حضرت عمار یاسرؓ  ، فضائل و شہادت
ریسرچ رپورٹ

حضرت عمار بن یاسر ؓ نے اسلام کی راہ میں کفار کی بے پناہ اذیتیں برداشت کی تھی.عالم یہ تھاہ آپ ؓ کی کمر زخموں کے نشانوں سے بھر گئی تھی لیکن آپؓ نے دین کی حفاظت کی اور اسکی ناموس پر جاں نچھاور کرنے پر تیار ہوتے.رسول کریمﷺ آپؓ کو دیکھتےتو آبدیدہ ہوجاتے اور آپؓ دعا فرمایا کرتے تھے کہ یا الٰہی عمارؓ کو استقامت دین اور اس کی خدمات کا اجر عطا فرما.

روایات میں آتا ہے کہ جب آپؓ پر مظالم ہوتے تو لگتا کہ یہ آپؓ کی زندگی کا آخری دن ہوگالیکن یہ کریم آقاﷺ کی دعا تھی کہ جاں بلب حضرت عمارؓ طویل عرصہ حیات رہے اور آپؓ کے قتل کے بارے میں جو ارشاد فرمایا وہ ظہور پذیر ہوا.

مسجد نبویﷺ کی تعمیر کا واقعہ ہے.حضرت عمار بن یاسرؓ اینٹیں ڈھو رہے تھے.ایک بار تو صحابہ کرام ؓ نے کچھ زیادہ ہی بوجھ ان پر لاد دیا تو آپؓ نے شکایت کی ” یا رسول اللہ، یہ تو مجھے مارہی ڈالنا چاہتے ہیں.مجھ پر اتنا وزن ڈال دیا ہے جو وہ خود نہیں اٹھا سکتے“.

ابن مسلم اور بخاری شریف میں روایات ہیں کہ حضرت عمارؓ کے بال گھنگریالے اور گھنے تھے،کام کرنے کی وجہ سے بکھرے ہوئے تھے.رسول کریم ﷺ نے انتہائی شفقت سے انکے بالوں کی لٹ ہاتھ سے ہٹاتے ہوئےفرمایا” ابن سمیہ لوگوں کو اکہرا ثواب اور تمھیں دگنا اجر ملے گا.عمار ان کو اللہ کی طرف بلاتا ہے اوریہ اسے دوزخ کی دعوت دے رہے ہیں. میرے بیٹے عمار، تمھیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا.

 

پچھلی دو صدیوں کے وہ علماء جن کی کتب سیرت و تاریخ آج بھی آسانی سے دستیاب ہیں، ان میں بھی ان قدیمی کتب احادیث کی اس روایت کو صحیح قرار دیا گیا ہے۔  یعنی  غزوہ خندق میں حضرت عمار ؓ کے سر پر دست شفقت پھیر کر فرمایا کہ ”افسوس تجھ کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔ اسی روایت کو برصغیر میں اردو زبان میں علامہ شبلی نعما نی و علامہ سلیمان ندوی نے کتاب بعنوان سیرت النبی ﷺ کی جلد سوم میں بیان کیا ہے۔  
سیرت النبی جلد سوم (علامہ شبلی نعمانی و سلیمان ندوی) میں بھی خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی یہ مبارک حدیث نقل کی گئی۔ اور اسی کتاب میں یہ بھی تحریر ہے کہ پیشن گوئی متعدد (یعنی بہت سارے) صحابہ سے منقول ہے۔  مزید لکھا ہے کہ حضرت عمار ؓ، حضرت علی ؑ کی معیت میں (یعنی حضرت علی ؑ کے ساتھ تھے)  اور معاویہ بن ابوسفیان کے ساتھیوں کے ہاتھ سے جنگ صفین میں شہید ہوئے۔ 



 جماعت اسلامی پاکستان(دیوبندی) کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی نے بھی اپنی تصنیف خلافت و ملوکیت میں اسی مذکورہ بالا حقیقت کو اور زیادہ ریفرنسز کے ساتھ پیش کیا۔  جنگ صفین میں حضرت عمارؓ کی شہادت نے نص صریح سے یہ بات کھول دی کہ کون حق پر اور کون باطل پر تھا۔  اصل مسئلہ یہ ہے کہ  حضرت عمار یاسر ؓ  کی محبت اور  شہادت  ہی مسلمانوں کے درمیان حق و باطل کا پیمانہ ہے۔
سید ابوالاعلیٰ مودودی کے مطابق مسلمانوں نے معاویہ کو خلیفہ نہیں بنایا تھا، بلکہ معاویے نے لڑ کر خلافت حاصل کی تھی۔ مسلمانوں کے راضی ہونے پر انکی خلافت کا انحصار نہ تھا۔ سنی کتاب البدایہ والنہایہ میں سنی عالم ابن کثیر نے تحریر کیا کہ معاویے نے مدینہ طیبہ میں تقریر میں کہا کہ ”میں نے اپنی تلوار کے زورسے تم کو مغلوب کررکھا ہے۔“
اس پس منظر میں امام حسن علیہ السلام صلح پر مجبور کیے گئے جبکہ صلح حدیبیہ سے ایک عام مسلمان بھی سمجھ سکتا ہے کہ صلح سے مراد یہ ہرگز نہیں ہوتی کہ دونوں فریق حق بجانب ہیں۔  خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ حق پر تھے لیکن صلح حدیبیہ انہوں نے کس سے کی تھی؟  کیا صلح حدیبیہ کا دوسرا فریق باطل نہیں تھا!؟۔   
اس کے باوجود معاویے نے صلح کے معاہدے کی شرائط پر عمل نہیں کیا۔  عہد و پیمان کو توڑا۔  ایک عام مولوی بھی جانتا ہے کہ عہد شکن کو شرع اسلام میں کیا کہا جاتا ہے اور اس پر کیا شرعی حدود لاگو ہوتیں ہیں۔ 
معاویے نے اپنے بیٹے یزید کو جانشین بنایا۔  سنی مورخین و علماء ابن اثیر اور ابن کثیر دونوں ہی نے لکھا کہ معاویے نے یزید کے لیے بیعت بھی لینا شروع کی۔  مدینہ میں معاویہ ملوکیت کا گورنر مروان بن حکم تھا، اسکو مدینہ کے بزرگان سے رائے لینے کا کہا۔  جب مروان نے ایسا کیا تو سنیوں کے خلیفہ اول حضرت ابوبکر کے بیٹے اور ام المومنین بی بی عائشہ کے بھائی عبدالرحمان بن ابوبکر نے کھلی اور شدید مخالفت کی۔  اور سنی تاریخی کتب کے مطابق انہوں نے مروان اور معاویہ دونوں کو جھوٹا کہا۔ 
اس پر مروان نے کہا کہ اس کو پکڑ لو اور ساتھ ہی قرآن شریف کی ایک آیت سے انکے خلاف استدلال کیا۔  حضرت عبدالرحمان بن ابوبکر نے بھاگ کر اپنی بہن بی بی عائشہ کے گھر میں پناہ لی۔ 
یہ وہی مروان بن الحکم تھا جو تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان کا داماد ہے لیکن اسی کے بارے میں حضرت عثمان کی بیوی بی بی نائلہ نے اپنے شوہر سے کہا تھا کہ ”اگر آپ (حضرت عثمان) مروان کے کہے پر چلیں گے تو یہ آپ کو قتل کراکے چھوڑے گا۔“ 
مذکورہ سنی تاریخی کتب میں جو واقعات تحریر ہیں اسکے مطابق معاویہ بن ابوسفیان نے خود یزیدکو جانشین بناکر اسکے حق میں اس دور کی بزرگ ہستیوں کو مالی لالچ بھی دیا  اور دھمکیاں بھی دیں۔  خاص طور پر کتب میں تحریر ہے کہ امام حسین ؑ، عبد اللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر اور عبدالرحمان بن ابی بکر (چاروں) کو مکے سے باہر ایک نشست میں بلاکر یزید کی(پیشگی) بیعت کا اعلان کرنے کا کہا۔
  انہوں نے نہیں مانا تو معاویہ بن ابوسفیان نے کہا کہ اب تک میں تم لوگوں سے درگذر کرتا رہا ہوں۔ اب میں خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں کہ اگر تم میں سے کسی نے میری بات کے جواب میں ایک لفظ بھی کہا تو دوسری بات اس کی زبان سے نکلنے کی نوبت نہ آئے گی، تلوار اسکے سر پر پہلے پڑچکی ہوگی۔“
حضرت عمار یاسر سمیت متعدد صحابیوں کا قاتل معاویہ بن ابوسفیان تھا حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں بھی واضح لکھا کہ ان کی شہادت سے نبی ﷺ کی دی ہوئی اس خبر کا راز کھل گیا کہ حضرت عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا اور اس سے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ حضرت علی ؑ حق پرہیں ۔
حقیقت ِ حال یہ ہے کہ چوتھے خلیفہ راشد اور مسلمانوں کے امام مولا امیر المومنین حضرت علی ؑ بن ابی طالب ؑ نے معاویہ بن ابوسفیان کوشام کے گورنر کے عہدے سے معزول کردیا تھا۔  معاویہ بن ابوسفیان نے خلیفہ راشد  کے خلاف جنگیں لڑیں۔
ہم اپنے قارئین سے کہتے ہیں کہ اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کریں۔  یہ اللہ نے قرآن میں حکم دیا ہے۔  رسول اللہ حضرت محمد خاتم الانبیاء ﷺ کے اصحاب کے قاتلوں اور دشمنوں کو پہچانیں اور اُن سے نفرت کریں۔ یقینا مسلمان وہ ہے جس نے کلمہ پڑھا اللہ اور محمد رسول  ﷺکا، نماز میں درود بھیجا آل ؑ محمد ﷺپر۔ ایسے مسلمان کو  خلیفہ راشد کے باغی اور حضرت عمار یاسرؓ کے قاتل کا دفاع کرنا زیب نہیں دیتا۔  

 


افکار و نظریات: شانِ صحابہ