اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات دل اور رب شازیہ منشاء اب اس کا کسی کو خیال رکھنے کو جی نہ چاہتا تھا ۔ اب اس کا دل چاہنےلگا تھا کوئی ہو جو اس کی خواہش کا احترام کرے۔جیسے وہ سب کا خیال رکھتی ہے ویسے ہی کوئی اس کابھی خیال رکھنے والا ہو ۔کوئ ہو جو اس کے غم پر غمگین ہو اور اس کی خوشی میں خوش ہو۔کوئی تو ہو جو اس کی ایک مسکراہٹ کے لیے بے چین رہتا ہو۔ اس کی سونی کلائیو ں میں محبت کی نشانی کے طور پر دی گئ چوڑیاں ہوں۔اس کی ہتھیلی پر کسی کے نام کا عکس ہو۔صبح جب آنکھ کھلے تو کسی کی خوبصورت آواز میں صبح بخیر کا پیغام اس کے کانوں میں گونجتا ہو۔ رات جب جب سونے کے لئے تکیے پر سر رکھے تو مسکرا کر شب بخیر کہنے والا کوئی تو اس کی زندگی میں موجود ہو۔یہ وہ احساسات تھے جو اس کی زبان پر تو کبھی نہ آئے مگر اس کا دل ایسا محسوس کرتا اور چاہتاتھا۔ ایسی عمر میں میں دل کا ایسا مطالبہ کچھ غلط نہ تھا۔ اسٹینڈرڈ رائزڈ لوگوں میں اس کا اٹھنا بیٹھنا تھا وہ ہر کسی سے بہت کانفیڈنس سے ملتی اور بات کرتی ۔وہ ایک پر اعتماد لڑکی تھی۔وہ جب اپنے حلقہ و احباب کے لوگوں پر نظر ڈالتی تو اسے محسوس ہوتا سب اس کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ کبھی کسی نے اس کے لیے خاص کیفیت کا اظہار نہیں کیا نہ ہی کبھی کسی نے اسے پرپوز کیا اور نہ ہی کبھی اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ کبھی کسی کے ساتھ فرینک نہیں ہوئی تھی وہ بہت ریزرو رہتی تھی۔ بغیر کام کے لوگ اسے بلانے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے۔ اب کبھی کبھی وہ احساس کمتری کا شکار ہونے لگی تھی۔ ابھی وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اس کی کی والدہ یہ کہتے اندر داخل ہوئی کہ بیٹا میں تمہارے کمرے میں آئی تھی پر تمہیں بخار میں دیکھ کر میں تمہیں جگائے بغیر واپس چلی گی تاکہ تم آفس جانے کی ضد نہ کرو۔ اٹھو ہاتھ اور منہ دھو لو۔میں تمہارے لئے ناشتہ لائی ہوں۔ ناشتہ کرنے کے بعد ڈاکٹر کے پاس تمہاری میڈیسن لینے چلتےہیں۔ اس کے ذہن میں کئی سوالات آئے کہ کہیں آج کوئی میٹنگ تونہیں تھی یا میرے نہ جانے کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہ ہو گیاہو۔خیر اس نے کال ریسیو کی۔وہ یہ سن کر حیران رہ گئی اس کے سر اس سے پوچھ رہے تھے کہ بیٹا خیریت آپ کی طبیعت کا پتا چلا تھا تو میں نے سوچا میں آپ کا حال پوچھ لو۔۔۔۔۔۔جی جی سر ۔۔۔میں جب اس کی آنکھ کھلی تو ظہر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا ۔وہ بہت فریش محسوس کر رہی تھی۔ اس نے مسکراتے ہوئے اپنے دل سے ان وسوسوں کا بوجھ اتار دیا جن کے وجہ سے وہ ساری رات سونہ پائی تھی۔اس نے اٹھ کر نماز کے لئے وضو کیا اور اللہ کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھا کر رات آئے شیطانی وسوسوں کے پیچھے لگنے پر اس سے معافی مانگی۔بے شک وہ معاف کرنے والا تھا۔ اس کا اکلوتا بھائی جنید۔۔۔۔۔۔۔اس کے ایکسیڈنٹ کا سن کر اس کی چیخ نکل گئی ۔وہ روتے ہوۓ اپنے آفس سے باہر نکلی اور بھاگتی ہوئ مین ڈور کی طرف جانے لگی کہ اچانک راستے میں کسی سے ٹکرا گئ۔ ایک مردانہ آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ دعا کے پاپا نے انہیں اندر آنے کے لئے کہا اور ڈرائنگ روم میں بٹھا کر دعا کو آواز دی ۔دعا کے ساتھ دادی جان اور اس کی ماما بھی ڈرائنگ روم میں آگئیں۔ سر کو یوں اس وقت دیکھ کر وہ حیران و پریشان تھی۔سب کے چہرے کے تاثرات پڑھنے کے بعد امجد صاحب نے بتایا کہ کہ وہ یہاں قریبی کسی کام سے آئے تھے تو سوچا دعا کے بھائی کی خیریت دریافت کرتے جائیں۔ یہ میرا بیٹا ہے ۔حسن امجد ۔ حسن نے سب گھر والوں کو سلام کیا اور نظریں جھکائے بیٹھا رہا۔ دعا نےحسن صاحب کے بارے میں سنا تھا کبھی کبھار آفس ان کا چکر لگتا ، مگر کبھی ان کو یوں دیکھا نہیں تھا بس سرسری سا آتے جاتے دیکھا تھا اس لیے اسے حسن صاحب کی خاص پہچان بھی نہیں تھی۔ دعا اس کو دیکھتی رہ گئی۔اس کا سارا وجود کانپ اٹھا تھا ۔اسے حسن کی نگاہوں کی سمجھ نہ آئی اس کا دیکھنے کا انداز کچھ انوکھا تھا۔دادی جان نے دعا سے کہا بیٹا! مہمان آئے ہیں چائے کا انتظام کرو وہ چونکی اورکچن کی طرف چل دی۔کچھ دیر بعد دروازے پر دوبارہ بیل ہوئ۔ امجد صاحب کے ملازم کچھ ٹوکریاں لے کر اندر آئے اور ڈرائنگ روم میں رکھ کر واپس چلے گئے۔ بیٹا ان سب کی کیا ضرورت تھی۔ دادی جان نے دیکھا اور استفسار کیا۔جی ماں جی! میں آپ کے پاس ایک خاص مقصد سے حاضر ہوا ہوں،امجد صاحب نے کہا۔ یہ سن کر دعا کے ماما، پاپا اور دادی جان حیرانگی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔جی بیٹا بولیے ہم کیا آپ کی خدمت کر سکتے ہیں۔۔۔۔ حسن صاحب نے بتایا کہ ان کے گھر میں صرف ملازم اور وہ دونوں باپ بیٹا ہوتے ہیں ۔ان کی بیگم کے وفات کے بعد انہوں نے اپنے بیٹے کی ماں اور باپ بن کر پرورش کی ۔بس اب یہی خواہش ہے کہ بیٹے کا گھر بستا دیکھو تاکہ میرے گھر میں بھی رونق ہوجائے۔ "تم اپنے پروردگار کی کون کون سے نعمت کو جھٹلاؤ گے" نکاح والے دن دعا نے سرخ رنگ کا لہنگا پہنا ہوا تھا وہ بالکل ایک گڑیا جیسی دکھ رہی تھی۔حسن نے بھی سرخ رنگ کی شیروانی پہن رکھی تھی۔ دعا کی دوستوں نے مزاح اڑایا کہ کلر کمبینیشن تو بہت میچ کیاہے۔ بتاؤ کس کی پسند ہے سرخ رنگ کیا تم نے مشورہ دیا یا حسن بھائی کی مرضی سے سرخ رنگ تم نے پہنا ہے۔دعا نے کہا ایسا کچھ نہیں یہ سب اتفاقا ہوا ہے۔ ہم نے کوئی کسی کو مشورہ نہیں دیا۔ہم دونوں نے ابھی تک ایک دوسرے سے بات کی ہے نہ ہی ایک دوسرے سے کوئی ملاقات کی ۔او اچھا جی !اب دوستوں سے اتنا بڑا جھوٹ۔ اس کی دوستیں ایسا ماننے کو بالکل تیار نہ تھیں۔بوس کا بیٹا اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم نے کبھی اس سے بات نہیں کی، ملاقات نہیں کی۔تم لوگ مانو یا نہ مانو لیکن یہ سچ ہے۔اس کی دوستیں بھی تو ٹھیک ہی سوچ رہی تھیں کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ اس کے سرکا بیٹا ہے مگر اس نے نہ تو کبھی اس سے کوئی بات کی اور نہ ہی کبھی کوئی ملاقات کی۔فی الحال وہ کسی بھی بد گمانی کو ذہن میں نہیں لانا چاہتی تھی۔ وہ آج بہت خوش تھی۔۔ نکاح کی تمام رسومات بہت اچھے طریقے سے سرانجام پا گئیں تھیں۔ اس کے سر یعنی سسر نے اسے ایک لاکھ روپے بطور اسلامی دیا تھا ۔مگر حسن کی طرف سے نہ ہی کسی بات کا اسے رسپانس ملا اور نہ ہی کسی قسم کا تحفہ اسے موصول ہوا۔وہ دونوں نکاح کے بعد اکھٹے بیٹھے تھے۔سب نے ان دونوں کو نکاح کی مبارک باد دی اور کہا بہت پیاری جوڑی ہے ہمیشہ خوش اور سلامت رہو۔ دعا نے کئی بار چپکے چپکےاسے دیکھا۔ وہ بہت ہی خوبصورت لگ رہا تھا اسے اپنے نصیب پر رشک ہوا۔ دعا اور اس میں کسی قسم کی کوئی بات چیت نہ ہوئ۔حسن نے اس کی طرف دیکھنے کی کوشش کی نہ ہی اس کی کوئی تعریف کی۔نہ ہی اس سے بات کرنے کی کوشش کی۔سب نے بہت تعریف کی مگر اس کی طرف سے کسی قسم کا رسپانس نہ ملا۔دعا کی خوشی تو اس کے چہرے سے عیاں ہو رہی تھی۔اسے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اداس ہو۔ ان تمام باتوں کو سوچ کر دعا کے دل میں ایک انجانا سا خوف پیدا ہوگیا۔کہیں ایسا تو نہیں کہ حسن اس نکاح کے لیے راضی نہ ہو اور سر نے زبردستی اسے میرے ساتھ شادی کے لیے راضی کیا ہو۔ ایسے کئی سوالات نے اس کے دل میں گردش کی۔تھوڑی دیر پہلے وہ جتنی خوش اور مطمئن تھی۔اب وہ اتنی ہی اداس اور پریشان تھی اس کا رونے کو جی چاہا تو اپنی ماما کے بازوؤں میں سمٹ گی۔دادی جان نے پیار کیا اور تسلی دی کہا ہمیں امید ہے کہ حسن تمہیں بہت خوش رکھے گا۔ دلہن کا جوڑا تو بہت ہی خوبصورت اور مہنگا لگتا ہے آخر دادی جان نے ملازمہ سے پوچھ لیا۔ملازمہ نے بتایا کہ پانچ لاکھ کا یہ جوڑا حسن صاحب نے خود اپنی دلہن کے لیے پسند کیا ہے۔ یہ سن کر دادی جان دعا کے صدقے واری جانے لگیں اور بولیں اللہ تمہیں بری نظروں سے بچائے۔ کتنا جچے گا یہ جو ڑامیری بیٹی پر۔حسن کی پسند کا جوڑا۔۔۔۔ یہ سن کر دعا کھلکھلا اٹھی۔اسے ایسا لگا جیسے کسی مرجھاۓگلاب کو سیراب ہونے کے لئے پانی مل گیا اور وہ پھر سے تروتازہ ہو گیا ۔وہ حسن کے گھر سے آئی تمام چیزوں کو دیکھ کر شرماتی اور مسکراتی رہی۔ اس کے دل میں آئے وہم کچھ کم ہونے لگے۔۔۔ کیسےاسے جی بھر کر دیکھے گی؟ وہ اسےکیا کہے گا؟ تمام سوالات و جوابات کی کشمکش میں گم تھی۔ دروازے پر ہلکی سی دستک ہوئی اور دروازہ کھلا۔وہ سمٹ کر بیٹھ گئی ۔اسے لگا حسن آیا ہے۔ایک ملازمہ کی آواز نے اسے چو نکا دیا۔بیگم صاحبہ!حسن صاحب کا پیغام آیا ہے کہ وہ رات دیر تک اپنے دوستوں کے ساتھ رہیں گے۔۔۔۔۔ ملازمہ کے اس پیغام نے دعا کو سکتہ میں ڈال دیا۔ وہ سن ہو کر بیٹھی رہی۔۔۔۔۔۔ حیرانگی سے ملازمہ کا منہ تکنے لگی اس کے تمام خدشات درست ثابت ہوئے۔حسن کی اس حرکت نےاسے بتا دیا کہ وہ اس شادی سے خوش نہیں ہے۔ یہ سوچتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اس نے کلائیوں میں پہنے پھولوں کے گجرے اتار کر پھینک دیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے بوجھل آنکھوں سے تکیے پر سر رکھ لیا نہ جانے کب روتے روتے اس کی آنکھ لگ گئی۔ جب اس کی آنکھیں کھلی تو اس نے ایک ساۓ کواپنے بہت قریب پایا ۔اس سائے کو دیکھ کر اس کی ہلکی سی چیخ نکل گئی۔حسن نے لائٹ آن کی اور دعا کو دیکھ کر مسکرا دیا۔آپ سو رہی تھیں تو میں نے لائٹ آف کر دی اور آپ کو جگانا مناسب نہیں سمجھا۔دعا اٹھ کر بیٹھ چکی تھی۔ مگر اس نے حسن کی کسی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔لگتا ہے آپ مجھ سے ناراض ہیں۔نہیں۔۔۔ آپ کو کوئی حق نہیں یوں میری زندگی خراب کرنے کا اور میرے جذبات کے ساتھ کھیلنے کا۔آپ مجھے بتا دیتے میں خود شادی سے انکار کر دیتی ۔ نکاح سے لے کر اب تک آپ کے رویے نے یہی ثابت کیا ہے کہ آپ اس شادی سے خوش نہیں ہیں۔وہ اس کو دیکھ کر مسکرایا اور ٹانگیں نیچے پھیلائے بیڈ پر لیٹ گیا۔بیڈ پر لیٹے اس کا چہرہ دعا کے چہرے کے سامنے تھا۔ دعانے اس کی نگاہ میں آج پھر وہ انوکھا پن محسوس کیا جو اس نے پہلی بار اپنے گھر اسے دیکھنے پر محسوس کیا تھا۔ میں منت مانگو یا کہ دربارجاؤں بتا کیسے تیرے لیے رب میں مناؤ ں اس نے اسے عشقیہ نگاہوں سے دیکھتے ہوئے غزل کے چند اشعار پڑھے۔اس کی آنکھوں میں دعا کو محبت نہیں بلکہ دیوانگی نظر آئی۔ دیوانگی کی اس تڑپ کو وہ محسوس نہ کر پائی تھی۔وہ اٹھا اور اٹھ کر اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔ہاتھوں سے دونوں کندھوں کو تھاما،اس کے چہرے پر اپنی نگاہیں مرکوز کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔ جب تم پہلی بار ڈیڈ کے آفس میں انٹرویو دینے آئی تھی۔جب تم ویٹنگ روم میں بیٹھی اپنے بلائے جانے کا انتظار کر رہی تھی۔ وہاں سے گزرتے میری نظر تم پر پڑی تو میرا دل وہیں رک گیا۔خیر میں تمہیں اگنور کر کے ڈیڈ کے آفس آگیا۔پھر جب تمہارا انٹرویو لیا جا رہا تھا تو میں بھی وہیں موجود تھا۔میرا دل تمہیں دیکھنے میں اس قدر مصروف تھا کہ مجھے خبر ہی نہ ہوئی کہ تم سے انٹرویو میں کیا پوچھا گیا اور تم نے کیا بتایا۔تمہارے چہرے پر کوئی نور موجود تھا جو مجھے بار بار تمہاری طرف کھینچ رہا تھا۔میرے ساتھ ایسا پہلی بار ہوا کہ کسی لڑکی کو دیکھ کر میرا دل تڑپ اٹھا تھا۔ میں تمہیں اگنور کرنا چاہتا تھا جب کہ میرا دل بار بار تمہی کو دیکھنا اور سوچناچاہ رہا تھا۔ تمہاری سادگی میں بھی تمہاری خوبصورتی جھلک رہی تھی۔کالج اور یونیورسٹی لیول تک کبھی میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا تھا میں نے ہمیشہ لڑکیوں passionکو اگنور کیا اور ان سے دور رہنے کی کوشش کی۔ میرا بس ایک تھا۔ میں اپنے ڈیڈ سے کامیاب بزنس مین بننا چاہتا تھا اور بغیر ان کی مدد اور سپورٹ کے آگے بڑھنا چاہتا تھا۔اس لیے میرا فوکس ہمیشہ سٹڈی پر ہوتا یا ان لوگوں کی طرف جو زندگی میں اپنے ہر مقصد میں کامیاب رہے تھے۔بس لڑکیوں سے اسٹڈی کی حد تک بات چیت ہوتی تھی اس سے آگے میں نے کبھی بڑھنے کی کوشش کی نہ کسی کو اس کاموقع دیا۔خیر! پہلی بار دیکھنے کے بعد میں تمہیں اگنورکر چکا تھا۔ اتنے لوگوں کی موجودگی میں میرا دل صرف تم پر اٹکا رہا۔میں بس تمہیں دیکھتا رہا۔ ہاں۔۔۔۔۔ میرا دل تم پر فدا ہو گیا تھا۔میرے دل نے میرے پورے وجود کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا وہ صرف یہی چاہتا تھا کہ میں ذہنی طور پر بھی تمہاری چاہت اور تمنا کروں ، تمہیں پانے کی خواہش کرو ں۔تمہیں پہلی بار دیکھنے پر بھی دل کا یہی ردعمل تھا۔۔پرتب میں نے دل کی ان سنی کردی۔مگر اس دن میں ذہنی طور پربھی دل کی گرفت میں آگیا اور میرے دل اور دماغ نے تمہاری محبت کو پانے اور تمہیں اپنانے کی خواہش کی۔میں کبھی لڑکیوں سے فرینک نہیں ہوا تھا اس لئے مجھے بالکل سمجھ میں نہ آیا کہ میں تم سے کیسے اور کس بہانے سے ملوں اور بات کروں۔ ڈیڈ کے آفس کے لوگوں سے میرا زیادہ تعلق واسطہ نہ تھا۔میں بس ڈیڈ کےآفس کے بہت قریبی لوگوں کو جانتا اور پہچانتا تھا۔تم تو شاید یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ میں حسن امجد ہوں۔اس تقریب میں تم تھوڑی دیر کے لیےرکی اور پھر چلی گئی۔میں تمہیں بس جاتے دیکھتا رہ گیا۔اس کے بعد مجھے تقریب میں کوئی دلچسپی نہ رہی میں خاموشی سے وہاں سب کو دیکھتا رہا اور تمہارے خیالوں میں کھویا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ چونکہ میں نے ابھی بزنس شروع کیا ہے اور اپنی تمام توجہ میں اپنے بزنس کو دینا چاہتا ہوں۔یہ سن کروہ حیرت سےمسکرا دیے اور بولے اچھا! اچھا! چلو ٹھیک ہے میں تو بس چاہتا تھا کہ۔۔۔ خیر چھوڑو جیسے تمہاری مرضی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے ڈیڈ مجھے تنگ کرنا چاہ رہے ہیں اور میرے دل کی بات ٹٹولنا چاہتے ہیں۔ان کے دل میں کیا تھا میں بھی یہ جاننے کے لیے بے تاب ہو گیا۔ویسے ڈیڈ اچانک آپ کو میری شادی کا خیال کیسے آیا؟ میں نے تو ایسا کبھی آپ سے کچھ شیئر نہیں کیا٫برخوردار میں صرف تمہارا ڈیڈ نہیں تمہارا ایک دوست بھی ہو مجھے ایسا لگا جیسے تمہارے دل میں کسی کے لیے لئے کچھ خاص فیلنگس ہیں۔۔۔۔۔۔۔بس ایک دوست کے ناطے میں صرف تم سے پوچھنا چاہ رہا تھا۔۔ خیر۔۔۔۔۔ کوئی بات نہیں۔میرے دل نے مجھے جھنجوڑا کے فوراً تمہارے بارے میں اپنی فیلنگز کا اظہار کر دوں۔مگر مجھے ڈیڈ کے سامنے ہچکچاہٹ محسوس ہوئی۔میں مسکراتے کبھی ہاں اور کبھی نہ والے ایکسپریشن ان کو دینے لگا۔۔۔ چھوڑو تم پہلے اپنے بزنس کو ٹائم دو پھر۔۔۔۔ پھر دیکھا جائے گا۔ڈیڈ اگر آپ کو کوئ لڑکی پسند ہے میرے لیے، آپ بلا جھجک مجھ سے شیئر کر سکتے ہیں ہاں اگر مجھے پسند ہوئی تو پھر میں ضرور آپ کی خواہش کا احترام کروں گا۔اگر نہ ہوئی تو انکار کر دوں گا۔ پھر انہوں نے میرے سامنے چار لڑکیوں کے نام لیے جو بہت اچھی فیملی سے تعلق رکھتیں تھیں اور ان کے بہت قریبی دوستوں کی بیٹیاں تھیں۔میں نے چاروں کے نام سن کر فورا نہ میں سر ہلا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ڈیڈ میں تھک چکا ہوں میں سونے جا رہا ہوں میں یہ کہہ کر ڈور کی طرف بڑھا۔ پیچھے سے ان کی آواز آئی کہ ایک اور لڑکی ہے، میرے آفس میں کام کرتی ہے۔ جس کا نام دعا ہے۔میرے قدم وہیں رک گئے۔ میں آگے مزید نہ بڑھ سکا ۔فوراً ڈیڈ کی طرف واپس لوٹا،حیرانگی اور خوشی سے چلایا ۔۔۔۔۔۔اوہ ڈئیر ڈیڈ۔۔۔۔۔ ان کی اتنی تیز آبزرویشن پر میں نےدونوں ہاتھ سر پر رکھ لئے۔برخوردار تقریب میں تمھاری نظریں جب اس کا دیدار کرنے میں مصروف تھیں تو ہم بھی چپکے چپکے تمہارا دیدار کر رہے تھے۔ بس تمہاری نگاہوں سے تمہارے دل میں پہنچ گئے اور تمہارے دل نے ہم سے فورا اپنے دل کی بات کہہ دی ہم فوراً سمجھ گئے کہ اب ہمارا بیٹا کیا چاہتا ہے۔ اب بتاؤ ہاں یا نا ۔۔۔۔۔۔۔۔میں آگے بڑھ کر فورا ان کے سینے سے لگ گیا ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔مجھے ہاں یا نہ کہنے کی ضرورت نہ پڑی۔ میرے رویے نے ان کو میرے دل کی ہر بات سے آگاہ کر دیا تھا ۔ ڈیڈمیرے بچپن سےہی میری ہر خواہش کو میرے کہنے سے پہلے جان کر پورا کر دیتے۔اسی وجہ سے میں ان کے بہت کلوز تھا وہ میرا آئیڈیل تھے۔میں نے ان کو ہمیشہ کام سے محبت کرتے دیکھا۔ان کی زندگی میں بہت کم لوگ تھے جن سے ان کا تعلق واسطہ تھا۔ وہ بہت سوچ سمجھ کرتعلق بناتے۔ جن رشتوں سے ان کا تعلق جڑجاتا ہمیشہ ان کو نبھانے کی کوشش کرتے۔ ماما کی کی ڈیتھ کے بعد وہ جس سے چاہتے شادی کر سکتے تھے ۔مگر ان کی محبت کو انہوں نے کبھی اپنے دل سے ڈیڈ نے بھانپ لیا تھا بولے، دعا کسی کے ساتھ انگیجڈہے نہ ہی فی الحال جلد اس کی فیملی کا کوئی اس کی شادی کے بارے میں ارادہ ہے۔ ہم جب کسی کو آفس میں جاب کے لیے رکھتے ہیں تو اس کا پرسنل ڈیٹا ضرور اکٹھا کر لیتے ہیں تاکہ فیوچر پلاننگ میں کوئی ڈسٹربنس نہ ہو ۔ So don't you worry. Be relax and concentrate on your business میں نے ڈیڈ کو گڈ نائٹ کہا۔سینے سے لگا اور اپنے کمرے میں سونے کے لئےچلاآیا۔۔۔۔پھر ۔۔۔۔۔خیر۔۔۔۔اس بات کو تم چھوڑو کہ میں نے کیسے تمہیں سوچتے اور تمہیں پانے کی خواہش میں میں کتنی راتیں جاگ کراور سو کر گزاریں۔یہ میرا اور میرے دل کا معاملہ تھا۔ اس نے گلاس پکڑتے کہا اگر آپ پینا چاہیں تو پہلے ہی سکتی ہیں۔دعا نےکچھ بولے بغیر سر ہلا کر انکار کر دیا۔ کریں گی آپ میرے ڈیڈ کی یہ خواہش پوری؟ اس نے دعا کی جھکی نظروں سے سوال کیا۔اس نے پلکیں اٹھائیں۔محبت بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا اور شرما دی۔حسن اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ چکا تھا۔وہ بھی اس کے سر کے بالوں کو نرمی کے ساتھ اپنی انگلیوں سے چھیڑنے لگی۔اب وہ اپنے اللہ سے راز و نیاز کرنے لگی۔ حسن اس کے دل کی تمنّا نہ تھا ۔مگروہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ تو صرف حسن کے دل کی تمناتھی۔اللہ نے اس کے دل کی تمنا کو حسن کے دل کی تمنا بنا دیا۔وہ سوچ رہی تھی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جب بہت سی خواہشات کو اللہ کی رضا کے لئے رد کر دیا ہو اور صرف اس کے بتائے ہوئے راستے پر عمل کیا ہو تو پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ انسان کی خواہش کو رد کرے۔وہ تو اللہ ہے۔ وہ تو اپنے بندے کو بہتر سے بہتر نوازتا ہے۔ اس نے اپنی بہت سی خواہشات کو اللہ کی رضا کی خاطر رد کر دیا تھا۔ شاید اسی لیےاللہ نے اسے حسن بطور انعام نوازا تھا۔اللہ کا یہ انعام کتنا خوبصورت تھا۔ دل کو لبھانے والا اور جائز بھی۔۔حسن اس کی گود میں سو چکا تھا۔۔ وہ شکرانے کے نفل ادا کرنا چاہتی تھی۔اس نے حسن کا سر تکیہ کے اوپر رکھ کراٹھنے کی کوشش کی تو حسن نے اس کو بازوؤں سے تھام لیا۔اس کی نگاہیں اس کا ارادہ سمجھا رہی تھیں۔اس نےدھیمی سی آواز میں شکرانے کے نفل ادا کرنے کی اجازت مانگی۔حسن نے اپنی بانہیں کھول دیں اور اسے جاتے ہوئے کہا جلدی لوٹنا۔ یہاں ایک دیوانہ تمہارا بے چینی سے انتظار کر رہا ہے۔اور ہاں منہ دکھائ میں تمہارے لیے ایک سرپرائز،ہنی مون میں ہم دونوں عمرہ کرنے جائیں گے۔یہ سن کر اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر چکی تھیں اور دل یہی سوچ رہا تھا۔ "تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے"
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو

وہ بہت کم گو تھی۔ زیادہ بولنا اسے پسند نہ تھا۔وہ اپنے کام سے کام رکھتی۔ وہ اپنی ذمہ داری خوب نبھاتی۔ سب کا خیال رکھنا ا سے بہت اچھا لگتا تھا۔وہ اپنی فیملی کے تمام افراد کی خواہش کا بہت احترام کرتی۔پچھلے کچھ دنوں سے اسے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ اس کانہ کسی کے پاس بیٹھنے کو دل کرتا اور نہ بات کرنےکو۔وہ اداس رہنے لگی تھی۔کسی کام میں اس کا جی نہ لگتا۔ وہ چڑچڑی ہوتی جا رہی تھی۔کسی کی بات کی طرف اس کا دھیان نہ ہوتا ۔
عمر کے جس حصے میں وہ تھی ۔اس میں ایسا چرچڑا پن آجانا معمول کی بات تھی۔
ایسا نہیں تھا کہ وہ خوب صورت نہیں تھی ۔ بس اسے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا نہیں آتا تھا۔وہ ہمیشہ سادگی میں رہتی تھی وہ فیشن سےکوسوں دور تھی۔وہ جدید دور کے تمام تقاضوں اور فیشن سے بخوبی آگاہ تھی۔ بس اپنی تمام تر ذمہ داریوں کو بخوبی نبھانے کے لیے اس نے کبھی خود پر توجہ نہ دی۔وہ بس اپنے کام سے کام رکھتی۔وہ کوئی عام سی گھریلو لڑکی بھی نہ تھی۔ اسے جاب کرتے تیسرا سال تھا۔ آفس میں وہ اچھی پوسٹ پر کام کر رہی تھی۔
اسے لگتا اگر وہ بھی دوسری لڑکیوں کی طرح سجتی اورسنورتی، نامحرم لوگوں سے دوستی کرنا معیوب نہ سمجھتی تو شاید آج حالات اور ہوتے ۔وہ اپنے آپ کو کو آج یوں تنہا محسوس نہ کرتی ۔
شاید وہ مکمل طور پر پر شیطانی وسوسوں میں آ چکی تھی۔بعض اوقات انسانوں پر شیطانی وسوسے غالب آجاتے ہیں اور وہ اپنی روایات و نظریات کو پس پشت ڈال کر کر ان شیطانی وسوسوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ دعا کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا تھا۔رات دیر تک جاگنے کے سبب وہ صبح نماز کے لیے نہ اٹھ سکی۔
اسے اپنا وجود بھاری بھاری محسوس ہوا۔ اس نے اٹھنا چاہا مگر وہ اٹھ نہ سکی۔اسے اپنا وجود گرم محسوس ہوا وہ شدید بخار میں مبتلاتھی۔موبائل پر ٹائم دیکھنے کے بعد اس نے آفس جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔وہ حیران تھی کہ اس کے جلدی نہ اٹھنے پر گھر کا کوئی فرد اس کو جگانے کے لئے کیوں نہ آیا۔
آفس میں اس نے اپنی طبیعت خراب ہونے کا بتا کر چھٹی کا کہہ دیا تھا۔ ڈاکٹر کے پاس سے جب وہ واپس آئی تو اس نے اپنے موبائل پر رنگ سنی ۔پاؤچ سے موبائل نکالا تو اپنے۔ ۔۔
سی ۔ای۔ او کا نمبر دیکھ کر حیران رہ گئی۔
بالکل ٹھیک ہوں بس ہلکا سا بخار تھا تھا۔مامانے نے آفس آنے نہیں دیا اب میں بہتر ہوں۔۔۔ انشاءاللہِّ صبح لازمی آفس حاضر ہوں گی۔اپنے سر کا فون سننے کے بعد وہ بہت خوش تھی۔۔۔کچھ دیر آرام کرنے کی غرض سے وہ لیٹ گئی ۔
اگلی صبح وہ آفس کے لیے تیار ہو کر جلدی پہنچنا چاہتی تھی۔اپنی غیرموجودگی میں ہونے والے کام کو وہ ایک بار اپنی نگرانی میں چیک کرنا چاہتی تھی تاکہ کسی مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔وہ آفس میں بیٹھی فائلوں کا جائزہ لے رہی تھی جب اس کو اس کے گھر سے کال آئی کہ اس کے بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے وہ ہسپتال میں ایمرجنسی میں ہے۔
دعا ! خیریت آپ یوں روتے ہوئے کہا جا رہی ہیں۔ خیرتو ہے۔۔۔ مجھے بتائیں کیا میں آپ کی کوئ مدد کر سکتا ہوں؟۔
اس نے مڑ کر دیکھا تو اس کے پیچھے اس کے سی۔ ای۔ او کھڑے تھے۔۔۔سر آپ۔۔۔۔۔۔۔وہ زار و قطار رونے لگی امجد صاحب نے اسے حوصلہ دیا اور رونے کی وجہ پوچھی۔ تو اس نے بتایا کہ اس کے بھائی کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے ۔وہ یہیں قریبی ہسپتال کی ایمرجنسی میں موجود ہے۔۔ آپ پریشان نہ ہوں۔امجد صاحب نے اسے حوصلہ دیا اور کہا میں آفس کے کام سے باہر جا رہا تھا چلیں میں آپ کے ساتھ ہسپتال چلتا ہوں میں آپ کے بھائی کی خیریت دریافت کر کے اپنے آفس ورک کے لیے چلا جاؤں گا۔مجھے ہسپتال کا پتہ بتائے فورا وہاں چلتے ہیں۔
تھوڑی دیر بعد وہ ہسپتال کی ایمرجنسی میں میں موجود تھے۔وہ اپنی ماں سے لپٹ کر رونے لگی اور اپنے بھائی کی خیریت دریافت کی ۔اس کے ایکسیڈنٹ کے متعلق پوچھا۔پیچھے سے اس کی دادی جان کی آواز آئی کہ بیٹا ایسے وقت میں روتے نہیں اللہ سے دعا کرتے ہیں۔ اللہ سب خیر کرے گا۔انشاءاللہ !چپ ہو جاؤ اور بھائی کے لئے دعا کرو۔ماما یہ امجد صاحب! ہیں میرے سر ۔۔۔۔۔میں انہی کے ساتھ آئی ہوں۔ دادی جان نے اٹھ کر ان کے سر پر پیار دیا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔دعا کہ آنسو تھم نہیں رہے تھے۔چھوٹی سی تو اس کی فیملی تھی ماما ،بابا، دادی جان ، ایک بہن۔۔۔ اور ایک بھائی۔۔۔
وہ کسی کو بھی تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی تھی۔ماما نے اسے بتایا کہ بھائی خطرے سے باہر ہے۔ چھوٹا سا موٹر سائیکل پر روڈ ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔اللہ سب خیر کرے گا انشاءاللہ آپ بھائی کے لیے دعا کرو۔ اس کی ماما نے بھی اسے تسلی دی۔کوریڈور میں موجود کرسیوں پر دعا نے اپنے سر کو بیٹھنے کی لئے کہا اور ان کا بہت بہت شکریہ ادا کیا۔تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر نے آکر بتایا کہ اس کا بھائی بالکل ٹھیک ہے۔اس کے سر نے جانے کی اجازت چاہی،امجد صاحب! کو رخصت کرنے کے لئے دعا جب آگے بڑھی تو وہ یہ کہہ کر چلے گئے کہ آپ کی فیملی سے مل کر بہت خوشی ہوئی بہت ہی صبر اور حوصلے والے ہیں آپ کے گھر والے، اور اللہ پر توکل کرنے والے ہیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ ۔
دعا روزانہ معمول کی طرح اپنے آفیس جاتی ۔شام کو اپنی فیملی کے پاس بیٹھتی اور ان سے گپ شپ کرتی۔ اسے اپنوں کو وقت دینا اور ان سے دل کی بات کرنا اور پوچھنا بہت اچھا لگتا۔ایک دن رات کے تقریبا دس بجےڈور پر بیل ہوئی، تمام گھر والےپریشان ہو گئے کہ اس وقت کون آ سکتا ہے۔دعا کے پاپا نے دروازہ کھولا تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ باہر دعا کے سر اور ان کے ساتھ ایک خوبرو نوجوان لڑکا موجود ہے۔
حسن ایک خوبرو نوجوان ،خوبصورت لڑکا تھا دعا نے اسے ایک گہری نظر سے دیکھا اسے لگا کہ کسی نے اس کے دل کی تار کو چھیڑ دیا ہے۔اس نے فورا اپنی حالت پر غور کیا اور نظریں جھکالیں ۔وہ نظر جھکائے اس کے سامنے بیٹھا تھا۔۔۔
۔ اس کے فون پر رنگ ہوئی ۔وہ امجد صاحب سے مخاطب ہوا اور بولا ڈیڈ! مجھے کام ہے میں چلتا ہوں ۔اب آپ سے گھر میں ملاقات ہوگی،اس نے سب کو اللہ حافظ کہا
جاتے ہوئے دل موہ لینے والی نگاہوں سے اس نےدعا کو دیکھا۔ مسکراتے ہوئے وہ باہر کی طرف رخصت ہوگیا۔
۔امجد صاحب کچھ دیر خاموش رہے ۔۔۔۔۔
پھر بولے میں اپنے بیٹے حسن کے لئے دعا کو مانگنے آیا ہوں۔حسن میرا اکلوتا بیٹا ہے اور مجھے اس کے لئے دعا جیسی بیٹی کی ضرورت ہے۔مجھے امید ہے کہ آپ میرے بیٹے کیلئے یہ رشتہ قبول فرمائیں گے۔پھر بھی آپ سوچ بچار کر لیں مجھے کوئی اعتراض نہیں اگر آپ انکار کرنا چاہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں دعا میری بیٹیوں کی طرح ہے۔ آپ کے انکار پرمجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں ہوگا ۔ ۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد دعا چائے اور دیگر لوازمات لے کر ڈرائنگ روم میں میں آئی۔ سب کو خاموش دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔دادی جان نے مسکرا کر سکوت توڑا اور امجد صاحب سے ان کی فیملی کے بارے میں پوچھنے لگیں ۔
