، ترقی پسند، دلسوز اور تمام مسائل کے لئے مشکل کشا کے طور پیش کریں ۔ اس طرح ترقی یافتہ استعمار کی پالیسی "تھوڑا  دو اور بہت کچھ لو "کی بنیاد پر آگے بڑھنے لگی تاکہ  لوکل اینٹی استعمار نہ صرف مخالفت چھوڑ دیں بلکہ ہر سطح پر ان کا دفاع بھی کریں۔
 استعمار کی ترقی یافتہ شکل میں مذہب، عقائد، کلچر، تہذیب وتمدن ، تعلیم وتربیت اور لوگوں کے نظریات اصلی ٹارگٹ تھے جس تک پہنچنے کے لئے ان کا  بنیادی سہارا میڈیا تھا۔آج کا میڈیا؛ پرنٹ ، الیکٹرانک ہو یا سوشل ترقی یافتہ استعمار کی خدمت میں سرگرم ہے۔ 
گلگت بلتستان کی  جغرافیائی اہمیت ایک طرف اور خطہ کی متنازع   آئینی  اورسیاسی حیثیت دوسری طرف  اس بات کا سبب بنی کہ عرصہ دراز  سے عالمی طاقتوں کی نظریں اس علاقہ پر مرکوز ہوں۔ یہ علاقہ قدیم نوآبادیات کی زد میں تو پہلے سے ہی رہا ہے لیکن استعمار نو کے بعد اب استعمار کی ترقی یافتہ شکل بھی اپنی پوری تیاری کے ساتھ یہاں مصروف عمل ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصو بہ  کے بعد اس علاقہ کی اہمیت دوچنداں ہوگئی ہے۔
اپنے حال اور ماضی سے نابلد یہاں کی قوم ہمیشہ سے کسی مسیحا کے منتظر رہی ہے جویہاں کی تقدیر بدل دے۔ مقامی قیادت کا فقدان اورحکومت سے وابستہ توقعات نے اس قوم کوکہیں کا نہیں چھوڑا ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ترقی کے نام پر کہیں سے کوئی بھی آواز  سنائی دے یہ قوم آنکھیں بند کر کے اس کا  استقبال کرتی ہے ۔ سچ پوچھو تو گلگت بلتستان کے موجودہ حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئی بھی طاقت یہاں سے اپنے مفادات حاصل کرسکتی ہے!
ترقی یافتہ  استعمارکی نظریں یہاں کے پہاڑوں میں مخفی خزانوں، بڑے بڑے گلیشر ز ،   یہاں سے بہنے والے دریاوں ، خوبصورت سیاحتی مقامات ، نایاب جنگلی جانوروں  اورقیمتی پرندوں پر ہوں یا نہ ہو ں ،یہاں کی قدیم اسلامی اور دینی ثقافت  پر ضرورہیں۔ یہاں پر حاکم دینی ، اخلاقی اور معاشرتی اقدار وہ اہم ترین سرمایہ ہیں جو ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہیں ۔ ان اقدار کو پھیلانے میں مبلغ اسلام امیر کبیر سید علی ہمدانی ، طوسی برادران اور شیخ علی برلمو جیسی شخصیات کا خون پسینہ شامل ہے۔ ان سخت موسمی اور غیر موسمی حالات ا ور خطرات کی پرواہ کئے بغیران ہستیوں نے  ہر گاوں اور دیہات  کا سفر کیا اور اس عظیم ثقافت کو گھرگھر تک پہنچایا جس نے ایک مختصر عرصہ میں عرب جاہلی معاشرے کو دنیا کے لئے نمونہ عمل بنایا۔
 یہی وجہ ہے اس پورے خطے میں شادی کی محفل ہو یادکھ درد باٹنے کی مجلس ہمیں خدا کے آخری نبی سے محبت اور ان کی آل سے مودت کے آثار دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ یہاں کی ادب کو ہی لیجیے ؛نثر ہویا شعر،حمد ونعت  ہو یا قصیدہ  ، مرثیہ ہو یا نوحہ، ادب کے تمام شہ پاروں میں اسلامی تعلیمات اور محمد وآل محمد سےعشق و محبت کے جام چھلکتے نظر آتے  ہیں۔یہ وہ قیمتی سرمایہ ہے جس کی بدولت آج ، جب دنیا نئی تہذیب کی چکی میں پس رہی ہے ،یہاں  پرشرم وحیا، والدین سے محبت ، غریب پروری، خدا سے راز ونیاز، انسان دوستی ،بڑوں کا احترام ، خواتین کا احترام ، چار دیواری کااحترام وغیرہ وغیرہ جیسے بے مثال اقدار حاکم ہیں۔ 
یہ اقدار جہاں اس قوم کی بقا  اور سلامتی کا ضامن ہیں وہاں ترقی یافتہ استعمار کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ بھی  ہیں۔جب تک یہاں مضبوط دینی عقائد ، تعلیم ، مذہبی آگہی، شرم وحیا، غیرت دینی اور قومی وملی حمیت زندہ ہیں تب تک استعمارکے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ یہاں اپنی اجارہ داری قائم کرے۔ یہاں کا مذہبی طبقہ ، علماء اور دینی مدارس وہ مضبوط قلعے ہیں جو ہمیشہ سے ان اقدارکی حفاظت کرتےآئےہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ استعمار نے پہلے نمبر پر ہی انہی قلعوں  کو نشانہ بنایا ۔ استعمارکے دیسی آلہ کارایک عرصے سے اس کوشش میں مصروف ہیں کہ یہاں کے مذہبی طبقہ ، علماء اور مدارس کو علم دشمن، ترقی مخالف ، دقیانوسی ، خوشحالی کے منکر ، شدت پسند اور جاہل کے طورپرمتعارف کریں  تاکہ اس طبقہ کے خلاف  راے عامہ ہموار ہو۔جبکہ مجالس، محافل، دینی رسومات اور اجتماعات  دوسرے نمبر پر ہوسکتے ہیں ۔ 
 علاقے کی ترقی ، خوشحالی، تعلیم اور فلاح کے نام پر گلگت بلتستان میں داخل ہونے والے ادارے اب  اپنی اصلیت دیکھا چکے ہیں اور کسی حد تک ایک ایسے طبقہ کو سامنے لانے میں کامیاب ہوئے ہیں  جو کمال جرات کے ساتھ یہاں پر حاکم دینی ومذہبی اقدار کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ یاد رہے دین کوسمجھنےکےلئے سوال کرنا یا شخصیات اوراداروں پر تعمیری تنقید سےکسی کو مخالفت نہیں لیکن جو لوگ استعمار کےآلہ کار ہیں،  ان کا ہدف سمجھنا نہیں بلکہ الجھن پیدا کرنا ہے۔
 یہی وجہ ہے کہ محکم دلائل کے ساتھ مسئلہ کو واضح کرنے کے باجود بھی یہ اپنی ہٹ دھرمی پر باقی نظر آتےہیں۔اگریہی صورتحال باقی رہی تو وہ دن دور نہیں کہ  جب گلگت بلتستان کی ہر گلی سے ایسے لوگ پیدا ہوں جو نام کےتو مسلمان ہوں گے لیکن ان کی   فکر استعماری ہوگی۔ استعمار جس حربہ کو یہاں بروئے کار لا رہا ہے وہ میدانی جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہے ۔ اس جنگ میں  زمینوں اور وسائل پر نہیں  بلکہ لوگوں کے افکار پر قبضہ جمایا جاتاہے جس کے بعد زمینیں خود بخود ان کے قبضہ میں چلی جاتی ہیں  ؛ کیونکہ یہاں جس ذہنیت کو پروان چڑھایا جارہا ہے وہ بیگانوں کی تہذیب کو قبول کرنے کے لئے مکمل آمادہ ہے اور استعمار کے اہداف کو عملی جامہ پہنانے میں کسی پس و پیش  کا شکا ر نہیں ہے۔
 ان حالات میں  ہمیں چاہیے نرمی، سمجھ بوجھ ،بصیرت ، مفاہمت اوردلائل کے ساتھ عام لوگوں کو یہ بات سمجھائیں کہ گلگت بلتستان میں ترقی کے نام پر جوسرگرمیاں عروج پر ہیں انہیں یہ لوگ  علاقہ کی خوشحالی کا نام دے  یا  روشن خیالی کہیں ، تعلیم کے نام پر کام کریں یا فلاح و بہبود کا لبادہ اوڑھ لیں، غربت کے خاتمہ کا نعرہ لگائیں یا آزادی کا شور مچائیں،  انسانی حقوق کے قصیدے پڑھ کرسنائیں یا گلگت بلتستان میں خال خال نظر آنے والی زیادتیوں پر مگرمچھ کے آنسو بہائیں، یہ وہی استعمار اور سامراج کی ترقی یافتہ شکل ہے ،جو گلگت بلتستان میں حاکم دینی ، عقیدتی ، معاشرتی اوراخلاقی اقدارکے لئے  خطرے کی گھنٹی  ہے۔

 

 


افکار و نظریات: استعمارکے دیسی آلہ کار