وسیم رُشدی پر آن لائن سیشن

 رپورٹ: منظوم ولایتی

معاون: کمیل گردیزی

"وسیم رُشدی اور تحریفِ قرآن"  کے موضوع پر آج پاکستانی وقت کے مطابق شام سات بجکر دس منٹ پر دوسرا  آنلائن سیشن  ہوا۔

اس سیشن  میں بھی گزشتہ سیشن کی طرح تین مہمان مدعو کیے گئے  تھے ۔ جنہوں نے اس موضوع کے مختلف پہلو کے حوالے سے سرحاصل گفتگو فرمائی۔ ذیل میں تینوں مہمانوں کی گفتگو کے چیدہ چیدہ نکات کو آپ قارئین گرامی  کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔

سیشن کے پہلے مہمان مولانا سید مختار حسین نقوی صاحب نے نکاتِ زیر پر روشنی ڈالی:
١) قرآن مجید کا دفاع اللہ تعالیٰ کا اپنا حتمی وعدہ ہے۔
٢)  پوری دنیا میں ہر منصف مزاج انسان وسیم رُشدی کی مذمت کر رہا ہے۔

٣) الحمدللہ داخلی اختلافات کے باوجود مسلمان اِس معاملے میں متحد ہوچکے ہیں۔

۴) جنہوں نے اِس شخص سے یہ گستاخی کروائی ہے عنقریب وہی لوگ ہی اس سے مروا دیں گے۔

۵۔ وسیم رشدی کے گھر والے اولاد بیوی بچے سب اسے چھوڑ چکے ہیں اور  یہ اپنے خاندان میں بھی ایک منفور اور بدترین شخص  ہے۔

٦۔ ہمارے مراجع  آیت اللہ سیستانی اور آیت اللہ مکارم شیرازی نے اِس کے خلاف فتاوی دیے ہیں۔

سیشن کے دوسرے مہمان حوزہ علمیہ قم المقدسہ کے استاد جناب فدا علی حلیمی صاحب نے فرمایا:
١)   فریقین(شیعہ سنی) کے درمیان اتفاق ہے کہ قرآن میں کسی قسم کی زیادتی نہیں ہوئی۔

( جبکہ وسیم رشدی قرآن کی 26 آیات کے اضافے کا دعویٰ کررہا یے!!)

٢)وسیم رشدی کا عمل تحریفِ قرآن کے دائرے کے بجائے بلکہ انکارِ قرآن کے زمرے میں آتا ہے۔
٣)فقہی اعتبار سے ضروریات ِ دین کا انکاری مرتد کہلاتا ہے۔
۴)اِس شخص کی کوتاہِ ذھنی دیکھیے کہ اپنے خیال میں قرآن کی اصلاح ایک ہندو عدالت سےکرانا چاہتا ہے۔العجب!!

۵)استعماری طاقتوں نے خود ہی   پہلے دھشتگرد پروری اور ان کی بربریت کےذریعے سے جہاد کو عملی طور پر اور اب وسیم رشدی جیسوں کے ذریعے نظریاتی طور پر بدنام کرایا ہے۔ درحقیقت دھشگرد ہوں یا وسیم رشدی جیسے لوگ ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں۔

٦۔ جہاد اسلام کی عزت ہے نہ کہ کشور کشائی اور مال و دولت سمیٹنے کا ذریعہ۔

بقول علامہ اقبال کے؛

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مالِ غنینت نہ کشور کشائی

٦) جہاد ابتدائی درحقیقت انسانوں کی سلب شدہ آزادی کو دوبارہ پلٹانا اور  اُن کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کراتے ہوئے انہیں عبودیت اور توحید کی شاہراہوں پر گامزن کرانا ہے
 
سیشن کے آخری مہمان نجف اشرف عراق سے محمد علی غازی صاحب  نے اپنی گفتگو میں فرمایا:

١) وسیم رُشدی ایک  استعماری آلہ کار ہے۔

٢) در حقیقت یہ شخص منصوبے کے تحت ایک خاص ھدف کیلیے استعمال کیا گیا ہے۔
٣) بعض لوگ وسیم رُشدی کی وجہ سے تشیع کے خلاف بول رہے ہیں، جو کہ خود ایک المیہ ہے۔
۴) الحمد اللہ تشیع میں اجتہاد  کا دروازہ کھلا ہے، جو کہ ایک نعمتِ الہی ہے۔

۵۔نزولِ قرآن سے لیکر آج تک قرآن  عالمِ انسانیت کو چیلنج کررہا ہے مگر کسی میں بھی یہ مجال نہیں ہے کہ اس کے سامنے آسکے اور ایک سورہ تک پیش کرسکے۔ 

٦۔ قرآن خود رسالت مآبؑ کی رسالت کا ایک  ابدی معجزہ ہے لہذا قرآن کا معجزہ ِ دائمی ہونا ہی دلیل ہے کہ اس میں کمی بیشی کی  کوئی گنجائش نہیں ہے۔

۵ مسلمانوں کو ایک دوسرے کو سمجھنا چاہیے اور وسیم جیسوں کا ملکر مقابلہ کرنا چاہیے۔

 

باقی تفصیلات کیلیے مکمل ریکارڈڈ سیشین آپ اِس لنک پر ملاحظہ فرماسکتے ہیں:
یو ٹیوب سیشن