Dr. Hamza Ibraheem

سہہ ماہی مجلہ نورِ معرفت کے مارچ 2019ء کے شمارے میں چھپنے والا مقالہ بعنوان “اکبر شاہ کے دین الٰہی کی تشکیل کے بنیادی اہداف اور اثرات” ایک دوست نے ارسال کیا ۔

اس کو پڑھ کر اس بات کا احساس شدید تر ہو گیا کہ پاکستان کے پڑھے لکھے لوگوں کے ہاں بھی اپنا کوئی مستقل تاریخی بیانیہ نہیں۔ اہلِ تشیع ، جو کہ برصغیر میں حضرت عثمانؓ کے زمانے میں حضرت حکیم ابن جبلہ عبدیؓ کے ذریعے متعارف ہوئے[1]، ان کے مذہبی و علمی حلقوں میں بھی برصغیر کی تاریخ پر حقیقت پسندانہ اور مستقل رائے ڈھونڈنے سے نہیں ملتی۔

اگرچہ عقائد، فقہ اور عرب دنیا میں اسلام کے پہلے تین سو سال کی تاریخ کے بارے میں شیعہ مدارس ایک مستقل موقف رکھتے ہیں مگر برصغیر میں چودہ سو سال سے موجود ہونے کے باوجود یہاں کی تاریخ پر کام نہیں ہوتا، اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دیوبندی بیانیے کی ہو بہو نقل کی جاتی ہے۔ تاریخ کے بارے میں تکفیری نکتہ نظر کی تقلید کر کے تکفیریت کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔

تحقیقی کام کیا ہونا تھا، یہاں تو قاضی نور الله شوستری کے خطوط اور تالیفات کا اردو میں ترجمہ بھی نہیں ہو سکا۔

ہندوستان اور یورپ میں بعض محققین نے برصغیر میں شیعیت کی تاریخ پر قلم اٹھایا ہے، جن میں جدید یونیورسٹیوں میں عقلی علوم کی روشنی میں تاریخ نویسی کا فن سیکھنے والے سید اطہر عبّاس رضوی، نارمن ہولسٹر، مشیر الحسن، ڈیر ل میک لیان، جسٹن جونز، سائمن فچس، آندریاس رایک، اور علی ندیم رضوی وغیرہ شامل ہیں۔

بظاہر مضمون نگار ذوالفقار علی صاحب بھی کسی یونیورسٹی کے طالب علم ہیں لیکن مضمون میں وہ متعصب دیوبندی علماء کے پروپیگنڈا پر مبنی بیانیہ کی تقلید کرتے نظر آئے۔

ہندوستان کو اسلام کا سب سے بڑا تحفہ اکبر ہے۔ اگرچہ اس بارے میں ایک مستقل کتاب لکھنے کیلئے ایران اور ہندوستان کی لائبریریوں میں موجود بنیادی تاریخی مواد تک رسائی اور کم از کم ایک سال کا وقت چاہئیے، جو میرے پاس نہیں ہے، لہذا میں یہاں ثانوی علمی کام کی بنیاد پر ذوالفقار علی صاحب کے مضمون کے حوالے سے کچھ چیزیں قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔

دینِ الہٰی کی گردان

سب سے پہلے دینِ الٰہی کی اصطلاح کی باری آتی ہے۔ پورے مضمون میں مصنف ذہنی انتشار کا شکار معلوم ہوتے ہیں، اگر کسی ایک موقف پر ثابت قدم رہے ہیں تو وہ اندھا دھند “دینِ الہٰی، دین الہٰی” کی گردان کرنا ہے، ورنہ اپنے ہر نتیجے کی حمایت کرنے کے بعد اس کی تکذیب بھی کی ہے اور مطالب کو کوئی نظم دینے میں ناکام رہے ہیں۔ بقول غالب:

قطرے میں دجلہ نہ ملے اور جزو میں کل

کھیل بچوں کا ہوا، دیدہ ٴبینا نہ ہوا

یہ اصطلاح شروع سے آخر تک یوں استعمال ہوئی ہے کہ جیسے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہو۔ اس کے استعمال سے پہلے تاریخی ماخذ میں جستجو نہیں کی گئی اور احتیاط نہیں برتی گئی۔

اکبر پر اسلام کو بدلنے اور اس کے متوازی نیا دین بنانے کا الزام ان علماء نے لگایا جن کے بزرگوں کی شیعہ دشمنی اور ہندو دشمنی سے تنگ آکر اکبر نے عبادت خانے میں عقلی بحثیں کرائیں اور ان میں عظیم مفکرین، سید فتح الله شیرازی، قاضی نور الله شوشتری، ملّا احمد ٹھٹھوی، حکیم علی اور دیگر نے حصہ ڈالا۔

اکبر بچپن میں بادشاہ بن گیا تھا اور اس کے بچپن میں ملا عبد النبی اورمخدوم الملک عبداللہ سلطان پوری جیسے تکفیری علماء نے شیعہ عالم میر مرتضیٰ شیرازی کی قبر اکھاڑ ڈالی، شیعہ علماء کو مددِ معاش سے محروم کیا اور کشمیر میں شیعوں کا قتل عام ہوا۔[2]

یہاں ایک اور نکتے کی طرف اشارہ ضروری ہے اور وہ یہ کہ 1947ء میں مسلمان برصغیر کی آبادی کا بیس فیصد تھے۔

اگرچہ قرون وسطیٰ میں مردم شماری نہیں ہوتی تھی، لیکن یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس دور میں مسلمان آبادی اس سے کم ہی ہو گی کیوں کہ کئی خاندان مغلیہ دور کے آخری زمانے میں مسلمان ہوئے ہیں۔

دوسری اہم بات ایرانی کی صفوی اور ترکی کی عثمانی سلطنت میں جاری فرقہ وارانہ جنگیں تھی، جس کی وجہ سے عرب دنیا سے کئی شیعہ اور ایران سے کئی صوفی ہندوستان آ ئے تھے۔

اسی طرح اکبر کے زمانے میں یورپ میں کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقوں میں خونریز جنگیں بھی جاری تھیں۔ تیسری اہم بات اس زمانے میں ہندو مہاراجوں کی بغاوتیں تھیں جن کو ہندو آبادی کی حمایت حاصل تھی کیوں کہ ہندو اکثریت اپنی مذہبی آزادی کا تحفظ چاہتی تھی۔

ایسے میں اکبر کے دل میں موجود خوفِ خدا اور عدل سے اس کے لگاؤ کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ وہ مسلم اقلیتی معاشرے میں حکومت کے دستور پر غور کرے۔

اکبر نے طویل مباحثے کے بعد جو دستور العمل ایجاد کیا اس کو صلحِ کل کا نام دیا، اور یہ حکمتِ عملی مغلیہ سلطنت کا طرۂ امتیاز بن گئی جسے اورنگزیب عالمگیر کے سوا ہر مغل بادشاہ نے اپنایا۔

اس کا تعلق معاشرتی زندگی سے تھا۔ اس میں انسان کے باطن اور آخرت کے بارے میں کچھ نہ تھا۔ اس کے نتیجے میں نہ کسی مسجد کو گرایا گیا نہ کسی عالم دین کے فنڈ میں کمی ہوئی نہ کسی کو اسلام چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ جبکہ اس زمانے میں اکبر ایسا کرنے کی طاقت رکھتا تھا۔ وہ سپر پاور تھا اور ہندو اکثریت سے مل کر برصغیر میں وہی کچھ کر سکتا تھا جو مسیحی بادشاہ اسپین میں کر رہے تھے۔

مضمون نگار نے کہا ہے کہ اکبر کے دین میں مظاہرِ فطرت کی پوجا شامل تھی، کیا اکبر نے خود کبھی ان چیزوں کی پوجا کی یا کسی مسلمان کو مجبور کیا کہ وہ پوجا کرے؟

مظاہرِ فطرت کی پوجا اکبر نے شروع نہیں کرائی، وہ ہندوستان کی غیر مسلم اکثریت میں پہلے سے ہو رہی تھی۔ وہ ایک پکا اور معتدل سنی مسلمان تھا۔

اس زمانے میں حج کمانے کا وسیلہ نہیں تھا، کہ حجاج اپنے ساتھ پیسے لا کر رہائش اور خوراک اور ویزا کے بدلے حجاز کے حاکم کو پیسے دیتے۔ اس زمانے میں حج کا خرچہ حکومت اٹھاتی تھی۔ چنانچہ تاریخ میں ملتا ہے کہ اکبر ہر سال حج کے اخراجات کیلئے امیر ِمکہ کو بھاری سرمایہ بھیجا کرتا تھا۔