"اللہ بیٹا تمہاری خواہش پورے کرے"۔دادی نے امجد صاحب کو
دعا دی،تم بھی میری طرح اپنے گھر میں پوتوں اور پوتیوں کی رونق دیکھو۔ یہ سن کر امجد صاحب بہت خوش ہوئے۔" اس کے لیے مجھے آپ کے جواب کا انتظار رہے گا"۔یہ کہہ کر امجد نے پیار بھری نگاہوں سے دعا کی جانب دیکھا۔۔۔۔۔دادی نے اثبات میں سر ہلاتے امجد صاحب سے کہا۔باہمی مشاورت کے بعد ہی ہم آپکو اپنے فیصلے سے آگاہ کریں گے۔
جی مجھے آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔
کمرے میں سب لوگ مسکرا دیے۔دعا کو ان کی باتیں بلکل سمجھ نہیں آ رہیں تھیں تھی۔
اس نے بھی سب کی باتوں پر مسکراتے سب کو چائے سرو کی۔
چائے پینے کے دوران سب ہلکی پھلکی گفتگو کرتے رہے۔دادی نے بھی امجد کو اپنے گھریلو ماحول کے بارے میں بتاتے سب کے بارے میں بتایا۔امجد بھی اپنی زندگی کے واقعات کا ذکر ان سے کرتا رہا ۔دادی نے بہت سی دعائیں دے کر امجد صاحب کو رخصت کیا۔انہیں باتوں باتوں میں یقین دلایا کہ ان کا جواب" ہاں" میں ہی ہو گا۔
دعا سے کسی نے بھی امجد صاحب کی آمد کے مقصد کا ذکر نہیں کیا۔ بس سب آپس میں اکثر دعا کے بارے میں مشاورت کرتے۔دادی نے کئی بار دعا سے حسن اور امجد کے بارے میں باتوں باتوں میں پوچھنے کی کوشش کی۔
دعا اپنے سر کی ہمیشہ بہت تعریف کرتی۔حسن کے بارے میں اسے کچھ معلوم نہ تھا۔اس لیے اس نے اس کے بارے میں گھر والوں سے کوئی بات نہیں کی۔
دعا روٹین سے آفس جاتی رہی۔ اس کے سر بھی اسے جب ملتے اس سے گھر والوں کی خیریت کے بارے میں دریافت ضرور کرتے۔
کچھ دنوں بعد دادی جان نے امجد صاحب کو گھر کھانے پر دعوت دی اور رشتے کی منظوری کے لیے ہاں کر دی۔نکاح کی تاریخ طے ہوگئ اور چند دنوں بعد رخصتی کا بھی سوچ لیا گیا۔ دعا کو یہ کہہ کر امجد صاحب رخصت ہو گئے کہ اب آپ کی آفس سے چھٹی۔ اب آپ ہمارے گھر میں ہماری بیٹی بن کر آئیں گی اور وہاں ہم پر حکم چلائیں گی۔دعا نے بھی مسکرا کر ہاں میں اپنا سر ہلا دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
یوں بھی کسی کے دل کی تمنا پوری ہوتی ہے ایسا اس نے سوچا نہ تھا۔اس نے حسن کو کبھی چاہا نہیں تھا ہاں یہ خواہش ضرور تھی کہ کوئی حسن جیسا اچھے گھرانے کا لڑکا اس کا جیون ساتھی بنے۔ اس کا نام اتنے خوبصورت، قابل،خوبروں اور اچھے گھرانے سے تعلق رکھنے والےشخص کے ساتھ جڑ جائے گا اس نے کبھی خواب و خیال بھی نہ کیا تھا۔
بس اسے اللہ کا یہی ارشادیاد آ رہا تھا۔۔
جیسے جیسے اس کی رخصتی کے دن قریب آرہے تھے اس کی ادا سی بڑھتی جا رہی تھی۔ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک پڑھا لکھا نوجوان جو اچھے گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور خوبصورت بھی ہے، اپنے نکاح والے دن اپنی دلہن سے کوئی بات نہ کرے۔ اس کی کوئی تعریف نہ ہی کوئی تحفہ ۔۔۔۔ان تمام سوالات نے اس کی نیندیں اڑا رکھی تھیں ۔
رخصتی سے ایک دن پہلےدعا کے لیے ایک خوبصورت عروسی جوڑا، زیورات اوروہ تمام اشیاء جن کی ایک دلہن کو ضرورت ہوتی ہے،حسن کے گھر سے بطور تحفہ آئیں۔
امجد صاحب بڑی دھوم دھام سے اپنی بہو کو بیاہ کے اپنے شاندار گھر میں لے آئے۔دعا کو اپناآپ پریوں کی ملکہ جیسا محسوس ہو رہا تھا۔اس نےحسن کو پہلے سے تھوڑا سا مختلف پایا۔ غالباََ وہ بھی آج خوش نظر آ رہا تھا۔۔۔۔۔
۔تمام رسومات کی ادائیگی کے بعد دعا کو اس کے خوبصورت بیڈ روم میں چھوڑ دیا گیا۔آج کی رات اس کے لئے بہت خوبصورت اور یادگار ہو گئی۔ ابھی وہ وہ یہی سوچ رہی تھی حسن کے سامنے کیسے بولے گی؟
۔ آپ تھک گئی ہوں گی آرام کر لیجئے۔ملازمہ نے دعا کو کہا، آپ کو کسی چیز کی ضرورت ہے بتا دیجئیے۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں اس نے بجھی سی آواز میں جواب دیا۔ملازمہ دروازہ بند کرکے واپس چلی گئی۔
دعا نے انکار میں بس سر ہلا دیا۔وہ دعا کے سامنے بالکل اس کے قریب آکر بیٹھ گیا۔اگرآپ ناراض نہیں تو یہ اتنے خوبصورت چہرے پر آنسوؤں کے نشان کیسے ؟۔
دعا کچھ کہے بغیر دوبارہ سے رونے لگی۔وہ روتے روتے بولی اگر آپ اس شادی سے خوش نہیں تھے تو پھر کیوں مجھ سے شادی کی؟
فلک دیکھا دیکھی میں نے دنیا ساری
تیری دید جیسا نہ کوئی میں پاؤں
اشارہ ملا تو میرا ہو جائے گا
خیرات ڈالو یا قیدی چڑیا اڑاؤں
تمہیں پتا ہے تمہیں میں نے پہلی بار کب دیکھا تھا؟ تمہیں کیسے پتا ہو سکتا ہے؟ تم تو میرے عشق سے میری دیوانگی سے سے انجان ہو۔ہاں تو میں بتا رہا تھا تمہیں میں نے پہلی بار کب دیکھا تھا۔۔۔۔۔
دوسری بارمیں نے تمہیں سالانہ تقریب میں ڈیڈ کے آفس میں دیکھا۔تمہیں دیکھنے کے بعد میں مکمل طور پر تمہاری ذات کے حصار میں میں آگیا۔تمہیں سادگی میں دیکھ کر میرا دل مچل اٹھا تھا۔تم ہلکے سے میک اپ میں اتنی خوبصورت دکھ رہی تھی کہ میرا دل تمہاری محبت میں کھو جانے اور بکھرنے کے لیے بے تاب ہو گیا۔
ڈیڈ میری اس حالت کو محسوس کر چکے تھے۔جیسے ہی تقریب ختم ہوئی اور ہم گھر لوٹ کرآۓ انہوں نے مجھے فوراً اپنے کمرے میں بلا لیا۔ میری ذات کے معاملے میں ان کی
ابزرویشن بڑی اچھی تھی۔
ہمیشہ ہر معاملے میں مجھے نوٹس کر لیتے۔ مجھے کبھی ان سے کچھ کہنے کی ضرورت نہ پڑتی بن مانگے اور کہے ہی وہ میری خواہش جان لیتے۔اس دن بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ایسے ہی ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد ڈیڈ نے کہا بر خوردار میں چاہتا ہوں کہ تم اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز کر لو۔اگر تمہاری نظر میں کوئی لڑکی ہے تو مجھے بتا دو میرے لیے تمہاری خواہش کی بہت اہمیت ہے ۔میں تمہاری خواہش کا احترام کروں گا۔میں ان کی اس سمجھداری پر مسکرا اٹھا اور کچھ کہے بغیر نہ میں سر ہلا دیا کہ ایسا کچھ نہیں ،میں فی الحال ٹینشن فری رہنا چاہتا ہوں۔
ویسے ڈیڈ آپ کچھ پوچھنا چاہتے ہیں یا بتانا،میں سمجھ نہیں پا رہا۔میں نے بھی آخر اپنے دل میں آئی بات ان سے پوچھ لی۔تم کچھ بتاؤ گے تو میں بھی کچھ بتاؤں گا نا۔ڈیڈ کا انداز بالکل دوستانہ تھا۔حقیقتاایسا کچھ نہیں جیسا آپ محسوس کر رہے ہیں۔ہاں اگر آپ کی نظر میں کوئی لڑکی ہے تو مجھے بتا دیں اگر مجھے پسند ہوئی تو میں آپ سے ضرور شیئر کروں گا۔ہاں میری نظر میں تو تین چار لڑکیاں ہیں لیکن۔۔۔۔
نکلنے نہیں دیا نہ ہی انکی جگہ کسی اور کو دے سکے۔
وہ میرا آئیڈیل ہیں ۔ I love my dad so much
میں بھی بالکل ان کے جیسا ہوں۔یوں سمجھ لو ان کا عکس ہی ہوں میں۔جلدی تعلق بناتا نہیں بنا لوں تو مرتے دم تک چھوڑتا نہیں، یہ کہتے اس نے دعا کے ہاتھ تھام لیے تھے۔دعا کو ہر بات حیران کر رہی تھی ۔وہ خاموشی سے سنتی جا رہی تھی۔
ڈیڈ نے کہا ٹھیک ہے مجھے دعا پسند ہے عادتاً بہت اچھی لڑکی ہے۔ بہت بریلینٹ ہے ۔مجھے اس پر اعتماد ہے ۔یقینا وہ تمہیں بہت خوش رکھے گی۔لیکن فی الحال تم اپنے بزنس کو وقت دو ۔میں چاہتا ہوں پہلے تم بزنس اچھی طرح اسٹیبلش کرلو ۔انشاءاللہ بہت جلد میں تمہارا رشتہ لے کر دعا کے گھر جاؤں گا۔میرے چہرے پر پریشانی کے کچھ تاثرات ابھرے اور کچھ سوالات تمہارے بارے میں ذہن میں آۓ۔
ہجر کی راتیں گزریں۔ اب تو دیدار اور پیار کے دن میری زندگی میں آ چکے ہیں۔اس نے اپنا چہرہ اس کے چہرے کے قریب کر لیا ،دونوں کو ایک دوسرے کی سانسوں کی خوشبومحسوس ہونے لگی۔دھیرے سے بولا ، مجھے پیاس محسوس ہو رہی ہے پانی پلائیں گی۔دعانے ہاں میں سر ہلایا۔سائیڈ ٹیبل پر پانی موجود تھا اس نے گلاس پانی سے بھرا ۔ٹرے میں رکھ کراسکو پیش کیا۔
پانی پینے کے بعد وہ بولا ۔جب تمہارے بھائی کا ایکسیڈنٹ ہوا ہوا اورتم روتے ہوئے مین گیٹ کی طرف بھاگ رہی تھی تو وہاں پر ڈیڈکے ساتھ میں بھی موجود تھا۔تمہیں پریشان دیکھ کر ڈیڈ تمہاری طرف بڑھے مگر میں چند قدم پیچھے ہی ٹھہرا رہا۔میں نے ڈیڈ کو اشارہ کیا کہ تمہارے ساتھ چلے جائیں۔ میں بعد میں اپنی گاڑی پر چلا جاؤں گا۔تمہیں روتے دیکھ کر میرے دل کو تسلی نہ ہوئی ۔میں بھی تمہارے پیچھےہسپتال پہنچ گیا۔تم جانتی ہو جب تم وہاں رو رہی تھی۔ تمہارا رونا مجھے بہت تکلیف دے رہا تھا تمہارےگرتے آنسو میرے دل پر زخم کر رہے تھے۔بس پھر میں نے سوچا اب تم سے دور نہیں رہنا۔ بہت جی لیا ہے تم بن ۔ اب تمہارا قرب اور تمہاری محبت حاصل کرنا ہے۔ڈیڈ سے شادی کے بارے میں بات کی وہ فورا مان گۓ اور بولے میں بھی یہی چاہتا ہوں اب میری بہو میرے گھر میں آ جائے۔۔یہ گھر بھی رونق سے بھر جائے۔ کہیں تم دونوں میاں بیوی باتوں میں مگن ہوں اور کہیں میرے پوتے پوتیاں شرارتیں کرتے اور مجھ پر جھولا جھولتے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
حسن امجد جیسا کوئی بھی چاہنے والا اس کے دل کی تمناہوسکتا تھا۔کوئی خاص انسان اس کی زندگی میں شامل نہیں تھا۔ جسے وہ پانا چاہتی یا پانے کی خواہش کرتی ۔ وہ تو بس اللہ سے سے کوئی پرخلوص ساتھی مانگتی تھی۔
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں