حکومت اور فوج

محبوب اسلم

خربوزہ چھری پر گرے یا چھری خربوزے پر کٹتا تو خربوزہ ھی ھے۔۔۔کچھ یہی حال عمران خان کی نااھل اور کرپٹ گورنمنٹ کا بھی ھی کہ لے دے کے ذلت اسی کا نام لکھی جاتی ھے۔

آپ نےسن تو لیا ھوگا کہ سی پیک کی اتھارٹی کے چئیرمین جنرل عاصم باجوہ اب اس اتھارٹی کے بےتاج بادشاہ ھونگے اور پلاننگ کمیشن کا وزیر تک ان سے جواب طلب نہیں کر سکے گا۔ اور تو اور جنرل صاحب صرف ان معاملات پر ”اپنے منتخب“ وزیراعظم کو جوابدہ ھونگے جن معاملات پر پہلے یہ اتھارٹی جوابدہ ھونے کی حامی بھرے گی۔۔۔دوسرے لفظوں میں جنرل صاحب ”وجیراعجم“ کو کبھی بھی ٹھینگا دکھا سکتے ھیں کہ جوقانون پاس ھونے جارھا ھے اس کی رو سے تو اس اتھارٹی کا احتساب یہ اتھارٹی خود کرے گی؟؟؟ لیکن ھنسنا منع ھے۔۔۔کہ یہ بہت ھی سنجیدہ قومی مسائل ھیں۔۔۔لہذا باادب با ملاحظہ ھشیار!!!

اور وہ مویا کلبھوشن تو یاد ھوگا نا آپ کو۔۔۔اس پر بھی فوجی بھائیوں نے ھمارے کشمیری بہن بھائیوں کیساتھ یکجہتی کی ٹھان لی ھے اور اب یہ ایک گھنٹہ کھڑے ھو نہ ھو لیکن کلبھوشن بیچارے کو عدالت سے اپنی سزا پر نظر ثانی کا حق دیا گیا ھے۔۔۔اور یہ کام بھی اتنی راز داری سے ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پایہ تکمیل تک پہنچا ھے کہ خود صدر صاحب کو معلوم تک نہ ھو سکا کہ آرڈیننس میں آخر لکھا کیا ھے۔۔۔جو اوپر سے حکم آیا وہ صدر صاحب بجا لائے!!!

لیکن آخر پی ٹی آئی اور عمران خان کو یہ سب کچھ کرنے کی ضرورت کیا ھے؟؟؟ اس سارے گورکھ دھندے کو سمجھنے کیلئے آپ کو دو عدد حقائق کو سمجھنے کی ضرورت ھے کہ آخر کٌتی چوراں نال رَلی تے کیوں رَلی؟؟؟

پہلی حقیقت یہ کہ نواز شریف نے چاھے جتنا بھی رَج کر چوری کی اور اس سے قطع نظر کہ وہ بھی کبھی اسی فوج کا چہیتا تھا لیکن۔۔۔اب وہ فوج کو حصہ بقدر جثہ دینے کے موڈ میں نہیں تھا۔ مثال کے طور پر دو ھزار سترہ میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے آرمی کو ملک میں ترجیح بنیادوں پر موبائل سروس کا لائسنز دینے سے انکار کر دیا۔ 

اسی طرح نواز شریف حکومت نے دو ھزار سولہ میں ملک میں گیس اور آئل کی ترسیل کیلئے پائپ لائینز کا ٹھیکہ بھی فوجی فرٹئیر آئل کمپنی جو کہ فوجی بھائیوں کی فرٹئیر ورکز آگنائزیشن کی ھی ایک ذیلی کمپنی ھے کو دینے سے انکار کر دیا۔ لیکن دو ھزار اٹھارہ میں عمران خان کی حکومت نے یہ ٹھیکہ چپ چاپ فرنٹئیر آئل کمپنی کو دے دیا۔ 

دوسری طرف نواز شریف حکومت نے فوج کیطرف سے سی پیک پر اس مجوزہ اتھارٹی کو بھی رد کر دیا تھا۔۔۔لیکن آج یہ سی پیک اتھارٹی نہ صرف وجود میں آچکی ھے بلکہ ھر طرح کے احتساب سے بھی بالا ھے۔ تو اگر آپ پاک فوج اور نواز شریف کی حکومت کے بیچ اس رخنے کو سمجھ گئے ھیں تو پھر آتے ھیں دوسری حقیقت کیطرف۔۔۔