اگر وہ فرعون ہوتا اور اپنی عبادت کرواتا تو اس کو ہر سال یہ رقم بھیجنے کی کیا ضرورت پڑی تھی، جبکہ مسلمان اس کے ملک میں ایک معمولی اقلیت تھے؟

اس نے سب مذاہب کو آزادی دی اور اس طرح ہندو بغاوتوں کا خاتمہ ہوا۔ یہ درست ہے کہ ہندوؤں نے اس کی شان میں بھجن گائے جنھیں تکفیری علماء نے اکبر کی عبادت قرار دیا، مگر کیا اس منطق کے تحت علمائے دیوبند کی شان میں پڑھے جانے والے قصیدے بھی غیر الله کی عبادت نہیں ہوں گے، جن کا تاریخ میں کوئی مثبت اور تعمیری حصہ بھی نہیں ہے؟

اکبر دور میں ہی برصغیر میں شیعوں کو آزادی اور حیات ِنو ملی۔ جب مرزا فولاد نے لاہور میں ملا احمد ٹھٹھوی کو قتل کیا تو اکبر نے ان کے قاتل کو سزا دی۔[3]

قرونِ وسطیٰ کی برصغیر کی تاریخ میں شیعہ کشی کی مثالیں بہت کم ہیں اور یہ علاقہ اس حوالے سے دو سو سال پہلے سید احمد بریلوی تک پر امن رہا ہے۔ لیکن اگر شیعوں کے قاتلوں کو سزا ملنے کا سراغ لگایا جائے تو شاید یہ پہلا موقع تھا کہ کسی شیعہ کے قاتل کو سزا ملی ہو۔

اس چیز کو جسے اکبر “صلحِ کل” کہتا ہے، اور ابو الفضل “آئینِ رہنمونی” کہتا ہے، بعد کےتکفیری علماء نے دینِ الٰہی کہنا شروع کیا۔[4]

کیا اس اجتماعی ضابطے کو دین کہا جا سکتا ہے؟ اس منطق کے تحت تو 1973ء کے آئین کو جو پاکستانی حکومت کا دستور العمل ہے، الگ دین کہا جا سکتا ہے، اور طالبان کہتے بھی ہیں۔ تکفیری علماء تو شیعیت کو بھی الگ دین کہتے ہیں۔

تاریخی مصادر کو دیکھنے کی زحمت نہ کرنا

مذکورہ مقالے میں دوسری قابل اعتراض بات یہ ہے کہ یہ مضمون بنیادی ماخذسے کی جانے والی تحقیق کی بنیاد پر نہیں بلکہ فارسی کے مقالوں کی مدد سے اور جلد بازی میں لکھا گیا ہے۔

اکبر کے زمانے کے تاریخی آثار میں ایک بہت اہم چیز قاضی نور الله شوستری کے خطوط اور کتب ہیں۔ مذکورہ مقالے میں ان کا ایک حوالہ بھی شامل نہیں۔ ملا قوسی شوستری کے نام اپنے خط میں وہ اکبر اعظم کے بارے میں طویل قصیدے میں لکھتے ہیں:

شہنشہی کہ زپاس حمایتش در ہند

نبردہ شاہد ایمان من تقیہ بکار

“شہنشاہ ہند پر خدا کی رحمتیں ہوں کہ جن کی سرپرستی نے مجھے تقیہ کا محتاج نہیں کیا”۔[5]

میر یوسف علی استر آبادی کے نام خط میں لکھتے ہیں:

با اعتقاد فقیر دردار الملک ہند بدولت بادشاہ عادل جای تقیہ نیست

“میرا یقین ہے کہ ہندوستان میں اس وقت ایک عادل سلطان کی حکومت ہے اور اس صورت میں تقیہ کرنا جائز نہیں ہے”۔[6]

اسی طرح اس دور کی تاریخ کا ایک اہم ماخذ خود اکبر کے خطوط اور اس کی لکھوائی گئی کتب ہیں۔ شاہ عباس کبیر کے نام خط میں وہ شاہ عبّاس کو فرقہ واریت سے دور ہو کر صلح کل کی دعوت دیتا ہے۔ اس کے دلائل پڑھنے کے قابل ہیں اور آج کے دور کے پاکستانی معاشرے کے لئے ان میں بہت اہم نکات ہیں۔

وہ مذہبی بنیادوں پر شہریوں میں امتیاز برتنے کو دو بنیادوں پر غلط قرار دیتا ہے: پہلی یہ کہ جس طرح الله تمام مخلوقات کو مساوی طور پر نعمتوں سے سرفراز کرتا ہے، ریاست کو بھی تمام شہریوں کو برابری کی بنیاد پر سہولتیں فراہم کرنی چاہئیں۔

دوسری بات یہ کہ صفوی حکومت کی مذہبی امتیاز والی پالیسی کی وجہ سے ایران سے بہت سے قابل دماغ ہجرت کر گئے ہیں۔[7] اگر آپ غور کریں تو یہ وہی چیز ہے جسے برین ڈرین کہا جاتا ہے۔

جب سے پاکستان نےقائد اعظم محمد علی جناح کے صلح کل پر مبنی تصورِ پاکستان کو چھوڑ کر شبیر احمد عثمانی کے دیوبندی ریاست والے تصورِ پاکستان اور برصغیر میں مسلمانوں کی تاریخ کی جعلی تفسیر کو گلے لگایا ہے، اعلی تعلیم یافتہ لوگ امریکا اور یورپ جا رہے ہیں، جن میں مذہبی امتیاز کا شکار ہونے والے شیعہ سب سے زیادہ ہیں۔

آج سے پانچ سو سال پہلے اکبرِ اعظم کو اس حقیقت کا ادراک ہو گیا تھا کہ مذہبی استبداد معاشرے کے اہل دانش کوہجرت پر مجبور کر دیتا ہے، جس سے معاشرہ معاشی اور ثقافتی اعتبار سے غریب ہو جاتا ہے۔

اکبر کے دور میں ایک پرتگیزی پادری، مونسیرات، بھی اس کے دربار میں آیا تھا۔ اس کا سفر نامہ بھی ایک اہم تاریخی ماخذ ہے۔ مصنف نے اس کا بھی کہیں حوالہ نہیں دیا۔ مونسیرات کو بھی اکبر نے اپنا موقف پیش کرنے کی آزادی دی ، لیکن وہ ایک کٹر پادری کی طرح اکبر کے مسیحیت اختیار نہ کرنے پر نالاں ہے۔ اس کتاب میں ایک اہم بات اکبر کے دور میں عزاداری کے جلوسوں کا ذکر ہے۔[8]

ذوالفقار علی صاحب نے اپنے مضمون میں بار بار جس ماخذ کا حوالہ دیا ہے وہ ملا عبد القادر بدایونی کی کتاب منتخب التواریخ ہے۔ یہ مولانا صاحب اکبر سے نفرت کرتے تھے۔ ان کی کتاب کے مندرجات کو تنقیدی جائزے کے بغیر قبول نہیں کرنا چاہئیے۔

مثال کے طور پر ملا احمد ٹھٹھوی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ شیعہ اپنے مرحومین کو غسل دیتے وقت ان کے مقعد میں کیل ڈال کر دریا ،میں غوطے دیتے ہیں۔ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ ملا احمد ٹھٹھوی کا چہرہ خنزیر میں تبدیل ہو گیا تھا۔[9]

اس وقت لاہور میں شیعوں کی اچھی خاصی تعداد بستی تھی اور قاضی نور الله شوستری جیسے فقہا بھی وہاں موجود تھے، جس کی وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ملا عبد القادر بدیوانی شیعہ فقہ میں تدفین کے آداب سے نا واقف تھے۔

یہ کتاب اہلسنت کے مدارس میں پڑھائی جاتی ہے اور مجھ سے کئی اہلسنت اس حوالے سے سوال کر چکے ہیں کہ آیا شیعہ مردے کی تدفین سے پہلے یہ سب کرتے ہیں؟

بدایونی کے بقول اکبر کی گمراہی شیعوں کی سازش تھی۔ کیا اکبر ایک احمق شخص تھا جو شیعوں کی سازش کا شکار ہو گیا؟ کیا ان باتوں کو عقلی تجزیے اور باقی آثار سے تقابل کئے بغیر قبول کر لینا چاہئیے؟

سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ تاثر دینا تھا کہ اکبر کے دربار میں موجود شیعہ علماء دین فروش درباری لوگ تھے۔

یہ وہ لوگ تھے جو اپنے موقف کی حمایت میں جان سے گزر گئے، جیسے قاضی نور الله شوستری اور ملا احمد ٹھٹھوی، ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن ان کو مادی مفاد کے لئے اپنے موقف کا سودا کرنے والا کیسے سمجھا سکتا ہے؟

فارسی اصطلاحات

ایک اور مسئلہ فارسی اصطلاحوں کا اردو ترجمہ نہ کرنا ہے۔ مصنف نے اکبر شاہ کا لفظ استعمال کیا جو کہ اردو پڑھنے والے طبقے کے لئے مہمل اصطلاح ہے، ایسے لگتا ہے جیسے پنجاب کے کسی پیر بابا کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ یہاں شہنشاہ اکبر، یا اکبر بادشاہ یا اکبر اعظم کی اصطلاح استعمال ہونی چاہئیے تھی۔

مورخین ہندوستان میں مسلمانوں کی تمام حکومتوں میں اکبر کو عادل اور حکیم بادشاہ قرار دیتے ہیں اور دنیا بھر میں اس کو اکبرِ اعظم کہا جاتا ہے، جیسے ایران کے کوروش اور سائرس کیلئے بزرگ کا لاحقہ استعمال ہوتا ہے۔

یہی حال فارسی کی اور بہت سی اصطلاحات کا ہے جن کو مصنف نے اردو میں ترجمہ کرنے کی ضرورت محسوس نہ کی ۔ اسی طرح علامہ ابو الفضل کو ابو الفضل علامی لکھتے رہے۔

تکفیری محرفینِ تاریخ کا اکبر کی توہین سے کیا مقصد ہے؟

اکبر کے خلاف پروپیگنڈا انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے شروع میں سید احمد بریلوی کے پیروکاروں کی جانب سے عروج پر پہنچا۔ چونکہ ان دنوں دہلی اور لکھنؤ میں شیعہ سنی جھگڑے بھی عروج پر تھے، لہذا اس پروپیگنڈے میں جو لوگ تاریخی حقائق پر جھوٹ کی ملمع کاری کر رہے تھے انہوں نے اکبر کے مقابلے میں جس شخصیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا وہ شیخ احمد سرہندی تھے جنھیں ان کے مرید مجدد الف ثانی کہتے تھے۔

شیخ احمد سرہندی نے مشہد میں عبدالله خان ازبک کی طرف سے شیعوں کے قتلِ عام کی وکالت کرتے ہوئے ایک رسالہ بعنوان “ردِ روافض” لکھا تھا، لہذا ان کو لکھنؤ کے شیعہ سنی فسادات کے بعد ایک تاریخ ساز کردار کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔ ظاہر سی بات ہے، اکبر کی صلح کل پر مبنی حکمت عملی مذہبی منافرت کا کاروبار کرنے والوں کو کیسے قبول ہو سکتی تھی؟

ان کو ماضی کے سنی علماء بھی زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے، الٹا ان کے ہم عصر شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے ان کی سوچ کو گمراہ کن قراردیتے ہوئے ان کے نام ایک طویل خط لکھا۔[10] اکبر دور کے تکفیری عالم ملا عبد القادر بدایونی نے تو اپنی کتاب میں ان کا نام بھی نہیں لیا۔ اکبر کے دور کی سرکاری دستاویزات میں کچھ بھی نہیں ملتا نہ ہی بادشاہ نے کبھی ان کو سزا دی۔

ہاں اکبر کے بیٹے جہانگیر، جو اپنے باپ سے اس وجہ سے نفرت کرتا تھا کہ وہ اپنے پوتے شہزادہ خرم کو اپنا جانشین بنانا چاہتا تھا اور جس کے اکبر کے ساتھیوں کو قتل کرنے کو یہ لوگ شیخ احمد سرہندی کی تبلیغ کا نتیجہ قرار دیتے ہیں، نے شیخ صاحب کو مذہبی منافرت پھیلانے کے جرم میں ایک سال قید کی سزا دی۔[11]

یہ بھی لاء اینڈ آرڈر کا سوال تھا، نہ یہ کہ شیخ صاحب کو جہانگیر کوئی سیاسی حریف سمجھتا ہو۔ اورنگزیب عالمگیر، جو دکن میں شیعہ اقتدار کو ختم کرنے اور عزاداری پر پابندی لگانے کی وجہ سے تکفیری علماء کا ہیرو ہے، نے بھی شیخ احمد سرہندی کو گمراہ قرار دیا ہے۔[12]

شیخ صاحب اپنے خطوط کے مجموعہ“ مکتوباتِ امام ربانی” میں لکھتے ہیں:

“بعثتِ پیغمبرﷺ کے ہزار سال بعد (یعنی مجدد صاحب کے زمانے میں)اسمِ محمدؐکے میم، جو کہ طوقِ عبودیت ہے، کا اثر زائل ہو گیا اور ولایت ِمحمدی، ولایتِ احمدی میں بدل گئی۔ ۔ ۔ ۔۔ اور الف، جو بقا باالله کا رنگ چڑھاتا ہے، میم کی جگہ آ گیا اور ناچار محمد، احمد ہو گئے” ۔[13]

مرزا غلام احمد قادیانی صاحب نے بھی اسی طرح اشارے کنائے میں اپنے آنے کو رسول اللهﷺ کے نور کا چودہ صدیاں گزارنے کے بعد پہلی کے چاند سے چودہویں کا چاند بن جانا کہا تھا۔

حروف کے اس کھیل سے ان کے مریدوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ حضرت محمدﷺ کے ہزار سال بعد آنے والے شیخ احمد سرہندی اصل میں خدا کی طرف سے مبعوث کردہ مجدد ہیں اور وہی نورِ محمدی ہیں جو ہزار سال بعد احمد بن کر ظاہر ہوئے ہیں۔

صوفیا میں اس قسم کا غلو عام رہا ہے، اور اکبر کی تعظیم کرنے والوں نے کبھی اس کے بارے میں اس حد تک غلو نہیں کیا۔

ان باتوں پر ان کے مریدوں کے سوا کوئی یقین نہیں کرتا تھا۔آج کل اگر کوئی ایسی باتیں کرے تو منکر ِختمِ نبوت اور کافر قرار دیا جائے گا، لیکن اہلِ تکفیر کے بزرگ کو سات خون معاف ہیں، چاہے اس کے دعوؤں کو ثابت کرنے کے لئے اکبر کے عظیم تاریخی کردار پر کالک ملنی پڑے۔

تعجب اس وقت ہوتا ہے جب ان عبارات کی تاویلیں پیش کرنے والے شیعوں کے عقیدۂ امامت کو ختمِ نبوت کا انکار اور توہینِ صحابہ قرار دیتے ہیں، اور ان کے قتل اور ان کے مال و ناموس پر تجاوز کو حلال قرار دیتے ہیں۔

شیخ احمد سرہندی کو اپنے دور کا اہم ترین فرد بنانے کے لئے یہ ضروری تھا کہ اکبر کو دین کا دشمن ِعظیم قرار دیا جائے جس سے دین کو یہ صاحب نجات دیں گے، کیوں کہ اسلام غیر معمولی خطرے میں ہو گا تو اتنے غیر معمولی مجدد کے وجود کی کوئی دلیل بنے گی۔

اگرچہ انہی دنوں اسپین میں اسلام واقعی خطرے میں تھا، اس کے آثار مٹائے جا رہے تھے، لیکن نشانہ چوک گیا اور مجدد ہندوستان میں آ گئے لہذا تکفیری برادری کو اکبر کو ہی اس دور کا سب سے بڑا اسلام دشمن بنانا پڑا۔

پہلا شخص جس نے تاریخ میں اس جھوٹ کا اضافہ کیا وہ مولانا ابو الکلام آزاد تھے۔ ڈاکٹر علی شریعتی کی طرح ان کی تحریریں پر اثر ہوتی تھیں لیکن اکثر ان میں مبالغے، کتمان یا جھوٹ کی آمیزش ہوا کرتی تھی۔ ان سے پہلے مجدد الف ثانی کو ایک صوفی سمجھا جاتا تھا، جن کا سیاست میں کوئی کردار نہ تھا۔

مولانا آزاد نے اپنے تخیل کے زور پر مسلمانوں کی چودہ سو سالہ تاریخ پر اپنا غیر علمی فلسفہ ٴتاریخ تھوپنا چاہا تو سولہویں اور سترہویں صدی عیسوی میں انہیں شیخ احمد سرہندی اس سانچے میں فٹ ہوتے دکھائی دئیے۔

ان کے بعد کے مصنفین نے اسی رجحان کی پیروی کی اور تکفیریوں کے لئے تو وہ گرم کیک ثابت ہوئے۔ اپنی کتاب تذکرہ میں لکھتے ہیں کہ:

“شہنشاہ اکبر کے عہد کے اختتام اور عہد جہانگیری کے اوائل میں کیا ہندوستان علماء اور مشائخ حق سے بالکل خالی ہو گیا تھا؟ کیسے کیسے اکابر موجود تھے؟ لیکن مفاسد وقت کی اصلاح و تجدید کا معاملہ کسی سے بھی بن نہ آیا۔ صرف حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمتہ الله علیہ کا وجود گرامی تن تنہا اس کاروبار میں کفیل ہوا” ۔[14]

جیسا کہ شیخ اکرام نے لکھا ہے، ابو الکلام آزاد کے اس فقرے نے کہ اکبر (1542ء۔1605ء) کے الحاد کا تن تنہا مقابلہ شیخ احمد سرہندی نے کیا، لوگوں میں تاریخ کے بارے میں گمراہ کن خیالات پیدا کرنے میں بڑی مدد دی۔ اور ان کے بعد آنے والے علماء اور مورخوں نے اس فقرے کی روشنی میں احمد سرہندی کی شخصیت کو تاریخ کی ایک انتہائی فعال شخصیت بنانے کی کوشش کی۔[15]

٭٭٭٭٭

حوالہ جات


[1]۔مولانا نجم الحسن کراروی، چودہ ستارے، صفحہ 167 تا 171

[2].Athar Rizvi, ”A socio-intellectual History of Isna Ashari Shi’is in India“, Vol. 1, pp. 212, Mar’ifat Publishing House, Canberra(1986).

[3].Athar Rizvi, “A socio-intellectual History of Isna Ashari Shi’is in India”, Vol.I, pp.234, Mar’ifat Publishing House, Canberra (1986).

[4]۔ڈاکٹر مبارک علی، “اکبر کا ہندوستان” ، صفحہ 16، فکشن ہاؤس، لاہور (1999ء) ۔

[5]۔عامر حسینی، “پاکستان میں شیعہ نسل کشی: افسانہ یا حقیقت” ، باب ششم، “ قرون وسطیٰ کے ہندوستان میں ریاست، شیعہ اور شیعیت” از علی ندیم رضوی، تعمیر پاکستان ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، (2019ء) ۔

[6]۔ایضاً عامر حسینی، “پاکستان میں شیعہ نسل کشی: افسانہ یا حقیقت” ، باب ششم، “ قرون وسطیٰ کے ہندوستان میں ریاست، شیعہ اور شیعیت” از علی ندیم رضوی، تعمیر پاکستان ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، (2019ء) ۔

[7]۔ ایضاً عامر حسینی، “پاکستان میں شیعہ نسل کشی: افسانہ یا حقیقت” ، باب ششم، “ قرون وسطیٰ کے ہندوستان میں ریاست، شیعہ اور شیعیت” از علی ندیم رضوی، تعمیر پاکستان ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، (2019ء) ۔

[8]۔ ڈاکٹر مبارک علی، ”اکبر کا ہندوستان“، صفحہ 49، فکشن ہاؤس، لاہور (1999ء) ۔

[9]۔ ملا عبد القادر بدایونی،"منتخب التواریخ"، ذکرِ حکمای اکبر شاہی، حکیم احمد تیوی، صفحہ 598۔

[10]۔ خلیق احمد نظامی، ”حیاتِ شیخ عبد الحق محدث دہلوی“، صفحات 301 - 333، مکتبہ رحمانیہ، اردو بازار، لاہور۔

[11]۔ ایضاً عامر حسینی، “پاکستان میں شیعہ نسل کشی: افسانہ یا حقیقت” ، باب ششم، “ قرون وسطیٰ کے ہندوستان میں ریاست، شیعہ اور شیعیت” از علی ندیم رضوی، تعمیر پاکستان ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، (2019ء) ۔

[12]. Yohanan Friedmann, “Shaykh Aḥmad Sirhindī”, Appendices B and C, Oxford University Press, 2000.

[13]۔شیخ احمد سرہندی، ”مکتوباتِ امام ربانی“، دفتر‌ سوم،‌ مکتوب ۹۶۔

[14]۔ڈاکٹر مبارک علی، ”المیہٴ تاریخ“، باب 9،صفحات 82 ۔ 92، فکشن ہاؤس لاہور، (2012) ۔

[15]۔ایضاً ڈاکٹر مبارک علی، ”المیہٴ تاریخ“، باب 9،صفحات 82 ۔ 92، فکشن ہاؤس لاہور، (2012) ۔


افکار و نظریات: king, Hamza, Ibraheem, writer