غزہ کے حالات اور مسلم امہ
 

🖋 تحریر: منظوم ولایتی


 اِن دنوں ہر شخص کی زبان پر غزہ کی پٹی ہے۔ یہاں  صیہونیوں کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کی وجہ سےساری دنیا پریشان ہے۔اس حوالے سے ہم کچھ دوستوں نے ایک آن لائن سیشن منعقدکیا۔ سیشن کا مقصد غزہ کے حالات اور  امت مسلمہ کے حالات کاجائزہ لینا تھا۔ دوستوں کی مشاورت سے موضوع سخن  " غزہ کے حالات اور مسلم امہ" رکھا  گیا۔گفتگو کیلئے ہم نےتین معزز تجزیہ کاروں کا انتخاب کیا۔
رات کے ساڑھے نو بجے سیشن کا باقاعدہ آغاز  برادر حسن حسرت نے "سورة الکوثر" کی تلاوت سے کیا۔تلاوت کے بعد سیشن کے پہلے مہمان فلسطین فاوںڈیشن پاکستان کے چئیرمن ڈاکٹر صابر ابومریم کو دعوت دی گئی۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے خطاب میں نکاتِ زیر پر قدرے تفصیل سے روشنی ڈالی:
١)یروشلم میں مذہبی مقدسات کا تحفّظ باقیوں کی نسبت مسلمان بہتر کرسکتے ہیں۔
٢)حماس کی جنگ پورے عالمِ اسلام کی جنگ ہے۔
٣)مشکل کی اس گھڑی میں حماس کی Morally, Politically اور مالی مدد کی جانی چاہیے۔
٣)ترکی اور عرب حکومتوں کو اسرائیل کے ساتھ کیے ہوئے معاہدات ختم کرنے چاہیں۔
۵)پاکستان کی حکومت کو سرکاری سطح پر اپنا ایک زبردست کردار ادا کرنا چاہیے۔
٦) فلسطین میں امن تب ممکن ہے جب باہر سے لائے گئے صیہونیوں کو نکال کر پہلے سے موجود عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں کو آباد کیا جائے تاکہ وہ اپنا وطن آباد کرسکیں۔

ان  کے بعد سیشن کے دوسرے مہمان، کشمیر انٹرنیشنل فورم کے ترجمان محترم  نذرحافی نے اپنا تجزیہ پیش کیا۔ اُنہوں نے مندرجہ زیل نکات پرروشنی ڈالی:
١)ہم بطور مسلمان ہم مذمتی  قراردادوں تک محدود ہیں۔
٢)حقیت یہ ہے کہ ہم  ادھار قرض،  اور تجارتی معاہدوں میں بندے ہوئے ہیں۔
٣)یہ وقت اسلام کی آفاقی تعلمیاتِ  اور وحدت کو عام کرنے کا ہے۔
۴)ایران کی طرح ہم افسوس کے ساتھ اپنے مستحکم نظریات پر قائم نہیں رہ پاتے ہیں۔
۵)ہمارے تجزیہ و تحلیل میں تین عناصر ہونے چاہیے
١)تحقیق،٢)تحلیل،٣)استدلال ۔
سیشن کے آخری مہمان نامور صحافی جناب سلمان درانی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ 
١)ماضی کی نسبت صیہونیوں کے مقابلے میں اس بار حماس کا ردِعمل زبردست تھا۔
٢)حالیہ دنوں ہونے والے O.I.C کے اجلاس میں مسلم رہنماوں کے ری ایکشن سے مایوسی ہوئی۔
٣)عالمی میڈیا بھی صیہونیوں کو کوریج نہیں دے رہا جو ان کے زوال کی نشانی ہے۔
۴)خود امریکہ اس وقت صیہونی ریاست سے نالاں نظر آتا ہے۔
سوالات کے دورانیے میں محترم ڈاکٹر حفیظ الرحمان صاحب نے اسلامی ممالک میں جمہوری اقدار کے حوالے سے سوال اٹھایا۔ انہوں نے پوچھا کہ  کیا اسلامی ملکوں میں جمہوری نظام اور جمہوری اقدار کی ناکامی تمام مسائل کی جڑ نہیں؟ جس پر ڈاکٹر صابر ابومریم نے فرمایا کہ اس وقت دنیا میں موجود بادشاہتیں اور آمریتیں عالمِ اسلام  کے لیے شرمندگی اور ذلت کا باعث بنی ہوئی ہیں۔ سیشن کے دوران نظامت کے فرائض منظوم ولایتی نے انجام دیے اوریوں چالیس منٹ کا یہ مختصر اور مفید سیشن اپنے اختتام کو پہنچا۔