دوسری طرف ھماری تحریک انصاف اور عمران خان کی سیاست تھی جو دو ھزار تیرہ میں دردناک شکست کھانے کے بعد دھرنے کی بند گلی تک پہنچ چکی تھی۔۔۔لیکن اسوقت تک اس ”تبدیلی“ کی جماعت میں جہانگیر ترین, شاہ محمود قریشی، عمر ایوب جیسے انگنت اسٹیلیشمنٹ کے کارندے اپنی جگہ بنا چکے تھے۔۔۔اور جہاں تک رھی بات ”سچے اور کھرے“ ”ایماندار“ عمران خان کی تو وہ یہ ”تکلفات“ دو ھزار گیارہ کے مینار پاکستان کے جلسے کے بعد ترک کر چکا تھا اور اقتدار کا حصول اسکی اولین اور آخری خواھش تھی۔۔۔فارن فنڈنگ کیس، وجہہ الدین کیس، کے پی احتساب کمیشن کیس اور اب تو چینی ، آٹا، ادویات اور پٹرول مافیا اسکے کالے کرتوتوں کا منہ بولتا ثبوت ھیں۔

یوں یہ وہ حالات تھے جنھوں نے کٌتی اور چوروں کو رَلا دیا اور گولڈن چانس پانامہ لیکز نے مہیا کر دیا اور پھر بابا رحمتے کو اس کھیل میں اتارا گیا۔۔۔اور باقی کی کہانی تو آپ کو معلوم ھی ھے۔ یوں اس ملک کے محافظ اور تبدیلی کے دعویدار اب ملکر اس ملک کو بھبھنوڑ رھے ھیں اور لطیفہ یہ ھے کہ چور صرف نواز شریف ھے؟؟؟

چور تو اس ملک میں سارے ھی رھے۔۔۔کیا زرداری نواز شریف سے کم چور ھے؟؟؟ لیکن وہ آج بھی سندھ کا بےتاج بادشاہ ھے۔۔۔آخر کیوں؟؟؟ اسلئیے کہ وہ ملکر کھاتا ھے۔۔۔اورسندھ کی عوام کا حال آپ دیکھ لیں۔ یہی کچھ ایم کیو ایم کی حقیقت ھے۔۔۔کیا الطاف حسین کے کل کے ساتھی حاجی پرھیزگار تھے؟؟؟ لیکن آج بھی انکو ”جگہ“ دی گئی ھے۔۔۔یہ فروغ نسیم اور وسیم اختر، انیس قائمخانی اور فاروق ستار۔۔۔سب آخر کس کھیت کی مولیاں ھیں؟؟؟

تو صاحبان۔۔۔اس ملک میں ”سیاست“...کرپشن کہا جائے تو زیادہ بہتر ھے۔۔۔ کرنی ھے تو فوج کو جھکتے جھکتے سلام بولنے کا ھے بس!!! یوں عمران خان کی حکومت نے سلام ٹھوکنے کے اگلے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دئیے ھیں اور اب تو یہ سیدھا سیدھا فوج سے ھمبستر ھو چکی ھے۔۔۔لیکن اسدفعہ مسئلہ اٹک گیا کمبخت معیشت کا۔۔۔اگر یہ کچھ مہینے اور نہ سنبھل سکی تو پھر آپ نے وہ ضربالمثل تو سن ھی رکھی ھوگی کہ بھوکے نے بھوکے کی چوری کی اور دونوں ھی غش کھا کر گِر پڑے!!!

لیکن اب سوال یہ ھے کہ اس افسوسناک صورتحال کا حل کیا ھے؟؟؟ آپ جیسے ھی پاک فوج کو اسکی آئینی حثیت یاد دلاتے ھیں وہ آپ کو ”غدار“ گرداننا شروع کر دیتی ھے اور انھی کے پالتو ”بابے رحمتے“ آپ کو ”اندر“ یا ”باھر“ بھی کر سکتے ھیں۔۔۔

اس سلسلے میں لاھور میں ھمارے ایک جاننے والے ھیں ڈاکٹر خلیل۔۔۔بقول انکے فوجی ”بھائیوں“ کو الزام دینا فضول ھے۔۔۔اس ساری صورتحال کے ذمہدار ھمارے سیاستدان ھیں جو اپنے اپنے وقت پر فوج کے کاندھوں کا استعمال کرتے آئے ھیں اور ایک سے بڑھکر ایک اس بات کا خواھشمند ھوتا ھے کہ وہ فوج کا ”چہیتا“ بنے۔۔۔یوں اصل میں یہ موقع پرست سیاستدان ھی ھیں جو اقتدار کی خاطر اپنے ضمیر اور آدرشوں کا سودا کرنے کو ھمہ وقت تیار رھتے ھیں۔۔۔کیا بھٹو، کیا نواز شریف اور کیا عمران خان!!!

تو پھر اس شیطانی چکر کا حل کیا ھے؟؟؟ جناب حل یہ ھے کہ جب تک عوام انقلابی راہ اختیار نہیں کرتے اور ان کرپٹ سیاستدانوں اور فوجی جرنیلوں کیخلاف کھڑے نہیں ھوتے جیسا کہ ترکی میں عوام نے کیا۔۔۔اسوقت تک ھمیں اس گھوڑے، گدھے اور کتے والے ڈرامے کو دیکھنا پڑے گا۔۔۔پچھلے بہتترسال سے یہ ڈرامہ نئے کرداروں اور نئے سیٹ کساتھ جاری و ساری ھے لیکن اسدفعہ ”تبدیلی“ اور ”ایاک نعبدو وایاک نستعین“ کے تڑکے نے مزہ دوبالا کر دیا اور ھم ناظرین سمجھے کہ یہ آخری قسط ھے اور اب یہ کھیل ختم۔۔۔ لیکن ”ھدایتکار“ ھم سے دس چالیں آگے کی سوچ رکھتا ھے اور ھماری ”کٌتی“ پھر ”چوروں“ کے سنگ رَل گئی!!!

انگریزی کی ایک کہاوت ھے۔۔” نو پین۔۔۔نو گین“...یعنی تکلیف اٹھائے بنا آپ کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ اگر ھم اپنے حالات بہتر کرنا چاھتے ھیں تو ھمیں اپنے اپنے ذاتی مفادات اور ”قیمے والے نان“ اور ”برادری“ سے اوپر اٹھ کر معاشرے کے اجتماعی مفادات کیلئے کام کرنا ھوگا اور ایک ایسی عوامی قیادت کو آگے لانا ھوگا جو پڑھی لکھی ھو، قابل ھو، با اصول ھو اور سب سے بڑھکر ھم میں سو ھو۔۔۔ھمارے محلوں اور بازاروں میں ھمارے ساتھ ”زندگی“ کی گاڑی کھینچ رھی ھو۔۔۔ھمارے مسائل کا خود بھی سامنا کر رھی ھو۔۔۔کیا ایسا ممکن ھے۔۔۔بالکل ممکن ھے۔۔۔کیا ھمارے ھمسائے میں وہ کافر ھوتے ھوئے بھی عام آدمی پارٹی کو کھڑا نہ کر گئے؟؟؟ ھم تو پھر دین اسلام اور ایک برتر اخلاقی اصولوں کے دعویدار ھیں۔۔۔کیا ھم ایک ایسی تحریک کی بنیاد نہیں رکھ سکتے؟؟؟ مجھے امید واثق ھے کہ ھم بنجر قوم نہیں ھیں اور خاص طور پر ھماری نوجوان نسل اور مڈل کلاس جو شہروں اور قصبوں میں رھتی ھے۔۔۔اسمیں بے پناہ صلاحیت ھے۔۔۔ھم ایک زندہ قوم ھیں اور ھم اپنے اصلاف کے خوابوں کو کبھی جھوٹا ثابت ھونے نہیں دئینگے۔۔۔
ان شا اللہ!!! 

اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ھو۔۔۔آمین
والسلام

 


افکار و نظریات: حکومت اور فوج