کھوج کے بغیر سزا مفید نہیں
آسیہ بتول 

میرپور آزاد کشمیر


اگر دنیا کے مجموعی حالات پرنظر  ڈالیں تو دل کٹ کر رہ جاتا ہے۔ مسلمان جوروستم کا شکار ہیں۔ افریقہ میں خانہ جنگی اور قحط ڈیرہ جمائے ہوئے ہے۔عربوں نے بےحسی کی چادر اوڑھ کر غیریت کا چشمہ لگا لیا ہے جس کے آرپار مسلمانوں کے دکھ درد اور زخمی بدن نہیں دیکھے جا سکتے۔کہیں جہالت اور کہیں بیگانگی کی دھند ہے۔ جس کی وجہ سے مسلمان  خود مسلمان کے لیے پرایا ہے۔
مسلمانوں کو نہ چاہتے ہوئے  زبردستی دہشت گردی کا چولا پہنا کر اس طرح موردِالزام ٹھہرایا گیا ہے کہ دنیا کو ہر مسلمان دہشت گردلگنے لگا ہے اور دور دیس کے کچھ لوگ اب معصوم لوگوں سے بھی بلاوجہ نفرت کرنے لگے ہیں۔ اسی نفرت کا شاخسانہ تھا کہ گزشتہ برس ۱۹ مارچ ۲۰۱۹ کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ایک بے رحم اور جاہل شخص برینٹن ٹیرنٹ نے دو مساجد پر حملہ کر کے ۵۱ نہتے مسلمانوں کو بلاوجہ شہید کر ڈالا۔ 
اس حملے کا شکار ہونے والے بچے بھی تھے اور بوڑھے بھی۔ وہ بےرحم اس واقعے کی لائیو کورج بھی کرتا رہا۔ تاہم اس کے جدید اسلحے سے مسلح ہونےکے باعث جب تک اس پر قابو پایا گیا وہ کافی لوگوں کو زخمی اور شہید کر چکا تھا۔ شکار بننے والے نہتے تھے اود جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسجد گئے تھے۔ ان کا قصور  کچھ بھی نہ تھا-
یہ اس شخص کی جہالت تھی، جس نے نفرت کی اندھی گولیاں چلا کر آناً فاناً کتنے ہی گھروں کے چراغ گل کر دیے اور کتنی ہی آنکھوں کے خواب نوچ کرپھینک دیے۔ ساری دنیا کی مہذب عوام نےاس واقعے کی مذمت کی۔

سب سے زیادہ قابل شتائش ردِّعمل نیوزی لینڈ کی حکومت کا تھا جس نے متاثرین کو اکیلا نہ چھوڑا شہدا کی وارث بن کر خود کھڑی ہو گئی۔نیوزی لینڈ کی خاتون وزیرِاعظم جیسنڈرا آرڈن نے ماتمی لباس پہنا مسلمانوں کے سراپے میں سر ڈھانپے بصدِاحترام تعزیتی تقریب میں شامل ہوئیں اور مجرم کو کیفرِکردار تک پہنچانے کا وعدہ نہیں بلکہ عظمِ صمیم کیا۔ 
پاکستانی نژاد میاں عبدالرشید جنہوں نے حملہ آور کو پکڑتے ہوئے شہادت کاجام نوش کیا انھیں بھی خراج تحسین پیش کیا یقیناً یہ
 دہشت گردی کا بہت بڑا سانحہ تھا جس نے حساس دلوں کو ہلا کہ رکھ دیا اور سوچ کے نئے در کو وا کر دیا کہ دنیا کا کوئی گوشہ بھی دہشتگردوں سے پاک نہیں۔

 دنیا ابھی اس واقعے کو بھولی نہیں تھی اور رونے والوں کے آنسو ابھی خشک نہیں ہوئے تھےکہ نیوزی لینڈ کی عدالت نے جمعرات کی روز ۲۷ اگست ۲۰۲۰ کو عمر قید کا فیصلہ سنا دیا ، یہ نیوزی لینڈ کی سب سے بڑی سزا تھی۔
اس سے قبل ایک شخص کو ۳۰ سال کی سزا سنائ گئی تھی۔ اس سزا نے امید کی ایک کرن کو جگمگا دیا ہے کہ اب کوئی بھی انسان یہ قدم اٹھانے سے پہلے سو بار سوچےگا۔ وہ بے رحم شخص بھی عمر کا ایک ایک لمحہ پچھتاوے  کی آگ میں جل کر بسر کرے گا اور دوسروں کے لیے یقیناً باعث عبرت ہو گا۔ 
مسلمانوں کے  لیے تو یہ ہو گا کہ دنیا کےکسی گوشے میں  تو مسلمانوں کے خون کو قابلِ قدر مانا گیا ورنہ کشمیر ، فلسطین ، شام ، برما اور روہنگیا کے مسلمانوں کے حالات دیکھ کر تو لگتا تھا کہ مسلمان گاجر مولی  ہیں ،   جب جی  چاہا کاٹ لیا-

یقیناً  یہ نیوزی لینڈ کی حکومت کا احسن قدم ہے اور اس کے لیے وہ  ستائش کے قابل ہے۔ وزیرِاعظم کا اس موقع بیان بھی لائق تحسن تھا کہ امید ہے کہ آئندہ ہم اس شخص کا نام بھی نہیں سنیں گے۔
 سزا سنائے جانے کے موقع پر شہدا کے لواحقین بھی موجود تھے۔ انہوں نےجن الفاظ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا وہ دل دہلا دینے والے تھے۔ ان کے غم کا مداوا تو ممکن نہیں تاہم گورنمنٹ ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ان کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آئی۔ اس شقی القلب انسان کو بولنے کی اجازت نہیں دی گئی نہ ہی کسی ہمدردی کا مستحق ٹھہرایا گیا۔
یہ انتیس سالہ برینٹن ٹیرنٹ شخص آسٹریلیا کی ریاست نیو سائوتھ ویلیز میں پیدا ہوا۔ ۲۰۱۰ میں باپ کی وفات کے بعد وہ یورپ اور ایشیا کے سفر پر نکل گیا۔ ۲۰۱۷ میں واپس آیا تو مسلمانوں کے خلاف دہشتگردی کا منصوبہ بنانے لگا۔ اس کی دادی اماں کا کہنا ہے کہ اس سفر نے ٹیرنٹ کو بدل کر رکھ دیا پہلے وہ ایسا نہ تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ  ان عوامل کی کھوج لگانے کی ضرورت ہے جنہوں نے اس شخص کو اتنا متنفر کر دیا تھا ۔