اقوام کی حیات میں سرکاری دستاویز ہی ان کی حیثیت متعین کرتی ہیں۔ یہ لیٹر ہمارے بارے میں سعودی عرب کی چند دستاویزات میں سے ایک ہے۔

۔۔۔۔۔

"پاکستان ہمارے لئے دھوکہ باز ہے اور پاکستانی حکمران اپنی نام نہاد جمهوريت كے دعويدار بن كر هم پر فخر كرتے هيں۔ ان دھوكه بازوں كو جان لينا جاهئيےكه وه جن اپنے اعلى فوجی عهدوں پر ناز كرتے هيں انكی اصل حالت تو يه هے كه وہ اتنے بے بس ہیں کہ اپنی چھوٹی سی اندرونی مشكل بھی تنہا حل كرنے كی استطاعت نہیں ركھتے اور اگر هم مالی طور پر ، ميڈ يا اور انفارمیشن كے ميدانوں ميں انکی مدد نه كرتے تو وه كبھی بھی اپنے مخالفين كو هٹا كر آج حكمران نہ ہوتے اور کل تک تو وه هم سے بھيک اور خیرات مانگا كرتے تھے۔

اور اب بھی ہمارے مال ودولت ميں سے بھيک اور خيرات مانگ رهے هيں۔ یہ احسان فراموش ہیں، ہم سے كہتے هيں كه يمن كے مسائل کے حل كا بہترين راسته پر امن راہ حل تلاش كرنے ميں هے اور یہ بات بھول جاتے هيں كه يمن كے خلاف یہ "فيصله كن طوفانی حملہ" حقيقت ميں "عروبة" يعني عرب ازم كا دفاع ہے .

اور تم عربوں کے نوکر ہو اور هر با شرف عربی كي لئے باعث فخر هے اور یہ حملہ امن كے قيام اور باغی گروه كو كچلنے كيلئے هے .
اے خادم حرمین شریفین! ہمیں ان نمک حرام لوگوں کی ہر گز ضرورت نہیں كه جنكے ہمارے ملک میں مزدور ی کرنے والے شہريوں كو اگر هم ملك بدر كر ديں تو پھر ديكھيں كه وہ كس طرح هماری منت وسماجت كرتے هيں اور كيسے وہ كتوں كی طرح بھونكتے هيں۔ اس خط میں صرف پاکستانیوں کی عزت افزائی نہیں کی گئی بلکہ مصر کی بھی خوب بے عزتی کی گئی ہے۔

دستاویز میں لکھا گیا ہے کہ ہم تو یہ گمان کر رہے تھے کہ یہ جنرل (عبدالفتاح السیسی ) جس کو مشیر کا رتبہ ہمارے فضل وکرم اور ہماری بھرپور اور فعال حمایت سے ملا ہے. اسے ہمارا احسان یاد ہو گا اور وہ اسکا شکریہ ادا کرے گا.اور یمن کے معرکے میں عسکری طور پر ہمارے ساتھ تعاون کرے گا. لیکن اس نے ایک بار پھر وعدے کی خلاف ورزی اور خیانت کی ہے.

اب تو اس کو اس کے فوجی عہدے اور رتبے سے سبکدوش کر دینا چاہئے ، یہ پہلے بھی اس کا حقدار نہیں تھا، حسنی مبارک کا زمانہ اور اسکی عظیم فوج کا زمانہ اس مغرور جنرل کے زمانے سے بہترین زمانہ تھا، اور یہ اپنے ان جھوٹے رتبوں پر فخر کرتا ہے.

سب کو جان لینا چاہئے کہ "عاصفۃ الحزم " (یمن پر جنگ مسلط کرنے) کا مشن اتنا بلند مرتبہ ہے کہ اس میں عرب ازم کے غدّاروں اور بزدلوں کی شرکت کی ہرگز ضرورت نہیں ۔

............................

پاکستانی ہمارے غلام ہیں

👇۔۔۔۔خط کی عبارت۔۔۔👇
“وخذلان باكستان لنا وتفاخرها علينا بشعارات الديمقراطية الزائفة وليعلم المتخاذلون الذين يتفاخرون بأعلى الرتب العسكرية بينما لا يستطيعون حل مشكلة صغيرة في بيتهم الداخلي أنه لولا دعمنا لهم بالمال والإعلام والمعلومات لم يكونوا ليطيحوا بخصومهم فيصلوا للسلطة وهم الذين كانوا يتسولوننا وما زالوا يطالبوننا بأن نتصدق عليهم مما أنعم الله به علينا ثم ينكرون جميلنا فيتشدقون بأن الحل السلمي في اليمن هو أفضل الخيارات ويتناسون أن عاصفة حزمنا في اليمن هي في الحقيقة دفاع عن العروبة وفخر لكل عربى شريف وهي من أجل إقرار السلام وقمع الفئة الباغية. ………………
أننا لن نحتاج لمساعدة الذين لو نطرد مواطنيهم العمال الذين يعملون لدينا في المملكة سيرى الجميع كيف يتوسلون لنا ويعوون كما تعوي الكلاب”


یہ خط چونکہ سرکاری دستاویز ہے لہذا ابھی بھی عربی کی سائٹوں پر موجود ہے


نیچے دئیے گئے لنکس پر جا کر قارئین خود یہ لیٹر پڑھ سکتے ہیں۔

1

2

3


افکار و نظریات: Saudi letter