اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات چہلمِ امام حسینؑ اور عالمی امن سید مرتضی موسوی دین است حسین دین پناہ است حسین حقا کہ بناء لاالہ است حسین اسی مقصد امام حسین علیہ السلام اور آپ اور آپ کے اصحاب کی قربانی کی یاد تازہ کرنے کا ایک نمونہ ان مقدس ہستیوں کے چہلم کی یادمنانا ہے جس کی سنت ایک جلیل القدرصحابی رسول جناب جابر بن عبد اللہ انصاری کے عمل سے پڑی جنہوں نے سینکڑوں میل پیدل چل کر۲۰صفر المظفر کو نواسہ رسول کی زیارت کا شرف حاصل کیا ۔ لہذا آج ہماری بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اس روز امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے جائیں اور پیدل چل کر زیارت کرنے کی سنت کو زیادہ زیادہ ترویج کریں تاکہ یوں نواسہ رسول (ص)کے حق کو ادا کیا جا سکے۔ اس موقع پر ایک خاص رسم جو حالیہ برسوں میں بہت زیادہ نمایاں طور پر سامنے آئی ہے اور ہر سال اسکی رونق میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے وہ کربلا کی جانب حسینی پروانوں کا ہجوم ہے جو پاپیادہ راہ کربلا کی طولانی مسافت کو طے کرکے اپنے مولا کے حضور اپنی لبیک درج کراتے ہیں۔پاکیزہ جذبات اور معنویت و روحانیت سے لبریز یہ عالیشان رسم گزشتہ صدیوں کے دوران بھی رائج رہی ہے، لیکن کچھ سالوں سے جو شکل اس رسم نے اختیار کی ہے اسکی نظیر نہیں ملتی۔جہاں دنیا بھر سے کروڑوں لوگ شریک ہوں وہاں ان کی خاطر خواہ تواضع کے ساتھ انہیں مکمل تحفظ بھی فراہم کی جاتی ہے ،جب کہ دنیا اس وقت دہشت گردی کے دہانے پہ کھڑی ہے جس جگہ دیکھیں لوگ امن کے لیے ترستے نظر آتے ہیں خصوصا عراق کو امن کے حوالے سے پرامن ملک نہیں سمجھا جاتا لیکن یہ حسینؑ کی کرامت ہے کہ چہلم کے دوران اتنے بڑے مجمع میں نہ کسی کو کوئی خراش لگتی ہے نہ کسی کو کسی سے کوئی شکوہ ہوتا ہے دنیا میں ہم نے لیتے ہوئے ہاتھوں کوتو بہت دیکھا ہے، نہ ملنے پر شکایت کرنے والوں کو دیکھا ہے لیکن کربلا میں دینے والے اور نہ لینے پر شکایت کرنے والوں کو دیکھا اگر کوئی ان کی جانب سے پیش کردہ چیز نہ لے تو وہ لوگ اسے اپنی بدقسمتی سمجھتے ہیں ایسی مہمان نوازی صرف ہمیں کربلا میں نظر آتی ہے،جہاں پیادہ چلنے والوں کی خدمت کیلیے ہر قدم پر میزبان موجود ہوتے ہیں جو اپنے مہمانوں کے جوتوں کی تحفظ سے لیکر پاؤں دھلانے تک خدمات کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ اگر کسی نے حقیقی امن اور انسانیت کی خدمت دیکھنی ہو تو زندگی میں ایک مرتبہ اربعین کے دوران ضرور کربلا کا رخ کریں اور اس عظیم عبادت(مشی) میں شامل ہوجائیں،یہ مولا حسینؑ کے اس عظیم کارنامے کا نتیجہ ہے کہ جب آپ۲ محرم الحرام کو کربلا پہنچے تو سرزمین کربلا کو خریدنے کے بعد دوبارہ متعلقہ مالکان کوہبہ کردیا اور کہاکہ یہاں آنے والے میرے زائرین کا خیال رکھیں عراق والے آج بھی مولاحسینؑ کی اس وصیت پر عمل پیرا ہیں، ماضی میں بھی سید الشہدا علیہ السلام کے چاہنے والے چہلم کے موقع پر پاپیادہ کربلا مشرف ہوتے رہے ہیں۔متعدد علما اور مراجع کرام کی سوانح حیات میں یہ تذکرہ ملتا ہے کہ یہ حضرات گذشتہ صدیوں میں بھی اپنے اعزاء و اقارب یا مریدوں کے ہمراہ اس روح پرور اور معنوی رسم پر خود بھی عمل پیرا رہے ہیں اور ساتھ ساتھ مومنین کو بھی اس میں شریک ہونے کی ترغیب دلائی ہے۔ گذشتہ کئی سالوں سے اس ملک (عراق)میں قبیلوں، خاندانوں، گھروں اور حتی بھائیوں کے درمیان خونی ٹکراو رہا ہے اس کے باوجود ملک بھر کے ان تمام قبیلوں اور خاندانوں کے افراد ایک ساتھ چہلم امام حسین علیہ السلام کے اس پیدل مارچ یا مشی کے دوران اکٹھے آتے ہیں اورپانچ سو کلومیٹر لمبے راستے میں جگہ جگہ ایسے افراد کے بوٹ پالش کرتے ہیں جنہیں وہ بالکل نہیں جانتے۔ اسی طرح ایسے افراد کی منتیں کر کے انہیں اپنے گھر لے جاتے ہیں اور ان کی خاطر تواضع اور خدمت کرتے ہیں جن سے ان کی کوئی جان پہچان نہیں ہوتی۔یہ افراد اپنے باپ دادا کے ہمراہ چہلم سید الشہداء علیہ السلام کے قریب کم از کم بیس دن تک یہ عمل انجام دیتے ہیں اور اس عمل کے ذریعے ایسے افراد سے محبت اور مہربانی کرنے کی مشق کرتے ہیں جنہیں وہ بالکل نہیں جانتے اور یہ بھی نہیں سوچتے کہ وہ شیعہ ہے یا سنی، عیسائی ہے یا یہودی۔ وہ سب کو امام حسین علیہ السلام کے زائر اور مہمان کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یہ مشق صرف ایک سال تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ تمام پڑھے لکھے اور ان پڑھ جوان، بوڑھے، بچے اور خواتین ہر سال اپنا یہ درس دہراتے رہتے ہیں اور اس محبت آمیز عمل اور مہربانی کی مشق کرتے رہتے ہیں۔ یہ ان کیلئے ایسا سیمسٹر ہے جسے پاس کرنے کا فائدہ صرف ایک سال تک ہی ہے اور اگلے سال انہیں دوبارہ اپنے سیمسٹر کو دہرانا ہوتا ہے۔کیا دنیا کا کوئی اور اسکول یا یونیورسٹی اس انداز میں محبت اور مہربانی کا درس دے سکتی ہے؟ چہلم امام حسین علیہ السلام درحقیقت اقوام عالم کی ویکسینیشن ہے تاکہ ان کی اولاد داعشی نہ ہو۔ ایسا داعشی جو جانے پہچانے اور انجانے افراد کا کوئی سوال پوچھے بغیر سر قلم کرتا ہے۔ اس ویکسینیشن میں ان کی ثقافت اور اقدار کی اصلاح کی جاتی ہے۔ میں دوبارہ آپ سے پوچھتا ہوں کہ دنیا میں اور کون سا ایسا ملین مارچ ہے جہاں اس انداز میں شرکت کرنے والوں کو محبت اور مہربانی کا درس دیا جاتا ہے؟چہلم امام حسین علیہ السلام پر نظر آنے والے مناظر سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح عراقیوں کے دلوں میں ایران سے آٹھ سالہ جنگ کے کینے کی جگہ ان کی مہمان نوازی نے لے لی ہے۔ جی ہاں ہم چہلم سید الشہداء علیہ السلام پر انسانوں سے محبت کا درس حاصل کر کے یزید اور شمر کی سوچ اور ثقافت سے زبردست انتقام لیتے ہیں۔ یہ ایسا انتقام ہے جو قوموں کو محبت کا درس دیتا ہے اور انہیں ایک دوسرے کے بارے میں ایسا اطمینان فراہم کرتا ہے جو انہیں آپس کے خوف کے باعث مغربی طاقتوں سے اسلحہ خریدنے کا ارادہ ترک کر دینے پر مجبور کر سکتا ہے۔دوسری اہم بات یہ کہ اس دوران دنیا کے جتنے ممالک سے لوگ شرکت کرتے ہیں وہ اپنے اپنے ملک کے پرچم لہراتے ہوئے آزادی کے ساتھ لبیک یاحسینؑ کی بلند صداؤں کے ساتھ پرچم حسینی کے تلے جمع ہوجاتے ہیں جس میں بلاتفریق دنیا کے تمام و مذاہب کے لوگ اپنے آپ کو حسینی کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ انسان کو بیدار تو ہو لینے دو
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو

ایمیل : smmosavi512@gmail.com
نواسہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) حضرت امام حسین علیہم السلام کی مظلومانہ شہادت کے خون کی سرخی نے واقعہ کربلا کے دامن پر وہ نقش چھوڑے ہیں،کہ جن کی سرخی نے تاریخ کی ہر جنگ کی رونق کو چھین کر لوگوں کے ذہنوں سے ہر معرکہ کو محو کردیا اور اس وقت جب بھی کسی مظلوم کا تذکرہ ہوتاہے تو مظلومیت حسین ذہنوں کے سامنے دکھائی دینے لگتی ہے یہاں تک کہ نواسہ رسولؐ کی مظلومانہ شہادت نے انسانیت کے دل ودماغ پر ایسا اثر چھوڑا ہے کہ مورخ وشاعر کا قلم یہ لکھنے پر مجبور ہے حسینیت زندہ باد یزیدیت مردہ باد، اس لئے کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنی اور اپنے اصحاب یہاں تک کہ اپنی اولاد کی قربانی پیش کرکے کلمہ توحید کو بچاتے ہوئے انسانیت کو نجات دی جسے خواجہ معین الدین چشتی نے اپنے لفظوں میں یوں بیان کیا:
شاہ است حسین بادشاہ است حسین،
سرداد نداد دست در دست یزید
یہی وجہ ہے کہ امام حسینؑ کی اس عظیم قربانی کو ہر سال نئے انداز اور نئے جذبے کے ساتھ منایا جاتاہے،ورنہ دنیا میں کسی قوم میں یہ رواج نہیں کہ اگر ان کے اپنے عزیز چاہیے جتنی ظلم وستم کے ساتھ اس دنیاسے چلے جائیں کچھ سالوں کے بعد اس کی اس قدر یادمنائے بلکہ ہر سال اس کی یادوں میں خاصا کمی آجاتی ہے لیکن چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی آج مولاحسینؑ اور ان کے اصحاب کی یاد کو ہر سال اس انداز میں منایا جاتا ہے جیسے یہ واقعہ ابھی پیش آیا ہواور دنیا میںیہ شرف بھی صرف مولا حسینؑ کو ہی حاصل ہے جن کی ہر سال برسی کے ساتھ چہلم بھی منایا جاتا ہے ورنہ ممکن ہے کسی اور معصوم کی برسی توہر سال مناتے ہوں مگر چہلم صرف ایک دفعہ مناتے ہیں لیکن حسینؑ اور اصحاب حسینؑ کے چہلم بھی ہر سال منایا جاتا ہے اور ہرسال ان کی یاد منانے والوں میں بلا تفریق رنگ و نسل،مذہب و قومیت اضافہ ہوتی جارہی ہے، چونکہ واقعہ کربلا در حقیقت حیات جاودانی کا نام ہے، واقعہ کربلا تلوار پر خون کی کامیابی کا نام ہے ،واقعہ کربلا ظلم کے خلاف ایک مستحکم تحریک کا نام ہے، واقعہ کربلا جہالتوں پر علم کے غلبے کا نام ہے ،واقعہ کربلا ظلم اور ظالم کے سامنے ڈٹ جانے کا نام ہے، واقعہ کربلا خواب غفلت سے بیدار کرنے کا نام ہے، واقعہ کربلاتوحید کی سربلندی اور کفر ونفاق کی نابودی کا نام ہے۔اس عظیم واقعے نے دنیا کو متزلزل اور بڑی بڑی چٹانوں کو پاش پاش کردیا ہے اور عالم اسلام میں ایسا انقلاب لایا کہ جس کا اثر آج بھی پوری دنیا میں موجود ہے۔ اسلئے کہ آج بھی جتنی تحریکیں کامیابی سے ہمکنار ہورہی ہیں انہوں نے کربلا والوں کو اپنا آئیڈیل بنایا ہے۔لیکن ہم امام حسین علیہ السلام کا حق اسی وقت اد اکرسکتے ہیں جب آنحضرت کے اس عظیم مقصد کو پورے عالم تک پہنچائیں اور اس کا دفاع بھی کریں۔
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں