تاریخ اسلام کے دو انمول تاجر 
 تحریر:✍️ مقدر عباس 

خداوند کریم  نے انسان کو خلق فرمایا۔انسان کی راہنمائی کے لئے  اپنی قیمتی ترین ہستیوں کو بھیجا۔جن لوگوں نے ان ہستیوں کی قدر کی وہ اعلیٰ علییّن کی صف میں جا پہنچے اور جنہوں نے ناقدری کی اور کفرانِ نعمت کیا اسفل سافلین کے مصداق ٹھہرے۔انسانیت کا سفر جاری رہا۔خداوندِمتعال نے انسانیت پر ایک بہت بڑا احسان کیا اور اس کا اظہار اپنی لاریب کتاب میں بھی کیا۔ایمان والوں پر اللہ نے بڑا احسان کیا کہ ان کے درمیان انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاکیزہ کرتا اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے جب کہ اس سے پہلے یہ لوگ صریح گمراہی میں مبتلا تھے(آل عمران164)۔
اس بے عیب ہستی کے قصیدے خداوند متعال نے اپنی لاریب کتاب میں جابجا ذکر فرمائے ہیں۔یہ وہ طبیب دوّار تھے جنہوں نے جاہلیت کی گھٹاٹوپ وادیوں میں ہدایت کے چراغ روشن کئے۔اس ہستی پر ایمان لانے والوں میں دو ہستیاں پیش پیش تھیں۔اسلام وہ مکتب ہے جو مرد اور عورت کی تفریق کا قائل نہیں ہے۔نیک کام کرنے والا مرد  ہو یا عورت اسلام اسے کرامت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔اُن دو ہستیوں میں ایک مولا علی  علیہ السلام ہیں اور دوسری ہستی ام المؤمنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہاہیں۔بی بی خدیجہ ؑ تاجرہ تھیں۔تجارت میں تاجر لین دین کرتا ہے۔بعض جگہ نفع اٹھاتا ہے اور بعض جگہ نقصان۔لیکن یہ وہ تاجرہ تھیں جنہوں نے دنیا کی تجارت بھی کمال درجے پر کی اور آخرت کی تجارت میں بھی سبقت لے گئیں۔بی بی سلام اللہ علیہا کے پاس جو کچھ تھا۔اسلام پر قربان کر دیا اور خداوند متعال نے بدلے میں کیا دیا۔؟ایسی بیٹی عطا کی کہ جسے کوثر کا مصداق قرار دیا۔جو گیارہ آئمہ کی ماں ٹھہریں۔حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا،امُّ الآئمہ کی بھی ماں قرار پائیں ۔بلکہ بارہ اماموں کی ماں ،کیونکہ مولا علی ؑ کی تربیت بھی اسی گھرانے میں ہوئی۔دنیا پیامبر اکرم ﷺ کو یاد کرتی ہے اور جسے پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یاد رکھتے تھے وہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیھا تھیں۔
دوسرے تاجر مولا علی علیہ السلام ہیں کہ جن کی تجارت کی سند خدا وند متعال نے کچھ اس طرح سے بیان کی۔اور انسانوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو اللہ کی رضاجوئی میں اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور اللہ بندوں پر بہت مہربان ہے۔(بقرہ207)یہ وہ تاجر ہے جس نے اپنی ہر چیز کو خداونِدمتعال کے حوالے کردیا۔بدلے میں خدا کی رضائیں حاصل کیں۔عین اللہ،وجہ اللہ،لسان اللہ،یداللہ یہ القاب یہی بتاتے ہیں کہ مولا ؑنے اپنا سب کچھ خدا کے حوالے کر دیا تھا۔اولاد ،مال ،جان سب کچھ خدا کی راہ میں فدا کردیا۔نفس رسول ﷺ کا مصداق علیؑ،باب العلم علی ؑ،فاتح خیبر و خندق،فاتح بدر و حنین علیؑ۔شجاعت،علم ،سخاوت،ایثار،محبت و عطوفت کی خیرات جس در سے ملتی ہے وہ یہی گھرانہ ہے۔یہ ایسے تاجر ہیں کہ جن کی شان میں اور تائید میں الہٰی آیات کا نزول ہوتا ہے۔یہ وہ تاجر  کہ جنہوں نے اپنے سونے جاگنے ،اٹھنے بیٹھنے ،جنگ و صلح،غضب و محبت۔ان تمام  چیزوں میں خدا سے تجارت کی ہے۔
فزت و رب ِّ الکعبہ کا نعرہ یہی بتاتا ہے کہ علی ؑ مولا نے  جو خدا وند متعال سے تجارت کی اس میں کامیاب ٹھہرے۔انسان کامل علیؑ،جہاں پر تمام فضیلتیں اپنے عروج کیساتھ سر جھکائے ہوئے ہیں۔یہیں سے ہر کسی کو ان فضیلتوں کی خیرات ملتی ہے۔امام خمینیؒ جو اس مکتب کے حقیقی شاگرد ہیں انہیں کے کلمات سے اختتام کروں گا۔فرماتے ہیں’’ ہم جہاں بھی جاتے ہیں علی ؑ کانام ہے۔جب فقہأ کے پاس جاتے ہیں تو فقہ علیؑ،زاہدوں کے پاس جائیں تو زہد ِعلیؑ،اہل تصوف(صوفیاء) کے پاس جائیں تو وہ بھی کہتے ہیں تصوُّفِ علیؑ،پہلوانو ں کے پاس جائیں تو وہاں بھی علیؑ،اور نامِ علی ؑ سے کام شروع کرتے ہیں(میدان میں اترتے ہیں)۔یہ علی ؑ ہی سب کچھ ہیں۔:یعنی انسانیت  کے تمام پہلوؤں میں درجۂ اول ہیں۔اسی لئے ہر طبقہ خود کو ان سے قریب کرتا ہے،اور ان میں ہر طبقے کی خاصیت بھی ہے۔علیؑ سب کچھ ہیں اور علیؑ ہی ہمارا سب کچھ ہیں۔ہم سب کو ان کی اتباع کرنی چاہئے۔عبادت میں تمام عابدوں سے بڑھ کر!زُہد میں تمام زاہدوں  سے بالاتر!جنگ میں تمام جنگجوؤں سے بالاتر!طاقت میں،تمام طاقتوروں سے بالاتر!خدا وند متعال کی حیرت انگیز مخلوق ہیں(مولا علی ؑ) کہ جنہوں نے متضاد کو اپنے اندر  سمیٹ رکھا ہے۔

 

 


افکار و نظریات: دو انمول تاجر