بلوچستان میں خونِ ناحق کا بہتا دریا
محبوب اسلم


صوبہ بلوچستان میں بلوچی بہن بھائیوں کی عمومی حالت زار پر انکے جائز تحفظات کو مسلسل نظر انداز کیا جا ر ہا   رہے۔ اور تاریخی طور پر حکومت پاکستان نے 1973 سے جوفوجی آپریشن علحیدگی پسندوں کیخلاف کیا اسکے اثرات پچھلے پچاس سالوں میں مزید بھڑکے اور قریباً تمام ہی بڑے قبائل کے سردار کبھی فوج کے تعاون سے حکومت کا حصہ ررہے اور کبھی زیر عتاب رہے۔ کبھی مری خاندان، کبھی مینگل اور کبھی بگٹی خاندان اس مدو جزر کا حصہ بنتے رہے۔ 
اس سارے کھیل میں بلوچ علحیدگی پسند تنظیموں کو بیرون ملک سے بھی مدد ملتی ر ہی ۔۔۔لیکن بنیادی قصور ہمارا ہی ہے کہ ہم   نے معاملات کو افہام و تفہیم  سے سلجھانے کی کبھی کوئی سنجیدہ اور جامع کوشش نہیں کی۔۔۔حکومت چارہے وہ بھٹو کی ہو ، آرمی آمروں کی یا پھر  نواز شریف، بے نظیر یا زرداری کی ہو ۔۔۔ہو  حکومت نے ان سرداروں کو ایکدوسرے کیخلاف استعمال کیا اور یوں کبھی کوئی ایسا حل طے نہ پا سکا جسمیں یہ تمام ھی قبائل اور انکے سرداروں کو ساتھ بیٹھا کر ان معاملات کا پائیدار حل نکالا جا سکتا یوں ہو  قبیلہ ایک خاص وقت میں اقتدار کا حصہ بھی ر ہا   اور دوسرے اوقات میں مسلح جدوجہد میں بھی شامل ر ہا  ۔ اس میں شاید ایک آدھ قبیلہ ھی مستثنی ہو لیکن عمومی طور پر پچھلے پچاس سال سے بلوچستان میں یہی شرمناک کھیل کھیلا جا ر ہا   رہے جس کے ذمہدار قبائلی سردار، حکومتی عہدیدار اور فوج ر ہی  رہے۔ 
یوں جہاں اس قتل و غارتگری میں بیرونی ھاتہوں  کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا لیکن وہیں  ان قبائل کیساتھ ایک مکمل اور جامع مذاکرات کا نہ ہو نا حکومت، قبائلی سرداروں اور فوج کی سراسر ناکامی رہے جو اس قتل و غارتگری کیساتھ ساتھ قومی وحدت اور اسلامی بھائی چارے کیلئے بھی خطرہ بن چکی رہے۔  
لیکن دوسری طرف عالم اسلام کے جید علما اور مشائخ نے بھی امت کی یکجہتی اور خاص طور پر شیعہ سنی تفرقے کی خلیج کو کم کرنے میں کوئی خاطر خواہ کاوش اور دیر پا اقدامات نہیں اٹھائے۔ کیا ملک عزیز میں شیعہ، دیوبندی، اہلحدیث، اہلسنت اور بریلوی مسالک سے منسلک علما اور مشائخ کا یہ فرض نہیں بنتا کہ باہمی عزت و تکریم اور امن و آشتی کے پائیدار ماحول کیلئے کام کیا جائے۔ 
شیعہ سنی کی اس تفریق کے تاریخی پس منظر کو جو کہ خالصتاً ایک سیاسی و اخلاقی مسئلہ تھا اسے مذہبی اور دینی فرق کے رنگ میں کیوں اور کیسے رنگا گیا اس پر بحث کی گنجائش ضرور نکلتی ہے لیکن ایک دوسرے کو کافر کہہ کر ایک دوسرے کی گرن مارنا کہاں کا اسلام ہے؟؟؟ 
کیا لیبیا، عراق، شام اور اب یمن میں امت کی تباہ حالی ہم  اری آنکھیں  کھو لنے کیلئے کافی نہیں؟؟؟ کب اس امت کے علما اور مشائخ اپنی ذمہ داریاں پوری کرینگے۔ کب سنی علما شیعہ بہن بھائیوں کو کافر کہنا بند کرینگے؟؟؟ کب شیعہ علما صحابہ اکرام کو برا بھلا کہنا ختم کرینگے؟؟؟
کب تاریخی واقعات کو حقیقت پسندانہ نقطہ نظر سے دیکھتے ہوئے  یزید کو غلط اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی اخلاقی برتری کو مانا جائیگا اور معاملات کو کفر کے فتووں اور صاحبہ اکرام پر تبروں جیسی واہیات رسموں سے آزاد کروایا جائیگا؟؟؟ 
کیا شیعہ اور سنی دونوں طرف کے علما اور مشائخ میں کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو ان معاملات پر آگے بڑھکر اس نفرت اور تفرقہ بازی کے آگے بند باندھ سکے؟؟؟ 
امید کرتا ہوں  جہاں  بلوچ قبائلی سردار، حکومت وقت اور آرمی مل بیٹھ کر معاملات کا ایک جامع اور کثیرالجہتی حل نکالیں گے اور افہام وتفہیم سے مسائل کو حل کرینگے وھاں ھی ہم  ارے شیعہ، دیو بندی، اھلحدیٹ، اھلسنت، اور بریلوی علما اور مشائخ بھی اپنی اپنی ذمہداری محسوس کرتے ہوئے  آگے بڑھینگے اور ایکدوسرے کو گلے سے لگا کر اسلام کے بنیادی عقائد پر جو کہ ہم   سب میں مشترک ہیں  کی بنیاد پر امت کی یکجہتی پر کام کرینگے۔ 
اور سب سے بڑھ کر ہم   سے ہر ایک پاکستانی ذاتی طور پر تفرقہ بازی اور قومیت پسندی اورلسانیت پر لعنت بھیجتے ہوئے  دوسروں کو سب سے پہلے انسان پہو مسلمان اور پہو  پاکستانی سمجھتے ہوئے  برتاؤ کرے۔ صرف انسانیت کا ہی رشتہ اتنا مضبوط ہو تا رہے کہ ہم   کسی کی طرف ظلم و زیادتی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔۔۔لیکن ہم   تو پہو  اسلامی بھائی چارے اور پہو  پاکستانیت کے قومی رشتے سے بھی باہمی  طور پر منسلک ہیں ۔
اللہ ربالعزت ہمیں  نیکی کی توفیق دے اور امت میں یکجہتی  اور اتحاد کیلئے سرگرم رکرہے۔۔۔آمین 

 

 


افکار و نظریات: بلوچستان میں خونِ ناحق