یکساں نصاب کی غیر یکسانیت

 محمد حسن جمالی

نصاب تعلیم ،نسلوں کی فکری اور عملی تعلیم و تربیت کے لئے بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہرباشعور قوم نصاب سازی کے کام کو غیر معمولی اہمیت دیتی ہے، وہ  اس کام کی حساسیت کو اچھی طرح سمجھتی ہے، وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہوتی ہے کہ کسی ملک کا درخشاں مستقبل اس کے جوانوں سے جڑا ہوتا ہےاور جوان ملک ومعاشرے کے مستقبل کی تابندگی کا باعث تب بنتے ہیں جب دوران تحصیل صحیح خطوط پر ان کی فکری آبیاری ہوچکی ہو۔ واضح سی بات ہے کہ قوم کے معماروں کی تعلیمی وفکری استحکام کے لئے نصاب تعلیم کا رول بنیادی ہے،جتنا نصاب قوی ہوگا اتنا ہی اس سے وابستہ رہنے والوں کی فکری تقویت کی سطح بلند ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نصاب سازی ہرکس وناکس کا کام نہیں -اس کی نزاکت،حساسیت اور کثرت اہمیت کے پیش نظرفقط وہ افراد ہی اس اہم ذمہ داری کو اپنے کاندھے پر لے سکتے ہیں جن کے پاس ٹھوس علمی قابلیت کے ساتھ انسانیت کے لئے دل میں درد،بصیرت اور دور اندیشی جیسے اوصاف حمیدہ کا سرمایہ موجود ہو ۔ غرض اس کام کی سر انجام دہی کے لئے  فقط ماہر تعلیم ہونے کی ڈگری رکھنا کافی نہیں،کیونکہ ڈگری کے ساتھ انسان میں علمی استعداد نہ ہو تو ایسی ڈگری کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ 

اس حقیقت کے تناظر میں اگر ہم وطن عزیز پاکستان کے نصاب ساز ماہرین تعلیم کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں تو ببنگ دہل ہم یہ کہسکتے ہیں کہ ان میں فقدان بصیرت کے ساتھ واضح طور پرعلم کی کمی پائی جاتی ہے ۔بلکہ موجودہ حالات یہ بتارہے ہیں کہ قائد اعظم کو کافر اعظم کہنے والے افراد کی نسل نصاب سازوں کی صف میں شامل ہوچکی ہے، اب تکفیری سوچ رکھنے والےافراد پر مشتمل  ٹیم ہی پاکستانی قوم کے معماروں کے لئے نصاب تعلیم  تشکیل دے گی،بلکہ وہ اس کا بیڑا  اٹھا کر میدان عمل میں سرگرم ہوچکی ہے۔ 

توجہ رہے کہ پاکستان کی سرزمین پر پوری منصوبہ بندی کے تحت ایک اقلیت کو اکثریت میں تبدیل کرنے پر بڑی سرعت سے کام  ہورہاہے۔ریاست مدینہ بنانے کی دعویدار انصاف حکومت کا یہ نعرہ تو بہت دلکش ہے کہ قوم کے بچوں کےلئے یکساں نصاب تعلیم ناگزیر ہے،لیکن ریاستی اداروں میں چھپے  تکفیری سہولتکار عناصر کی مدد سےنام نہاد ماہرین تعلیم نے نصاب تعلیم کی تبدیلی کی آڑ میں وہ زہریلا پریپیگنڈہ کرنے کی اطلاع ہےجسے قبول کرنا کسی بھی باشعور انسان کے ممکن نہیں۔کیونکہ جدید نصاب میں ایسی باتوں کو شامل کی گئی ہیں جونہ فقط  مسلمانوں کے مشترکہ عقائد کا حصہ نہیں بلکہ وہ ایک عقلیت کے نظریات شمار ہوتی ہیں- پاکستان کی کثیر آبادی کو تشکیل دینے والے شیعہ مسلمانوں کے عقائد،اخلاق اور تاریخی حقائق کو یکسر نظر انداز کرکے نصاب بنایا گیا ہے- ہمارے خیال میں ایسے نصاب کویکساں نصاب تعلیم کا نام دیناانصاف کا جنازہ نکالنےکا مترادف ہے۔ یقین کیجئے کہ ایسے کھوکھلے نصاب پڑھ کر قوم کے بچے دہشتگرد تو بن سکتے ہیں معمار قوم ہرگزنہیں،تکفیری سہولت کار تو بن سکتے ہیں اقبال کا شاہین ہرگز نہیں،سعودی عرب کا ترجمان تو بن سکتے ہیں پاکستان کا محافظ ہرگز نہیں اور وہ مسلمانوں کے درمیان فتنہ انگیزی وعناد پروری کا باعث تو بن سکتے ہیں اتحاد کے علمبردار ہرگز نہیں -اس لئے کہ معمار قوم یا اقبال کا شاہین بننے کے لئے تعلیمی وفکری تغزیہ بھی وہی ملنا ضروری ہے جو اقبال کے مد نظر تھا-

قائد واقبال  نے تو پاکستان کو ہی اسلام کے نام پر معرض وجود میں لایا تھا، انہوں نے  مذہبی تعصب سے بالاتر ہوکر سارے مسلمانوں کو عزت سے جینے کا حق دے رکھا تھا، وہ اس بات کے قائل تھے کہ قرآن مجید جیسی سرنوشت ساز کتاب کی تعلیم ہی مسلمانوں کے روشن مستقبل کی ضامن ہے، ان کا عقیدہ یہ تھا کہ مسلمانوں کا اتحاد ہی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے جس کا تحفظ  ہر پاکستانی مسلمان کی ذمہ داری ہے ۔ان کے مطابق بچوں کے نصاب میں ایسے مواد شامل رکھنا ضروری تھا جو ہر میدان میں ان  کے لئے مشعل راہ  ثابت  ہوسکتے ہین- نصابی کتب ایسی ہونی چاہئے تھیں جن کی تعلیم حاصل کرنے  سے نونہالوں کے ذہنوں میں احترام والدین ،استاد کی تکریم، غیرت وحمیت،امانت وشجاعت،نظم و ضبط، قانون کا احترام ، اخلاقی اقدار، حسنِ سلوک، دوسروں کے حقوق کی پاسداری ، سچائی اور نظافت وصفائی کی اہمیت جیسے اوصاف حمیدہ راسخ ہوجائیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سٹوڈنس کے شاداب ذہنوں میں ایسی خوبیاں پیدا کرنے کے لئے نصابی کتب میں کس طرح کے مواد کو شامل کرنا ضروری ہے ؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جس پر ہر باشعور انسان کو غور چاہئے ۔ ہماری نظر میں ایسی صفات بچوں کے ذہنوں میں پیدا کرنے کے لئے تمام مسلمانوں کے مشترکہ عقائد اور اخلاقی باتوں کو شامل نصاب کرنے کے ساتھ تاریخ اسلام کے ان عظیم واقعات کو بھی نصابی کتب کا حصہ بنانا ضروری ہے جن کو پڑھنے سے انسان  کمال کی معراج کو پہنچتا ہے جیسے واقعہ کربلا ۔ یہ تاریخ بشریت کا وہ منفرد واقعہ ہے جو قیامت تک آنے والی نسلوں کو حق وباطل کا چہرہ شفاف طریقے سے دکھانے کی سکت رکھتاہے۔ اس عظیم واقعے میں انسانی ایثار وفدکاری سمیت تمام کمالات کے نمونے پائے جاتے ہیں۔اگر کوئی انسان تعصب کی عینک اتار کر واقعہ کربلا  کا عمیق مطالعہ کیا جائے تو  اس کی زندگی میں انقلاب برپا ہونا یقینی ہے ۔ کوئی  اس کانمونہ دیکھنا چاہئے تو اسے انقلاب امام خمینی کی کامیابی کے اسرار ورموز کا گہرائی سے مطالعہ کرنا لازم ہے رہبر کبیر کا انقلاب نہ فقط ایران کو سر بلند کرنے کا باعث بنا بلکہ آج پوری دنیا میں مظلوم ومقہور اقوام کے اندرظالموں سے مقابلہ ومقاومت کرنے کا  جزبہ پیدا کرنےکا سبب بنا۔

 اس بات پر بھی توجہ کرنا ضروری ہے کہ یکساں نصاب تعلیم کا نعرہ بلند کرکے پاکستانی حکمرانوں نے حقیقت میں تعلیمی میدان کی سکڑتی ترقی کی کمزور وجوہات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے،کیونکہ آج کی دنیا میں تعلیمی پیشرفت کے لئے فقط تعلیمی درسگاہوں میں داخلہ لیکر پڑھنا ہرگز کافی نہیں، بلکہ تحقیق کے میدان میں طالب علموں کو جب تک گوڑا دوڑانے کا ہنر نہ آجائے تب تک وہ  ترقی کے میدان میں  کامیاب نہیں ہوسکیں گے- آج دنیا بھر میں نصاب تعلیم  میں جدت پیدا کرنے کے ساتھ طلباء کو تحقیقی میدان کا شہسوار بنانے کا مقابلہ چل رہا ہے- امتحانات کی روش کی تبدیلی کے ساتھ تعلیم کے جدید طریقوں سے بچوں کو پڑھانے کا گر سکھائے جارہے ہیں اس کے علاوہ بچوں کو  رٹے پر زور دینے پر تاکید  کرنے کے بجائے اساتذہ طلبہ  کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارنے کے نت نئے اسلوب پر توجہ دے رہے ہیں جن میں سر فہرست اعلی تعلیمی درسگاہوں میں  طلباء کے درمیان آزادانہ بحث و مناظرے کروانا ہے،  تحقیق اور تخلیقی سرگرمیوں میں انہیں مصروف رکھنا ہے-جس کا بنیادی  ہدف یہ ہوتا ہے کہ طلباء فقط امتحان پاس  کرنے کی سرحد تک محدود رہنے کے بجائے آگے نکل جائیں اور وہ نئی نئی ایجادات کو معرض وجود میں  لانے کی صلاحیت کے مالک بن جائیں- المیہ یہ ہے کہ پاکستانی تعلیمی درسگاہوں میں معیاری  ریسرچ کے لئے سازگار ماحول نہ ہونے کے برابر ہے جس کے باعث ہمارے تعلیمی اداروں میں تحقیق کا رجحان مایوس کن ہے ۔اس کمزوری پر پردہ ڈالنے کے لئے موجودہ حکومت نے یکساں نصاب تعلیم کو ہی تعلیم وتحقیق کے زوال کا سبب قرار دے کر لوگوں کو بے وقوف بنانے کی سعی لاحاصل کی گئی ہے ۔ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ ہماری حکومت یکساں نصاب کو تشکیل دینے میں آذاد نہیں بلکہ اس کام کو بھی وہ اغیار کے اشارے سے ہی  سرانجام دینے کو اپنی کامیابی سمجھتی ہے - کھلی حقیقت یہ ہے کہ سعودی ریال نے پاکستان کے تمام نظام ( تعلیمی ، سیاسی ، عسکری وووو) کو کھوکھلا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے اندر سعودی ریال پر پلنے والے مٹھی بھر غدار ٹولہ نےپاکستانی  مسلمانوں کا جینا حرام کررکھا ہے جسے جتنی جلدی لگام دی جائے پاکستان اور مسلمانوں کے مفاد میں ہے