اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات افغانستان میں طالبانی اقتدار اور پاکستان پر اس کے اثرات ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی اس وقت دنیا کی نگاہیں کابل پر جمی ہوئی ہیں کہ یہ اچانک طالبان کیسے چھا گئے۔ یہ طالبان کیا کرنے والے ہیں؟ انکا طرزِ حکمرانی کیا ہو گا؟۔ حالات کس طرف جائیں گے؟ کیا طالبان کے مستقبل کے اقدامات اب تک سامنے آنے والے ان کے بیانات کے مطابق ہوں گے یا یہ بیانات صرف تسلط کے عمل کو مکمل کرنے کی ٹیکٹکس کا حصہ ہے۔ عالمی میڈیا کا اس وقت سب سے بڑا موضوع افغانستان اور طالبان ہیں۔ میڈیا ہاؤسز اور تجزیہ نگار، مبصرین حتی حکومتیں بھی انتظار کر رہی ہیں کہ مستقبل میں طالبان کا اونٹ کس کروٹ بیٹھنے والا ہے۔ افغانستان میں آنے والی تبدیلی کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ لیکن یہ تبدیلی ایک نئی حقیقت کا روپ اختیار کر چکی ہے۔ یہ حقیقت مستقبل قریب میں عالمی برادری اور خصوصاً ہمسایہ اقوام کے لیے کچھ ایسے چیلنجز کھڑے کرے گی اور کچھ ایسے حالات و واقعات رونما ہوں گے جن کا سامنا ناگزیر ہوجائے گا۔ افغانستان کی اب تک کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے قابل احترام قارئین کے لیے سوال و جواب کی صورت میں ایک مختصر تبصرہ پیش کررہا ہوں۔ اس میں تقریباً ان اکثر سوالات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو اس وقت ایک عام قاری کے ذہن میں افغانستان کے حوالے سے موجود ہیں۔ افغانستان کی صورتحال پر مستقبل قریب کے فیصلے اور اقدامات بہت زیادہ اثر انداز ہوں گے اس لیے کوئی بھی رائے حتمی نہیں ہے۔ افغانستان میں تبدیلیاں اس تیزی سے رونما ہورہی ہیں کہ مبصرین اور ماہرین کے لیے حیران کن ہیں اور یہ بات خود افغانستان کی صورتحال کے ناقابل پیش بینی ہونے پر شاہد ہے۔ س 1 : طالبان کا اقتدار اور نظام کیسا ہو گا؟ س 2 : انکا طرز حکومت یا نظام کے خد و خال کیا ہو سکتے ہیں ؟ س 3 : قومی جماعتی ملوکیت سے کیا مراد ہے ؟ امریکی جریدے فارن پالیسی نے اپنے گزشتہ روز کے ایک مضمون میں طالبان قیادت کے نزدیکی ذرائع سے اس بات کی تائید کی ہے کہ طالبان حکومت 12 رکنی منصوب شورای کے ذریعے چلائی جائے گی جو مختلف وزارتوں اور صوبوں کے سربراہ خود معین کرے گی۔ اس وقت تک برآمدہ اطلاعات کے مطابق عوام کے حق رائے دہی اور عوامی رائے سے حکومت کی تشکیل کی کوئی خبر سامنے نہیں آئی ہے۔ ضمنا طالبان کی طرف سے حالیہ تمام تقرریاں مثلا مرکزی افغان بینک کے سربراہ اور وزارت تعلیم کے سربراہ کی تقرری قومی مشاورت کے بغیر اور پشتون بلکہ پشتون طالبان رہنماؤں میں سے کی گئی ہے۔ ہرات جیسے صوبے جہاں پختونوں کی تعداد 25 فیصد سے بھی کم ہے وہاں بھی گورنر سے لیکر ایک عام انتظامی افسر تک تمام اہم تقرریاں پشتون طالبان رہنماؤں کی کی گئی ہیں۔ حالیہ تقرریاں ہمارے اس خدشے کو تقویت پہنچاتی ہیں کہ مستقبل کے افغانستان میں جماعتی ملوکیت کو کسی دوسرے طرز حکمرانی پر فوقیت حاصل ہوگی۔ البتہ آنے والے چند دن اور چند ہفتے حقیقی صورتحال کی مزید وضاحت کریں گے۔ س 4 : آیا طالبان افغانستان کی سابقہ حکومت و اپوزیشن کے مختلف سیاسی گروہوں کو اپنے اقتدار میں شامل کریں گے جیسا کہ وہ اس وقت سب اقوام و ادیان و مذاھب کو شامل کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ ؟ 2- میرے فہم اور حالات سے آشنائی کے مطابق طالبان جس شراکتِ اقتدار کی بات کر رہے ہیں وہ انکے ھاتھ پر بیعت کرنا ہے۔ جو سیاسی رہنما اور قبائل کے سربراہ آکر طالبان کی بیعت کر لیں گے اور انکی اطاعت اور ان کی قیادت سے وفاداری کا وعدہ کریں گے۔ وہ اقتدار کے شریک بن جائیں گے۔ اور جو بیعت نہیں کریں گے وہ شریعت کے باغی شمار ہونگے ۔ اور انکے لئے پھر افغانستان میں زندگی گزارنا مشکل ہو گا۔ البتہ طالبان ڈپلومیٹک زبان میں اس بیعت کرنے کو انڈر سٹینڈنگ بھی کہہ سکتے ہیں ۔ 3 - اگر موجودہ شناختہ شدہ سیاسی چہرے آ کر انڈر سٹینڈنگ نہیں کریں گے تو وہ سب اقوام و مذاھب و ادیان سے اپنے وفادار اور قابل اعتماد افراد کو پھر بھی اقتدار میں شامل کریں گے خواہ وہ تیسرے یا چوتھے درجے کی شخصیات ہوں یا بالکل نئی اپنی حمایت یافتہ شخصیات متعارف کروائیں اور انہیں ان اقوام و مذاھب و ادیان کے لیڈران کے سامنے لا کھڑا کریں گے۔ س 5 : پاکستان پر نئی حکومت سے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ ؟ اس کے علاوہ پاکستان نے افغان طالبان کے ساتھ تعلقات کی بڑی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ تو یقینا طالبان کا اقتدار میں آنا سابقہ حکومت سے یقینا بہتر ہو گا۔ اور پاکستان اپنی پشت کو محفوظ محسوس کرے گا۔ اور خطے میں پاکستان کی اہمیت بڑھے گی۔ دو طرفہ تجارت بڑھے گی۔ عوام کے لئے روزگار کے مواقع بڑھیں گے جو کہ دونوں ملکوں کے عوام کی خوشحالی کا باعث ہو نگے۔ اس کے علاوہ بھی اور فوائد بیان کئے جا سکتے ہیں ۔ منقی اثرات : طالبان حکومت کے آنے کے بعد پاکستان میں کئی طرح کے مسائل اور مشکلات جنم لے سکتے ہیں ہم فقط دو بنیادی نکات کو بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ 1- طالبان کا ہم مسلک اور ھم فکر طبقہ پاکستان کو بھی افغانستان سمجھ کر اقلیت ہوتے ہوئے بھی اقتدارِ اسلام آباد پر براجمان ہونے کی دوڑ کو تیز کر سکتا ہے۔ جس سے ملک میں مذھبی منافرت ، فرقہ ورائیت اور مسلکی تسلط کی جنگ کا ماحول بن سکتا ہے۔ پہلے ہی یہ طبقہ جہادِ افغانستان سے متاثر ہو کر سینکڑوں بریلوی مسلک کے علماء اور اولیاء کرام کے مزارات کو اپنی دھشتگردی کا نشانہ بنا چکا ہے۔ اور اسی طرح ملک کے دوسری بڑی مذھبی اکثریت شیعہ مذھب کی ٹارگٹ کلنگ اور انکی عبادت گاہوں اور بازاروں میں دھماکے کروا چکا ہے۔ ملک کی دیگر ھندو مسیحی ودیگر اقلیتیں بھی انکے شر سے پہلے بھی محفوظ نہیں۔ متعدد بار انکی دھشتگردی کا نشانہ بن چکی ہیں۔ ملک کے حساس ادارے اور مراکز حتی کے اسکولوں کے ننھے بچے بھی انکی وحشت و بربریت کا نشانہ بن چکے ہیں۔ 2- ایک اور نکتہ جو مذھبی کارڈ سے زیادہ خطرناک ہے جو ملک کی تقسیم کی راہیں ھموار کر سکتا ہے۔ اور وہ قومی کارڈ کا استعمال ہے۔ پختونستان اور پختون قومی ایشو پہلے ہی استعماری ایجنڈے کا حصہ ہے اور پاکستان کے پختون علاقوں کو افغانستان کی پختوں حکومت سے ملحق کرنے کا کارڈ ملک دشمن قوتیں استعمال کر سکتی ہیں۔ اس سوچ کی پی ٹی ایم جیسے قومی انتہاء پسندوں کے علاوہ سابقہ کانگرسی اتحادی لیڈرز ، خواہ قوم پرست ہوں یا مذھبی لیڈر حمایت وترویج کریں گے۔ یہاں پر قوم سلامتی کے ذمہ داران مقتدر ادارواں اور حکومت وقت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ افغانستان میں اس آنے والی تبدیلی کو فقط ایک آنکھ سے نہیں بلکہ دونوں آنکھیں کھول کر دیکھے۔ اور مسائل کو ہر جانب سے دقت کے ساتھ پرکھے۔ تاکہ وقت گزرنے کے بعد آنے والے حکمران یہ نہ کہتے سنائی دیں کہ ہم نے ایک بار پھر غلط افغان پالیسی پر عمل کیا اور مختلف مسائل و امور کو بصیرت کی نگاہ سے نہیں دیکھا۔ اور ان ممکنہ خدشات کے علاج کے لئے جامع پالیسی بنائیں اور سختی سے اس پر عمل بھی کریں۔ پاکستان کے حوالے سے دوسری ذمہ داری بریلوی وشیعہ بزرگان و اکابرین ملت اور مذھبی قائدین، اداروں اور تنظیموں کی بنتی ہے کہ وہ بھی بروقت اپنی زمہ داریاں ادا کرنے کی سر جوڑ کر جامع پالیسی وضع کریں۔ اور باھمی وحدت واتحاد واتفاق کو فروغ دیکر ملکی استحکام اور مذھبی حقوق کا دفاع کریں یہ ملک پاکستان کے شیعہ اور سنی اکابرین نے ملکر بنایا تھا جب تک یہ متحد ہیں یہ ملک بھی قائم رہے گا اور اسے کوئی آنچ نہیں آئے گی ۔ لیکن اگر مسلکی تسلط کی جنگ چھڑ گئی تو پھر وطن عزیز کو ناقابل تلافی نقصان ہو گا۔ کابل پر طالبان کے تسلط کے بعد مسلکی جنگ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ اللہ تعالی ہمارے وطن عزیز کو قائم و دائم رکھے۔
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو

ج : اس کا انحصار انکی فکری بنیاد، رویوں اور عملی اقدامات پر منحصر ہے۔
ج : انکی فکر و سوچ کے انداز سے یہی لگتا ہے کہ وہ شریعت کا نفاذ خاندانی ملوکیت نہیں قومی و جماعتی ملکوکیت کے طرز پر کریں گے۔
ج: قرائن اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ فرار ہو کر طالبان کے اقتدار کی راہ ہموار کرنے والا سابقہ صدر اشرف غنی ہو یا کابل میں رہ کر اقتدار کی چابیاں طالبان کو پیش کرنے والے حامد کرزائی ، عبد اللہ عبداللہ اور گلبدین حکمتیار ہوں اور دوسری طرف اقتدار پر براجمان ہونے والے دولت اسلامیہ کے خواھاں طالبان ہوں ان سب کا تعلق پختون قومیت سے ہے اور تبدیلی کے باوجود مسندِ اقتدار پختون قومیت کے پاس ہی رہے گی۔ اور پختون اقتدار کی میخیں شریعت اسلامی کے کارڈ سے مضبوط کی جائیں گی۔ عوامی مشاورت یا ووٹنگ کے ذریعے نہیں بلکہ ملوکیت کے انداز سے نظام حکومت چلائے جانے کا امکان زیادہ ہے۔
ج : حالیہ صورت حال کو دیکھتے ہوئے اقتدار میں شمولیت کے چند ممکنہ طریقے ہوسکتے ہیں۔ جنکی وضاحت تین نکات میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
1- پہلی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ تمام افغان دھڑوں کے ساتھ مل کر آئندہ کے طرز حکومت کا تعین کیا جائے۔ وسیع قومی اتفاق اور عوامی حمایت کے ساتھ ایک قومی حکومت تشکیل دی جائے۔ طالبان کا فکری پیراڈایم اور ماضی بتاتا ہے کہ اس قسم کی شراکت کی کابل کے فاتح طالبان سے توقع رکھنا بعید ہے۔
اس قسم کی شراکتِ اقتدار ملک میں سیاسی استحکام اور نظام کی پائیداری و مضوطی کی ضمانت ہے اور مختلف طبقات کے اندر احساس محرومیت کا خاتمہ کرتی ہے جس کا امکان معدوم ہے۔
ج : مثبت اور منفی یقینا دونوں قسم کے اثرات مرتب ہوں گے۔
مثبت اثرات : ایک ھمسایہ ملک ہونے کے اعتبار سے پاکستان کا فائدہ اسی میں ہے کہ اس کے پڑوس میں امن و امان برقرار رہے۔ اور ہمسایہ ملک کی سرزمین اسکے خلاف استعمال نہ ہو۔ مشرقی سرحد پر ہمارا دشمن ملک بھارت جو طاقت کے ذریعے کشمیر پر قابض ہے ۔ ہمیشہ ہمارے خلاف سازشیں کرنے اور جنگیں مسلط کرتا رھتا ہے اور افغانستان کو بھی ان گزشتہ تقریباً بیس سالوں میں ہمارے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتا آیا ہے اسے طالبان کے آنے سے بہت دھچکا لگا ہے۔ اور اسکی سب پلاننگ اور سرمایہ کاری ڈوب گئی ہے۔
أفغانستان میں طالبانی شریعت کا نفاذ پاکستان میں انکے تصورات کے مطابق شریعت کے نفاذ کے مطالبے کی راہ ہموار کرے گی۔ ابھی سے دارالحکومت کی ایک مسجد سے واویلا شروع ہو چکا ہے۔ علاوہ ازیں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہنماؤں نے کابل جیل سے رہا ہوتے ہیں پاکستان میں بھی افغانستان کی طرز پر شریعت کے نفاذ کی کوششیں تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس دوران حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ افغانستان پر مسلط طالبان نے پاکستان کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ افغانستان کی سرزمین پاکستان سمیت کسی ہمسائے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے لیکن بہرحال ہر عمل کے کچھ اثرات ہوتے ہیں اور کابل پر طالبان کے تسلط کے اثرات میں سے ایک اثر پاکستان میں مذہبی شدت پسندوں کی سرگرمیاں تیز ہونے کی صورت میں ہوسکتا ہے۔
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں