اہم اعلانات
Voice of Nation مرکز مطالعات و تحقیقات رسول خدا ؐ کا مقامِ شفاعت وقار علی مطہری
دینی تعلیم و تربیت
دنیا و اخرت کی سعادت
Voice of Nation
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
Online Contact
00989333083273
contact for Islamic Education
نذر حافی
ناصر رینگچن
ایس ایم شاہ
محمد حسن جمالی
ساجد گوندل
سجاد مستوئی
عبدالوحید
محبوب اسلم
ڈاکٹر حفیظ الرحمان
عمر چودھری
رائے یوسف رضا دھنیالہ ۱
مقدر عباس
اکبر مخلصی
عارف حسین عارف
حسن نقوی
رضوان حیدر نقوی
اجمل قاسمی
عبدالمناف غِلزئی
حافظ سید شرافت
سید ذہین علی کاظمی
تبرید ملک
ابو محسن
منظوم ولایتی
توقیر ساجد کھرل
رائے یوسف رضا دھنیالہ۲
گلزار حسین
مسلم عباس
رئیس عباس
آئی اے خان
اشرف سراج گلتری
پروفیسر امتیاز رضوی
پروفیسر عالم شاہ
سید امتیاز رضوی
طاہر شہزاد
سید افتخار کشمیری
شازیہ منشا
یکساں نصاب تعلیم
ریکارڈ
مقالات
اداریہ جات۱
مولانا مودودیؒ
بیانیہ۔۔۔ میرے مطابق
ادارتی نوٹ
TOP
قبرستان
خصوصی اشاعت
تازہ ترین
فارن افئیرز
pakistan community
کالمز
فیچرز
Top Stories
قومی و ثقافتی
دستاویزات
مستند کالمز
فلسطین و طوفان الاقصی1
مفاخر کشمیر
سپورٹ کشمیر آن لائن میگزین اگست ۲۰۲۰
انٹرویو
عوامی مسائل
فارسی
ہمارا انتخاب
میانمار
Azad Kashmir
کربلا1
بولتی تصاویر
اختصاریہ
مسنگ پرسنز
کتابی دنیا
فراڈیوں سے ہوشیار allert
منتخب اشعار و شاعری
یوم سیاہ
English
تجزیات
اقبالیات
کس کا پاکستان!؟
پاکستان کی بانی شخصیات
پالیسیز
انتہائی اہم
شخصیات
Top 30
Most Popular
کشمیر ۱
نظام تعلیم
سانحات
ایک تحریر،ایک تحریک
اہم خبریں
علمی نقد
اے مفتیانِ دین
استشراق
b b c
الحاد
در محضر سعدی
قاسم سلیمانی
مشرق وسطیٰ
English
ناقابل اشاعت ۱
ویڈیو پروگرامز
طنز و مزاح
کرونا وائرس
تصاویر اور یادیں
یومِ علی
ناصبی
میڈیا واچ
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
کربلا۲
ناقابل اشاعت ۲
عقائدِ اسلامی
جہانِ اسلام ۱
شاہد ہادی
کفایت رضی
وسیم رشدی
بچوں کا صفحہ
شہید صحابہ
کشمیر نیوز ویڈیوز
سندھی
آفتاب علی چاچڑ
محرم الحرام
عشرہ محرم الحرام
اربعین
کتاب / مقالہ / ڈاون لوڈ
روشن فکر
محمد صغیر نصر
سیرت النبی ص
عبدالحمید منتظر
حیدر ڈومکی
امام بخش
وقار علی مطہری
نمت
سپورٹ کشمیر میگزین ۲۰۲۱
ایڈیٹر کی ڈاک
صوتی کالمز اور تجزیہ جات آڈیو audio
سیدہ مشعل زہرا
محمد شہزاد بھٹی
محمد بشیر دولتی
فدک
تنویر مطہری
عظمت علی
حسن اقبال
سید شیراز حسن
صادق الوعد
چمن آبادی
سانحہ پشاور
محمد جواد پاروی
ابراہیم شہزاد
امریکہ
یوم القدس
یوم انہدام بقیع
قائداعظم
مہسا امینی
وکیل شرکت
امام خمینی
ایام فاطمیہ س
احتشام کاظمی
آسیہ بتول
سید فصیح حیدر
منظور حیدری
شب برائت
مطالعہ پاکستان
محمد علی شریفی
رفیق انجم
اکرم سہیل
تفتان و ریمدان
ہمارا علمی و قلمی ورثہ
پھکی مرزائی قادیانی دیوبندی وہابی فرقہ عقیدہ مذہب
مہمان کالم
ایم اے راجپوت۱
فلسطین و طوفان الاقصی ۲
اداریہ جات ۲
پسندیدہ ترین
تحقیقات 1
جماعت اسلامی
مجلس وحدت mwm
ڈاکٹر شفقت شیرازی
محمود اختر بھٹی
نظریات
غلو،الحاد، شرک، تقصیر
سنگل نیشنل کریکلم
تصویری ریکارڈ
نشرِ مکرّر
نَوادِر
میرےمطابق
انتخابات
ڈاکٹرائن doctrine
ایم اے راجپوت ۲
فیڈ بیک
فطرانہ صدقہ
طوفان الاقصی منتخب
ڈائری
مناسبتیں
صدر رئیسی شہادت
نذر حافی پی ایچ ڈی
اسماعیل ہنیہ
صحابہ کرام
statelife اسٹیٹ لائف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Join us
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل نذر حافی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice of Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ہدف امام
ادب و صحافت
تجرید و علامت
Voice for Nation
ادب و صحافت
تجرید و علامت
print media تصویری جھلکیاں اخبارات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سامانہ مبلغ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مجلہ قرآن و علوم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مشابہ یابی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
استخارہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
لائبریری کتابخانہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر روائی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مکتہ شاملہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ایرانی اہل سنّت پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اعراب گزاری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تفسیر المیزان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
تعریف علم علم کی تعریف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
برصغیر کے شیعہ علماء کی قرآنی خدمات
ادب و صحافت
تجرید و علامت
فرقہ واریت
ادب و صحافت
تجرید و علامت
اردو لغت فیروز اللّغات پی ڈی ایف
ادب و صحافت
تجرید و علامت
ادارہ قومی زبان
ادب و صحافت
تجرید و علامت
up load books اہلوڈ لائبریری
ادب و صحافت
تجرید و علامت
مرکز پاسخ گوئی دینی
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خبریں
ادب و صحافت
تجرید و علامت
وفاقی وزارت تعلیم کی سائٹ سنگل نیشنل کریکلم
ادب و صحافت
تجرید و علامت
سنگل نیشنل کریکلم خلاصہ
ادب و صحافت
تجرید و علامت
یوٹیوب چینل
ادب و صحافت
تجرید و علامت
نذر حافی


قاسم سلیمانی
ایرانی اہلسنت
ایصال ثواب اور صدقہ

خصوصی اشاعت

خصوصی اشاعت
طنز و مزاح
معاشرتی رویّے
طنز و مزاح
شعور

اہم اعلانات

nazarhaffi@gmail.com
مسئلہ کشمیر اوراس کا حل از نذر حافی kashmir problem and its solution
سانحہ راجہ بازار
پاکستان کے اسلامی مراکز
5 اگست 2019
ہمیں جوائن کریں Join us
تجزیات
حبل المتین اکیڈمی
ہم سے رابطہ
contact us
مناسبتیں
https://mobile.twitter.com/HaffiNazar
کرونا افواہیں
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
وکیل شرکت
ہم سب
مکالمہ
English Newspapers انگلش اخبارات
تلاش سرچ Voice of Nation
سامانہ پژوھش Research
سامانہ ساجد
روش رسالہ نویسی
لارڈ میکالے کی مکمل رپورٹ اردوترجمہ
لارڈ میکالے رپورٹ انگلش اصل پی ڈی اف Macaulay's Minute on Education
لارڈ میکالے اردو ترجمہ پہلا اور دوسرا حصہ مکمل
مقالات تعلیم و تربیت
کشمیر کی سیر
تفسیر المیزان
تفتان بارڈر
ایرانی اہل سنّت
مجلہ قرآن و علوم
Voice for Nation
Voice of Nation
انشورنس پالیسی
معیاری صحافت
ادب پارے
علامت و تجرید
2026/6/22 - 2026/7/22
2026/4/21 - 2026/5/21
2026/1/21 - 2026/2/19
2025/11/22 - 2025/12/21
2025/10/23 - 2025/11/21
2025/9/23 - 2025/10/22
2025/7/23 - 2025/8/22
2025/3/21 - 2025/4/20
2025/2/19 - 2025/3/20
2025/1/20 - 2025/2/18
2024/12/21 - 2025/1/19
2024/8/22 - 2024/9/21
2024/7/22 - 2024/8/21
2024/6/21 - 2024/7/21
2024/5/21 - 2024/6/20
2024/4/20 - 2024/5/20
2024/3/20 - 2024/4/19
2024/2/20 - 2024/3/19
2024/1/21 - 2024/2/19
2023/12/22 - 2024/1/20
2023/11/22 - 2023/12/21
2023/10/23 - 2023/11/21
2023/9/23 - 2023/10/22
2023/8/23 - 2023/9/22
2023/6/22 - 2023/7/22
2023/5/22 - 2023/6/21
2023/4/21 - 2023/5/21
2023/3/21 - 2023/4/20
2023/2/20 - 2023/3/20
2023/1/21 - 2023/2/19
2022/12/22 - 2023/1/20
2022/11/22 - 2022/12/21
2022/10/23 - 2022/11/21
2022/9/23 - 2022/10/22
2022/8/23 - 2022/9/22
2022/7/23 - 2022/8/22
آرشيو
![]()
waqarpahor1214@gmail۔com
شفاعت کا عقیدہ مسلمانوں کا مسلمہ عقیدہ ہے۔ علمائے اسلام اسے ضروریاتِ دین میں سے قرار دیتے ہیں۔ لہذا سب سے پہلے عقیدہ شفاعت کو سمجھنا ضروری ہے۔
شفاعت کا مفہوم
شفاعت یعنی کسی چیز کو کسی چیز سے جوڑنا،اور شفاعت کو خدا و مخلوق کے درمیان ثالثی سے تعبیر کیا گیا ہے کہ اچھائی لائے یا برائی کو دور کرے۔شفاعت اس طرح مجرم میں تبدیلی کا باعث بنتی ہے جیسے وہ مجرم ہی نہیں ہے۔شفاعت کا عقیدہ مجرم کو سزا سے بچانے کا باعث ہے۔ حضرت امام علی علیہ السلام شفاعت کے بارے میں فرماتے ہیں{لَا شَفِیعَ أَنْجَحُ مِنَ التَّوْبَة} کوئی بھی شفاعت توبہ سے زیادہ نجات بخش نہیں ہے۔(1)
شفاعت ایک مذہبی تصور ہے جس پر اکثر مسلمان یقین رکھتے ہیں۔ شیعہ عقائد کے مطابق شفاعت مکمل طور خدا کی طرف سے ہے اور کوئی بھی اس کی اجازت کے بغیر شفاعت نہیں کر سکتا۔ اس کے مطابق ، اگر خدا کسی بندے کے ایمان سے خوش ہوتا ہے تو خداوند عالم سفارش کرنے والوں کو اس کی شفاعت کی اجازت دیتا ہے۔ شفاعت پر یقین اہل تشیع کے درمیان ایک خاص مقام رکھتا ہے ۔
سنیوں نے بھی شفاعت کے اصول کو قبول کیا ہے اور ان کے ذرائع خاص طور پر مومنین سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا ذکر کرتے ہیں۔ حتی یہودی و مسیحی بھی شفاعت پر عقیدہ رکہتے ہیں جو دوسرے آسمانی ادیان کے لوگ ہیں۔ لیکن مسلمانوں میں وہابی ہیں جن کا ماننا ہے کہ شفاعت فقط خدا سے مانگی جا سکتی ہے اور وہ غیر خدا سے شفاعت مانگنا شرک سمجھتے ہیں۔ لیکن قرآن اور روایات میں صریحاً شفاعت کا ذکر ہوا ہے کہ باذن خدا دوسرے بھی شفاعت کر سکتے ہیں۔
شفاعت کی کچھ اقسام:
باطل شفاعت: ایسی شفاعت ہے جو کسی مظلوم کے مقابلےمیں ظالم کی ہو اور یا پھر ایسی شفاعت ہو جو ظالم کی حوصلہ افزائی کرے۔ اس طرح کی شفاعت خود ظلم ہے اور آخرت میں بھی نا ممکن ہے۔ایسی شفاعت کی قرآن میں بھی نفی کی گئی ہے۔
صحیح شفاعت: یہ وہ شفاعت ہے جو کاملاً خداوند متعال کی طرف سے ہے اور کوئی بھی شفاعت اس ذات باری تعالٰی کے اذن کے بغیر نہیں کرسکتا اور انبیاء و آئمہ ہرگز اس معنی میں نہیں ہیں کہ وہ مستقل شفاعت کرسکتے ہیں نہیں نہیں ہرگز ایسا نہیں ہے لیکن محمد وآل محمد باذن خدا شفاعت کر سکتے ہیں یہ یقینی بات ہے۔
کوئی بھی شفاعت نہیں کرسکتا مگر یہ کہ خدا اس سے راضی ہو۔ «وَلَا يَشْفَعُونَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضَىٰ» (2)
اس طرح کی شفاعت پر اہل تشیع ایمان رکہتے ہیں اور قرآن نے بھی اسی شفاعت کو درست قرار دیا ہے اور احادیث پیغمبر ص و ائمہ اطہار نے بھی اسی شفاعت کی تائید کی ہے۔
قرآن میں شفاعت:
قرآن کی (24) آیات میں شفاعت کا ذکر ہوا ہے بہت ساری اصطلاحات جو شفاعت کہ طور استعمال ہوتی تھیں یا ہیں قرآن میں ان کی نفی کی گئی ہے کہ جو بتوں اور جھوٹے خدائوں کے ساتھ ثالثی مخصوص ہے کہ مکہ کے مشرکین ان کو شفیع تصور کرتے ہیں۔
«وَ یعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا یضُرُّهُمْ وَ لا ینْفَعُهُمْ وَ یقُولُونَ هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ قُلْ أَ تُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِما لا یعْلَمُ فِی السَّماواتِ وَ لا فِی الْأَرْضِ سُبْحانَهُ وَ تَعالی عَمَّا یشْرِکون»(3) اور یہ لوگ اللّٰہ کو چھوڑ کر ان کی پرستش کرتے ہیں جو نہ انہیں ضرر پہنچا سکتے ہیں اور نہ انہیں کوئی فائدہ دے سکتے ہیں اور (پھر بھی) کہتے ہیں: یہ اللّٰہ کے پاس ہماری شفاعت کرنے والے ہیں،کہدیجیے: کیا تم اللّٰہ کو اس بات کی خبر دیتے ہو جو اللّٰہ کو نہ آسمانوں میں معلوم ہے اور نہ زمین میں؟ وہ پاک و بالاتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔
قرآن کریم نے بتوں کی شفاعت کی نفی کے ساتھ ساتھ محترم لوگوں یا چیزوں کی نفی تھوڑی کی ہے۔ بلکہ محترم لوگوں اور چیزوں کی شفاعت کو شرائط کے ساتھ قبول کیا ہے۔ من جملہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی شفاعت، جس کی قرآن نے واضح طور پر تائید کی ہے۔ اسی وجہ سے مسلمانوں میں وجود شفاعت کے حوالے سے اختلاف نہیں ہے لیکن احکام اور مکان کے لحاظ سے ایک دوسرے سے اختلاف رکہتے ہیں۔ عنوان مثال ہے یہ آیت۔ «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ عَسَىٰ أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا»(4) اور رات کا کچھ حصہ قرآن کے ساتھ بیداری میں گذارو یہ زائد (عمل) صرف آپ کے لئے ہے امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر فائز کرے گا۔
شیعہ و سنی مفسرین اتفاق نظر رکہتے ہیں کہ اس آیت میں مقام محمود سے مراد وہی مقام شفاعت ہے جس مقام کا خدا نے اپنے پیارے حبیب (ص) سے وعدہ کیا تھا۔
شفاعت کے بارے میں آیات قرآنی
1) بعض وہ آیات ہیں جو روز قیامت مطلقاً شفاعت کی نفی کرتی ہیں۔
اے ایمان والو! جو مال ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس دن کے جس میں نہ تجارت کام آئے گی اور نہ دوستی کا فائدہ ہوگا اور نہ سفارش چلے گی اور ظالم وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر اختیار کیا(5)۔
2) بعض وہ آیات ہیں جو شفاعت کو فقط خدا کے ساتھ مخصوص کرتی ہیں۔
۔کہدیجیے: ساری شفاعت اللّٰہ کے اختیار میں ہے اور زمین کی بادشاہت اسی کی ہے پھر تم اسی کی طرف پلٹائے جائو گے۔(6)
3) بعض وہ آیات ہیں جو بعض مخلوق کی شفاعت کی شرائط کے ساتھ تائید کرتی ہیں۔
اس کی اجازت کے بغیر کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ہے، یہی خدا تو تمہارا رب ہے پس اس کی عبادت کرو، کیا تم نصیحت نہیں لیتے؟(7)
4) بعض وہ آیات ہیں جو بعض افراد کی شفاعت کی نفی کرتی ہیں۔
اب ہم یہاں پر وہ آیات دلیل کے طور ذکر کریں گے جن آیات سے رسول خدا(ص) کا شفیع ہونا ثابت ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے
۔ اس کی اجازت کے بغیر کوئی شفاعت کرنے والا نہیں ہے یہی خدا تو تمہارا رب ہے پس اس کی عبادت کرو کیا تم نصیحت نہیں لیتے؟(8) ۔ اس روز شفاعت کسی کو فائدہ نہ دے گی سوائے اس کے جسے رحمن اجازت دے اور اس کی بات کو پسند کرے۔(9)للہ ان باتوں کو جانتا ہے جو ان کے روبرو اور جو ان کے پس پردہ ہیں اور وہ فقط ان لوگوں کی شفاعت کر سکتے ہیں جن سے اللّٰہ راضی ہے اور وہ اللّٰہ کی ہیبت سے ہراساں رہتے ہیں(10)اور آسمانوں میں کتنے ہی ایسے فرشتے ہیں جن کی شفاعت کچھ بھی فائدہ نہیں دیتی مگر اللّٰہ کی اجازت کے بعد جس کے لئے وہ چاہے اور پسند کرے(11)کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور شفاعت کر سکے؟(12)اور اللّٰہ کے نزدیک کسی کے لئے شفاعت فائدہ مند نہیں سوائے اس کے جس کے حق میں اللّٰہ نے اجازت دی ہو۔ (13)
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ شفاعت وہی کر سکتے ہیں جو خدا کے نزدیک ایک خاص مقام کے حامل ہوں ۔ اب زمین وآسمان میں کوئی بھی ایسی شخصیت نہیں ہے جو خدا کے نزدیک رسول خدا (ص) کی ذات اقدس سے زیادہ افضل ہو۔ یہ بات حتمی ہے کہ خدا کے نزدیک سب سے با فضیلت اور با عظمت شخصیت صرف محمد مصطفیٰ (ص)کی ذات گرامی ہے اور سب سے پہلے وہی باذن خدا امت کی شفاعت کریں گے ۔خود رسول خدا (ص) فرماتے ہیں {انا اَوَّلُ شافِعٍ وَ اوَّلُ مُشَفَّعٍ}۔(14) میں وہ ہوں جو سب سے پہلے شفاعت کروں گا اور سب سے پہلے جس کی شفاعت کو قبول کیا جائے گا وہ میری شفاعت ہوگی۔
مغفرت اور درجات کی بلندی کے لئے شفاعت
کبھی شفاعت درجات کی بلندی کے لئے ہوتی ہے اس قسم کی شفاعت کو سب اسلامی مذاہب نے قبول کیا ہے۔
کبھی شفاعت گناہوں کی مغفرت کے لئے ہوتی ہے اس قسم کی شفاعت کو بعض نے مثل معتزلی اور خوارج قبول نہیں کرتے اور کہتے ہیں اگر کوئی جہنم میں داخل ہوجائے کیسے ہو سکتا ہے وہ اس دوزخ سے باہر آ جائے۔(15)
جو شخص اچھی بات کی حمایت اور سفارش کرتا ہے وہ اس میں سے حصہ پائے گا اور جو بری بات کی حمایت اور سفارش کرتا ہے وہ بھی اس میں سے کچھ حصہ پائے گا(16)
شفاعت کرنے والوں کی شرائط
تین قسم کی خصوصیت رکہنے والے لوگ قرآن کی نظر میں شفاعت کر سکتے ہیں۔
1) خدا پہ ایمان ہو اور خلایق کے اعمال سے آگاہ ہو
۔ اور اللّٰہ کے سوا جنہیں یہ لوگ پکارتے ہیں وہ شفاعت کا کچھ اختیار نہیں رکھتے سوائے ان کے جو علم رکھتے ہوئے حق کی گواہی دیں۔(17)
2) اذن خدا رکھتے ہوں
۔اس روز شفاعت کسی کو فائدہ نہ دے گی سوائے اس کے جسے رحمن اجازت دے۔(18)
3) خدا کے نزدیک عہد و پیمان رکہتے ہوں۔ وہ ہرگز مالک شفاعت نہیں ہیں مگر وہ جو خدا کے نزدیک عہد و پیمان رکھتا ہو۔(19)رسول خدا(ص) فرماتے ہیں اولین نفر میں ہوں جو شفاعت کروں گا اور اولین میں ہوں جس کی شفاعت کو قبول کیا جائے گا(20)
پیغمبر اکرم ص کی شفاعت کو شفاعت کبریٰ کہا جاتا ہے متعدد روایات میں ذکر ہوا ہے کہ نبیﷺلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت ان لوگوں کو بھی شامل حال ہوگی جو گناہ کبیرہ سے آلودہ ہونگے۔
بحارالانوار میں علامہ مجلسی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: امام باقر علیہ السلام نے ابو ایمن کے جواب میں کہا جبکہ اس نے کہا اے اباجعفر، آپ لوگوں کو فریب دیتے ہیں۔ اور ہمیشہ کہتے ہیں شفاعت محمد شفاعت محمد۔امام اتنے ناراحت ہوئے درحالی کہ چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا اور فرمایا ویل ہو اور وائے ہو تم پر اے ابا ایمن آپ کو آپ کے شکم کی عفت اور شہوت نے مغرور کردیا ہے۔اگر تم قیامت کا وحشتناک میدان دیکھتے تو حتما آپ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کی طرف محتاج ہو جائو گے۔ ویل ہو تم پر آیا شفاعت مگر اس کے لئے ہے جس پر جہنم واجب ہو؟ اس ٹائیم فرمایا کوئی بھی اول سے آخر تک نہیں ہے جو قیامت کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کا محتاج نہ ہو۔(21)
خداوند عالم سورہ ضحی میں اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتا ہے «وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأُولَىٰ»(22) حقیقتاً آپ کے لئے آخرت دنیا سے بہتر ہے۔
خداوند متعال اس آیت کے ذریعے اپنے نبی مکرم(ص) کو فرما رہا ہے کہ اے میرے حبیب(ص) آپ کا بخت و دولت و اعتبار اور مقام اخروی اس جہان سے بہت برتر اور بالا ہوگا۔ اگر آج لوگ آپ کو طعنہ دے رہے ہیں اور مسخرہ کر رہے ہیں آپ ثابت قدم رہیں اور ناملایمات سے نا ڈرنا کیوں کہ تاریخ حق کی معرفی اور باطل کو رسوا کرتی ہے اور قیامت کے دن وہ لوگ اس رسوائی کو دیکہیں گے۔ اور آپ کے پیروکار ان منکرین و دنیاطلبوں پر برتری اور نیکی کو دیکہیں گے۔ اور یہ جان لو کہ قیامت کے دن آپ کا نام میرے نام کے ساتھ دنیا کی ہر جگہ گونجے گا اس انداز میں آپ کا نام ہوگا۔
خداوند متعال آگے فرماتا ہے «وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ »(23) انقریب خدا آپ کو اتنا کچھ عطا کرے گا کہ آپ شاد ہو جائو گے۔
یہ آیت پیغمبر اسلام(ص)کو بشارت دے رہی ہے کہ نبیﷺلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو ایسی چیز اعطا کی جائے گی جو رسول خدا کی رضا و خوشنودی کو جلب کرے۔ائمہ اطہار علیہم السلام اس عطیہ کی ایک تفسیر یوں بیان کرتے ہیں کہ وہ چیز جو رسول خدا کی رضا کو تامین کرے گی وہ اذن ہے جو خداوند متعال نے امت مسلمہ کی شفاعت کے لئے رسول خدا کو عطا کیا ہے۔نقل ہوا ہے کہ ایک وقت رسول خدا نے اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کیا اور آنسوں جاری ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی زبان مبارک پر یہ کلمات«امتی امتی» لائے۔
اس وقت جبرائیل علیہ السلام نے رسول خدا کی اس امت کی عاقبت کی پریشانی کا مشاہدہ کیا یا یوں کہوں کہ جبرائیل امین نے نبی مکرم کی اپنی امت سے محبت کا مشاہدہ کیا تو خداوند متعال کی جانب سے رسول خدا کو اپنی امت کی شفاعت کی بشارت دی ۔ کہ آپ کی رحمت اور شفاعت روز آخرت امت مسلمہ کو شامل حال ہوگی۔ (24)
رسول خدا کی رحمت جو جہان آخرت میں استمرار ہے جس کا نام شفاعت ہے۔خود رسول اللہ (ص)کی حدیث مبارک ہے جس پر شیعہ سنی متفق ہیں اور یہ حدیث صحیح السند ہے «ذخرت شفاعتی لاہل الکبائر من امتی» میری شفاعت میری امت میں سے ان کو بھی شامل حال ہوگی جو گناہ کبیرہ کے مرتکب ہونگے۔
جب حضرت مآب(ص) کو بشارت ملی جو جبرائیل امین لیکے آئے تہے۔ تو نبیﷺلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے لئے یہی خوشخبری کافی ہے اور یہ بشارت میری رضامندی و خوشنودی کو جلب کرے گی(25)۔
امت مسلمہ اس بات پر یقین رکہتی ہے کہ روز محشر محمد مصطفیٰ رحمۃ للعالمین (ص) ضرور شفاعت کریں گے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو نبی کریم (ص) ہمیشہ اپنی امت کے لئے دعا کرتے رہے ہیں اور وہ قیامت کے دن شفاعت ناں کرے۔
جب کہ ہم انبیاء علیہم السلام کے قصے قرآن مجید میں پڑہتے رہتے ہیں کہ جب انکی امتوں نے ہٹ دھرمی کی اور دعوت حق کو قبول نہ کیا حتی اپنے وقت کے انبیاء پر ظلم کیا بالآخر ان چیزوں کا نتیجہ یہ نکلا ان قوموں پر انبیاء کی بدعا کی وجہ سے عذاب خدا نازل ہوا لیکن میں قربان جاؤں ہمارے پاک پیغمبر (ص)کی ذات مقدس پر کہ بے انتہاء امت نے اذیتیں دیں ایذا رسانی کی لیکن کبھی بھی اپنی امت کے لئے بدعا نہیں کی بلکہ رحمۃ للعالمین اپنی امت کے لئے دعا کرتے نظر آتے تھے [اَللّٰھُمَّ اھْدِ قَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ] یا اللہ میری قوم کی ہدایت فرما کہ یہ نہیں جانتے (26)
خداوند متعال سے دعا ہے بحق محمد وآل محمد(ص) ہمیں اپنے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے اور محمد وآل محمد کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے 🤲
منابع و مآخذ
1۔بحارالانوار،ج6،ص19 2۔سورہ انبیاء،28 3۔سورہ یونس،18 4۔سورہ اسراء،79
5۔سورہ بقرہ،254 6۔سورہ زمر،44 7۔سورہ یونس،3 8۔سورہ یونس،3
9۔سورہ طہ،109 10۔سورہ انبیاء،128 11۔سورہ نجم،26 12۔سورہ بقرہ،255
13۔سورہ سبأ،23 14۔ھمان،495 15۔زمخشری،ج1،ص152 16۔سورہ نساء،85 17۔سورہ زخرف،86 18۔سورہ طہ،109 19۔سورہ مریم،87 20۔ترمذی،ج5،ص،587 21۔بحارالانوار،ج8،ص38 22۔سورہ ضحی،4 23۔سورہ ضحی،5 24۔الصحیح،ج1،ص132 25۔ابوالفتوح رازی،روح جنان،ج20،ص311 26۔بحارالانوار،ج35،ص177
افکار و نظریات: سیرت
ہمارے اہداف
فکری یکسوئی
نظریات کی جمع آوری
پس پردہ محرکات
مکالمہ اور افہام و تفہیم
علمی نقد اور مزاحمتی شعور
مفروضات کی تشکیلِ نو
رواداری
حب الوطنی
صاف گوئی
تعلیم و تربیّت
پیغامِ اقبال
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد
تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا
ہو کھیل مُریدی کا تو ہَرتا ہے بہت جلد
تاوِیل کا پھندا کوئی صیّاد لگا دے
یہ شاخِ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

چینل نہیں میڈیا بدلیں

چینل نہیں میڈیا بدلیں