بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ اسلام کا مشن ہے یا شیطان کا
نذر حافی


آئیے ایک دوسرے کے گلے کاٹیں، ایک دوسرے کو گالیاں دیں، ایک دوسرے کے خلاف نعرے لگائیں، ایک دوسرے کی توہین کریں،  جب ایسی دعوتیں روشنیوں کے شہر کراچی میں دی جائیں تو پھر بہت کچھ سوچنا چاہیے۔کراچی کو ہم اتنا نہیں جانتے جتنا ہمارا دشمن جانتا ہے، ہم زیادہ سے زیادہ اسے شہر قائد کہہ لیتےہیں ، بہت ہمت کریں تو  یہی کہیں گے کہ یہ منی پاکستان ہے،  لیکن اس منی پاکستان  کی ان گنت خوبیوں کا شاید بہت کم لوگوں کو پتہ ہوگا۔ اس  کی  سمندری تجارت،  دیگرتجارتی مراکز اور آثار قدیمہ سے ہونی والی آمدن باقی پورے پاکستان سے زیادہ ہے۔   اسی لئے  اسےپاکستان کا تجارتی دارالخلافہ بھی کہاجاتا ہے۔
دنیاکے بلند ترین فواروں میں سے ایک کراچی جیٹ فونٹین ،پاکستان کی سب سے بڑی سٹاک مارکیٹ ، تمام تجارتی کمپنیوں کے مرکزی دفاتر،دنیا کے بڑے ائیر پورٹس میں شامل جناح انٹر نیشنل ائیر پورٹ ،دنیاکی بڑی بندرگاہوں میں سے دو بڑی بندرگاہیں ، دنیاکی ایک گنبد والی سب سے بڑی مسجد ،مسجد طوبی ،پاکستان ائیر فورس میوزیم،قومی عجائب گھر، دنیاکے خوبصورت ترین ساحلوں میں سے ایک وسیع و عریض اور حسین و شاد ساحل بھی کراچی میں ہے۔ 
ہماری دشمن طاقتیں ایران اور عراق کی جنگ کروا کر دونوں کو کئی صدیاں پیچھے دھکیل چکی ہیں، افغانستان اور شام کو کھنڈر بنا دیا گیا ہے، اور کتنے ہی عرصے سے کراچی کو ویران کرنے اور اس کا امن پامال کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ ابھی  کراچی میں  ایک فرقہ وارانہ  ریلی کو چند دن نہیں گزرے تھے کہ  یہ خبر گرم ہوگئی کہ خلافت راشدہ چوک   کو پولیس نے مسمار کر دیا ہے، ساتھ ہی سوشل میڈیا پرایسے میسج وائرل ہونے لگے کہ سب لوگ وہاں پہنچ جائیں اور حکومت سے مطالبہ کریں کہ عزادار چوک بھی گرایا جائے۔
دوطرفہ زبردست نعرے بازی ہوئی، گالی گلوچ اور فائرنگ وغیرہ تو ہونی ہی تھی،  کسی نے یہ نہیں کہا کہ بھائی  احتجاج ہونا چاہیے اور ضرور ہونا چاہیے، لیکن یہ احتجاج تو  سرکاری اداروں میں بیٹھی اُن کالی بھیڑوں کے خلاف ہونا چاہیے جن کی یہ کارستانی ہے، نہ کہ اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے کسی دوسرے فرقے کے  عام لوگوں کے خلاف۔
اس آگ کو مزید بھڑکانے کیلئے  سرکاری اہلکار عزادار چوک بھی پہنچ گئے۔ مقصد صرف دوسرے فرقے کو بھی مشتعل کرنا تھا۔پس پردہ طاقتوں نے یہ کھیل کھیلا اور بیٹھے بٹھائے لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا۔
یہاں پر چند کردار  ہماری توجہ چاہتے ہیں ، ان کرداروں کو سمجھنا ضروری ہے، پہلا وہ کردار ہے جس نے اس ڈرامے کی سٹوری لکھی جس کی پلاننگ کے مطابق یہ نفرت اور تعصب کا کھیل کھیلا گیا۔ 
دوسرا کردار اُن باوردی اہلکاروں   پر مشتمل ہے جنہیں سانحہ ساہیوال کی طرح  ہمیشہ بدنام کرنے کیلئے آگے کردیا جاتا ہے، وہ اہلکار یہاں بھی آگے بڑھے، انہوں نے بیٹھے بٹھائے ،خواہ مخواہ خلافت راشدہ چوک گرا دیا اور پھر مزید حالات خراب کرنے  کیلئے عزادارچوک پہنچ گئے۔ 
تیسرا کردار وہ ہے  جس نے  اس شیطانی منصوبے کو کامیاب کروایا، عوام کو بیوقوف بنایا، اس مکار ترین گروہ نے لوگوں کو خلافت راشدہ چوک گرانے والے اصلی شیطانوں کے خلاف احتجاج کرنے  کے بجائے ، احتجاج کا رُخ  ایک دوسرے فرقے کے خلاف  موڑ دیا۔ چنانچہ باقاعدہ منصوبے کے تحت خلافت راشدہ  چوک کو گرایا گیا اور پھر  بیچارے عوام کو بھڑکایا گیا۔
اب جہاں پر انسانی جانوں اور جذبات سے کھیلنا ، لوگوں کو مشتعل کر کے  تماشا دیکھنا اور بیرونی استعماری آقاوں کے ایجنڈے کی تکمیل کو جرم ہی نہ سمجھا جاتا ہو وہاں عام آدمی کو  اتنے جلدی مشتعل نہیں ہونا چاہیے، یعنی  کبھی بھی مخالفت اور  مذہبی جذبات میں اندھا نہیں ہونا چاہیے۔ 
جب بھی کسی کی حق تلفی ہو، یا  اُس کے جذبات کو ٹھیس پہنچے، تو اسے حق ہے کہ احتجاج کرے، لیکن وہ اتنا تو سوچے کہ مجھے کس کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔ وہ لوگ جو مذہبی معاملات میں فورامشتعل ہوجاتے ہیں،  سوشل میڈیا پر ہی کوئی پوسٹ دیکھ کر مرنے مارنے پر تُل جاتے ہیں،کسی کی ایک  آڈیو یا ویڈیو کے بعد سروں پر کفن باندھ کر میدان میں اترجاتے ہیں ، اُن سے ہماری یہ دست بستہ عرض ہے کہ وہ اتنا تو سوچیں کہ ہمسائے کو ہمسائے اور بھائی کو بھائی سے لڑوانا   یہ اسلام کا مشن ہے یا شیطان کا۔