شہداءاور غازیوں کو سلام !

اگلا مورچہ ۔ عمر چوہدری


’وطن کی مٹی گواہ رہنا ‘جیسے عام فہم جملے کے پس منظر اور حقیقی معنوں سے آشنا ہونے کے لئے ہمیں وطن کے رکھوالوں کی ملک پر قربان ہونے کی تاریخ کے مطالعے کی ضرورت ہے ہمیں ان تمام بیٹوں کے کردار کو پرکھنے کی ضرورت ہے جنہوں نے صحیح معنوں میں اپنا کل ہمارے آج کے لئے قربان کر دیا ،سلام ان ماﺅں کو جنہوں نے اپنے لخت جگر وطن کو عطا کر دیے۔سلام ان بیویوں کو جنہوں نے اپنے سرتاج ہمیں ’دان‘ کر دیے ۔ان بھائیوں کو سلام جنہوں نے اپنے گھبرو بھائی ہمیں دے دیے ۔سلام ان باپوں کو جنہوں نے اپنے بڑھاپے کے سہارے ہم پر وار دیے۔
 یہ اتنا آسان نہیں جوان بیٹے کو پال پوس کر اس کے جنازے کو کندھا دینا لیکن یہاں تو منظر ہی اور ہوتے ہیں’ ننکانہ صاحب کا بوڑھا باپ اپنے شہید کپتان بیٹے کے تابوت کو گلی کے درمیان میں کھڑا ہو کر سلیوٹ کرتا ہے ،شیر خان کا بھائی وطن دشمن ٹولے کو دھکے دے کر مزار میں داخلے سے روک دیتا ہے ،بوڑھی ماں پکار پکار کر کہتی ہے کہ شہید بیٹے کی بیٹی کو پال کر بڑا کروں گی اسے فوج میں بھرتی کرواﺅں گی ،کل ہی شہید ہونے والے لیفٹیننٹ کی والدہ کہہ رہی تھیں کہ خاوند اور بیٹے کی شہادت کے بعد میں دوسرا بیٹا بھی قربان کرنے کو تیار ہوں ،کیپٹن اسفند یار بخاری کی والدہ کا کہنا ہے کہ مجھے فخر ہے کہ میرے بیٹے کی شہادت نے کئی گھروں کو اجڑنے سے بچا لیا ،کبھی اس معصوم بچی سے متعلق غور کیجئے گا جو اپنے شہید باپ کی قبر پر ”سالگرہ “منانے آتی ہے ،ان بچیوں کے جذبات کو دیکھئے گا جو پاس ہونے کی خوشی شہید با پ کے مرقد پر آ کر مناتی ہیں ،لالک جان کی یونٹ کا ریٹائرڈ اہلکار اپنی تسکین کے لئے ان کی یادگار پر حاضری لگوانے آتا ہے ۔‘
حیرت ہے ان لوگوں پر جو فواج پاکستان کی قربانیوں کو پس پشت ڈال کر تنقید کے نشتر چلاتے چلے جاتے کل ہی سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ دیکھ کر دل خوش ہو گیا کہ ”فوج پر بلا جواز تنقید اور موجیں “کرنے کے فتوے دینے والے اپنے بیٹے کو فوج میں بھیج کر” شہید کرانے کا مزہ “دیکھیں !تاکہ انہیں اندازہ ہو سکے کہ فوج کس قدر موج کرتی ہے ۔
آرمی میوزیم لاہور میں نصب شہداءکی طویل فہرستیں دیکھ کر مجھے فخر ہوا کہ 22ہزار سے زائد افسران اور سپاہیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ہمیں تحفظ فراہم کر رکھا ہے ۔
آج یوم ستمبر ہے ،شہداءاور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا دن !گھروں سے نکلئے اور شہداءکے حضور حاضری دیجئے ،ان کے ورثاءکو ملئے ،تحفے اور پھول پیش کیجئے ،محبتوں کا اظہار کیجئے اس عہد کے ساتھ کہ وطن کی آن بان اور شان کے لئے ہم اپنے شہداءاور غازیوں کے دست راست بنیں گے ۔مجھے فخر ہے کہ میںاگلے مورچے میں تعینات قلم کا وہ سپاہی ہوں جسے اپنے شہداء،غازیوں اور افواج پاکستان سے عشق ہے ۔

 

 


افکار و نظریات: شہداءاور غازیوں کو سلام