طوری قبیلے کا تعارف


مجتبی حسن طوری

طوری اصل میں پشتون نہیں ہیں ۔ یہ قبیلہ عربوں کے ایک مشہور قبیلے جھنی کی ایک شاخ ہے۔ پاکستان میں ان کی ایک بڑی تعداد وادی کرم میں آباد ہے۔ اسے کرم ایجنسی بھی کہاجاتا ہے۔ اس کا مکمل نام کرم ایجنسی پارا چنار ہے۔

یہ وادی سر سبز و شاداب پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے۔ محل وقوع کے اعتبار سے پاکستان کے شمال مغر ب میں افغانستان کے باڈر کے ساتھ ہے۔ یہاں پشتونوں کے مختلف مسلمان قبائل آباد ہیں۔

ان قبائل میں اکثریت طوری قبیلے والوں کی ہے ان کے بعد بنگش پھر مینگل اور پھر پاڑا سمیت متعدد دیگر قبائل کے لوگ ہیں ۔یہ شیعہ مسلمانوں کا اکثریتی علاقہ بھی ہے۔ شیعہ اکثریتی علاقہ ہونے کی وجہ سے افغانستان کی طرف سے ہونے والے حملوں کا یہ لوگ ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں۔ یہ پاکستان کا واحد بارڈر ہے جسے مقامی لوگوں نے خود ہی محفوظ کیا ہوا ہے۔

افغانستان کی طرف سے جب بھی اس بارڈر سے سرکاری یا غیر سرکاری طور پر جارحیت یا دراندازی کی کوشش کی جاتی ہے تو یہاں کی مقامی آبادی لبیک یا حسین ؑ کے نعرے لگاتے ہوئے حملہ آوروں کو دندان شکن شکست دیتی ہے۔ وطن اور دین سے محبت یہاں کے لوگوں کی گھٹی میں ہے۔
یاد رہے کہ طوری قبیلہ ایک اصیل شیعہ قبیلہ ہے۔ یہ قبیلہ تاریخی و تحقیقی طور پر پشتون نہیں ہے۔ ہمارے ہاں عام طور پر جو پشتو بولے اور پختونوں کے علاقے میں زندگی بسر کرے، اُسے پشتون ہی سمجھا جاتا ہے سو یہی کچھ اس قبیلے کے ساتھ بھی ہوا۔جبکہ تحقیقی نتائج کچھ اور ہی کہتے ہیں۔
ہماری تحقیق کے مطابق اس وقت طوری قبیلے کے لوگ سعودی عرب، مصر، اور فلسطین میں ایک بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ ان کا آبائی وطن مدینہ منورہ ہے۔یہ وہاں سے ہجرت کر کے مذکورہ علاقوں میں آباد ہوئے ہیں ۔خود حجاز مدینہ منورہ میں "ینبع النخل" کے علاقے میں طوری ابھی بھی آباد ہیں ۔سب سے دلچسپ بات یہ کہ ان دنوں سعودی عرب کی فوج کے سپہ سالار جنرل عبد الحمید الطوری الجھنی کا تعلق بھی طوری قبیلے سے ہے ۔
اس وقت پاکستان کی وادی کرم میں آباد طوری قبیلے کے اجداد خراسانِ قدیم سے آئے تھے۔ان کے جد امجد عربوں کے ایک قبیلے جُھنی کی طوری شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔


طوری قبیلہ کے خراسان قدیم کی طرف ہجرت کے بارے میں بنیادی طور پر تین نظریات پائے جاتے ہیں
1) پہلا نظریہ یہ ہے کہ صلح امام حسن علیہ السلام کے بعد معاویے نے جب امام علی علیہ السلام کے ماننے والوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے خصوصا تا بعي و صحابي امير المؤمنين عليه السلام حجر بن عدی رحمة الله عليه کی شہادت کے واقعے کو عامه و خاصه نے اپنے کتابوں میں نقل کیا ہے ۔ تو اس دور میں امام حسن علیہ السلام کی ہدایت پر یہ لوگ مدینہ منورہ سے ہجرت کر کے عراق اور عراق سے ہوتے ہوئے ایران اور خراسان قدیم کی طرف ہجرت کر کے خانہ بدوشی کی زندگی گزارتے رہے ۔
2) دوسرا نظریہ یہ ہے کہ یہ لوگ امیرالمؤمنين عليه السلام کے ساتھ مدینہ منورہ سے ہجرت کر کے کوفہ آئے تھے، اس بات کا ذکر بعض تاریخ دانوں اور عرب قبائل پر لکھی گئی تحریروں میں موجود ہے۔ (قبیلہ جھنی کے لوگ عراق کوفہ میں کیسے آئے ) نیٹ کے اوپر عربی اور فارسی زبان میں کتابیں موجود ہیں ۔
انہی لوگوں کو بعد میں الموالی کا نام دیا گیا اگرچہ ایک سعودی قلم کار نے اس نام کی وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سلم انکی محبت بتائی ہے لیکن خود اسی نے لکھا ہے کہ معاویے کے خلاف جنگ صفین میں یہ لوگ امیر المومینین کے طرف داروں میں سے تھے اور جنگ کے بعد عراق کے شہر کوفے میں آباد ہوئے۔

(کوفے میں آباد قبیلہ جھنی کے مشہور شخصیت جو امام صادق علیہ السلام سے لیکر امام جواد علیہ السلام تک أئمة عليهم السلام کے شاگرد رہنے ہے۔

