مسٹر علی جاپانی، بدھ مت سے اسلام تک 

 منظوم ولایتی

انسانی علوم (Human  Sciences) کے ماہرین کے مطابق تاریخ انسانی میں  انسان دوسروں سے متاثر ذیادہ ہوا ہے  اور مُاثِّر کم ثابت ہوا ہے۔ اور جو لوگ واقعاٙٙ  ماثّر  ثابت ہوتے ہیں وہ نابغہ سمجھے جاتے ہیں۔ اسلیے ہر عصر و صدی میں نابغہ روزگار شخصیات معدودے ہی ملیں گی۔ لوگوں کا دوسروں سے یہی متاثر ہونا ہی باعث بنتا ہے کہ ادیان، ثقافتیں اور نظریات کوبہ بہ کوبہ سفر کرتے رہے ہیں آج بھی یہی ہورہا ہے اور یہی سلسلہ تا ابد جاری و ساری  رہے گا۔

آج کی اس تحریر میں  مسٹر علی جاپانی نام کے ایک شخص کا قارئین کے سامنے  تعارف مقصود ہے۔مسٹر علی جاپانی جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں بدھ مت کے ایک پیروکار خاندان میں آنکھ کھولتے ہیں۔ بچپن سے مطالعے کے دُھنی تھے۔بالخصوص ادیانِ عالم کا مطالعہ ان کا پسندیدہ موضوع رہا ہے۔  یہی وجہ ہے کہ وہ جامعة المصطفیٰ العالمیہ سے ادیان شناسی کے شعبے میں ماسٹرز کررہے ہیں۔

مسٹر علی جاپانی سے جب بدھ مت سے اسلام تک کے سفر کے بارے  میں سوال کیا تو کہنے لگے:

 "میں بنیادی طور پر سفر کا عاشق ہوں۔ اب تک دنیا کے  پاکستان سمیت سات سے آٹھ ممالک کا سفر کرچکا ہوں۔ویسے تو جب  میں جاپان میں ہوا کرتا تھا تو دنیا کے اسلام سمیت سینکڑوں ادیان و مکاتب فکر کا ذاتی ذوق و شوق کی بِنا پر مطالعہ کرچکا تھا،  البتہ جس میں ھندومت، تاومت، جین مت، مسیحیت ، یھودیت اور اسلام سرفہرست ہیں۔ جب میں آج سے تقریباٙٙ آٹھ نو سال قبل ترکیہ سفر پر نکلا تو وہاں مجھے اسلام کے بارے میں بہت قریب سے آشنائی کا موقع ملا۔ اور وہاں اسلام کے مختلف مکاتبِ فکر کو بھی قریب سے دیکھا جس میں شیعہ سنی، تصوف، اسماعیلی اور بوھری قابل ذکر ہیں۔ اور میں نے اسلام بھی ترکی میں ہی  قبول کیا تھا اور پھر جاپان آنے کے بعد ایران جانے کا ارادہ کرلیا"۔

مسٹر علی جاپانی سے جب یہ سوال ہوا کہ ماشاء اللہ سے ایک دفعہ پاکستان کا سفر بھی کرچکے ہو ہمارا ملک کیسا لگا اور باقی جن ممالک میں آپ جاچکے ہو اُن کی نسبت پاکستان کیسا ہے ؟

تو انہوں نے کہا کہ افسوس کے ساتھ پاکستان میں میں صرف کراچی شہر دیکھ چکا ہوں باقی پاکستان دیکھنے کا موقع نہیں ملا ۔ مجھے پاکستان کے کھانے بہت ذیادہ پسند ہیں چونکہ وہاں کے لوگ  چٹ پٹے اور مصالحے دار کھانوں کو پسند کرتے ہیں جو مجھے بہت پسند ہیں۔

گفتگو کے دوران راقم نے جب اُن سے یہ کہا کہ میرا تعلق شمالِ پاکستان سے ہے تو کہنے لگے کہ ہنزہ، گوجال، گوپس یسین وغیرہ  میں اسماعیلی زیادہ ہیں۔  مزید برآں  وہاں شیعہ سنی کے علاوہ نوربخشی نام کے ایک مکتبِ فکر کے لوگ بھی پائے جاتے  ہیں۔جس ہر راقم کو ان کی معلومات پر رشک ہوا چونکہ اس طرح کی  معلومات تو خود پاکستان کے دوسرے صوبوں کے لوگ بھی شاید نہیں رکھتے ہوںگے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نوربخشی مذھب کے پیروکاروں کا مرشد پیر محمد نوربخش ہے!! کہتے ہیں کہ پیر محمد نوربخش کا روضہ تہران کے قریب ہے کہ جہاں پر وہ ایک بار زیارت پر بھی جاچکے ہیں!!!

مسٹر علی جاپانی نہایت ہی نفیس قسم کے انسان ہیں آج شام کو جب راقم نے انہیں اپنے روم میں چائے پینے کی پیشکش کی تو کہنے لگے کہ "تکلّف نہ کیحیے میں پاکستانی چائے نہیں پی سکتا چونکہ وہ دودھ سے بنتی ہے"۔ پھر میں نے کہا کہ جناب پاکستانی نہیں ایرانی چائے سے تواضع کی جائے گی جس میں دودھ نہیں ہوگا۔ تب وہ کہیں جاکر چائے پینے پر راضی ہوئے۔   انہوں نے چائے پینے کے بعد پیالے کو میرے اصرار  کے باوجود خود ہی دھوکر میرے حوالے کیا۔ شاید یہ جاپانیوں کے آداب میں سے ہے!!!

پاکستان کی سیایسی شخصیات سے متعلق بات کرتے ہوئے کہنے لگے کہ بینظر بھٹو اور ذاالفقار  علی بھٹو بہترین رہنما تھے ۔جنرل ضیاءالحق کے بارے میں کہنے لگے کہ وہ متعصب تھے جبکہ قائد اعظم محمد علی جناح ایک فراخ دل شیعہ اثناء عشری مسلمان تھے۔
کہنے لگا کہ دنیا میں فقط شیعہ ہی وہ مذھب ہے جو علی ولی اللہ کا ورد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علیؑ اسلام کی شناخت اور قوت کا نام ہے۔

علیؑ امام من است و منم غلام علیؑ
هزار جان گرامی فدای نام علیؑ

میرے اس سوال پر کہ کیا آپ کے گھر والے مسلمان ہیں؟ کہنے لگے کہ نہیں وہ سب بدھ مت کےپیروکار ہیں، اور مزید بتایا کہ جاپان کے لوگ اس وقت ظاہراٙٙ تو بدھ مت کے مدعی ہیں لیکن وہاں اکثریت مُلحدین(ethiest ) کی ہے۔

مسٹر علی جاپانی  تین زبانوں  یعنی جاپانی، انگریزی اور فارسی  پر عبور رکھتے ہیں اور مستقبل میں اردو سیکھنے کے بھی متمنی  ہیں۔

  مزیرد بر آں کہ جیسا کہ اوپر ذکر کرچکا ہوں کہ موصوف اس وقت جامعة المصطفیٰ العالمیہ (Al_Mustafa International University)  میں ادیانِ عالم کے شعبے میں  ماسٹر کر رہے ہیں اور مستقبل میں جاپان میں اسلام کی ترویج کے خواھشمند ہیں۔

ان کا کہنا ہے اسلام محبت اور بھائی چارہ گی کا دین ہے۔ مسلمانوں کو فرقہ واریت سے نکل کر اسلام کو بطور نظامِ زندگی قبول کرنا ہوگا۔ یوں آج کی معاصر ضروریات کا حل ممکن ہے۔

اللہ پاک مسٹر علی جاپانی کو اپنے نیک مقاصد میں کامیاب فرمائے۔

زیرِ نظر عکس میں نظر آنے والے تینوں افراد  کے نام بالترتیب دائیں سے مسٹر علی جاپانی، ڈاکٹر حُسین اور راقم ہیں۔  ڈاکٹر حُسین جن کا تعلق وسطی افریقی ملک کانگو سے ہے، جنکا تعارف پہلے  ایک تحریر میں کراچکا ہوں، جو مختلف ویب سائیٹس اور اخبارات میں " ڈاکٹر حسین کا مسیحیت سے اسلام تک کا سفر" کے عنوان سے چھپ چکا ہے۔

یہ تصویر  چائے پینے کے دوران، اُن کی اجازت سے بنائی تھی