حماد بن عیسی رحمة الله عليه ہے)اور " الموالی " کہلانے لگے جس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ یہ ان کو الموالی مولا علی علیہ السلام کی محبت کے وجہ سے یہ نام دیا گیا ہے بہرحال جیسا بھی ہو "محب مصطفی ہی اصل میں محب مرتضی ہے "۔
اس نظریے کے مطابق یہ لوگ حجاج بن یوسف کے زمانے میں عراق سے ایران خراسان قدیم کی طرف ہجرت کر کے آباد ہوئے تھے ۔ ان دو نظریوں کے مطابق ایک فرد نہیں بلکہ پورے قبیلے نے ہجرت کی ہے ۔
3) تیسرا نظریہ یہ ہے کہ امام رضا علیہ السلام کے اصحاب میں طوری قبیلہ (کہ جو " ینبع النخل " اور مدینہ منورہ میں آباد تھے اور ان کے یہاں آباد ہونے کے بارے میں صاحب کتاب القبائل البدویہ محمد رفیع نے ص 18 پر ذکر کیا ہے۔

ابو یوسف نامی شخص نے بھی اس کے بارے میں اپنے مقالہ قبیلہ جھنی میں ذکر کیا ہے ) کا ایک فرد مدینہ منورہ سے امام علیہ السلام کے ہجرت کر کے خراسان آئے تھے ۔


یہ امام رضا علیہ السلام کی شھادت سے پہلے امام ع کے حکم سے باقی دوستوں کے ساتھ امام علیہ السلام سے کہیں دور ہو جاتے ہیں تاکہ ماموں الرشید کے شر سے محفوظ رہیں ۔ اور خراسان میں خانہ بدوشی کی زندگی اختیار کر لیتا ہے ۔
البتہ وادی کرم میں مستقل طور پر سکونت اختیار کرنے کے بارے میں صرف اتنا ملتاہے کہ بنگش قبیلے والے جو پہلے وادی کرم کے مالک سمجھے جاتے تھے انہیں ایک لڑائی میں شکست دے کر یہ لوگ ادھر مستقل طور پر رہنے لگے اور پھر صدیوں سے یہیں ہیں ۔
یہ لوگ اگرچہ صدیوں تک اہلِ عجم میں رہ کر اپنی اصل زبان عربی کو بھول بیٹھے ہیں لیکن عربی غیرت و شجاعت ،نبی اکرم ص اور ان کی آل سے محبت ، جذبہ ایثار و قربانی، سخاوت و مہمان نوازی اور اسی طرح بہت ساری عربوں کی اچھی صفات ابھی بھی ان کے درمیان پائی جاتی ہیں۔

ان کی پشتو بھی دیگر پشتو بولنے والوں سے کافی مختلف ہے اور اس میں اکثر عربی کے الفاظ استعمال ہوتےہیں جو دوسرے پشتون لوگ صرف استعمال ہی نہیں کرتے بلکہ سمجھ بھی نہیں لیتے ۔
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ زمانے کے سخت حالات اور ہجرتوں کے باوجود یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کی آل کے عشق اور راستے پر آج بھی قائم و دائم ہیں۔

پشتونوں کے درمیان طوری قبیلے کو دینِ اسلام اور عشقِ اہلِ بیت ع کے علمبردار کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
یہ اہلِ بیت ع کا ہی معجزہ ہے کہ زمانے کا ستم اس قبیلے کو مٹا نہیں سکا۔ محمد و آل محمد کے عشق میں اوائلِ اسلام سے ابھی تک ظلم و ستم سہنے والی یہ قوم ایک دیار سے دوسرے دیار کی طرف ہجرت ضرور کرتی رہی لیکن اس نعمت کبری سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوئی۔ اور آج تک حبِ اھلبیت علیھم السلام کے جرم میں حضرت حمزہ رضی اللہ، حضرت ابوزر غفاری، حضرت حجرابن عدی اور حضرت میثم تمار میں ان کے گلے کاٹے جاتے اور ان کی لاشوں کا مصلہ کیاجاتا ہے۔



علي اي هماي رحمت تو چه آيتي خدا را
كه به ماسوا فكندي همه سايه‌ي هما را

دل اگر خداشناسي همه در رخ علي بين
به علي شناختم به خدا قسم خدا را

به خدا كه در دو عالم اثر از فنا نماند
چو علي گرفته باشد سر چشمه‌ي بقا را

مگر اي سحاب رحمت تو بباري ارنه دوزخ
به شرار قهر سوزد همه جان ماسوا را

برو اي گداي مسكين در خانه‌ي علي زن
كه نگين پادشاهي دهد از كرم گدا را

بجز از علي كه گويد به پسر كه قاتل من
چو اسير تست اكنون به اسير كن مدارا

بجز از علي كه آرد پسري ابوالعجائب
كه علم كند به عالم شهداي كربلا را

چو به دوست عهد بندد ز ميان پاكبازان
چو علي كه ميتواند كه بسر برد وفا را

نه خدا توانمش خواند نه بشر توانمش گفت
متحيرم چه نامم شه ملك لافتي را

بدو چشم خون فشانم هله اي نسيم رحمت
كه ز كوي او غباري به من آر توتيا را

به اميد آن كه شايد برسد به خاك پايت
چه پيامها سپردم همه سوز دل صبا را

چو تويي قضاي گردان به دعاي مستمندان
كه ز جان ما بگردان ره آفت قضا را

چه زنم چوناي هردم ز نواي شوق او دم
كه لسان غيب خوشتر بنوازد اين نوا را

همه شب در اين اميدم كه نسيم صبحگاهي
به پيام آشنائي بنوازد و آشنا را

ز نواي مرغ يا حق بشنو كه در دل شب
غم دل به دوست گفتن چه خوشست شهريارا

شهریار